ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

پاکستان کی نامور معروف شیف زبیدہ آپا انتقال کر گئیں

ایک ادبی خاندان سے تعلق رکھنے والی زبیدہ اپا کا ادب سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا لیکن پھر بھی پاکستان میں انہیں ہر گھرانہ جانتا ہے اور اِس شہرت کی وجہ اُن کے وہ ٹوٹکے ہیں جو زبیدہ آپا ٹی وی کے اکثر ’پکوان شوز یا مارننگ شوز میں سب کو بتاتی تھیں۔ زبیدہ طارق، عرف زبیدہ آپا، نے لگ بھگ 22 سال پہلے کوکنگ ایڈوائرز کی حیثیت سے شوبز میں قدم رکھا اور اپنے کوکنگ شوزکے ذریعے اِس قدر ہر دلعزیز ہوئیں کہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک فیملی ممبر کی حیثیت اختیار کر گئیں۔ چونکہ، وہ بہت اچھی کک تھیں لہذا اُن کی بتائی ہوئی کھانوں کی ترکیبیں ہر گھر میں استعمال ہوتی ہیں۔
زبیدہ طارق پاکستان کی مایہ ناز مصنفہ فاطمہ ثریا بجیا، منفرد لہجے کی شاعرہ زہرہ نگاہ اور ہر خاص و عام میں مقبول قلمکار، شاعر، مزاح نگار، مصور اور اداکار انور مقصود کی سگی بہن تھیں۔ دس بہن بھائیوں میں زبیدہ آپا کا نواں نمبر ہے۔ زبیدہ طارق کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے عمر کے پچاس سال گھر کی چار دیواری میں رہ کر گزارے اور اس کے بعد جو ایک مرتبہ ٹی وی پر آئیں تو پھر چھاتی چلیں گئیں۔

پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر مختلف انٹرویوز کے دوران انہوں نے جو ذاتی معلومات لوگوں سے شیئر کی ہیں ان کے مطابق، میرے میاں ایک معروف ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازم تھے، آئے دن گھر میں سو، ڈیڑھ سو افراد کی دعوتیں ہوتی تھیں۔ مجھے کھانا پکانے کا شوق تھا۔ لہذا، اچھے کھانے پکایا کرتی تھی۔ ان بڑی بڑی دعوتوں کا انتظام ہمیشہ میں نے خود سنبھالا، کبھی کسی کیٹرنگ سروس سے مدد نہیں لی۔ اس کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ میں نے اپنی والدہ اور نانی سے بہت کچھ سیکھا تھا، پھر تجربات کا شوق بھی تھا۔ لہذا، میرے بنائے ہوئے کھانے سب کو پسند آتے تھے‘۔ بعد میں یہی کھانا پکانے کا ہنر میرے کام آیا جس دن میرے شوہر ریٹائر ہوئے، اس سے اگلے دن میں نے اسی کمپنی میں ایڈوائزری سروس کی انچارج کی حیثیت سے کام سنبھال لیا۔ وہاں میں نے آٹھ سال تک کام کیا، زبیدہ اپا نے تقریباً سارے ہی نجی ٹی وی چینلز سے ککنگ شوز، ٹاک شوز اور مارننگ شوز کئے، ان کی تعداد چار ہزار سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ کوکنگ کے ساتھ انکی وجہ شہرت انکے بتائے ہوئے ہزاروں ٹوٹکے تھے جو گھر گھر میں استعمال ہوتے تھے۔ خواتین اکثر ماہر امور خانہ داری میں زبیدہ آپا سے رہنمائی لیا کرتی تھیں

زبیدہ آپا کی ساریاں اور چوڑیاں بہت پسند کی جاتی تھیں وہ ہمیشہ ساڑھی میں نظر آتی تھیں۔ زبیدہ اپا 4 اپریل 1945 پیدا ہوئیں21 سال کی عمر میں 1966 میں ان کی شادی ہوگئی۔ شادی سے انکی ایک بیٹی شاہا طارق اور ایک بیٹا حسنین طارق یے۔ زبیدہ اپا کو کچھ عرصے سے پارکنسن کا عارضہ بھی لاحق تھا۔ لیکن اج انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا اور وہ جانبر نہیں ہوسکی۔ زبیدہ اپا کے بھائی انور مقصود کے مطابق انکی نماز جنازہ جمعہ کی نماز کے بعد سلطان مسجد ڈیفنس کراچی میں ادا کی جائیگی۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...