ادب

اپنی زندگی میں کسی ایک شخص کو اردو سکھا دیجئے: جاوید صدیقی

میں وہی زبان لکھتا ہوں جو بولتا اور سوچتا ہوں جملہ بناتا نہیں ہوں ، وہ بن جاتا ہے ، وہ آمد ہوتی ہے۔ جہاں تک لفظوں کی کفایت شعاری کا سوال ہے تو اس پر میں ایک قصہ سنانا چاہتا ہوں ۔

لکھنؤ میں شطرنج کے کھلاڑی کی شوٹنگ ہورہی تھی وہاں کیفی صاحب آئے ہوئے تھے، مجھے ان کا پیغام ملا کہ جاوید تم شام کو فلاں جگہ آجاؤ جب میں وہاں گیا تو بہت سارے شاعر جمع تھے ۔ ظاہر ہے کہ جہاں فراق گورکھپوری ہوں، کیفی صاحب ہوں اور بھی چند شاعر تھے، وہاں شاعری تو ہو گی ہی اچانک کیفی صاحب نے مجھ سے کہا کہ ارے بھائی جاوید تم بھی تو شعر کہتے ہو، تم بھی کچھ سناؤ حالانکہ میں باقاعدہ شاعر نہیں ہوں لیکن جب طبیعت موزوں ہوتی ہے تو یہ غلطی ہو ہی جاتی ہے۔ بہرحال کچھ اشعار سنائے ، اچھی داد ملی ، آخر میں فراق صاحب نے مجھے اشارے سے اپنے پاس بلایا ، کندھے پر ہاتھ رکھا۔ کہنے لگے میاں! آپ نے اچھی نظم لکھی ہے لیکن آپ کو ایک نصیحت کریں، میں نے کہا کہ جی ارشاد ہو۔ انہوں نے اس وقت جو جملہ کہا، وہ میں سینکڑوں جگہ بول چکا ہوں ۔ میں سمجھتا۔ ہوں کہ یہ ایک قسم کا گرو منتر ہے جسے ہر نئے لکھنے والےکو اپنے سامنے لکھ کر رکھنا چاہئے اور وہ جملہ یہ ہے کہ : ’’لفظوں کو احتیاط سے برتا کیجئے ان میں جان ہوتی ہے‘‘ اس وقت خاص سمجھ میں نہیں آیا ، جب لکھنا شروع کیا تو اس وقت یہ جملہ بخوبی سمجھ میں آیا ۔

میں لفظوں کا بیوپاری ہوں ، لفظوں کی روٹی کھاتا ہوں ۔ آج مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں ایک’ آئینہ خانے میں بیٹھا ہوں یعنی ایک ایسا گھر جس کے چاروں طرف آئینے لگے ہیں ان میں میں خود کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہا ہوں۔‘‘

میرا خیال ہے کہ ایک اچھا قلم کار جوہری کی طرح ہو تا ہے جو بخوبی واقف ہوتا ہے کہ، کہاں کون سا نگینہ مناسب رہے گا؟ جب فلموں میں آیا تو ستیہ جیت رے سے بہت کچھ سیکھا۔ ان کو میں اپنا گرو مانتا ہوں، انہوں نے مجھے ہدایت دی ’’ جاوید! دی ڈائیلاگ شڈ بی شارپ اور اینڈ شارٹ ۔‘‘
شارپ اور شارٹ والی بات صرف فلموں میں نہیں دوسری چیزوں میں بھی ذہن میں رکھیں تو لفظوں کی کفایت بھی ہو جاتی ہے اور وہ چیز لوگوں کے ذہن میں بھی رہ جاتی ہے ۔ میں نے ہمیشہ دونوں بزرگوں کی ہدایات پر عمل کیا۔‘‘

جہاں تک تخلیقی تسلی کا سوال ہے تو وہ ہوتی بھی ہے نہیں بھی ۔ تسلی کوئی مستقل چیز نہیں ہے، یہ پیاس کی طرح ہوتی ہے، جس طرح پانی پینے سے پیاس بجھ جاتی ہے لیکن تھوڑی دیر کے بعد پیاس پھر لگتی ہے ، وہی معاملہ تخلیقی تسلی کا بھی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ تسلی نہ ملے تو اچھا ہے، جب تک تخلیقی تسلی نہ ہونے کا عمل جاری ہے شاید اس وقت تک میں لکھتا رہوں گا، کیونکہ جس دن یہ تسلی ہوگئی ،اس دن مجھے لکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔‘‘

میں باقاعدہ شاعر نہیں ہوں ، میری شاعری ایسی ہے جیسے لوگوں سے غلطی ہوجاتی ہے میں دوسروں کے شعر سمجھ سکتا ہوں، ان کا مزہ لے سکتا ہوں تو کیا مجھ پر اللہ کی مار ہے کہ میں کوئی شعر کہوں ۔ جب مجھ پر دوسروں کا اچھا شعر پڑھ کر وہی کیفیت طاری ہوتی ہے جو اپنا شعر کہنے پر ہوتی ہے تو مجھے اتنی محنت کرنے کی ضرورت کیا ہے ؟‘‘

بہترین اور خوبصورت اسکرپٹ برباد ہوتے دیکھتا ہوں تو خون کے آنسو رونے کو جی چاہتا ہے لیکن اس پر مجھے زیادہ افسوس نہیں ہوتا ہے کیونکہ مجھ سے پہلےکے بزرگوں پر بھی یہ حادثے گزر چکے ہیں۔ بیدی صاحب نے مجھے ایک قصہ سنایا۔ ان کے بیٹے نریندر بیدی فلم بنا رہے تھے رابن جانتے ہیں اس کے ڈائیلاگ بیدی صاحب نے لکھے تھے، بیدی صاحب کو فون کیا گیا کہ بیدی صاحب اس سین میں ایک ایسا ڈائیلاگ ہے جو ہیر و نہیں بول پارہا ہے، آپ آکر اسے بدل دیں تو بیدی صاحب وہاں پہنچے۔ انہوں نے سین پڑھ کر کہا کہ یہ ڈائیلاگ تو میں تبدیل نہیں کرونگا لوگوں نے کہا کہ ایسی کیا خاص بات ہے ، ارے آپ اتنے بڑے رائٹر ہیں آپ کوئی بھی ڈائیلاگ تبدیل کرسکتے ہیں۔ اس ایک ڈائیلاگ کو تبدیل کرنے میں آپ کو کیا پریشانی ہے ؟ کہنے لگے کہ میں اس لئے تبدیل نہیں کرنا چاہتا کہ پورے سین میں یہی تو میرا ایک ڈائیلاگ رہ گیا ہے ۔‘‘

اردو زبان آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ رہے گی اور اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ اردو محبت ، جذبات اور رابطہ کی عام فہم زبان ہے۔ نئی نسل اور قلمکار کے درمیان کوئی خلاء نہیں ہے ۔ اب پہلے سے زیادہ اردو پڑھی جارہی ہے اور اردو سے دلچسپی بڑھ رہی ہے ۔ بس اتنی سی گزارش ہے کہ آپ اپنی زندگی میں کسی ایک شخص کو اردو سکھا دیجئے۔ اس طرح چراغ سے چراغ جلتا رہے گا ۔‘‘

 

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment