بلاگ

زکوٰۃ فنڈ کہاں جاتا ہے؟

یکم رمضان کو بنک بند تھے۔ پورے اہتمام کے ساتھ خلق خدا کے اکائونٹس سے زکوٰۃ کاٹی گئی تا کہ نیکی کے اس کام میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ اب جب کہ نیکی کا یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے تو آئیے ایک سادہ سے سوال پر غور فرما لیں ۔ سوال یہ ہے کہ زکوٰۃ کے نام پر جو رقم کاٹی جاتی ہے وہ کہاں استعمال ہوتی ہے؟ کیا عوام یہ پوچھ سکتے ہیں کہ گذشتہ بیس سال میں زکوٰۃ کے نام پر کاٹی گئی اس رقم کا مصرف کیا رہا ہے؟ یہ کہاں خرچ کی جاتی رہی؟ کیا یہ رقم مستحقین تک پہنچ سکی یا بندر بانٹ کی نذر ہو گئی؟

زکوٰۃ و عشر کے صوبائی وزیر نے پنجاب اسمبلی میں کھڑے ہو کر ابھی چند روز پہلے ایوان کو بتایا کہ مسلم لیگ ن کے دس سالہ دور حکومت میں زکوٰۃ فنڈ کے کروڑوں روپے سیاسی مقاصد کے لیے تقسیم ہوئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت گذشتہ دس برسوںکا آڈٹ کروانے کا فیصلہ کر چکی ہے تا کہ سب سامنے آئے کہ زکوٰۃ کے پیسے کہاں کہاں خرچ ہوئے۔ دس سالہ واردات کے آڈٹ کا یہ وعدہ تو خدا جانے کب وفا ہو لیکن یہ بات اب کوئی راز نہیںکہ ہمارے ہاں زکوٰۃ کے پیسوں کو کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔

اتفاق سے 2003-04 کی آڈٹ رپورٹ میرے پاس پڑی ہے ۔اس رپورٹ میں جو انکشافات کیے گئے ہیں وہ لمحہ فکریہ ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق ہسپتال مریضوں کو جو سہولیات ویسے ہی مفت دینے کے پابند تھے انہوں نے ان سہولیات کے عوض زکوٰۃ فنڈ میں سے پیسے کاٹ لیے۔ صرف سات طبی مراکز نے 11,397,449 روپے بلا اجازت اس مد میں خرچ کر دیے۔ زکوٰۃ و عشر ڈویژن کی جانب سے تیرہ جولائی 1995 کو جاری ہونے والے ضابطے کے پیراگراف آٹھ کے مطابق جو ہسپتال زکوٰۃ فنڈز سے چل رہے ہوں وہ مریض سے کسی بھی مد میں فیس نہیں لے سکتے ، نہ ڈاکٹر کیس چارج کر سکتا ہے اور نہ ہی مریض پر اٹھنے والے اخراجات مریض سے لیے جائیں گے حتی کہ سرجری کے اخراجات بھی نہیں لیے جائیں گے لیکن آڈٹ رپورٹ کہتی ہے کہ ہسپتالوں نے مریضوں سے بھی فیسیں لیں اور زکوٰۃ فنڈ بھی ہتھیا لیا۔

مزید پڑھیں: ڈارک سرکل ختم کرنے کا ٹوٹکا۔

قانون یہ کہتا ہے کہ شفافیت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے زکوٰۃ فنڈ میں سے جتنی بھی رقم خرچ ہو گی وہ بذریعہ چیک ادا کی جائے گی تا کہ مکمل ریکارڈ رہے۔لیکن صرف ایک گنگا رام ہسپتال نے ادویات ساز کمپنیوں کو 6,878,348 روپے بغیر چیک کے ادا کر دیے۔اور یاد رہے یہ صرف ایک ہسپتال کی کہانی ہے ۔ پورے ملک میں کیا ہو تا ہو گا اس کا اندازہ آپ بخوبی کر سکتے ہیں۔

زکوٰۃ و عشر آرڈی ننس کے باب چہارم کے تحت جب زکوٰۃ کی رقم بذریعہ چیک کسی کو ادا کی جاتی ہے تو اس پر بنک کوئی چارجز نہیں لے سکتا کیونکہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے۔لیکن آڈٹ رپورٹ کا کہنا ہے کہ بنکوں نے ایسی رقوم پر اپنے چارجز بھی لیے ۔لیکن دوسری جانب زکوٰۃ فنڈ کے قریبا 19 ارب روپے استعمال نہ ہو سکے اور بنکوں میں پڑے رہے تو ان سے بنکوں نے جو فائدہ حاصل کیا ، معروف معنوں میں کہہ لیں کہ جو سود کمایا ، اس کا حکومت کے پاس کیا کوئی ریکارڈ ہے؟ عوام کے اکائونٹس سے ٹیکس کاٹ کر اگر حکومت اسے تقسیم ہی نہ کر سکے اور انیس ارب روپے بغیر استعمال ہوئے بنکوں میں پڑے رہ جائیں تو اس سے حکومت کی اہلیت پر تو انگلی اٹھے گی ہی اس کی نیت پر بھی سوال اٹھے گا کہ اس رقم کا تقسیم نہ ہو پانا ایک اتفاق تھا یا یہ کچھ کاص بنکوں کو نوازنے کی کوشش تھی؟

ابھی سندھ میں 2016-17 کی جو آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی ہے اسے دیکھ لیجیے۔صوبائی اسمبلی میں پیش کی جانے والی اس رپورٹ کے مطابق صرف کراچی ایسٹ کی ڈسٹرکٹ زکوٰۃ کمیٹی کے مالی معاملات کی حالت یہ ہے کہ 30 ملین سے زیادہ کی رقم کا کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں کہاں چلی گئی؟یاد رہے کہ یہ صرف کراچی ایسٹ کی ڈسٹرکٹ زکوٰۃ کمیٹی کی صورت حال ہے ۔خدا جانے باقی ملک میں کیا ہو رہا ہو گا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ نوے لاکھ سے زیادہ کے چیک تین لوگوں میں بانٹے گئے ۔جب ریکارڈ چیک کیا گیا تو معلوم ہوا نام اور لوگوں کے لکھے ہوئے ہیں جب کہ چیک کچھ اور لوگوں کو دیے گئے ہیں۔گزارا الائونس کے تین سو چھبیس ملین کی تقسیم میں بھی بہت سارے مسائل پائے گئے۔آڈیٹرز نے متعلقہ لوگوں سے اس بابت سوال کیا لیکن کسی نے ان کو جواب تک دینے کی زحمت نہیں کی۔

یہی نہیں بلکہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ زکوٰۃ کی رقم کو لوگوں میں تقسیم کرنے سے پہلے چار ماہ تک ایک بنک کے سیونگ اکائونٹ میں رکھا گیا۔ اس کا کیا مطلب ہے یہ ہم سب کو معلوم ہے۔ایسا بھی نہیں کہ یہ رقم دو چار بنکوں میں رکھی گئی بلکہ یہ عنائت صرف ایک بنک کے ساتھ کی گئی جسے سندھ بنک کہا جاتا ہے۔ رقم بھی معمولی نہیں تھی۔یہ ایک ارب سترہ کروڑ سے زیادہ کی رقم تھی جو چار ماہ ایک بنک کے سیونگ اکائونٹ میں پڑی رہی تا کہ زکوٰۃ کے پیسے بنک استعمال کر سکے۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس رقم کے اوپر جو منافع تھا غیر قانونی طور پر وہ بنک نے اپنے پاس رکھ لیا اور آڈٹ افسران کے بار بار نشاندہی کے باوجود کسی نے اسے سنجیدہ نہیں لیا۔

آڈیٹر جنرل نے اب کہا ہے کہ بنک سے یہ منافع واپس لیا جائے اور صوبائی زکوٰۃ فنڈ میں جمع کیا جائے۔اس ہدایت یا تجویز کا کیا حشر ہوتا ، خدا جانے۔2011 کے سندھ زکوٰۃ و عشر آرڈی ننس کی دفعہ بارہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبائی زکوٰۃ کونسل کے چیئر مین کی مدت ملازمت میں غیر قانونی توسیع کی گئی۔کیوں کی گئی، اس راز پر اب کیا بات کرنا۔اب سوال یہ ہے کہ اگر زکوٰۃ کے پیسوں کو یوں بے رحمی سے بندر بانٹ کی نذر کیا جانا ہے تو پھر حکومتوں کو اس بات پر اصرار کیوں ہے کہ وہ بنک اکائونٹس پر زکوٰۃ کاٹے گی؟