اسلام

زینب واقعے سے ملتا جلتا ایک واقعہ اور حضرت عمر کا تاریخی فیصلہ…..!!

صنعاء نامی علاقے میں ایک شخص رہتا تھا، وہ کسی کام سے دوسری.جگہ گیا اور پیچھے اپنی بیوی اور ایک بیٹا چھوڑا، یہ عورت اس بچے کی سوتیلی ماں تھی، عورت نے ایک مرد کو دوست(عاشق،برا نفسانی دوست) بنا لیا جسکی خبر بیٹے کو لگ گئ تو اس عورت نے اپنے دوست سے کہا کہ اس لڑکے کو قتل کر دو، دوست نے انکار کر دیا تو عورت نے بھی دوستی سے انکار کر دیا،جس پر دوست نے عورت کا کہنا مان لیا،خود اور ایک اور ساتھی کو بھی شامل کیا اور عورت اور اسکا نوکر بھی اس منصوبے مین شامل ہوگیا، اس طرح چاروں نے مل کر اس لڑکے کو قتل کر دیا بلکہ اس کے ٹکڑے کرکے خالی کنوے میں پھینک دیا

پھر سوتیلی ماں چلانے لگی،لوگ جمع ہوئے، اسکے بیٹے کو تلاش کیا تو لاش بری اور بدبودار حالت میں ملی، جس وقت بدبودار لاش ملی اس وقت قتل میں ملوث شخص بھی ساتھ کھڑا تھا، یہ منظر دیکھ کر وہ کپکپانے لگا، لوگوں نے پکڑ لیا اور آخر کار اس نے اعتراف کرلیا اور پورا معاملہ سامنے رکھ دیا اور باقی ساتھیوں کا بھی بتا دیا…صنعاء علاقے کے امیر نے یہ واقعہ حضرت عمر کی بارگاہ میں لکھ بھیجا اور حکم پوچھا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے قتل مین ملوث چاروں مجرموں کو قتل کرنے کا حکم دیا اور یہاں تک فرما دیا کہ: ” والله لو أن أهل صنعاء شركوا في قتله لقتلتهم أجمعين’
ترجمہ: اللہ کی قسم اگر صنعاء کے تمام باشندے اس میں ملوث ہوتے تو میں تمام کو قتل کرتا (سنن کبری بیھقی روایت نمبر15976)

حضرت عمر کے فیصلے کو امام بخاری نے بھی اس طرح نقل کیا ہے: أن غلاما قتل غيلة، فقال عمر: «لو اشترك فيها أهل صنعاء لقتلتهم» وقال مغيرة بن حكيم، عن أبيه: «إن أربعة قتلوا صبيا ترجمہ: ایک لڑکے کو پوشیدہ طور پر قتل کیا گیا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر اس میں صنعاء کے تمام افراد بھی شریک ہوتے تو میں تمام کو قتل کرتا، مغیرہ بن حکیم کی اپنے والد سے روایت میں ہے کہ چار لوگوں نے مل کر بچے کو قتل کیا تھا (بخاری روایت نمبر6896)

اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ: ① قتل وغیرہ جرائم میں عام طور پر قاعدہ یہی ہے کہ گواہ ہوں یا پھر مجرم اعتراف کرے، محض قرائن کی بنیاد پر حدود و قصاص لاگو نہیں کرسکتے مگر قرائن کی اہمیت بھی ہے، قرائن کی بنیاد پر کسی سے تفتیش پکڑ دھکڑ ہوسکتی ہے جس پر وہ اعترافِ جرم کرلے تو سزا دی جائے گی….جدید ٹیکنالوجی ڈی.این.اے ٹیسٹ اور پولی گرافک ٹیسٹ وغیرہ بھی قرائن کا درجہ رکھتے ہیں، قراءن کے بعد مجرم اعتراف بھی کرلے اور مضبوط قرائن بھی اسکو مجرم ثابت کر رہے ہوں تو اسے حد یا قصاص وغیرہ سزا دی جائے گی، کچھ علماء نے فرمایا کہ قرائن سے اگرچے حد ثابت نہیں ہوتی مگر مضبوط قراءن کی بنیاد پر تعزیرا سزا دے سکتے ہیں،

②ایک قتل میں کئ لوگ یا ایک گینگ ملوث ہو تو سب کو سزا ملے گی حتی کہ ایک قتل کے بدلے کئ قتل ہوسکتے ہیں
سزا سرعام اور جلد از جلد….بڑے بڑے مجرموں درندوں فسادیوں کو جلد از جلد اور بیچ چوراہوں پر سرعام سزا دی جائے تاکہ سب کے لیے عبرت و نصیحت ہو……..!! اتفق الفقهاء على أن الحدود تقام في ملأ من الناس، لقوله تعالى: {وليشهد عذابهما طائفة من المؤمنين )والنص وإن ورد في حد الزنى لكنه يشمل سائر الحدود دلالة، لأن المقصود من الحدود كلها واحد، وهو زجر العامة، وذلك لا يحصل إلا أن تكون الإقامة على رأس العامة ترجمہ: فقہاء کا اتفاق ہے کہ شرعی سزائیں لوگوں کے مجمعے کی موجودگی میں دی جائیں کیونکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ: مومنوں کا مجمعہ انکی سزا میں حاضر ہو

یہ آیت اگرچے زنا کی سزا کے متعلق ہے لیکن دلالت کے لحاظ سے یہ تمام حدود کو شامل ہے،کیونکہ تمام شرعی سزاؤں کا ایک مقصد ہے اور وہ یہ ہے کہ عوام کو(جرائم سے) ڈرایا جائے، ڈانٹا جائے، روکا جائے اور یہ مقصد اس وقت حاصل ہوگا جب سزا سرعام دی جائے (موسوعہ فقہیہ کوئیتیہ17/151) لا خلاف بين الفقهاء في أن الحد تجب إقامته على الفور إلا إذا كان هناك عذر ترجمہ: اس مسلے میں کسی کا اختلاف نہیں کہ شرعی سزا جلد از جلد دی جائے سوائے اس کے کہ کوئی عذر ہو (موسوعہ فقہیہ کوئہتیہ17/146) اگر ہر جرم پر بھرپور طاقت و وسائل لگا کر مجرم پکڑے جائیں اور جلد از جلد سزا دی جائے….فورا انصاف ملنا شروع ہوجائے تو امن ہی امن پھیلتا جائے گا، بہترین مثالی معاشرہ تشکیل پائے گا….!!