ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

زینب الرٹ

ٹیکساس کے شہر آرلنگٹن میں ایک نو سال کی بچی رہتی تھی‘ بچی کا نام امبر تھا‘ یہ 21 جنوری 1996ءکو گلی میں سائیکل چلا رہی تھی‘ والدہ ٹیلی فون سننے کےلئے اندر گئی‘ آٹھ منٹ بعد واپس آئی تو امبر اغواءہو چکی تھی‘ ماں باپ‘ لوکل کمیونٹی اور پولیس چار دن بچی کو تلاش کرتی رہی‘ پانچویں روز لاش نالے سے ملی‘ بچی کو زیادتی کے بعد گلا کاٹ کر قتل کیا گیا تھا‘ کیس کی تفتیش مائیک سائمنڈ نے کی‘ مائیک سائمنڈنے لاش دیکھی تو وہ پورا ہفتہ سو نہ سکا۔

بچی کو وحشیانہ انداز سے قتل کیا گیا تھا‘ مائیک سائمنڈ کا خیال تھا پولیس اگر پہلے دن اغواءکار تک پہنچ جاتی تو بچی کی جان بچ جاتی‘ اس نے سوچا کوئی ایسا سسٹم ہونا چاہیے جس کے ذریعے مغوی بچے کی تفصیلات چند منٹوں میں پورے شہر تک پہنچ جائیں‘ لوگ الرٹ ہو جائیں‘ یہ مشکوک لوگوں پر نظر رکھیں اور یوں پولیس مجرم تک بروقت پہنچ جائے‘ یہ دو ہفتے سوچتا رہا یہاں تک کہ اس نے ایک الرٹ سسٹم بنا لیا‘ مائیک سائمنڈ نے یہ سسٹم آرلنگٹن پولیس کو دیا‘ پولیس نے میئر کے ساتھ مل کر یہ سسٹم پورے شہر میں لگا دیا‘ یہ سسٹم آرلنگٹن کے بعد پوری ٹیکساس ریاست میں نافذ ہوا اور یہ 2001ءمیں چار امریکی ریاستوں میں استعمال ہونے لگا‘ یہ سسٹم اس قدر کامیاب‘ سستا اور جامع تھا کہ امریکی صدر جارج بش نے 2002ءمیں اسے پورے امریکا میں نافذ کر دیا‘ یہ سسٹم 2005ءمیں دنیا کے 30 ملکوں تک پہنچ گیا‘ یہ اس وقت یورپ‘ مشرق بعید اور لاطینی امریکا سمیت دنیا کے ہر جدید ملک میں چل رہا ہے‘ یہ سسٹم جس ملک میں موجود ہے وہاں بچوں کے اغواءکی وارداتیں بھی کم ہیں اور اغواءکے بعد ریکوری کی تعداد بھی زیادہ ہے۔یہ سسٹم آرلنگٹن کی بچی امبر کی مناسبت سے امبر الرٹ کہلاتا ہے‘ امبر الرٹ کے تین حصے ہیں‘ پولیس‘ میڈیا اور سوشل میڈیا‘

امریکا میں جب کوئی بچہ اغواءہوتا ہے تو پولیس آتی ہے‘ بچے کی تصاویر‘ اغواءکا طریقہ‘ مقام اور اغواءکار کے بارے میں تفصیلات جمع کرتی ہے‘ معلومات کا پیکج بناتی ہے اور یہ پیکج شہر کے سارے میڈیا کو بھجوا دیتی ہے‘ میڈیا یہ خبر‘ بچے کا حلیہ اور اغواءکارکی تمام نشانیاں چند سیکنڈ میں نشر کر دیتا ہے‘ یہ اطلاعات تمام ریڈیوز‘ ٹیلی ویژن چینلز اور اخبارات تک پہنچ جاتی ہیں‘

یہ ادارے تمام معلومات کو نشر اور شائع کرنے کے پابند ہوتے ہیں‘ یہ اطلاعات اس کے بعد تمام موبائل کمپنیوں کو پہنچا دی جاتی ہیں‘ موبائل فون کمپنیاں چند سیکنڈ میں شہر کے تمام موبائل فونز کو الرٹ جاری کر دیتی ہیں یوں مغوی بچے اور اغواءکار کے حلئے سمیت تمام اطلاعات شہر کے تمام موبائل فونز پر پہنچ جاتی ہیں‘ موبائل فون کمپنیاں بھی یہ الرٹ مفت جاری کرتی ہیں‘ یہ کمپنیاں شام کے وقت پولیس کے ساتھ ڈیٹا بھی شیئر کرتی ہیں‘ امبر الرٹ فیس بک‘ گوگل‘ یوٹیوب‘ ٹویٹر اور بنگ پر بھی جاری ہوتی ہیں‘ یہ سوشل میڈیا کمپنیاں بھی امبر الرٹ جاری کرنے کی پابند ہیں‘ یورپ کے بارہ ملکوں میں یہ الرٹ شہر کے بل بورڈز ‘ ائیرپورٹس‘ بس سٹیشنز اور ریلوے سٹیشنز کی سکرینوں اور موٹرویز کی انٹری اور ایگزٹ پر بھی ڈس پلے ہو جاتے ہیں‘

موٹروے کا عملہ بھی گاڑیوں پر نظر رکھنا شروع کر دیتا ہے اور بس‘ ٹرین اور ائیر پورٹ کا سٹاف بھی مسافر بچوں کو غور سے دیکھتا رہتا ہے ‘ امریکا اور یورپ میں بچوں کو سکول میں اپنی حفاظت کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے‘ اساتذہ انہیں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کے بارے میں بتاتے ہیں اور والدین کو بھی بچوں کی تربیت کے بارے میں باقاعدہ ٹپس دی جاتی ہیں‘ ماﺅں کو بتایا جاتا ہے یہ اپنے بچوں کا باقاعدگی سے جسمانی معائنہ کریں‘ یہ ان کے رویئے یا جسم میں کوئی غیر معمولی تبدیلی دیکھیں تو یہ فوراً پولیس کو اطلاع دیں‘

اساتذہ کو بھی پابند کیا جاتا ہے یہ اگر کسی بچے میں چھ نشانیاں دیکھیں‘ بچہ خاموش اور سہما ہوا دکھائی دے‘ یہ جسم میں درد کی شکایت کرے‘ یہ بڑوں سے ڈر رہا ہو‘ یہ نظریں نیچی کر کے بات کرے‘ یہ چھٹی کے وقت سہم جاتا ہو یا پھر یہ اپنے والدین اور رشتے داروں کے ساتھ کمفرٹیبل محسوس نہ کرتا ہو تو اساتذہ پولیس کو اطلاع دیں‘ پولیس شروع میں نفسیات دان کو سکول بھجواتی ہے اور اگر ماہر نفسیات تصدیق کر دے تو پولیس ملزم سے تفتیش شروع کر دیتی ہے۔

قصور کی بچی زینب کے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا‘ سات سال کی زینب 4 جنوری 2018ءکو قرآن مجید پڑھنے کےلئے اپنی خالہ کے گھر گئی اور یہ راستے سے غائب ہو گئی‘ بچی کے والدین عمرے کےلئے سعودی عرب گئے ہوئے تھے‘ رشتے داروں نے بچی کی تلاش شروع کر دی‘ رشتے داروں نے بازار کے سی سی ٹی وی کیمروں سے فوٹیج نکال کر بھی پولیس کے حوالے کر دی لیکن پولیس بچی تک نہ پہنچ سکی‘ 9جنوری کوبچی کی لاش شہباز خان روڈ سے کچرے کے ڈھیر سے ملی‘

بچی کو خوفناک طریقے سے درندگی کا نشانہ بنایا گیا تھا‘ سوشل میڈیا پر ”جسٹس فار زینب“ کے نام سے کمپیئن شروع ہوئی اور پورے قصور شہر میں آگ لگ گئی‘ ہجوم نے ڈی پی او آفس پر حملہ کر دیا‘ پولیس نے فائر کھول دیا‘ دو لوگ ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے‘ ہنگامے آج بھی جاری ہیں‘ احتجاج کا دائرہ لاہور اور کراچی تک پھیل چکا ہے‘ یہ قصور میں اس نوعیت کا بارہواں واقعہ ہے‘ گزشتہ ایک سال کے دوران بارہ بچیاں درندگی کا نشانہ بن چکی ہے‘ 11بچیاں درندگی کے بعد قتل کر دی گئیں‘

صرف ایک بچی کائنات کی جان بچ گئی لیکن یہ بھی ذہنی طور پر معذور ہو چکی ہے‘ ہم اگر زینب قتل کے بعد عوام اور حکومت کے رویوں کا جائزہ لیں تو ہمیں دونوں غلط نظر آئیں گے‘ اگر تھانوں پر حملے‘ ہسپتال پر پتھراﺅ‘ ٹائر جلانے اور گاڑیاں توڑنے سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو پھر آپ بے شک تمام تھانوں کو آگ لگا دیں ‘آپ ساری گاڑیاں اور سارے ہسپتال توڑ دیں‘ اسی طرح اگر پولیس فائرنگ‘ ڈی پی او کے تبادلے‘ وزیراعلیٰ کے نوٹس اور چیف جسٹس کے سوموٹو سے بھی یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو آپ بے شک تبادلوں اور نوٹسز کا انبار لگا دیں لیکن یہ مسئلہ نوٹسز سے حل ہو گا اور نہ ہی گھیراﺅ جلاﺅ سے‘

آپ کو آج یا کل بالآخر اس درندگی کے تدارک کےلئے سسٹم بنانا پڑے گا اور آج کی تاریخ میں اس سسٹم کا نام ”امبر الرٹ“ ہے‘ وزیراعلیٰ پنجاب کو یہاں مزید دو ایشوز بھی سمجھنا ہوں گے‘ پہلا ایشو پنجاب کا آئی ٹی بورڈ ہے‘ بورڈ کے چیئرمین آج کے آئین سٹائن ڈاکٹر عمر سیف ہیں‘ ڈاکٹر عمر سیف نے ویب سائیٹس اور موبائل ایپس پر اربوں روپے ضائع کر دیئے‘ وزیراعلیٰ صاحب کسی دن ان ایپس اور ویب سائیٹس کو کھول کر دیکھ لیں‘ یہ صرف یہ دیکھ لیں ان ویب سائیٹس پر روزانہ کتنے لوگ وزٹ کرتے ہیں اور کتنے لوگوں نے آج تک پنجاب آئی ٹی بورڈ کی تخلیق کردہ ایپس ڈاﺅن لوڈ کی ہیں‘

یہ چند لمحوں میں اپنے آئی ٹی بورڈ کی کارکردگی جان لیں گے‘ پنجاب کی حالت یہ ہے تھانوں میں ایف آئی آرز کمپیوٹرائزڈ ہو چکی ہیں لیکن سسٹم قصور میں بارہ بچیوں کے ساتھ درندگی کے بعد بھی الرٹ جاری نہیں کرتا‘ آئی جی اور چیف منسٹر دونوں ان واقعات سے ناواقف رہتے ہیں‘یہ کس کا قصور ہے‘ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ وزیراعلیٰ فوری طور پر آئی ٹی بورڈ کا احتساب کریں اور یہ ایف آئی آر سسٹم میں وارننگ کا آپشن لگوائیں‘ صوبے میں جس جگہ ایک قسم کی چھ وارداتیں ہو جائیں یہ سسٹم اسی وقت وزیراعلیٰ اور آئی جی کو اطلاع کر دے یوں حکومت پکچر میں آ جائے گی‘

دوسرا آپ زینب اور اغواءکار کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھئے‘ فوٹیج میں ملزم پہچانا نہیں جا رہا‘ کیوں؟ کیونکہ کیمروں کی ”ریزولوشن“ کم تھی‘ وزیراعلیٰ پنجاب کیمروں کا معیار طے کریں اور پھر پورے صوبے میں سرکاری اور پرائیویٹ کوئی شخص اس ”ریزولوشن“ سے کم کیمرے نہ لگا سکے اور جو لگائے اسے بھاری جرمانہ کیا جائے‘ میری وفاقی حکومت سے بھی درخواست ہے یہ فوری طور پر امبر الرٹ کی طرز پر زینب الرٹ بنائے اوریہ میڈیا‘ سوشل میڈیا اور موبائل فونز کمپنیوں کو پابند بنائے یہ آدھ گھنٹے کے اندر اندر یہ الرٹ نشر‘ شائع اور براڈ کاسٹ کریں گی‘

حکومت اگر یہ الرٹ سسٹم نہیں بنا سکتی تو میں حکومت کو یہ سسٹم مفت فراہم کر سکتا ہوں‘ میری ایک چھوٹی سی آئی ٹی کمپنی ہے‘ یہ کمپنی یورپ اور امریکا کی مختلف کمپنیوں کو ایپس‘ ویب پیجز اور ویب سائیٹس بنا کر دیتی ہے‘ ہم حکومت کو یہ الرٹ سسٹم مفت بنا دیں گے‘ حکومت یہ الرٹ سسٹم ڈی پی اوز کو دے دے ‘ یہ لوگ یہ سسٹم اپنے سرکاری موبائل فونز میں لگائیں اور یہ لوکل میڈیا‘ نیشنل میڈیا‘ سوشل میڈیا اور موبائل فون کمپنیوں کو اس کے ساتھ لنک کردیں‘ مجھے یقین ہے مستقبل میں زینب جیسی بچیاں درندگی سے محفوظ ہو جائیں گی‘ میری حکومت سے یہ درخواست بھی ہے یہ تعلیمی اداروں بالخصوص پرائیویٹ سکولوں کو پابند کریں یہ کم از کم ایک ماہر نفسیات ضرور رکھیں‘

یہ ماہر نفسیات بچوں کا باقاعدگی سے معائنہ کرتے رہیں‘ سکول اساتذہ کو بھی پابند کریں یہ بچوں کو اپنی حفاظت کے بارے میں گاہے بگاہے بتاتے رہا کریں‘ بھارت میں زینب جیسے ایشو پر کہانی ٹو کے نام سے بڑی شاندار فلم بنی تھی‘ پرائیویٹ سکول بچوں کو یہ فلم بھی دکھا سکتے ہیں‘ یہ بھی مدد گار ثابت ہوگی۔زینب ایک الرٹ تھی‘ ہم اگر اس الرٹ سے اپنا سسٹم امپروو کر لیتے ہیں تو زینب کی جان ملک کی ہزاروں بچیوں کو زندگی دے جائے گی اور ہم نے اگر اس الرٹ کو بھی اگنور کر دیا تو پھر ہم اسی طرح اپنی بچیوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے اور اپنا غصہ تھانوں‘ ہسپتالوں اور گاڑیوں پر نکالتے رہیں گے۔

کالم : جاوید چوہدری

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...