خبریں معلومات

زین قتل ہوا اور بیوہ ماں کو 5 لاکھ کا چیک اور کبھی نہ پورا ہونے والا وعدہ تھما دیا گیا ۔

2 اپریل 2015 کو سابق وزیر مملکت برائے امور خارجہ صدیق کانجو کے بیٹے مصطفیٰ کانجو نے کیولری گراؤنڈ میں گاڑی کی ٹکر کے بعد اپنے گارڈ کے ہمراہ فائرنگ کی جس کی زد میں آ کر نویں جماعت کا طالب علم سولہ سالہ یتیم زین ہلاک ہو گیا ۔ زین دو بہنوں اور بیوہ ماں کا اکلوتا سہارا تھا۔ زین کے والد 2014 میں انتقال کر گئے تھے ۔

واقعے کا مقدمہ جنوبی پولیس تھانے میں مقتول زین کے ماموں سہیل افضل کی مدعیت میں درج کیا گیا ۔اس واقعہ کا نوٹس شہباز شریف نے بھی لیا تھا اور بیوہ ماں کو 5 لاکھ کا چیک دیتے ہوئے انصاف کا وعدہ کیا تھا۔لیکن ہوا کیا ؟؟جون 2015 میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے مصطفیٰ کانجو اور چھ دیگر ملزمان پر زین قتل کیس میں فردجرم عائد کی گئی ۔مصطفیٰ کانجو نے زین پر فائرنگ کا اعتراف کیا تھا۔اس کے مطابق زین اس فائرنگ کا ہدف نہیں تھا اور نہ ہی وہ زین یا کسی اور قتل کرنا چاہتے تھے ۔

15 اگست 2015 کو کیولری گراﺅنڈ میں قتل ہونے والے 16 سالہ طالبعلم زین کے مقدمے کے مدعی اور زین کے ماموں سہیل افضل انسداد دہشتگردی کی عدالت میں اپنے سابقہ بیان سے مکر گئے اور پولیس کے پاس جمع کرائے گئے اپنے دستخط شدہ بیان سے انکار کر دیا ۔انسداد دہشتگردی کی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران سہیل افضل نے کہا ” میں اس وقت ہسپتال میں تھا اور پولیس نے ایک سادہ کاغذ پر مجھ سے دستخط لیے”۔
مصطفیٰ کانجو کے حوالے سے انہوں نے کہا ” میں ان لوگوں کو نہیں جانتا اور انہیں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا”۔ انہوں نے واقعے کی ایف آئی آر درج نہیں کرائی اور مقدمے کے مرکزی ملزم مصطفیٰ کانجو کی شناخت کی بھی تردید کی ۔

27 اکتوبر 2015 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے زین قتل کیس کے ملزم مصطفیٰ کانجو کو چار ساتھیوں سمیت بری کر دیا۔ زین قتل کیس میں تمام گواہوں نے پولیس کودیے گئے بیانات سے انحراف کرتے ہوئے ملزم کوپہچاننے سے انکار کر دیا تھا۔ جبکہ ابتدائی طور پر متعدد گواہوں نے انہیں شناخت بھی کر لیا تھا ۔بعد میں سپریم کورٹ نے نوٹس بھی لیا لیکن زین کی ماں نے یہ کہتے ہوئے پیروی سے انکار کردیا کہ میرا بیٹا مر چکا ہے لیکن میری دو جوان بیٹیاں زندہ ہیں ۔یہ تھا شہباز شریف کا وعدہ اور یہ تھا اس کا انجام۔(سانحہ ساہیوال میں عمران خان کا مجرموں کو نشان عبرت بنانے کا وعدہ بھی ابھی تک فقط وعدہ ہی ہے )

بشکریہ عدیل الرحمان