اسلام

ظہورِ اسلام سے قبل عربوں کے سیاسی حالات

ظہورِ اسلام سے پہلے عرب قبائلی نظام میں تقسیم تھے اور سرزمین عرب کے ریگستانوں میں دانہ ہاۓ تسبیح کی طرح بکھرے ہوۓ تھے، قبائل کا سیاسی نظام نیم جمہوری تھا، قبیلہ کا ایک سردار مقرر ہوتا جس کی شجاعت، قابلیت اور فہم و فراست کے علاوہ سابقہ سردار سے قرابت داری کا بھی لحاظ رکھا جاتا، تمام لوگ اپنے سردار کی اطاعت کرتے، تاہم سردار قبیلہ کے بااثر لوگوں سے صلاح مشورہ بھی کر لیتا۔ عرب قوم کیونکہ اکھڑ مزاج قوم تھی تو بعض اوقات کسی معمولی سی بات پر اگر دو مختلف قبیلے کے افراد میں جھگڑا ہوجاتا تو اسے پورے قبیلے کی انا کا مسلہ بنا لیا جاتا اور پھر مخالف قبیلے کے خلاف اعلان جنگ کردیا جاتا، بسا اوقات یہ جنگیں مدتوں جاری رہتیں۔ مثلاً بنو تغلب اور بنو بکر میں بسوس نامی ایک اونٹنی کو مار ڈالنے پر جنگ کا آغاز ہوا اور یہ جنگ پھر چالیس برس جاری رہی۔

جب ہم جزیرہ نما عرب کے اطراف پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک طرف روم کی عظیم بازنطینی سلطنت اور دوسری طرف ایران کی عظیم ساسانی سلطنت نظر آتی ہیں، جزیرہ نما عرب کو ایک لحاظ سے ان دو عظیم ہمسایہ حکومتوں کے درمیان ایک "بفر سٹیٹ” کا درجہ حاصل تھا۔ اہل عرب ان دو ہمسایہ سلطنتوں کو ” اسدین غالب” (دو طاقتور غالب شیر) کہا کرتے تھے، اس وقت یہ دنیا کی دو سب سے طاقتور ترین اقوام تھیں جو کئی صدیوں سے آپس میں برسر پیکار تھیں، کبھی رومی ایرانیوں کو پامال کرتے ہوئے شکست فاش سے دوچار کر دیتے اور کبھی میدان جنگ میں ایرانیوں کی فتح کے طبل بجتے۔

روم کی بازنطینی سلطنت کا حکمران "قیصر” کے لقب سے حکومت کرتا، جبکہ ایران کی ساسانی سلطنت کا حکمران "کسریٰ” کہلاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں روم پر قیصر "ہرقل” کی حکومت تھی، جبکہ ایران پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بچپن میں مشھور ایرانی بادشاہ "نوشیرواں” کی حکومت تھی، جبکہ اس کے بعد "خسرو پرویز” ایران کا شہنشاہ بنا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تبلیغی خط کو پھاڑنے کی گستاخی کی تھی۔

سیرت النبی ﷺ .. علامہ شبلی نعمانی..
سیرت المصطفیٰ .. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری..