بلاگ کالمز

اب لازم ہے کہ نوجوان خود فیصلہ کرے

نوجوان کسی بھی معاشرے کا چاق و چوبند دستہ ہیں۔ یہ انتہائی قیمتی پونجی ہوتے ہیں اور ملک وقوم کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھے ہیں۔ یہ اگر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مطمئن ہوں گے تو ملکی ترقی میں کبھی رکاوٹ نہیں آئے گی۔پاکستان میں نوجوانوں کی شرح تقریباً ساٹھ فیصد ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارا یہ اہم قومی اثاثہ مختلف مسائل اور الجھنوں کا شکار، اور پریشان حال ہے۔ ان ساٹھ فیصد کی بات کسی فورم پر نہیں ہوتی۔ ان کی خودکشیوں کی خبریں تو بریکنگ نیوز بنتی ہیں مگر ان کی الجھنوں کے خاتمے کےلیے میڈیا پر کوئی ٹاک شوز نہیں ہوتے، اور انہیں نظرانداز کرنے کا نتیجہ ملک 70 سال سے بھگت رہا ہے۔زمانہ طالب علمی میں ہی نوجوان اپنے حالات کے جبر کے آگے تیز آندھی میں جلتی لو کی مانند، بہ مشکل تمام بس جل رہے ہیں۔

وہ ڈگری لینے سے پہلے ہی غربت، مہنگائی، بے روزگاری کی اصطلاحات سے نہ صرف واقف ہوجاتے ہیں بلکہ خوفزدہ بھی۔ اور یہی ’’آگہی‘‘ ان کی ذہنی نشوونما کو متاثر کرنے کا باعث بنتی ہے۔ترقی پذیر ملکوں میں مہنگی تعلیم نے ان باہمت نوجوانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ غریب طبقے کا نوجوان مہنگی تعلیم اور معاشی بوجھ کی وجہ سے دوہری اذیت میں مبتلا ہے۔ ڈگری کے حصول کے بعد نوکری کا خواب سجائے، شادی کی فکر میں گھٹتے ہوئے جب ناامید ہوتا ہے تو پھر جرائم کی دنیا میں اس کا استقبال بغیر کسی طبقاتی اونچ نیچ کے کیا جاتا ہے؛ اور وہ اس پراسرار دنیا کا باسی بن کر ہر آسائش حاصل کر لیتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ اسے اپنی زندگی کو گروی رکھ کر حاصل کرنا پڑتا ہے جو سرمایہ دارانہ نظام میں کوئی مہنگا سودا نہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال اعلیٰ تعلیمی اداروں سے ہزاروں طلبا فارغ التحصیل ہوتے ہیں مگر اس تعداد میں نوکری کا ہما کسی کسی کے سر پر ہی بیٹھتا ہے۔ آج کے نوجوانوں کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ روزگار کا حصول ہے، کیونکہ بروقت روزگار نہ ہونے کی وجہ سے اس کی شادی میں بھی رکاوٹ ہوتی ہے۔ بے راہ روی کا بنیادی سبب بھی یہی مسئلہ بنتا ہے جس سے ہمارے نوجوانوں کی صحت اور نفسیات شدید متاثر ہورہی ہیں۔ ان میں سے کچھ جب مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں تو وہ یا تو خودکشی کرلیتے ہیں یا پھر جرائم پیشہ گروہوں میں شامل ہوکر ان کےلیے خام مال ثابت ہوتے ہیں۔یہ مسائل ایسے ہیں کہ والدین بھی تماشائی بن کر سب ہوتا دیکھنے پر مجبور ہیں، حکومت بھی ان مسائل پر کوئی خاص توجہ دیتی نظر نہیں آتی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہو جہاں طلبا بہ آسانی اپنے مسائل حل کرسکیں، ان پر بحث و مباحثہ ہو اور ان کا حل بھی نکالا جائے۔ ماضی میں طلبا تنظیمیں بنتی ہی طالب علموں کی رہنمائی اور ان کے مسائل کے حل کےلیے تھیں، مگر اب یہ تنظیمیں سیاستدانوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن گئی ہیں، یہ صرف سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے پر کام کرتی ہیں۔ آج تعلیمی اداروں میں اسلحہ کلچر، دنگا فساد، خوف و ہراس کا ماحول معمول بن چکا ہے؛ بلکہ منشیات کا فروغ بھی اب عام بات سمجھی جانے لگی ہے۔سیاست دان ایسے خام مال کو اپنے مصرف اور مفاد کےلیے استعمال کرتے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ یہ گرم خون ہے، بے دریغ بہہ بھی جائے تو گھاٹے کا سودا نہیں؛ اور نہ ہی یہ کم پڑتا ہے۔ بلکہ اسی خون اور لاشوں کے بل بوتے پر ان کی تحریکیں زندہ رہتی ہیں۔انہیں دوام بخشنے کےلیے یہ خوں آشام درندوں کی طرح نوجوانوں کا خون پیتے جارہے ہیں۔ انہیں کسی مداری کی طرح اپنے اشاروں پر نچاتے جارہے ہیں۔

آج کا نوجوان ناسمجھ اور پاگل ہر گز نہیں، مگر وہ حالات کے آہنی شکنجوں میں اس قدر جکڑا جاچکا ہے کہ اس کی سوچ سمجھ کی صلاحیت سلب ہو کر رہ گئی ہے، اور وہ ان مداریوں کے اشاروں اور احکامات پر عمل کرنے پر خود کو مجبور پاتا ہےـسیاست دان یاد رکھیں کہ نوجوانوں کے بغیر کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوسکتی۔ یہ نوجوان ہی ہیں جو سیاست دانوں کی خاطر لاٹھیاں ڈنڈے کھاتے ہیں، سڑکوں پر انہیں اپنے ’’عظیم رہنماؤں‘‘ کی وجہ سے ہی گھسیٹا جاتا ہے۔ انقلاب ان کے خون سے جنم لیتا ہے اور کامیابی کا سہرا یہ کم ظرف اور خود غرض سیاست دان اپنے سروں پر باندھ لیتے ہیں۔سیاست دانو! یہ نوجوان کوئی ریوڑ نہیں جسے تم اپنے مفادات کی راہ پر ہانکتے چلے جاتے ہو۔ انہیں تقسیم کرکے، ان کے مسائل سے چشم پوشی کرکے، انہیں استعمال کرکے، کسی پان کی پیک اور گٹکے کی پچکاری کی طرح سڑک پر تھوک دیتے ہو۔یہ جاندار مخلوق سانس لینا چاہتی ہے مگر جس تعفن کا شکار یہ نوجوان ہوتے ہیں، اس سے ہمارا معاشرتی ماحول کیسے بچ سکتا ہے؟

نتیجے کے طور پر وہ بھی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اسی بدبودار فضا میں خود بھی قریب المرگ کی طرح نزاع کے عالم میں ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ نوجوان خود فیصلہ کریں کہ انہیں کیا پڑھنا ہے؟ وہ نہیں جو والدین یا کسی اور کی خواہش ہے۔ آج کا نوجوان فیصلہ کرے کہ اب اس کےلیے کیا اہم ہے؟ وہ فیصلہ کرے کہ اسے کسی کی اندھی تقلید اور اغیار کے آئیڈیلزم کو نہیں اپنانا بلکہ شعور کے ساتھ اپنی منزل کا تعین کرنا ہے۔ وہ فیصلہ کرے کہ اسے کسی کا آلہ کار نہیں بننا بلکہ وہ راستہ چننا ہے جس پر اس کا ضمیر اور جذبہ ایمانی ساتھ دیتا ہے۔اب آج کی نوجوان نسل کو اسی راستے کی فکر کرنی چاہیے۔