اسلام

"یوم محبت یا اسلامی تہذیب ا ور حیا کا قتل؟؟

youm-e-muhabat

ارشاد ربانی ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کا کہا مانو اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو
سورة محمد, آية ……٣٣ایک اور مقام پر فرمایا

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنْتُمْ تَسْمَعُونَ اے ایمان والو! اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا مانو اور اس (کا کہنا ماننے) سے روگردانی مت کرو سنتے جانتے ہوئے سورة اﻷنفال, آية ٢٠….رب العزت نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لیےیہی دو زریں اصول دئیے ہیں جو دنیاوی اور اخروی بقا کی ضمانت ہیں اس کے علاوہ جو کسی اور راستے پر چلے گا وہ گمراہی کے گڑھے میں گرے گا.آج امت مسلمہ نہ صرف ان اصولوں سے بیگانہ ہو چکی ہے بلکہ آج ہماری سب سے بڑی بد نصیبی ہے کہ امت مسلمہ یہودیوں، عیسائیوں اور غیر مسلموں کی تقلید و اطاعت میں مشغول ہے. یوں تو فن کے نام پر ہماری قوم نے عزت، غیرت، شرم و حیا اور بہت کچھ داؤ پہ لگایا ہے لیکن اس تفریح کا یہی اختتام نہیں ہوتا بلکہ ہم بسنت جیسے قاتلانہ اور ہندوانہ تہوار کو بھی انجوائے کرتے ہیں اور بات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی کبھی اپریل فول کے نام پر اپنے آقا علیہ الصلوۃ والتسليم کے لائی ہوئی مقدس تعلیمات کا استھزا کرتے ہیں اور رہی سہی کسر اور شرم و حیا کی دھجیاں ہم ویلنٹائن ڈے کے نام پر بکھیر دیتے ہیں.اور آج قلم اٹھانے کی وجہ بھی یہی بے ہودہ اور تہذیب مغرب کا عکاس تہوار ہے….انداز بیاں اگرچہ شوخ نہیں…شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات…. اس کے معاشرتی پہلوؤں کے جو نقصانات ہیں ان کا ذکر کرنے سے پہلے یہ عرض کرنا ہے کہ رحمت کائنات نے اس کے بارے میں کیا فرمایا ہے

لَا يُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا إِلَّا حُشِرَ مَعَهُم…..رواه الطبراني في ” المعجم الأوسط ” (6/293) ، وفي ” المعجم الصغير ” (2/114)….جو شخص کسی قوم سے محبت رکھے گا انھیں کے ساتھ اٹھایا جائیگا۔…ایک اورمقام پر فرمایا:…عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ ) رواه أبو داود (کتاب اللباس / 3512)…جو کسی قوم سے مشابہت کرے گا وہ انھیں میں سے ہو گا. ان فرامین مقدسہ کے باوجود ہماری حالت یہ ہے کہ آج مسلم اور غیر مسلم کی شناخت کرنا مشکل ہے…….اسی بات کی طرف حکیم الامت نے یوں اشارہ کیا ہےوضع میں تم ہو نصارٰی تو تمدن میں ہنود….یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کہ شرمائیں یہود

آج اس حالت زار کو دیکھ کر نبی محترم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وہ پیشین گوئی ان پر صادر نظر آتی ہے:…صحیح بخاری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے:حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ تم ضرو ر پہلی قوموں کی پیروی ایک ایک بالشت اور ذراع میں کروگے یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں گھسیں گے کہ تم بھی جا گھسو گے ہم نے سوال کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس سے مراد یہود و نصارٰی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تو اور کون ہیں.

ان دنوں میں ہم ان کی نقالی میں شرم و حیا کا جنازہ نکالتے ہوئے ویلنٹائن ڈے منانے کی تیاریوں میں ہیں تو آئیے دیکھتے ہیں یہ ہے کیا؟؟انسائیکلوپیڈیا آف بریٹانیکا کے مطابق اسے عاشقوں کے تہوار کے طور پر منایا جاتاہےانسائیکلوپیڈیا بک آف نالج کے مطابق ویلنٹائن ڈے جو 14فروری کو منایا جاتا ہے محبوبوں کے لیے خاص دن ہے…اس کے تاریخی پس منظر کے حوالے سے جو کہانیاں پیش کی جاتی ہیں سب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ اس داستان محبت کی یاد ہے جس کا اظہار شاعر نے یوں کیا ہے….دیکھے ہیں ہم نےبہت ہنگامے محبت کے….آغاز بھی رسوائی، انجام بھی رسوائی

یہ تو ہے اس محبت کی حقیقت اور اب دیکھنا یہ ہے کہ ہماری شریعت اس کے بارے میں کیا کہتی ہے….جب شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا :یہ متعدد وجوہات کی بنا پر جائز نہیں 1.یہ ایک غیر اسلامی تہوار ہے جس کی شریعت میں کوئی اجازت نہیں. 2.اس سے عشق اور دیوانگی جنم لیتی ہے. 3.اس سے دل غیر اخلاقی چیزوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جو کہ طریق سلف صالحین کے بالکل مخالف ہے. لہذا ہر مسلمان پر ضروری ہے کہ اپنے دین پر کار بند رہے اور ضعیف العقل بن کر ہر آواز لگانے والے کے پیچھے نہ چلے…..مجموعہ فتاوی199/16اس کے علاوہ حیا جو کہ ہر مذہب کا خاصا ہے اس کے منافی امور سے بچنا چاہیے اور جہاں تک مذہب اسلام کا تعلق ہے تو نبی محترم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا

ہر دین کی ایک خصلت ہوتی ہے اور اسلام کی خصلت حیا ہے..اس لیے ایک اسلامی معاشرے میں حیا سوزی کے تما م کام عذاب الہی کو دعوت دینے کے مترادف ہیں رب العزت کا فرمان ہإِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَجو لوگ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانے کے آرزومند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتےسورة النور, آية

 

تو یہ فرمان ان سب کے لیے وعید ہے جو کلچر اور تفریح کے نام پر اہل اسلام میں بے حیائی کو فروغ دے رہے ہیں. اور ان نجی ٹی. وی اینکرز اور میڈیا مالکان کے لیے بھی جو اس دن کے حوالےسے بے حیائی کی حدیں پھلانگتے ہوئے یہ تک کہہ جاتے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے مناؤ اور ضرور مناؤ لیکن چھپ چھپ کر کیونکہ یہ پاکستان ہے.. یہ ایک نجی ٹی. وی کی خاتون اینکر کے الفاظ ہیں جو میں انتہائی افسوس کے ساتھ یہ سوچتے ہوئے لکھ رہی ہوں کہ ابھی وہ پاکستان کا طعنہ دے کر ہماری قوم کو بے حیائی کی کون سی ڈگر پر چلانا چاہتے ہیں جس سے ان کی تشنگی دور ہو جائے.یاد رکھیے!!!ہر برائی کا الزام اسلام اور اہل اسلام کے سر تھوپ کر خود کو بری الذمہ سمجھنے والے یہ لبرل، بکاؤ میڈیا اور اہل مغرب کے زر خرید غلام ہی میری قوم کی بیٹیوں زینب، وأسماء اور دیگر کے قاتل ہیں جو الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے تہواروں اور کلچر کےنام پر بے حیائی کو فر وغ دے رہے ہیں.شاعر نے اس بات کی عکاسی یوں کی ہےہر جگہ صیاد کھڑے ہیں اور کلیاں لاچار ہیں
اس ساری بے شرمی کے یہ خود ہی ذمہ دار ہیں.

اور یہ قتل اور درندگی کے مناظر تب تک نہیں رک سکتے جب تک ہم نے حیا کو پروموٹ نہ کیا اور بے حیائی اور بدکاری کے دروازوں کو بند نہ کیا.رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین فطرت پر چلائے اور شرم و حیا کے زیور سے آراستہ کرے. أمینوما تو فیقی الا باللہ

بنت بشیر