ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

یونہی اچانک کسی روز

پورٹ قاسم اتھارٹی کے اٹھارہ سو مزدوروں نے سینیٹ کی میری ٹائم افیئرز کی سٹینڈنگ کمیٹی میں درخواست دے رکھی تھی‘ مزدوروں کا دعویٰ تھا ہم گودی پر لوڈنگ اور ان لوڈنگ کا کام کرتے تھے‘ اتھارٹی نے پورٹ قاسم کو آٹو میٹک کر دیا‘ ہمارا کام بند ہو گیا‘ ہم بے روزگار ہو گئے‘ سینیٹ پورٹ اتھارٹی کو ہمیں معاوضہ دینے کا حکم دے‘ یہ درخواست کمیٹی میں زیر سماعت تھی‘ کمیٹی کے سربراہ ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹر بیرسٹر سیف ہیں‘

دو جنوری 2018ء کو کمیٹی کا اجلاس تھا‘ پورٹ قاسم اتھارٹی کی طرف سے سیکرٹری محمد ثاقب پیش ہوئے‘ اجلاس میں ڈاک یارڈ لیبر یونین کے دو نمائندے بھی موجود تھے‘ اجلاس شروع ہوا‘ پہلے لیبر یونین کے نمائندوں نے دس منٹ کی پریذنٹیشن دی‘ یہ کمیٹی کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے‘ پورٹ کے جدید نظام کی وجہ سے اٹھارہ سو لوگوں کے گھروں کے چولہے بجھ گئے‘ اتھارٹی کو مزدوروں کو معاوضہ بھی دینا چاہیے اور انہیں کسی دوسری جگہ کھپانا بھی چاہیے‘ لیبر یونین کی پریذینٹیشن کے بعد سیکرٹری پورٹ قاسم اتھارٹی کی باری تھی‘ سیکرٹری محمد ثاقب نے کمیٹی کوبتایا یہ لوگ پرائیویٹ مزدور ہیں‘ یہ گودی پر لوڈنگ اور ان لوڈنگ کا کام کرتے تھے‘ حکومت نے پورٹ کو آٹو میٹک کر دیا‘ جہازوں سے اب مشینوں کے ذریعے لوڈنگ اور ان لوڈنگ ہوتی ہے لیکن یہ لوگ کہتے ہیں ہمیں پورٹ پر بھی رکھا جائے‘ ہمیں کام بھی دیا جائے اور معاوضہ بھی‘ یہ لوگ گولڈن ہینڈ شیک سکیم بھی چاہتے ہیں‘ یہ اتھارٹی کیلئے ممکن نہیں تھا چنانچہ ہم نے انکار کر دیا‘ یہ سندھ ہائی کورٹ چلے گئے‘ ہائی کورٹ نے کمیشن بنایا‘ کمیشن نے لکھ کر دے دیا ”اتھارٹی مزدوروں کو معاوضہ دینے کی پابند نہیں“ ہائی کورٹ نے کمیشن کی رپورٹ پر ان کی پٹیشن مسترد کر دی‘ یہ اس کے بعد کمیٹی میں آگئے لیکن کمیٹی ان کی درخواست انٹرٹین کرنے کی مجاز نہیں ہے‘ بیرسٹر سیف نے سیکرٹری سے پوچھا ”کیا آپ ہائی کورٹ کا فیصلہ ساتھ لائے ہیں“

سیکرٹری نے معذرت خواہانہ انداز سے جواب دیا ”سردست میرے پاس فیصلے کی کاپی موجود نہیں“ بیرسٹر سیف نے سیکرٹری کو اگلی سماعت پر مصدقہ کاپی لانے کا حکم دیا اور اگلی درخواست کی سماعت شروع کر دی‘ سیکرٹری اور لیبر یونین کے نمائندے کمیٹی ٹیبل پر بیٹھ گئے۔اگلی سماعت کراچی پورٹ ٹرسٹ سے متعلق تھی‘ ٹرسٹ کے چیئرمین نے پریذینٹیشن شروع کی اور کمیٹی کے ارکان نئی پریذینٹیشن کی طرف متوجہ ہو گئے‘ کمیٹی روم میں اچانک ٹھک کی آواز آئی اور مرکزی میز ہلنے لگی‘

تمام لوگ آواز کی طرف متوجہ ہو گئے‘ بیرسٹر سیف نے دیکھا‘ پورٹ قاسم اتھارٹی کے سیکرٹری محمد ثاقب کا بالائی دھڑ میز پر اوندھا پڑا ہے‘ یہ دوڑ کر محمد ثاقب کے قریب پہنچے‘ انہیں میز سے اٹھایا اور فرش پر لٹا دیا‘ محمد ثاقب مکمل طور پر ساکت تھے‘ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین دل کے مریض ہیں‘ یہ جیب میں ہنگامی ادویات رکھتے ہیں‘ یہ بھاگ کر محمد ثاقب کے پاس پہنچے‘ ان کی گردن چھو کر دیکھی‘ نبض ٹٹولی‘ دل پر کان لگایا لیکن محمد ثاقب میں زندگی کی کوئی رمق موجود نہیں تھی‘

سینیٹ کی ڈسپنسری پر کال کی گئی‘ ڈاکٹر فوراً پہنچ گئی‘ ڈاکٹر نے بھی معائنہ کیا لیکن محمد ثاقب دنیا سے رخصت ہو چکے تھے‘ سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی بھی پہنچ گئے‘ چیئرمین نے فوراً اپنا سکواڈ منگوایا‘ محمد ثاقب کو گاڑی میں ڈالا اور ہسپتال روانہ کر دیا‘ کلثوم ہسپتال سینیٹ سے قریب ترین تھا‘ محمد ثاقب کو وہاں لے جایا گیا‘ ایمرجنسی میں معائنہ ہوا اور ڈاکٹروں نے ان کے انتقال کی تصدیق کر دی۔محمد ثاقب بٹگرام سے تعلق رکھتے تھے لیکن یہ برسوں سے کراچی میں آباد ہیں‘ ان کے نو بچے ہیں‘

تین بیٹے اور چھ بیٹیاں‘ ان کے بھائی پروفیسر عبدالنقیب اور ایک بیٹی اسلام آباد میں تھے‘ یہ دونوں فوراً ہسپتال پہنچ گئے‘ بیٹی اور بھائی نے تصدیق کی‘ یہ مکمل طور پر صحت مند تھے‘ یہ شوگر‘ دل اور بلڈ پریشر جیسے عارضوں سے بھی محفوظ تھے‘ یہ کوئی دواء استعمال نہیں کرتے تھے‘ ماضی میں انہیں کبھی ہارٹ اٹیک ہوا اور نہ ہی دل میں کسی قسم کی تکلیف ہوئی‘ یہ کمیٹی کی سماعت کے دوران بھی نارمل تھے‘ کمیٹی نے انہیں کسی قسم کی ٹینشن بھی نہیں دی‘

یہ نوکری اور گھر کے حالات کے دباؤ سے بھی محفوظ تھے اور عمر بھی زیادہ نہیں تھی‘ یہ 52 سال کے صحت مند انسان تھے‘ سینیٹ کے کمیٹی روم میں بیٹھے بیٹھے انہیں ہارٹ اٹیک ہوا‘ یہ میز پر گرے‘ یہ چند سیکنڈ میں دنیا سے رخصت ہو گئے اور پورٹ قاسم اتھارٹی‘ ڈاک یارڈ لیبر یونین کی درخواست‘ سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی اور ان کی زندگی بھر کی حسرتیں یہ سارا سامان پیچھے رہ گیا۔محمد ثاقب کے انتقال کو آج پانچواں دن ہے لیکن کوئی یہ یقین کرنے کیلئے تیار نہیں محمد ثاقب دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں‘

یہ ”نومور“ ہو چکے ہیں‘ کوئی یہ یقین کرے بھی کیسے؟ آپ کے سامنے ایک شخص ہو‘ وہ پوری طرح صحت مند ہو‘ اسے کبھی کوئی شکایت کوئی تکلیف نہ ہوئی ہو‘ وہ دوڑتا بھاگتا اور ہنستا کھیلتا ہو‘ وہ بااعتماد بھی ہو اور اس نے دس منٹ قبل 12 سینیٹرز کو بریفنگ دی ہو اور تمام سینیٹرز قائل ہو گئے ہوں‘ وہ لائق بھی ہو‘ نیک نیت بھی ہو اور خدا ترس بھی ہو لیکن پھر وہ شخص اچانک میز کی طرف جھکے‘ ٹھک کی آواز آئے‘ وہ میز پر اوندھا گرے اور پھر طبی مدد سے پہلے پہلے دنیا سے رخصت ہو جائے‘

یہ کیسے ممکن ہے؟ کیا کوئی شخص یہ حقیقت آسانی کے ساتھ ہضم کر سکتا ہے؟ نہیں یہ واقعی مشکل ہے‘ ہم میں سے کوئی شخص اس اچانک موت کو آسانی سے ”انڈرسٹینڈ“ نہیں کر سکتا لیکن موت تھوڑی تھوڑی ہو یا پھر اچانک موت موت ہے اور یہ برحق بھی ہے اور لازم بھی‘ ہم میں سے کوئی شخص موت سے نہیں بچ سکتا خواہ وہ محمد ثاقب ہو‘ رضا ربانی ہو یا پھر نواز شریف‘ عمران خان اور آصف علی زرداری ہوں‘ ہم خاک ہیں اور ہم جلد یا بدیر خاک کا رزق بن جائیں گے‘ ہم مٹی میں جا سوئیں گے۔

محمد ثاقب کی اچانک موت صرف موت نہیں تھی یہ ہم جیسے سوئے ہوئے لوگوں کیلئے ویک اپ کال تھی‘ ہم روز حسرتوں کا بہی کھاتہ لے کر اٹھتے ہیں‘ ہم سارا دن خدا کی اس زمین پر فرعون بن کر پھرتے ہیں‘ ہم اپنے ہاتھ‘ اپنی آنکھوں‘ اپنے حلق اور اپنے قلم سے لوگوں کو تکلیف دیتے ہیں‘ ہم اللہ کی دی ہوئی زندگی کو رسی بنا کراللہ کے بندوں کی زندگی کا دائرہ تنگ کرتے رہتے ہیں اور پھر حسرتوں کی پوٹلی باندھ کر بستر پر ڈھیر ہو جاتے ہیں‘ ہم لوگ خوابوں کے شیخ چلی ہیں‘

ہمیں پل کی خبر نہیں ہوتی لیکن ہم زندگی کے بہتے دریا پر خواہشوں کے پل باندھتے چلے جاتے ہیں‘ ہم اگلے لمحے میں ہیں یا نہیں ہیں ہم نہیں جانتے لیکن ہم اپنے اردگرد ہزار برس کا سامان ضرور اکٹھا کریں گے‘ ہماری خواہشیں ہمیشہ ہمارے قد سے بڑی ہوں گی‘ ہماری نفرتوں‘ ہماری کدورتوں اور ہماری منافقتوں کا بوجھ بھی ہمیشہ ہم سے زیادہ ہوتا ہے اور پھر کسی دن یہ کشتی اس بوجھ تلے دب جاتی ہے‘ یہ ڈوب جاتی ہے اور ہم بلبلے کی طرح پھٹ کر کائنات کی وسعتوں میں گم ہو جاتے ہیں لیکن پیچھے رہ جانے والے اس کے باوجود سبق نہیں سیکھتے‘

یہ اس کے باوجود اپنی چھوٹی سی جھولی میں کوہ ہمالیہ بھرنے کی جستجو نہیں سمیٹتے‘ یہ اللہ کی یہ زمین فتح کرتے چلے جاتے ہیں‘ ہم کون ہیں‘ ہم کہاں سے آئے اور ہم کہاں چلے جائیں گے‘ کیا ہم نے کبھی سوچا‘ ہم سے پہلے یہاں کون تھا اور ہمارے بعد یہاں کون ہوگا؟ کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی‘ محمد ثاقب جیسے صحت مند لوگ ہمارے درمیان سے اچانک کیسے نکل جاتے ہیں‘ یہ وہ فائلیں تک کیسے لاوارث چھوڑ جاتے ہیں جنہیں یہ زندگی بھر موسٹ امپارٹنٹ اور موسٹ سیکرٹ سمجھ کر سینے سے لگائے پھرتے تھے اور جو کسی بھی شخص کو ”یہ ہماری ذمہ داری نہیں“ کہہ کر زندہ درگور کر دیتے تھے‘

یہ کہاں سے آتے ہیں اور یہ کہاں چلے جاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے محمد ثاقب کیسے لے لیتے ہیں اور یہ موجودہ بن کر سابق کی کرسی پر کیسے بیٹھ جاتے ہیں‘ ہم نے کبھی سوچا؟ ہم نے کبھی نہیں سوچا اور ہم کبھی نہیں سوچیں گے‘ کیوں؟ کیونکہ انسان خسارے کا سوداگر ہے اور خسارے کے سوداگر زیادہ نہیں سوچا کرتے‘ یہ پردے کے پیچھے جھانکنے کی بیوقوفی نہیں کیا کرتے‘ یہ بس اپنے پاؤں میں حسرتوں کے چپو باندھ کر آگے‘ آگے اور آگے چلتے چلے جاتے ہیں‘ یہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے۔

آپ بھی اگر محمد ثاقب ہیں‘ آپ بھی اگر طاقتور ہیں اور آپ بھی اگر صحت مند ہیں تو آپ بھی جان لیں آپ بھی کسی دن یونہی چلتے چلتے سابق ہو جائیں گے‘ آپ کو بھی چکر آئے گا‘ آپ کا سر بھی میز سے ٹکرائے گا اور آپ کی روح بھی چند لمحوں میں وجود کے پیرہن سے باہرآ جائے گی‘ آپ بھی مٹی کا ڈھیر ہو کر ہسپتال کے کسی ٹھنڈے سٹریچر پر پڑے ہوں گے چنانچہ زندگی کا جو لمحہ مل رہا ہے اسے غنیمت سمجھ لیں‘ جو سانس آ رہی ہے اسے انعام جان لیں‘ جو پا لیا ہے اسے انجوائے کر لیں‘ جو نہیں مل سکا اسے قدرت کا فیصلہ سمجھ کر قبول کر لیں‘ جو درخواست سامنے پڑی ہے اس سے انصاف کر لیں‘

مانگنے والے کو دے دیں‘ بھاگنے والے کو بھاگنے دیں‘ معافی مانگنے والے کو معاف کر دیں‘ لڑنے والے کو سلام کر کے آگے نکل جائیں اور توبہ کرتے رہیں اور شکر بجا لاتے رہیں اور زندگی کا ہر مثبت کام آج کریں اور منفی کو کل پر ٹال دیں‘ یہ زندگی زندگی ہو جائے گی‘ یہ شرمندگی سے بچ جائے گی اور اگر یہ ممکن نہیں تو پھر یقین کر لیجئے یونہی اچانک کسی دن آپ بھی لمبی ہچکی لیں گے اور مہلت ختم ہو جائے گی‘ اللہ آپ کو توبہ‘ شکر اور معافی کا موقع بھی نہیں دے گا‘ آپ بیٹھے بیٹھے لیٹ جائیں گے‘ آپ بھی محمد ثاقب سے محمد ثاقب مرحوم ہو جائیں گے‘ آپ بھی پہیلی بن کر دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔

کالم : جاوید چوہدری

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...