اسلام

یاجوج ماجوج کی حقیقیت زولقرنین کون تھے ؟

بائبل کی کتاب پیدائش کے مطابق سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد انسانی نسل ان کے تین بیٹوں سام، حام اور یافث سے چلی تھی۔ سام نے رہائش کے لئے دجلہ و فرات کی وادی کا انتخاب کیا جو "میسو پوٹیمیا” کہلاتی ہے۔ حام نے اپنی اولاد سمیت دریائے نیل کی وادی میں رہائش اختیار کی۔ یافث کو بحیرہ کیسپین اور بحیرہ اسود کے درمیان کا علاقہ پسند آیا، چنانچہ انہوں نے اپنی اولاد کو یہاں آباد کر دیا۔ اس وقت ہم اسی علاقے سے گزر رہے تھے۔

یافث کی اولاد میں سے ماجوج (Magog) نام کے ایک بزرگ گزرے ہیں۔ ان کی نسل میں "یاجوج "یا "جوج "(Gog) نام کا بادشاہ گزرا ہے۔ اس وجہ سے ماجوج کی پوری نسل یاجوج و ماجوج کہلائی۔ سام و حام کی نسلوں نے بڑی بڑی تہذیبیں قائم کیں مگر یاجوج ماجوج زیادہ تر خانہ بدوش رہے۔ ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا جس کی وجہ سے یہ اپنے اصل وطن سے شمال، مشرق اور مغرب کی طر ف نکل کھڑے ہوئے۔ شمال میں انہوں نے روس کو اپنا مسکن بنایا۔ مشرق میں انہوں نے چین اور ہندوستان پر اپنا اقتدار قائم کیا اور مغرب میں یورپ کی سرزمین پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد معلوم تاریخ میں امریکہ اور آسٹریلیا پر بھی ان ہی کی حکومت قائم ہوئی۔ سام اور یافث کی نسلوں میں کئی مرتبہ زمین کے حصول کے لئے جنگ ہوئی۔ ایسی ہی ایک جنگ کی تفصیل بائبل کی کتاب "حزقی ایل” میں ملتی ہے۔

دنیا کا اقتدار سب سے پہلے حام کی نسلوں کو سپرد ہوا اور مصر میں انہوں نے عظیم الشان تہذیب قائم کی۔ اس زمانے میں حام کی افریقی نسلیں سپر پاور کی حیثیت رکھتی تھیں۔ اس کے بعد سام کی نسلوں کی باری آئی۔ سام کی نسل کے ایک بطل جلیل سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد کی دو شاخوں بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کو باری باری زمین کا اقتدار نصیب ہوا۔ اس کی تفصیل آپ میرے سابقہ سفرنامے "قرآن اور بائبل کے دیس میں” پڑھ سکتے ہیں۔

قرآن مجید اور بائبل میں قیامت کی یہ نشانی بیان ہوئی ہے کہ اس سے پہلے روئے زمین پر یاجوج و ماجوج کا اقتدار قائم ہو جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ان کے پہلے گروہ نے منگولیا سے اٹھ کر تاتاریوں کی شکل میں عالم اسلام پر یلغار کی۔ کچھ عرصے بعد یہ گروہ تو مسلمان ہو گیا۔ اس کے بعد یاجوج و ماجوج کے دوسرے گروہ نے یورپی استعمار کی صورت میں ایشیا اور افریقہ پر پھر یلغار کی۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ دور میں بھی دنیا کی تمام بڑی طاقتیں یعنی امریکہ، روس اور چین کا بڑا حصہ یاجوج ماجوج ہی پر مشتمل ہیں۔ یافث کی ماجوج کے علاوہ اور اولاد بھی ہو گی مگر غالب اکثریت کے اصول پر یافث کی پوری نسل ہی کو یاجوج و ماجوج کے نام سے مذہبی صحیفوں میں بیان کیا گیا ہے۔بعض صحیح احادیث میں ایک دیوار کا ذکر آیا ہےجس کے پیچھے یاجوج و ماجوج قید ہیں اور روزانہ اسے توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور مستقبل میں ایک دن وہ اس میں کامیاب ہو جائیں گے۔ان احادیث پر جدید دور میں یہ سوال کیا گیا ہے کہ آج کل تو روئے زمین کا چپہ چپہ سیٹلائٹ کی مدد سے چھانا جا چکا ہے۔ ایسی کوئی دیوار نہیں ملی جس کے پیچھے کوئی اتنی بڑی قوم آباد ہو۔

یہ سوال دراصل ایک غلط فہمی کی بنیاد پر پیدا ہوتا ہےجو کہ اس دیوار کو حقیقی معنی میں لینے سے پیدا ہوئی۔ اصل میں یہاں دیوار کو تمثیل کے اسلوب میں بیان کیا گیا تھا اور اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ اللہ تعالی نے انہیں گویا پہاڑوں کے اندر قید کر کے سام اور حام کی نسلوں کو ان سے محفوظ کر رکھا ہے۔ قرب قیامت میں یہ لوگ آزاد ہو کر روئے زمین پر قابض ہو جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ حافظ ابن کثیر نے بھی سورۃ کہف کی تفسیر میں اس روایت پر تنقید کرتے ہوئے یہ توجیہ پیش کی ہے کہ یہ روایت دراصل اسرائیلی روایت ہے جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب الاحبار علیہ الرحمۃ سے سنی ہو گی لیکن کسی راوی نے غلطی سے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیا۔

اب یاجوج و ماجوج کو کسی دیوار کے پیچھے تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکیوں، روسیوں، یورپیوں اور چینیوں کی صورت میں یہ اس وقت زمین کے اطراف میں موجود ہیں۔ قرآن مجید اور بائبل کی یہ پیش گوئی پوری ہو چکی ہے۔ اب ہمیں قیامت کا انتظار کرنا چاہیے اور اپنے قول و فعل کے اعتبار سے اس کی تیاری کرنی چاہیے۔
ذوالقرنینقرآن مجید میں جناب ذوالقرنین کا ذکر آیا ہے۔ یہ ایک صاحب ایمان بادشاہ تھے جنہوں نے اپنی سلطنت کو عدل و انصاف سے بھر دیا تھا۔ ان کا ایک سفر بھی بحیرہ کیسپین اور بلیک سی کے درمیان ہوا تھا جس کے اشارات قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں۔ سورہ کہف میں ہے:پھر (ذوالقرنین نے ایک اور مہم کا) سامان تیار کیا۔ یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچے تو انہیں ان کے پاس ایک قوم ملی جو مشکل سے ہی کوئی بات سمجھتی تھی۔ ان لوگوں نے کہا: "اے ذو القرنین! یاجوج اور ماجوج اس سرزمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ تو کیا ہم آپ کو کوئی ٹیکس اس مد میں ادا کریں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار تعمیر کر دیں۔ "

انہوں نے کہا: "جو کچھ میرے رب نے مجھے دے رکھا ہے ، وہ کافی ہے۔ تم بس محنت سے میری مدد کرو، میں تمہارے اور ان کے درمیان دیوار تعمیر کر دیتا ہوں۔ مجھے لوہے کی چادریں لا کر دو۔” جب انہوں نے پہاڑوں کے درمیانی درے کو بند کر دیا تو لوگوں سے کہا: "تم آگ دہکاؤ۔ جب یہ (آہنی دیوار) آگ کی طرح سرخ ہو گئی تو انہوں نے کہا: "لاؤ، اب میں اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیلوں گا۔”یہ دیوار ایسی تھی کہ یاجوج و ماجوج اس پر چڑھ کر نہ آ سکتے تھے اور اس میں نقب لگانا ان کے لئے اور بھی مشکل تھا۔ (ذو القرنین نے) کہا: "یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوند خاک کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ (کہف 18:91-98 )

اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ ذو القرنین کی سلطنت کے شمالی علاقے میں آباد اقوام پر اس دور میں بھی یاجوج و ماجوج حملے کیا کرتے تھے۔ بعض لوگوں نے آپ کی بنائی ہوئی دیوار کو اوپر بیان کردہ حدیث میں مذکور دیوار قرار دیا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔ جناب ذو القرنین کی بنائی ہوئی دیوار ساتویں صدی عیسوی تک قفقاز کے شہروں دربند اور دریال کے بیچ میں واقع تھی۔ دربند اب بھی داغستان کا ایک شہر ہے جو بحیرہ کیسپین واقع ہے جبکہ دریال پہاڑی سلسلہ ہے جو جارجیا اور روس کی سرحد پر واقع ہے۔ اسی سلسلے میں کہیں وہ دیوار رہی ہو گی۔ یاقوت حموی نے اس کا ذکر اپنی کتاب "معجم البلدان” میں کیا ہے۔بہرحال اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے۔

ذوالقرنین کون؟ذوالقرنین کون تھا؟ یہ سوال ابھی تشنہ تھا کسی محقق نے سکندر اعظم کو ذوالقرنین کے خطاب سے نوازا بعض نے اس نام کو سائرس کے نام سے منسوب کیا لیکن انسائیکلو پیڈیا آف بریٹانیکا، دائرہ معارف اسلامیہ اور دیگر تحقیقی کتب بھی ذوالقرنین کے بارے میں قاری کو مطمئن کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔ لیکن قرآن حکیم اس سلسلہ میں سیر حاصل مواد فراہم کرتا ہے۔ قرآن پاک کی مختلف آیات (باتیں) اور بائبل میں واضح اشارے موجود ہیں کہ ذوالقرنین دراصل حضرت سلیمان علیہ السلام کا خطاب تھا۔ یہ نہ تو سائرس کا نام تھا اور نہ ہی کبھی سکندر اعظم کا خطاب ذوالقرنین رہا ہے۔ میں اپنے اس فکر و خیال کو زبردستی ٹھونسنے کی بجائے دلائل کے ذریعے واضح کرنا چاہوں گاکہ ذوالقرنین دراصل حضرت سلیمان علیہ السلام کا ہی خطاب تھا۔ ذوالقرنین سے متعلق قرآن حکیم میں جو بھی آیات ہیں اُن کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے۔(الکہف آیات83 -98 )

لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے پوچھتے ہیں۔ آپ انھیں کہئے کہ ابھی میں اس کا کچھ حال تمہیں سناؤں گا۔ بلاشبہ ہم نے اسے زمین میں اقتدار بخشا تھا اور ہر طرح کا سازوسامان بھی دے رکھا تھا۔ چنانچہ وہ ایک راہ (مہم) پر چل کھڑا ہوا۔ حتیٰ کہ وہ سورج غروب ہونے کی حد تک پہنچ گیا اسے یوں معلوم ہوا جیسے سورج سیاہ کیچڑ والے چشمہ میں ڈوب رہا ہے وہاں اس نے ایک قوم دیکھی۔ ہم نے کہا: ”اے ذوالقرنین! تجھے اختیار ہے خواہ ان کو تو سزا دے ٧٢۔ الف یا ان سے نیک رویہ اختیار کرے۔ ذوالقرنین نے کہا: جو شخص ظلم کرے گا اسے تو ہم بھی سزا دیں گے پھر جب وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اور بھی سخت عذاب دے گا۔ البتہ جو ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے اسے اچھا بدلہ ملے گا اور اسے ہم اپنے آسان سے کام کرنے کو کہیں گے۔ پھر وہ ایک اور راہ (دوسری مہم) پر چل پڑا۔ حتیٰ کہ وہ طلوع آفتاب کی حد تک جاپہنچا۔ اسے ایسا معلوم ہوا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ سورج اور اس قوم کے درمیان ٧ہم نے کوئی آڑ نہیں بنائی۔ واقعہ ایسا ہی تھا اور ذوالقرنین کو جو حالات پیش آئے اسے ہم خوب جانتے ہیں۔ پھر وہ ایک اور راہ (تیسری مہم) پر نکلا۔ تاآنکہ وہ دو بلند گھاٹیوں کے درمیان پہنچا وہاں ان کے پاس اس نے ایسی قوم دیکھی جو بات بھی نہ سمجھ سکتی تھی۔ وہ کہنے لگے : ”اے ذوالقرنین! یاجوج اور ما جوج نے اس سرزمین میں فساد مچا رکھا ہے۔ اگر ہم آپ کو کچھ چندہ اکٹھا کر دیں تو کیا آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار چن دیں گے؟”

ذوالقرنین نے جواب دیا: ”میرے پروردگار نے جو مجھے (مالی) قوت دے رکھی ہے۔ وہ بہت ہے تم بس بدنی قوت (محنت) سے میری مدد کرو تو میں ان کے اور تمہارے درمیان بند بنا دوں گا۔ مجھے لوہے کی چادریں لا دو۔ ذوالقرنین نے جب ان چادروں کو ان دونوں گھاٹیوں کے درمیان برابر کرکے خلا کو پاٹ دیا تو ان سے کہا کہ اب آگ دہکاؤ۔ تاآنکہ جب وہ لوہے کی چادریں آگ (کی طرح سرخ) ہوگئیں تو اس نے کہا اب میرے پاس پگھلا ہوا تانبا لاؤ کہ میں ان چادروں کے درمیان بہا کر پیوست کردوں”۔ (اس طرح یہ بند ایسا بن گیا کہ) یاجوج ماجوج نہ تو اس کے اوپر چڑھ سکتے تھے اور نہ ہی اس میں کوئی سوراخ کرسکتے تھے۔ ذوالقرنین کہنے لگا: یہ میرے پروردگار کی رحمت سے بن گیا ہے مگر میرے پروردگار کے وعدہ کا وقت آجائے گا تو وہ اس بند کو پیوند خاک کردے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ اس دن ہم لوگوں کو کھلا چھوڑ دیں گے کہ وہ ایک دوسرے سےگتھم گتھا ہوجائیں اور صور پھونکا جائے گا پھر ہم سب لوگوں کو اکٹھا کر دیں گے

دلیل اول : یہ کہ سورہ الکہف کی آیات 83تا98 میں ذکر ہے کہ ذوالقرنین نے سورج ڈوبنے کی جگہ یعنی زمین کی مغربین اور سورج نکلنے کی جگہ زمین کی مشرقین تک کا سفر کیا۔ زمین کی مشرقوں اور زمین کی مغربوں تک کا سفر کرنا عام آدمی کے لیے ممکن نہ تھا ۔تاہم اس قسم کا سفرحضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے ممکن اور آسان تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہو اپر بھی حکمرانی عطا فرمائی تھی کہ وہ ہوا کو حکم دے کر جہاں چاہتے جا سکتے تھے ثبوت”پس مسخر کیا ہم نے واسطے اس کے باد کو چلتی تھی ساتھ حکم اسکے کے ملائم جہاں پہنچنا چاہتا “ (سورة ص / 36:38)

اب آئیے سورہ سبا کی آیت نمبر 12کی طر ف”اور واسطے سلیما ن کے مسخر کیا باد کو کہ صبح کی سیر اسکی ایک مہینہ کی راہ اور شام کی سیر اُسکی ایک مہینہ کی راہ ۔۔۔“ (سورة سبا / 12:34)توجہ: حضرت سلیمان علیہ السلام کی صبح کی سیر اور شام کی سیر ایک ماہ کی مسافت کے برابر تھی کہ جب ٹرانسپورٹ کی ایجاد نہ ہوئی تھی اگر عام قافلہ سفر پر نکلے تو ایک دن میں تیس میل آرام سے طے کر لے اس طرح ایک ماہ کی مسافت کم و بیش نو سو میل بنتی ہے۔ جب ایک انسان یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام صبح کی سیر اور شام کی سیر میں نو سو یا ہزار میل کا سفر طے کر سکتے ہیں اگر وہ سفر پر نکلیں تو ضرور زمین کی مشرقوں اور زمین کی مغربوں تک کا سفر آسانی سے کر سکتے تھے اور سفر کیا۔ لہٰذا ذوالقرنین حضرت سلیمان علیہ السلام ہی کا خطاب ہے۔

دلیل دوئم : سورہ الکہف کی ان آیات میں فرمایا گیا”کہا ہم نے اسے ذوالقرنین یا یہ کہ عذاب کرے تو اُن کو اور یا یہ کہ پکڑے تو بیچ ان کے بھلائی “ (سورة الکہف / 86:18)
یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ ذوالقرنین کا مسلسل اللہ تعالیٰ سے رابطہ تھا اور ان پر وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے پیغام اترتے تھے۔ جو اس بات کی قوی دلیل ہے کہ ذوالقرنین محض ایک بادشاہ ہی نہیں بلکہ خدا کے ایک بر گزیدہ نبی بھی تھے اس طرح یہ بات بھی حضرت سلیمان علیہ السلام پر صادق آتی ہے کہ وہ بادشاہ بھی تھے اور نبی بھی۔ جبکہ سکندر اعظم اور سائرس کے بارے میں کوئی ایسی شہادت نہیں پائی جاتی جو اس بات کو ثابت کرے کہ یہ جرنیل یا بادشاہ نبی تھے۔ یہ بات بھی قرآن پاک سے ثابت ہے کہ ذوالقرنین قیامت یعنی یوم حساب سے مکمل طور پر آگاہ تھے۔ قیامت کے بارے میں معلومات ہونا بھی ذوالقرنین کے نبی ہونے کی دلالت کرتا ہے کہ آیت 98 میں ذوالقرنین نے کہا”پس جب آوے گا وعدہ پروردگار میرے کا کر دے گا اس کو ریزہ ریزہ “ ( سورة الکہف / 98:18)

دلیل سوئم : سورہ الکہف کی آیت نمبر 92تا98میں ذکر ہے کہ یا جوج ماجوج کی قوم دو پہاڑوں کے بیچ کھلے راستے (درہ)سے دوسری قوم کے علاقے میں داخل ہو کر لوٹ مار کرتے اور واپس چلے جاتے ۔ذوالقرنین کے غیر معمولی اسباب وسائل قوت و حشمت کو دیکھ کر انہیں خیال ہوا کہ ہماری تکالیف و مصائب کا سد باب ان سے ہو سکے گا ۔ انہوں نے اس بارے میں ذوالقرنین سے بات کی اور اس منصوبے پر خرچ آنے والے مصارف کی ادائیگی محصول کی صورت میں ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ذوالقرنین نے جواب میں کہا کہ جو کچھ مقدور دیا ہے مجھ کو رب میرے نے وہ بہترہے سو مدد کرو میری محنت (قوت) میں،بنا دوں تمہارے اور انکے بیچ ایک دیوار موٹی اور لا دو مجھ کو ٹکڑے لوہے کے یہاں تک کہ جب اس لوہے کی بلندی دونوں پہاڑوں کی چوٹی تک پہنچ گئی تولوگوں کو حکم دیا کہ خوب آگ دھنکو اور جب تانبا تپنے کے بعد پگھلنے لگا تو اس وقت پگھلا ہوا تانبا پہاڑوں کے درمیا ن ڈال دیا۔ جو لوہے کے ٹکڑوںکے درمیان اور پہاڑوں کے درمیان جم گیا اور ایک بہت موٹی تانبے کی دیوار بن گئی اور اس کے بعد یاجوج ماجوج کبھی اس طرف کے علاقے میں داخل نہ ہوسکے ۔

توجہ: ذوالقرنین نے بے شمار وزن کا تانبا پہاڑوں کے درمیان ڈال دیا۔اتنی مقدار میں تانبا وہی شخص ڈال سکتا ہے کہ جس کے پاس بے شمار وزن تانبے کا خزانہ موجود ہو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ذوالقرنین کے پاس بے شمار وزن تانبے کا خزانہ تھا جو اس نے استعمال کیا ۔قرآن پاک کی سورة سبا کی آیت نمبر 12میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت( ملک، حکومت یا قبضہ) میں ایک چشمہ ایسا عطا فرمایا تھا کہ جس سے پگھلتا ہوا تانبا بہتا آتا تھا”اور بہا یا ہم نے واسطے اسکے چشمہ گلے ہوئے تانبے کا“ (سورة سبا / 12:34)

جس شخص کی ملکیت میں پگھلتے تانبے کا چشمہ بہتا ہو اس کے لیے پہاڑوں کی مقدار میں تانبا اکھٹا کر لینا کوئی مشکل کام نہیں لہٰذاحضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہاڑوں کے درہ میں ڈالنے کے لیے بے شمار وزن تانبا تھالو ایک اور کڑی مل گئی کہ ذوالقرنین حضرت سلیمان علیہ السلام ہی کا خطاب تھا کہ تانبے کا بے شمار خزانہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس ہی موجود تھاجو دیوار میں استعمال کیا گیالیکن ایک اور سوال پیدا ہوا کہ پگھلتے بہتے تانبے کا چشمہ کسی اور جگہ ہوگا اور دیوار کسی اور جگہ بہت دور بنائی گی۔ اتنی دور کے مقام سے اتنی یعنی پہاڑ کی مقدار میں تانبا پہنچانا بھی ایک مسئلہ تھا کہ اس زمانے میں نہ سڑکیں ہوتی تھیں اور نہ ٹرانسپورٹ لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے یہ مسئلہ بھی کچھ مسئلہ نہ تھا کہ اِن کے دربار میں ایسے عفریت اور انسان تھے جو ناممکن کام ممکن کر دیکھلاتے تھے ۔جب دربار میں تخت بلقیس لانے کی بات ہوئی تھی تو”کہا ایک دیو نے جنوں میں سے میں لے آﺅں گا تمہارے پاس اس کو پہلے اس سے کہ اٹھو تم جگہ اپنی سے اورتحقیق میں اوپر اسکے البتہ زور آور ہوں با امانت(یعنی دربار برخواست ہونے سے پہلے یا محفل اٹھنے سے پہلے)٭کہا اس شخص نے کہ نزدیک اسکے تھا علم کتاب سے میں لے آؤ نگا تمہارے پاس اس کو پہلے اس سے کہ پھر آوے طرف تمہاری نظر تمہاری “ (سورة النمل / 40,39:27)

اور تخت بلقیس کو لا کر دیکھلایا۔ جو درباری پلک چھپکنے میں بہت دور سے تخت بلقیس اپنے قریب لا سکتا تھا وہی درباری تانبے کو چشمے کے قریب سے پہاڑوں کے درے کے قریب بھی آسانی سے پہنچا سکتے تھے ۔لو ایک اور کڑی مل گئی کہ ذوالقرنین حضرت سلیمان علیہ السلام ہی کا خطاب تھا۔ اس کے علاوہ ایک اور سوال پیدا ہو ا کہ تانبے کو پکھلانے کے لیے بڑی بڑی دیگیں اور کڑاہے چاہیے تھے وہ بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس ملتے ہیں” بناتے تھے واسطے اس کے جو کچھ چاہتا تھا قلعوں سے اور ہتھیاروں سے اور تصویر یں اور لگن (کڑاہے )مانند تا لابوں کی اور دیگیں ایک جگہ دھری رہنے والیں “ (سورة سبا / 13:34)

لو ایک اور کڑی مل گئی کہ ذوالقرنین حضرت سلیمان علیہ السلام کا خطاب تھا۔ اس کے علاوہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس کام کرنے والوں میں انسانوں کے علاوہ جنات بھی تھے کہ وہ جن سے بڑے بڑے کرالیتے تھے ۔” اور جنوں میں سے ایک لوگ تھے کہ خدمت کرتے تھے آگے اسکے ساتھ حکم رب اسکے کے “ (سورة سبا / 12:34)” اور مسخر کیے شیطان ہر ایک عمارت بنانے والا اور دریا میں غوطہ مارنے والا “ (سورة ص / 37:38)اس آیت مبارکہ سے ثابت ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے کارندوں نے عمارات بھی بنائیں اور تانبے کی دیوار ۔ دیوار کا بنانا بھی عمارت کا بنانا کہلاتا ہے لو ایک اور کڑی مل گئی کہ ذوالقرنین حضرت سلیمان علیہ السلام ہی کا خطاب ہے۔

دلیل چہارم : قرآن پاک میں اللہ تعالی کا یہ انداز بیاں بھی محسوس کیا جاسکتا ہے کہ اکثر آیتیں (باتیں ) مختلف انداز سے دوبار یا دو سے بھی زیادہ بار کی گئیں ہیں ۔ پہاڑوں کے در ے سے ورلی قوم نے جب ذوالقرنین کودیوار بنانے کا کہا تو ساتھ یوں بھی کہا کہ”کر دیویں ہم واسطے تیرے کچھ مال “ (سورة الکہف / 94:18)تو جواب میں ذوالقرنین کے الفاظ یوں تھے کہ” کہا جو کچھ قدرت دی ہے مجھ کو بیچ اس کے رب میرے نے بہتر ہے “ (سورة الکہف / 95:18)عام مفہوم میں یوں کہا کہ میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے مجھے تمہارے مال حاصل کرنے کی کوئی خواہش نہیں ۔اس طرح جب ملکہ سبا نے بہت سے تحفے دے کر جب اپنے آدمی حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس بھیجے تو جواب میں حضرت سلیمان علیہ السلام نے جواب میں کہا”۔۔۔ کیا تم مدد دیتے ہو مجھ کو ساتھ مال کے پس جو کچھ دیا ہے مجھ کواللہ نے بہتر ہے اس چیز سے کہ دیا ہے تم کو بلکہ تم ہی ساتھ تحفہ اپنے کے خوش ہوتے ہو“ (سورة النمل / 36:27)

مطلب یہ کہ میرے پاس اللہ کادیا سب کچھ ہے اور تمہارے تحفوں سے زیا دہ بہتر ہے مجھے تمہارے مال ودولت حاصل کرنے کی نہ خواہش ہے نہ لالچ ۔ان دونوں آیتوں کا انداز بیان ثابت کرتا ہے کہ یہ ایک ہی شخص کے الفاظ ہیںلہٰذا ثابت ہوتا ہے کہ ذوالقرنین حضرت سلیمان علیہ السلام کا خطاب ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان
” اے ذالقرنین یا یہ کہ عذاب کرے تو ان کو اور یا یہ کہ پکڑے تو بیچ ان کے بھلائی“ (سورة الکہف / 96:18)” یہ ہے بخشش ہماری پس بخش دے یا بند کر بغیر حساب کے “ (سورة ص / 39:38)

یہ دو آیات بھی جڑواں آیات لگتی ہیں کہ ایک ہی شخص سے کہا گیا ہے لیکن دو جگہ مختلف انداز سے بات کی گئی ہے۔بائبل سے واضح پتہ چلتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا دوسرا نام اسرائیل ہے لیکن قرآن پاک میں کہیں واضح نہیں لکھا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا دوسرا نام اسرائیل ہے۔ لیکن جب قرآن پاک میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے تو ثابت ہو جاتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا دوسرا نام اسرائیل ہے ۔قرآن پاک شاہد ہے کہ نبی کو مختلف ناموں سے پکارا گیا ہے اور نبی کو ایک سے زیادہ ناموں سے یاد کیا گیا ہے ۔اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی ذوالقرنین کے نا م سے دیکھلایا گیا ۔ غور فکر کیجیے ۔

دلیل پنجم : آسمانی کتاب زبور کے باب 72میں سلیمان کا مزمور میں کہا گیا کہ”زبور:باب 72 سُلیمان کا مزمُور۔1۔شا ہزادہ کو اپنی صداقت عطا فرما۔3۔ان لوگوں کے لیے پہاڑوں سے سلامتی کے اور پہاڑیوں سے صداقت کے پھل پیدا ہونگے۔8۔ اُسکی سلطنت سمندر سے سمندر تک اور دریائے فرات سے زمین کی انتہا تک ہوگی ۔9۔بیاباں کے رہنے والے اُسکے آگے جھکیں گے اور اُسکے دُشمن خاک چاٹیں گے۔10۔ ترسیس کے اور جزیروں کے بادشاہ نذریں گذرانیں گے۔ سبا اور سیباکے بادشاہ ہدئیے لائیں گے۔ 11۔بلکہ سب بادشاہ اُس کے سامنے سرنگوں ہونگے ۔ کُل قومیں اُسکی مطیع ہونگی “

اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلا م کے بارے میں دنیا کو اپنی کتاب زبور کے ذریعے آگاہ کر دیا تھا کہ یہ ایسا نبی بادشاہ ہو گا کہ جس کی بادشاہی سمندر سے سمندر تک یعنی زمین کی مشرقوں سے زمین کی مغربوں تک ہو گی اور پہاڑوں سے سلامتی الفاظ سے اشارہ ملتا ہے کہ پہاڑوں کا درہ بند کرکے وہاں کا فساد ختم کرکے سلامتی پیدا کرے گا ۔ ذوالقرنین کے حوالے سے قرآن پاک میں جو تذکرہ ہے وہ بالکل زبور میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں بیان کردہ حالات و واقعات اور خواص پر بالکل منطبق ہے ۔ یہ دلیل ایک بہت بڑی دلیل ہے کہ ذوالقرنین حضرت سلیمان علیہ السلام کا خطاب ہے ۔

ذوالقرنین کے معنی دو سینگوں والا ہے ۔ تاج میں سینگ لگا نا اس وقت عظمت حشمت دبدبے کی نشانی سمجھا جاتا تھا ۔ حضرت سلیمان علیہ السلا م جب سیر یا سفر کو نکلتے اور ہوا میں اڑتے سفر کرتے تو دور دراز کے جو لوگ آپ کا نام نہ جانتے تھے وہ آپ کے ا و پر دو سینگوں والا تاج دیکھ کر آپ کو ذوالقرنین کہتے جیسا کہ درہ کے قریب کے لوگ کہ جن کے لیے دیوار بنائی وہ آپ کی زبان بھی نہ جانتے تھے انہوں نے آپ کو ذوالقرنین کہا” کہا انہوں نے اے ذوالقرنین“ ( سورة الکہف / 94:18)

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں سروں پر سینگوں کا تاج یا ٹوپا لگا یا جاتا تھا ۔ جواب اس کا زبور باب 75 میں مل جاتا ہے کہ واقعی اس دور میں سردار قسم کے لوگ سروں پر سینگوں والا تاج یا ٹوپا پہنتے تھے کہ فرمایا گیا ۔”زبور: باب 75:4۔اور شریروں سے کہ سینگ اونچا نہ کرو ۔5۔اپنا سینگ اونچا نہ کرو۔10۔ اور میں شریروں کے سب سینگ کاٹ ڈالوں گا۔ لیکن صادقوں کے سینگ اُونچے کیے جائینگے۔

قرآن پاک میں ایک سوال آیا” اور سوال کرے ہیں تجھ کو ذوالقرنین سے “ (سورة الکہف / 83:18)قرآن پاک کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ خود ہی سوال کرتا ہے اور خود ہی جواب فرہم کرتا ہے اور کوئی ایسا سوال نہیں کہ جس کے بارے میں قرآن پاک میں خاموشی ہو یا کوئی ابہام پیدا ہو لیکن تلاش کرنے والوں کے لیے اور تحقیق کرنے والوں کے لیے قرآن پاک میں کھلی نشانیاں ہیں ۔

یہ کہ سکندر اعظم نے مشرق میں برصغیر تک سفر کیا اور بیمار ہو گیا اور واپسی کا سفر شروع کر دیا اور راستے میں فوت ہوا لہٰذاثابت ہے کہ سکندراعظم زمین کی مشرق سورج نکلنے کی جگہ نہ پہنچ سکا اور سائرس نے مہمات روانہ کیں خود کم سفر کیا لہٰذا یہ ذوالقرنین نہ ہوئے۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ اے اللہ مجھے سب سے بڑی بادشاہی عطا فرما بمطابق قرآن پاک”کہا اے پروردگار میرے بخش مجھ کو اور دے مجھ کو ملک کہ نہیں لائق ہو واسطے کسی کے پیچھے میرے تحقیق تو ہی ہے بخشنے والا“ (سورة ص / 38:35)

اللہ تعالیٰ نے اُن کی اس دعا کے نتیجے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کو سب سے بڑی بادشاہی عطا کی جو ذوالقرنین کے خطاب سے لکھی کہ آپ کی حکومت مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک تھی۔اب آئیے قرآن پاک کے ان ترجموں کی طرف”اور مسخر کیے شیطان ہر ایک عمارت بنانے والا اور دریا میں غوطہ مارنے والا “ (سورة ص / 38:37)”اور شیطانوں میں سے مسخر کئے وہ جو غوطہ مارتے تھے“ (سورة الانبیاء / 21:82)

سوال: مندرجہ بالا آیات میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے کارندے جو بڑی بڑی عمارات بناتے تھے اور غوطہ لگاتے تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے شیطان کیوں کہا؟ ٓآخر انہوں نے ایسا کیا کام کِیا تھا کہ قرآن پاک میں ان کے لیے شیطان کے الفاظ آئے؟
جواب: جواب کے لیے ہمیں سارے پس منظر میں جانا پڑے گا۔ یہ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام ذوالقرنین کی صبح او ر شام کی سیر ایک ماہ کی مسافت کے برابر تھی۔ بائبل سے ہمیں پتہ چلتاہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام ذوالقرنین کا دارالخلافہ دریائے فرات کے قریب تھا کیونکہ فرمایا گیا۔”زبور:باب 72 سُلیمان کا مزمُور۔8۔ اُسکی سلطنت سمندر سے سمندر تک اور دریائے فرات سے زمین کی انتہا تک ہوگی“اور سورة سبا میں فرمایا گیا”اور واسطے سلیما ن کے مسخر کیا باد(ہوا) کو کہ صبح کی سیر اسکی ایک مہینہ کی راہ اور شام کی سیر اُسکی ایک مہینہ کی راہ“ (سورة سبا / 34:12)یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا گیا تھا کہ ان کی صبح کی سیر اور شام کی سیر ایک ماہ کی مسافت کے برابر تھی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے شیطان سے کون سی عمارتیں بنوائیں۔ پہاڑ کی چوٹی کا کٹاہوا حصہ اورا حرام مصر کا نقشہ ایک جیسا بنتا ہے کہ جیسے کسی پہاڑ نے بہت بڑے پتھر کاٹ کر لا کر احرام مصر بنائے گئے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی بنائی ہوئی عمارات لازمی بات ہے عجوبے ہونگے اور اس علاقے میں عمارات میں عجوبے احرام مصر نظر آتے ہیں جو کہ ظاہر ہے حضرت سلیمان علیہ السلام ذوالقرنین نے ہی بنائے ہونگے اور یہ کام شیطان جنات سے کرایا کہ یہ احرام مصر کا بنانا اس وقت انسانی کام نظر ہی نہیں آتا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کے وہ شیطان کارندے کہ جن کواللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے بس میں کر دیا تھا وہ مجبور تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد انہوں نے شیطانی کام یہ کیا کہ احرام مصر کے ساتھ ابوالہول بت کا مجسمہ بھی بنا دیا تا کہ بعد کے آنے والے لوگوں کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا فر اور بت پرست تھے”نعوذ باللہ “اور یوں ہوا بھی کہ بعد میں یہود کے کچھ لوگوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو جادوگر وغیرہ کہا ور اللہ کا نبی نہ مانا ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے کارندوں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں شیطان اس لیے کہا کہ انہوں نے حضرت سیلمان علیہ السلام کی وفات کے بعد شیطانی کام کیے اور بت ابو الہول بنایا۔

دوستوں یہ وہ معلومات تھی جو بہت ساری کتابوں سے حاصل ہوئی تھی مجھےمیرا اپنا نطریہ اس پر یہ ہے اللہ نے قران میں انسانوں اور جنات دونوں میں جو شر پسند لوگ ہیں انہیں شیاطین کا نام دیا ہے یاجوج سخت آگ سے بنی مخلوق ہے یہ جنات میں وہ شریر جن ہیں جو ابلیس کے احکامات پر عمل کرتے ہیں ۔۔۔۔ ماجوج وہ ہیں جنکے قبضے میں آگ ہو یا پھر جو گ کے رکھوالے ہوں یہ انسانوں میں ایک بڑا گروھ ہے جو شیطان کے آلا کار ہیں انہیں دنیا ملحد ۔۔کمیونسٹ ۔۔۔فریسمسن ۔۔سیکرٹ سوسائٹی ۔۔۔مین ان بلیک ۔۔۔عالمی برادری ۔۔۔ یورپی یونین کے نام سے جانتی ہے ۔۔۔۔ حضرت سلیمان علہ السلام کے زمانے میں بھی ابلیس کے نمائندہ دجال کی سربراہی میں یہ گروھ سرگرم تھا جو دنیا میں فساد مچایا کرتا تھا

۔حضرت سلیمان علہ السلام جنکو قران زولقرنین کے لقب سے بھی پکارتا ہے جب انہیں اس گروھ کی سازشوں اور فساد کا علم ہوتا ہے تو وہ مغرب کی طرف جہاں سب سے آخر میں سورج غروب ہوتا ہے امریکا کی ریاست فلوریڈا سے اگے برمودہ ٹرائینگل کے جزیروں پر پہنچ کر وہاں کے شریر جنوں کو برمودہ ٹرائینگل کے اندر قید کردیتے ہیں لیکن دجال وہاں سے بھاگ جاتا ہے پھر حضرت سلیمان علہ السلام اسکے پیچھے مشرق کی اس جگہ پر پہنچتے ہیں جہاں سورج ایسی قوم پر طلوع ہوتا ہے جہاں سورج اور اس قوم کے درمیان کو آڑ نہیں تھی یہ مشرق جاپان کا ڈیول سی کا علاقہ ہے جو 12 جزیروں پر مشتمل ہے ۔۔۔ ڈیول سی کا مطلب ہے شیطانی سمندر حضرت سلیمان علیہ السلام پھر دجال کو اس جگہ پر قید کرتے ہیں اسکے بعد پھر وہ اپنی تیسری مہم کی طرف روانہ ہوتے ہیں جسکا زکر سورہ کہف میں ہو رہا ہے ۔۔ آذربائیجان (Azerbaijan) جس کو سرکاری طور پر جمہوریہ آذربائیجان کہا جاتا ہے، یوریشیا کے جنوبی قفقاز کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک ہے۔ مشرقی یورپ اور مغربی ایشیا کے درمیان واقع اس ملک کے مشرق میں بحیرہ قزوین، شمال میں روس، مغرب میں آرمینیا اور ترکی، شمال مغرب میں جارجیا، اور جنوب میں ایران واقع ہیں۔ آذربائیجان کے جنوب مغرب میں واقع نگورنو کاراباخ اور سات مزید اضلاع نگورنو کاراباغ کی 1994ء کی جنگ کے بعد سے آرمینیا کے قبضے میں ہیں۔۔۔ یہاں پر دو پہاڑوں کے بیچ میں ایک نہر ہے ان پہاڑوں پر تانبہ پگھلا کر پہاڑوں کی راستوں کو بند کرکے ماجوج کو قید کیا تھا حضرت سلیمان علہ السلام نے لیکن نبی ﷺ کے دور میں یہ کمیونسٹ دہریہ وحشی انسان آزاد ہوگئے تھے جسکا زکر بخاری کی اس حدیث میں ہے ۔۔۔۔۔صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 604 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 9 متفق علیہ 7

یحیی بن بکیر لیث عقیل ابن شہاب عروہ بن زبیر زینب بنت ابوسلمہ حضرت ام حبیبہ بنت ابوسفیان حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہن سے روایت کرتی ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن ان کے پاس گھبرائے ہوئے تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ لا الہ الا اللہ عرب کی خرابی ہو اس شر سے جو قریب آگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھے اور شہادت والی انگلی کا حلقہ بنا کر اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آج اس کے برابر یاجوج ماجوج نے دیوار میں سوراخ کر لیا ہے حضرت زینب نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اس وقت جبکہ فسق وفجور کی زیادتی ہو جائے گی۔۔۔

یاجوج ماجوج نبی ﷺ کی اس پیشنگوئی کے مطابق مسلمان ان سے جب تک محفوظ رہینگے جب تک فسق اور فجور کی زیادتی نہ ہونے لگے ترکوں کی خلاف جب تک قائم تھی مسلمان انکے عزاب سے محفوظ تھے خلافت عثمانیہ کے بعد پھر دنیا میں انکا غلبہ ہوگیاعلامہ اقبال نے بھی اپنے ایک شعر کے زرہیے مسلمانوں کو آگاہ کیا تھا کی یاجوج ماجوج کھل چکے ہیں …. کھل گئے یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام ….. چشم مسلم دیکھ لے تفسیر حرف ‘ ینسلون ‘ ….یاجوج ماجوج کے لشکر تمام یعنی بہت ساری اقوام پر مشتمل گروھ ہے یہ انسانوں میں جنات میں شائد اس سے بھی کہیں زیادہ ہو یہ اللہ نے بنی آدم کو 10 حصوں میں تقسیم کیا 9 حصے یاجوج ماجوج بنائے اور باقی ایک حصہ میں باقی کے عام انسان (مستدرک حاکم )

ایک دوسری حدیث میں الفاظ کچھ یوں ہیںنبی ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر انہیں کھلا چھوڑدیا جائے تو وہ لوگوں پر انکے معاش میں فساد پھیلایئنگے ۔ (طبرانی ) یعنی اس دنیا کا سودی نظام ۔۔ کارپوریٹ کلچر ۔ اور کمیونسٹ معیشیت سرمایا دارانہ نظام ۔۔ جمہوریت کے زریئے انسانوں کو تقسیم کرنا ۔۔ دنیا میں جنگیں کرانا فحاشی عریانیت کا سیلاب ۔۔ خاندانی منصوبی بندی کے نام پر بچوں کا قتل عام کرنا ۔۔ دنیا میں بیماریاں پھیلانا ۔۔۔ یہ سب انکے فساد کی علامات ہیں ۔۔ قرآن کریم میں یاجوج ماجوج کی پیش قدمی کا زکر کچھ اس طرح ہے اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے. (سورۃ تکویر:4)

یعنی جب بڑی بڑی حکومتیں دوسرے بر اعظموں کی طرف پیش قدمی کرینگی۔ان آیات میں اسلام کا زوال اور آخری زمانہ کا ذکر ہے۔اس کے علاوہ فرمایا : اور جب وحشی اکٹھے کئے جائیں گے۔ (سورۃ التکویر:6) اس آیت میں یاجوج ماجوج کا زکر ہو رہا ہے جو آج یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔۔ اس میں بہت ساری قومیں آجاتی ہیں ۔۔ روس ۔ چین. ترکی ۔۔ امریکا ۔۔ برطانیہ ۔۔ اسرائیل ۔۔ ایرانی ۔۔ ھندوستانی ۔۔ اسرائیلی غرض یہ دنیا میں پھلے تمام سیکولر ۔۔ ملحد ۔۔ زایئنسٹ فریمسن قسم کے لوگ جہنوں نے دنیا میں سودی نظام قائم کرکے انسانیت کو خون نچوڑا ہوا ہے ابھی تو اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں شامل تمام ممالک دجال کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں انہیں روکا ہے ہے انکے لیڈر دجال نے لیکن جب حضرت عیسی علہ السلام کے پاتھوں دجال قتل ہوگا تو اس قوم کو سنبھالنے والا اس وقت کوئی نہیں ہوگا یہ ساری اقوام مسلمانوں پر غصے سے حملہ آور ہوجایئنگی اس وقت پھر دنیا میں انکا وحشی پن کھل کر سامنے آیئگا ۔۔۔

یاجوج ماجوج کی طاقت اور انکے ناقبال تسخیر قوم ہونے کا زکر سہی مسلم کی ایک حدیث قدسی میں کچھ یوں ہوا ہے جس میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنی مخلوق میں سے ( یاجوج ماجوج ) ایسے تخلیق کیئے ہیں کہ انکو کوئی بھی شکست نہیں دے سکتا حتی کے میں ان سے جنگ کروں ۔۔ قران پاک میں یاجوج ماجوج کو فساد پھیلانے والے کہا گیا ہے اور جنہیں اللہ خد ختم کریگا ۔۔۔ دجال کے قتل کے بعد یاجوج ماجوج حملہ کردینگے مسلمانوں پر پھر حضرت عیسی علہ السلام مسلمانوں کو کوہ طور پہاڑ پر لیجا کر دعا کرینگے پھر اللہ انہیں ایک بیماری میں مبتلا کرکے ختم کریگا ۔۔۔ یا اللہ ھمیں دین کی سہی سمجھ عطا کر اور فتنوں سے محفوظ رکھ اللہ ھمہ آمین