بلاگ

یہ صلیبی جنگوں کا تسلسل ہے۔

مغرب پرانی نفرت کی آگ میں جل رہا ہے اور اس جلاپے میں اس نے نہ صرف اپنا گھر برباد کر لیا ہے بلکہ دنیا کے امن کو بھی خطرے میں ڈال رکھا ہے -آپ کو حیرت نہیں ہونی چاہیے اگر کرائسٹ چرچ کے جلاد نے اپنی گن پر صلیبی جنگوں کے کسی عیسائی ہیرو کا نام لکھ رکھا تھا …یہ اہل مغرب کی بیہودہ اور وحشیانہ دانش کے برگ و بار ہیں جو پھل پھول رہے ہیں ..بہت برس گذرے میں مسیب کے پاس بیٹھ کے کچھ گیمز کے بارے پوچھنے لگا …اس نے جب مجھے تفصیل بتائی تو میں اندر تک جل کے رہ گیا ….اس ویڈیو گیم میں ولن یعنی دشمن کے آپشن میں بہت سے مسلمان شامل تھے . ..اب جب کوئی عیسائی بچہ سلطان ایوبی کو دشمن کے طور پر ” سلیکٹ ” کرتا ہے تو لاشعوری طور پر وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کو اپنے دل میں پال رہا ہوتا ہے .جب وہ گیم میں دھڑا دھڑ دشمن قتل رہا ہوتا ہے ، اور کشتوں کے پشتے لگا رہا ہوتا ہے تو اصل میں سینکڑوں مسلمان صفحہ زمین سے مٹا رہا ہوتا ہے ..اس طرح کی گیمز کو اہل مغرب نے اپنے معاشرے میں پورے طور پر پھیلا رکھا ہے ..بلکہ دنیا بھر میں …اور یوں دنیا کے معصوم نوجوانوں کے ذہن کو نفرت اور جنگی جنون کا حامل کر دیا …

اس پس منظر کے بعد …… موجودہ صلیبی جنگوں کا دور شروع ہوتا ہے …جی ہاں صدر بش کے کہنے کے بعد اگر کوئی جنگوں کے اس سلسلے کو صلیبی جنگوں کا تسلسل ماننے سے انکار کرتا ہے تو اس کی اپنی کم فہمی ہے ورنہ حقائق ایسے ہی ہیں … سو موجودہ صلیبی جنگوں کے آغاز سے ہی اہل مغرب اور ان کے میڈیا نے مخصوص مقاصد کے تحت مسلمانوں خلاف ایک نفرت انگیز فضاء بنانی شروع کر دی ….ہمہ وقت مسمانوں کو دہشت گرد قوم باور کروایا جانے لگا ..اور کمال یہ ہے کہ مغرب کی دانش کہ جو دنیا کی حاکم ہے اس کھلے ” فکری ” فراڈ پر نشہ پی کے سوئی رہی … دیکھیے نا فراڈ اور کس کو کہتے ہیں کہ شام ، عراق اور افغانستان کے شہروں کے شہر ، سویلین آبادیاں ، حتی کہ ہسپتال تک انہوں بمباری کر کے تباہ کر دیے ..اور ہزاروں یا لاکھوں نہیں بلکہ ملینز مسلمان ناحق قتل کیے …اور اس کے باوجود اہل مغرب اور وہاں کے پڑھے لکھے عام عوام بھی خود کو مہذب اور انسان دوست سمجھتے ہیں …..

مزید پڑھیں: سوال تو بنتا ہے۔

جانتے ہیں کہ اس کی وجہ کیا تھی ؟ میرے دوستو ! انہوں نے میڈیا ، ویڈیو گیمز ، افسانے ، فلمز کے ذریعے اپنی عوام میں نفرت ہی اتنی پیدا کر دی کہ وہ مسلمانوں کو قتل کرنا انسانیت کو بچانا اور انسانیت کی خدمت سمجھتے ہیں – کہا جا سکتا ہے وحشت ، قتل ، ظلم اور دہشت گردی اہل مغرب کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے اور ان کو یہ احساس ہی نہیں کہ وہ خود اس وقت بدترین دہشت گرد اور انسان دشمن بن چکے ہیں – وہ قتل کر کے بھی خود کو معصوم سمجھتے ہیں ..کیونکہ ان کی ذہن سازی کرنے والی قوتوں نے ان کے دماغ کو مکمل مفلوج کر دیا ہے …

یہ مغربی طاقتیں ابھی بھی "مقدس ” صلیبی جنگ کر رہی ہیں سو یہی وجہ ہے کہ مغربی میڈیا ابھی تک اس واقعے کو فائرنگ کا واقعہ کہہ کے رپورٹ کر رہا ہے کہ جس کے نتیجے میں کچھ لوگ مارے گئے ..اور قاتل کو جنونی قرار دیا جا رہا ہے …. سوال یہ ہے کہ کیا بغداد ، عراق اور شام کو کھنڈر بنانے والے بش ، اباواما ، ٹرمپ محض جنونی تھے ، کیا سویلین آبادیوں پر بموں کی ماں برسانے والے دہشت گرد نہیں ہیں ..یقینا ہمارے نزدیک وہ دہشت گرد ہیں …لیکن خود اہل مغرب کے نزدیک ایک مقدس مشن پر نکلے "مجاہد "