بلاگ

یہ محبت فساد کروائے گی

ہم نوجوان جب کسی موضوع پر سوچتے ہوئے کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ہم نے سوچ کے ساگر میں کود کر بالآخر کوئی ایسی بات نکال لی ہے جو آج تک کسی مفکر، دانشور نے بھی نہ سوچی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی بذاتِ خود ایک عظیم مفکر ہے۔ اور ہمیں اگر کسی بات کا گلہ ہے تو فقط ناشناسی کا۔ خیالوں میں کتنے ہی عظیم کارنامے انجام دینے والے ہم نوجوان خود کو تو سب سے الگ اور بہترین سمجھتے ہیں مگر ہمارے اردگرد کے لوگ اس بات کو رد کرتے ہوئے ہماری ساری مفکری اور دانشوری کا ستیاناس کر دیتے ہیں۔

مگر یہ بات چونکہ انسانی خمیر میں شامل ہے کہ نوجوان کبھی ہار نہیں مانتا، لہٰذا ہم بھی ہار نہیں مانیں گے۔ اس لیے یہی لوگ کبھی نہ کبھی ہماری سوچ کو سمجھ جائیں گے۔ یا پھر ہم بھی نوجوانی کی حد پار کر کے آخر ان لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔ خیالوں کے حسین آسمان پر اُڑان بھرتے ہوئے یہ ناچیز بھی ایک موضوع میں کھویا ہوا تھا۔ میری پرواز میں کوتاہی کا سبب بنتے ہوئے اچانک ایک بات نے مجھے چونکا دیا۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے میں نے ہر گانے، ہر فلم، ہر سیریل میں صرف ایک چیز مشترک دیکھی۔ شاعر کی شاعری ہو، گانے میں موسیقی کا تال میل ہو، کسی ہدایتکار کی کسی فلم میں محنت ہو یا کسی ڈرامے میں بے تابی بڑھاتا ہوا کوئی سین ہو، وہ ایک احساس، وہ موضوع ہر جگہ ملے گا۔

دلیپ کمار و راج کپور کے فلمی دور پر نظر ڈورا لیں یا آج کل کے دور میں شاہ رخ یا فواد خان کی اداکاری کی جھلک دیکھ لیں۔ لتا، نور جہاں، رفیع، کشور، مہدی حسن کے سروں سے بنائی ہوئی دنیا میں جھانک کے دیکھ لیں یا آج کل کے ممی ڈیڈی گلوگاروں کی بے وجہ کامیابی کی اصل وجہ پر غور کر لیں۔ ایک احساس کا ایسا استعمال جس کے ذریعے یہ سب اپنے مداحوں کو گرویدہ کرنے میں ہر بار کامیاب ہوجاتے ہیں، اس جادو کی چَھڑی کا نام ‘محبت’ ہے۔

حد تو یہ ہے کہ اس جادو کی چھڑی کے استعمال کی کوئی حد مقرر نہیں۔ جس کا جیسے جی چاہتا ہے اسے بروئے کار لاتا ہے۔ بڑے بڑے لیجنڈز بھی اسی کے مقروض ہیں اور بہت سے نام لیوا شوبز کے ستارے اس کے شکرگزار ہیں۔ خیر گوروں کی انڈسٹری میں یہ مسئلہ اتنی سرایت نہیں کرپایا، ایکشن ہی ایکشن اور بس ایکشن! لیکن کسی حد تک ان کی فلموں میں بھی یہ روش اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔ اور جب احساس دلاتی ہے تو وہ بھی ہر حد پار کرجاتی ہے۔ مگر برصغیر کی فلم انڈسٹری ہو اور بالی وڈ، لالی وڈ کی کہکشاں کا ذکر ہو تو یہ بات ناممکن کی حدوں کو چھوتی نظر آتی ہے کہ ‘محبت’ کا سیاپا ڈالے بغیر کوئی فلم، کوئی ڈرامہ سیریل یہاں تک کہ کوئی گانا بھی مقبول ہوجائے، یہ ممکن ہی نہیں۔

ہمارے بزرگ بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ ان کے دور میں نور جہاں، لتا، رفیع جیسے گلوکار تھے، مغل اعظم، ہیر رانجھا جیسی لازوال فلمیں بنیں؛ سنتوش کمار، دلیپ کمار، اعجاز، یوسف خان، ندیم، وحید مراد جیسے بے مثال اداکاروں نے انڈسٹری پر راج کیا؛ مگر جب ان بے مثال اداکاروں کی لا زوال فلمیں دیکھیں، سروں کے شہنشاہوں کے گانے سنے، تو صرف ‘محبت’ ہی ‘محبت’ پائی۔ صرف یہی نہیں۔ اس ‘محبت’ کے بے دریغ استعمال کی ایک اور صورت کسی جواز کی شکل میں ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے۔ اور وہ ہے صوفیائے کرام کا کلام۔ گٹار پر آواز سیدھی کرنے والے آج کل کے گلوکار سب سے پہلے بابا بلھے شاہ اور وارث شاہ کے کلام پر گانا بناتے ہیں اور کئی مرتبہ یہی ان کے کرئیر کی کامیابی کا راز بن جاتا ہے۔

وجود کی اصلیت سے واقف، دنیا کی اصلیت سے آشنا ان صوفیائے کرام نے حق کے رازوں سے متاثر ہو کر نہ جانے کن حالات میں یہ شاعری لکھی تھی مگر آج اگر وہ زندہ ہوتے تو یقیناً برہم ہوتے کہ کیسے ہر نوجوان عاشق بنتے ہوئے ان کی شاعری کو کس مقصد کے لئے استعمال کرتا ہے۔ ان فلمسازوں، گلوکاروں، شاعروں سے یہ سوال تو پوچھا جانا چاہیئے کہ کیا دنیا میں کوئی موضوع باقی نہیں بچا؟ کیا دنیا میں صرف محبوب اور محبوبہ کی جدائی ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے؟ کیا خدا نے خوشی کے لئے دنیا میں صرف محبوب کی خوبصورتی ہی بنائی ہے؟

گلی کی نکڑ پر کھڑے نوجوان سے لے کر کسی آفس کے ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھے اپنے کام میں مصروف نوجوان تک، بچپن کے بے فکر زمانے سے لے کر بڑھاپے کی پرخوف چار دیواری میں محصور ہر انسان پر اس محبت کا جادو چھایا ہوا ہے۔ مستقبل کے معماروں میں جب کچھ کر گزرنے کا جذبہ جوش مارنے لگتا ہے تب اچانک محبوب کی جدائی کا رونا روتا ہوا اریجیت سنگھ کا گانا منظرِ عام پر آجاتا ہے اور پھر ہر معمار کے دل کے قبرستان میں دفن عاشق کفن پھاڑ کر چیخ چیخ کر دہائی دیتا ہے جیسے اس گانے کی شاعری کا ایک ایک لفظ اس کی زندگی کی داستان ہے۔ اور یوں پھر سے کچھ کر گزرنے کا جذبہ ماند پڑجاتا ہے۔

یہ خاکسار کوئی عالم تو نہیں ہے جو کسی عمل کو غلط یا درست کے درجے پر فائز کرسکے اور نہ ہی یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ یہ محبت کا سیاپا آخر کب تک جاری رہے گا، مگر میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر یہ نظام اسی روانی سے چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہر گلی ہر چوراہے پر یہی سیاپا کسی فساد کی طرح پھیل جائے گا اور اس فساد کو ختم کرنے کے واسطے پھر سے کوئی ردالفساد شروع کرنا پڑے گا، یہ بات لکھنے میں بھی عجیب لگتی ہے مگر ایسا ممکن ہے کیونکہ ان فلموں، گانوں، ڈراموں کی وجہ سے جس قدر تیز رفتاری سے عاشقوں کی تعداد اضافہ ہورہا ہے یہ نوبت بھی کچھ بعید نہیں، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں۔ اور اس حقیقیت سے بھی آشنا ہوں کہ ناموجود احساس یعنی ‘محبت’ کے حامی لوگ میری ان باتوں سے کبھی اتفاق نہیں کریں گے۔ اچھی بات ہے کیونکہ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔