بلاگ معلومات

ماحولیاتی آلودگی، ایک تلخ حقیقت

تعلیمی ادارے کسی بھی ملک کی ترقی کا ایک اہم زینہ ہوتے ہیں کیونکہ یہی وہ سیڑھی ہے جس پر چڑھتے ہوئے قوم کے مستقبل کے معمار آگے بڑھتے ہیں اور ملکی سانچے کی تزئین و آرائش میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ یہ تعلیمی ادارے صرف ایک ڈگری کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ کردار سازی سے لے کر مقصدِ زندگانی کو پانے کےلیے مکمل ضابطہ بھی مہیا کرتے ہیں۔ درس گاہیں بہت سے ایسے مسائل کے حل میں روشن پہلو بھی وا کرتی ہیں جن کا جاننا نہ صرف ایک طالبِ علم بلکہ ہر شہری کےلیے نہایت اہم ہے۔ ماحولیاتی آلودگی سے متعلق شعور دینے اور ان مسائل کے ممکنہ حل کے ذیل میں بھی تعلیمی ادارے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اگر ہم ماحولیاتی آلودگی کی بات کریں تو جاننا ہوگا کہ یہ ہے کیا اور اس کے پیچھے کونسے عوامل ہیں؟ اگر ہم ان سب کو دیکھیں تو جان پائیں گے کہ ماحولیاتی آلودگی صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی لپیٹ میں دنیا کا ہر ملک آچکا ہے؛ اور یہ مسئلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ لیکن یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس پر قابو نہ پایا جاسکے۔ بس صحیح رہنمائی اور مناسب اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں تعلیمی اداروں کو روایتی تدریس سے ذرا آگے بڑھ کر کچھ اخلاقی ذمہ داریاں بھی نبھانا ہوں گی جن میں ایک اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے طلباء کی مدد سے تمام شہریوں تک یہ پیغام اس طرح پہنچائیں کہ ہر فرد ان حقائق سے روشناس ہو۔ماحولیات کا ایک طالبِ علم ہونے کی حیثیت سے میری بھی ذمہ داری ہے کہ قارئین کو ان تمام معلومات سے روشناس کراؤں جو معاشرے کےلیے آسانی کا سبب بنیں۔ سڑک پر چلنے والی گاڑیاںیہ ایک حقیقت ہے کہ ٹرانسپورٹ کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے

لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں اردگرد کے ماحول کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دھواں اڑاتی گاڑیاں انسانی صحت کےلیے وبال بن چکی ہیں۔ ان گاڑیوں سے نکلنے والی خطرناک گیسیں کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ اور سلفر آکسائیڈز وغیرہ دردِ سر سے لے کر دل کے امراض تک کی بنیاد تک بن رہی ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق گاڑیوں کے دھویں سے ہونے والی فضائی آلودگی کی وجہ سے پاکستان جنوبی ایشیا میں خطرناک ترین صورتحال سے دوچار ہوچکا ہے۔ یہ فضائی آلودگی صرف انسانوں کےلیے ہی خطرناک نہیں بلکہ وہ پھل، سبزیاں اور فصلیں جو ہم کھاتے ہیں، وہ سب بھی اس آلودگی سے محفوظ نہیں۔ ایک اور تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ اس آلودگی میں شامل گرد کے باریک ذرات گندم کی فصل کی پیداوارمیں کمی کا اہم عنصر ہیں۔

فضائی آلودگی سے ہونے والے چند نقصانات آ پ نے ملاحظہ کیے۔ اس آلودگی کو کم کرنے کےلیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں پر پابندی لگائی جائے اور مالکان کو تنبیہ کی جائے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی مناسب دیکھ بھال کریں ورنہ بھاری جرمانے نافذ کیے جائیں گے۔ لیکن بد قسمتی سے یہاں ایسی کوئی صورتحال نظر نہیں آرہی، کیونکہ صرف پالیسی کا ہونا کافی نہیں بلکہ اس پر صحیح طریقے سے عمل کروانا بھی ریاست کا فرض ہے۔فیکٹریاں اور ان سے نکلنے والا آلودہ پانی اس میں کوئی شک نہیں کہ صنعتی ترقی ہی کسی ملک کی ترقی کی ضامن ہوا کرتی ہے۔ لیکن جہاں فیکٹریوں میں ہونے والے مختلف عوامل (پروسیسز) کی بات ہے تو ان میں پانی کا استعمال بہت زیادہ ہے،

پھر ان عوامل کے اختتام پر فضلے کا اخراج بغیر کسی حفاظتی تدبیر کے کیا جاتا ہے۔ جیسے ہی یہ آلودہ پانی نزدیکی جوہڑوں، ندی نالوں اور تالابوں سے ہوتا ہوا نہروں اور دریاؤں میں پہنچتا ہے تو نہ صرف ان میں رہنے والی آبی مخلوقات کےلیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے بلکہ اس پانی کا استعمال انسانی آبادیوں کےلیے بھی اتنا ہی مہلک ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 15 کروڑ 90 لاکھ (159 ملین) افراد غیر صحت بخش اور آلودہ ذرائع سے پانی اکٹھا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہر سال لاکھوں اموات صرف آلودہ پانی کے استعمال ہی سے ہوتی ہیں۔اسی لیے ان تمام فیکٹری مالکان کو اس بات کا پابند بنایا جانا چاہیے کہ پانی کا بغیر ابتدائی ٹریٹمنٹ کے اخراج نہ کیا جائے۔ پابندی نہ کرنے والوں کو سزا کا مستحق بنایا جانا چاہیے۔

کھلے عام کوڑا کرکٹ پھینکنا دنیا کے زیادہ آبادی والے 200 سے زائد ممالک کی فہرست میں پاکستا ن چھٹے نمبر پر ہے۔ آبادی، خصوصاََ شہری آبادی میں اضافہ فضلے کی پیداوار میں بھی اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ استعمال کے بعد جب اشیاء ہمارے کام کی نہیں رہتیں تو ہم جگہ کی کمی یا علم نہ ہونے کی وجہ سے کسی بھی جگہ پر کھلے عام کوڑے کے ڈھیر لگا دیتے ہیں۔ حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان کے ایک میٹرو پولیٹن سٹی میں جمع ہونے والے کوڑے کا ساٹھ (60) فیصد کھلے عام مختلف جگہوں پر پھینک دیا جاتا ہے۔ مختلف شواہد کی روشنی میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کراچی میٹروپولیٹن میں کچرے (کچرے) کی یومیہ پیداوار تقریباََ 6,450 ٹن ہے

جو بہت بڑی اوسط ہے۔اس کوڑے کو جلانے کی صورت میں جن خطرناک گیسوں کا اخراج ہوتا ہےِ ان میں سرِفہرست کاربن مونو آکسائیڈ ہے کہ جس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو اس کی نشانیوں میں سب سے اہم دردِ سر، متلی اور زکام ہیں؛ جبکہ زیادہ عرصے کےلیے کاربن مونو آکسائیڈ کے اخراج سے دل کا عارضہ بھی ہوسکتا ہے۔اسی طرح مختلف گیسوں کے آکسائیڈز (آکسیجن پر مشتمل مرکبات) مل کر اوزون کی حفاظتی تہہ کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ مندرجہ بالا تمام عوامل مجموعی طور پر ایک ایسے مسئلے کو جنم دیتے ہیں جو آج کل زبان زدِعام ہے، یعنی ’’ماحولیاتی تبدیلی‘‘ (Climate Change)۔ماہرینِ ماحولیات ہر درجے پر اس مسئلے پر گفتگو کررہے ہیں۔

ہماری خوش قسمتی ہے کہ پاکستان ابھی اس پوزیشن میں ہے کہ یہاں اس مسئلے کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے لیکن صرف اس صورت میں جب ہم سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کا پاس رکھیں، اپنا قومی فرض نبھائیں اور ایسے تمام کاموں سے پرہیز کریں جو بعد ازاں سنگین مسائل کو جنم دینے کا محرک بنتے ہیں، تاکہ ہم اپنے وطن کو آنے والی نسلوں کےلیے ایک مثالی مملکت بناسکیں