خبریں

پاکستان میں خواتین کو کام کی جگہوں پر کیسے ہراساں کیا جاتا ہے؟

پاکستان میں کام کرنے کی جگہوں اور یونیورسٹیوں میں جنسی طور پر ہراساں کیا جانا، استحصال، اور تفریق عام ہے۔ 300 خواتین سے کیے گئے ڈان کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انہیں اکثر رپورٹ نہیں کیا جاتا اور سینیئر مینیجرز کی جانب سے نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

کراچی، اسلام آباد، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں آن لائن سوالناموں اور انٹرویوز کے ذریعے کیے گئے سروے میں مختلف شعبوں اور پیشوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے جوابات اکھٹے کیے گئے تاکہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کی تعداد کا اندازہ لگایا جا سکے، اور جانا جا سکے کہ آیا کام کی جگہوں پر ہراساں کرنے کے خلاف پالیسیاں موجود ہیں یا نہیں۔

ایک سرجن کی پیشکش : شعبہءِ طب سے تعلق رکھنے والی خواتین نے صنفی تعصب کے زہریلے کلچر کی کئی کہانیاں سنائیں۔ کچھ نے زمانہءِ طالبِ علمی میں اپنے جسموں کے بارے میں جملوں اور تبصروں کا سامنا کیا جبکہ ان کی ساکھ کے بارے میں بھی تبصرے کیے جاتے تھے۔ ایک خاتون کے مطابق “وہ ہمارے جسم کو ایک سے لے کر 10 کے پیمانے پر پرکھتے تھے۔”)

کچھ (خواتین) ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ انہیں ترقیاں یہ کہہ کر نہیں دی گئیں کہ وہ اپنے مرد ساتھیوں سے “کم تجربہ کار” یا “ان جتنی پرعزم” نہیں تھیں، یا پھر اس لیے کیوں کہ انہوں نے جنسی مطالبوں کو پورا نہیں کیا تھا۔ وہ خواتین جو کام کی جگہوں پر غلط رویے کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں انہیں ذہنی مریض، جھوٹا، اور رونے دھونے والا قرار دیا جاتا ہے۔

ایک یونیورسٹی ہسپتال کی سابق میڈیکل طالبہ کے مطابق ان کے پروفیسر، جو کہ مشہور آرتھوپیڈک سرجن تھے، اکثر انہیں غیر مطلوبہ توجہ دیتے۔ ایک دفعہ انہوں نے اس وقت طالبہ کو پیشکش کی جب وہ ان کی زیرِ نگرانی ایک آپریشن کر رہی تھیں۔ “وہ آپریٹنگ روم میں میرے اتنا قریب آ کھڑے ہوئے، بالکل کندھے سے کندھا ملا کر۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر آپریشن کرتے ہوئے میں نے اپنی انگلی کاٹ لی تب بھی مجھے واپس انہی کے پاس آنا پڑے گا۔ جب آپ [سرجیکل] ماسک پہنے ہوئے ہوں تو آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ کوئی ڈاکٹر آپ سے کیا سرگوشی کر رہا ہے۔”

خراب ماحول: ضروری نہیں کہ برا رویہ صرف جنسی ہو، تبھی اسے ہراساں کرنا تصور کیا جائے۔ حقیقت میں مرد باسز کی روز مرہ کی حرکات بھی خواتین ماتحتوں کے لیے کام کا ہتک آمیز ماحول پیدا کر دیتی ہیں۔

ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والی خواتین اکثر بتاتی ہیں کہ کس طرح ان کے مینیجرز ان کے کام اور ان کی قدر کو گھٹاتے ہیں؛ نامناسب طور پر چھوتے اور تبصرے کرتے ہیں، ڈراتے ہیں؛ اور اکثر باسز ہی ان کی کامیابیوں کا کریڈٹ لے جاتے ہیں۔ اسکول ٹیچرز کہتی ہیں کہ ان سے اکثر جنسی تعلقات کے بدلے میں پروموشن کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ ایک کا کہنا تھا کہ انہیں “بار بار” باتھ روم جانے پر سب کے سامنے مذاق کا نشانہ بنایا گیا۔

پارلیمنٹ میں صنفی تعصب: جنوری 2017 میں مسلم لیگ فنکشنل کی نصرت سحر عباسی کی سندھ اسمبلی میں دوسری مدت تھی اور وہ حکمراں جماعت کے کچھ مرد ارکان کی جانب سے بار بار کی جملے بازی کی عادی ہو چکی تھیں۔

لیکن پھر بھی انہوں نے ‘بس، اب بہت ہوچکا’ کا فیصلہ کیا جب پی پی پی کے امداد پتافی نے پوچھے گئے ایک سوال کے ردِ عمل میں انہیں ‘تسلی بخش جواب’ کے لیے اپنے چیمبر میں آنے کے لیے کہا، جس پر حکمراں جماعت کے دوسرے ارکان نے قہقہے بھی لگائے۔ نصرت نے دھمکی دی کہ اگر پتافی نے استعفیٰ نہ دیا تو وہ خودکشی کر لیں گی۔

یہ کوئی واحد واقعہ نہیں تھا۔ کئی خواتین قانون ساز ایسے نامناسب جملوں کا سامنا کرتی ہیں جن کا مقصد انہیں سب کے سامنے شرمندہ کرنا ہوتا ہے۔ جون 2016 میں اس وقت کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی شیریں مزاری کو ‘ٹریکٹر ٹرالی’ کہا؛ اپریل 2017 میں پی پی پی کے خورشید شاہ نے کہا کہ اگر خواتین کو ‘باتیں’ کرنے سے روکا گیا تو وہ ‘بیمار پڑ جائیں گی’؛ نومبر 2014 میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی خواتین حامی ‘بدکردار’ تھیں۔ اس رویے کی مذمت کرنے میں ناکامی پر زیادہ تر خواتین قانون ساز مرد رہنماؤں سے ڈانٹ کے خوف سے پارٹی کی حمایت جاری رکھتی ہیں۔

فرض کی راہ میں: سینیئر پولیس افسر ماریہ تیمور تسلیم کرتی ہیں کہ فوسر میں موجود خواتین ہراساں کرنے کے بارے میں اتنی بات نہیں کرتیں جتنی کہ کی جانی چاہیے۔ “اونچی سطح پر تو ہمیں ہراساں کرنے کا اتنا سامنا نہیں کرنا پڑتا، مگر نچلی سطح پر نئی کانسٹیبلز اور اے ایس آئی اس کا سامنا بہت کرتی ہیں۔ فورس میں موجود خواتین اپنے ڈی پی اوز یا سی پی اوز کے پاس شکایت لے جا سکتی ہیں اور مردوں کو شٹ اپ کال دینا سیکھ چکی ہیں۔ مگر اکثر معاملہ دبا دیا جاتا ہے۔ ہمارے پاس کئی ضلعوں میں ہراساں کرنے کے خلاف مہمات چلتی ہیں، ہم ذہنیت تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر یہ ایک سست مرحلہ ہے۔”

ماریہ ایک اور مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہتی ہیں کہ: “آپ ہراساں کرنے والے کو نہیں پہچان سکتے کیوں کہ اکثر ان کی عوامی ساکھ اتنی قابلِ عزت ہوتی ہے کہ ان کے لیے اپنے نقشِ پا چھپانا نہایت آسان ہو جاتا ہے۔” لاہور کے لوئر مال پولیس اسٹیشن کی اے ایس آئی عظمیٰ 12 سالوں سے مردوں کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے ان کی نفسیات سے بخوبی واقف ہیں۔

“ٹھرک جھاڑتے ہیں عادت سے مجبور”۔ بھلے ہی فورس میں موجود خواتین مشکل صورتحال میں بھی خود پر قابو رکھ سکتی ہیں مگر وہ تسلیم کرتی ہیں کہ کچھ مرد انہیں خراب شہرت کی حامل قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ “کیا بکواس ہے۔ خواتین اس لیے کام کرتی ہیں کیوں کہ انہیں ضرورت ہوتی ہے۔” پھر بھی ہراساں کرنے کا سامنا کرنی والی خواتین دو برے انتخاب کے درمیان پھنس جاتی ہیں۔

وومن اِن اسٹرگل فار امپاورمنٹ نامی پروگرام سے تعلق رکھنے والی بشریٰ خالق کہتی ہیں کہ پنجاب محتسب کے پہلے کیسز میں سے 2014 میں ایک محکمہ زراعت کی جونیئر کلرک کی شکایت تھی۔ آفس میں وہ واحد خاتون تھیں اور چھے ماہ تک ان کے ساتھی ان کی شہرت خراب کرتے رہے، ان کی موجودگی میں گندے لطیفے سناتے رہے اور ان کے چہرے پر سگریٹ کا دھواں چھوڑتے رہے۔ “جب محکمہ انہیں سنجیدگی سے لینے میں ناکام رہا تو بالآخر ان کا خاندان پولیس کے پاس گیا۔ 11 لوگوں کو شکایت میں نامزد کیا گیا اور ہر کسی کو الگ الگ سطح کی سزائیں دی گئیں۔

مگر ایسے نتائج غیر معمولی ہیں۔ انٹرویوز کے دوران خواتین نے بتایا کہ کس طرح ہراساں کرنے والوں کے خلاف انضباطی کارروائی تقریباً غیر موجود ہے، ایسے معاشرے میں جہاں طاقتور مرد سزا سے بالاتر ہیں۔ “زیادہ سے زیادہ انہیں کلائی پر طمانچہ پڑتا ہے۔”

اپنے آپ میں ایک قانون: ایک خاتون وکیل نے اپنے شعبے میں موجود غلط رویوں کی نشاندہی کی۔ “میرے [سابق] باس جو کہ ایک طاقتور سینیٹر اور وکیل سیاستدان تھے، نے میری جانب غیر مطلوبہ جنسی پیشرفت کی۔ مجھے بتایا کہ سول کورٹس میں خواتین وکلاء 500 روپے میں بکتی ہیں اور یہ کہ وہ کئی “خوبصورت خواتین پارلیمینٹیرینز” کے ساتھ سو چکے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے مجھے گلے لگانے کی کوشش کی۔ اور جب میں نے انہیں واضح طور پر کہا کہ یہ غلط حرکت ہے تو انہوں نے کہا کہ ان کی آخری ماتحت ایک ٹام بوائے لڑکی تھی اور وہ کبھی بھی انہیں گلے لگانے سے ہچکچاتی نہیں تھی۔ میں نے وہ لاء چیمبر چھوڑ دیا۔”

اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے ایک اور وکیل نے ایک سینیئر وکیل کے بارے میں لکھا جو کہ ایک ہائی کورٹ جج کے بیٹے تھے۔ وہ آدھی رات کو انہیں درجنوں غیر مناسب موبائل پیغامات بھیجا کرتے۔

“میں نے کبھی بھی انہیں جواب نہیں دیا اور اگلی صبح کام پر ان سے سلام دعا ہوتی جیسے کہ کچھ ہوا نہیں۔ فرم میں ہراساں کرنے کے خلاف کوئی پالیسی یا قواعد نہیں تھے۔ مجھے [آس پاس کے لوگوں نے] یقین دلایا کہ یہ معمول ہے اور پیغامات بند ہوجائیں گے۔ جب میں نے چھوڑ دیا تو ان کا ایک اور پیغام آیا جس میں انہوں نے مجھے فاحشہ کہا تھا۔”

محتسبِ سندھ کی سابق خصوصی مشیر عظمیٰ الکریم کے مطابق صرف ذہنیتوں میں تبدیلی سے ہی خواتین کے کام کرنے کی جگہیں محفوظ ہو سکتی ہیں۔ مگر تب تک کے لیے “ہمیں قانون نافذ کرنا ہوگا تاکہ کام کے ماحول میں ہر طرح کے ہراساں کرنے کے خلاف مکمل عدم برداشت ہو۔”

بشکریہ؛ ڈان نیوز