بلاگ کالمز

طے کرلیں کہ ’آپ کو کچھ کرنا ہے‘

انسان کے جسم میں سب سے زیادہ طاقتور شے ذہن ہے، جسے انسان اپنے قابو میں کرنا چاہتا ہے۔ ایک وقت میں مختلف سمتوں میں مصروف عمل دماغ جو سوچتا ہے وہی ہمیں نظر آتا ہے۔ دماغ کے اس دلچسپ کھیل میں اگر دماغ کی سمت کو بدلنا اور اُسے ایک جگہ مرکوز رکھنے پر دسترس قائم کرلی جائے تو دنیا میں کامیابی کے راز جاننے اور مقاصد کے حصول میں محنت کے لئے آسانیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔دنیا میں کامیابی کی ریس جیتنے کیلئے دماغ کا صحیح اور بروقت استعمال کرتے ہوئے مناسب منصوبہ بندی کرلی جائے تو کامیابی ’یقینی‘ ہے۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ، کام کی رفتار، پڑھائی میں دلچسپی و دلجمعی، صحت مند کھیل و تفریحی سرگرمیاں، کاروبار میں کامیابی، غرضیکہ زندگی کے ہر میدان میں کامیابی ضرور آپ کے قدم چومے گی۔

بصورت دیگر منصوبہ بندی کے بغیر دنیا کو تسخیر کرنے نکلنا ایک دیوانے کے خواب سے کم نہ ہوگا۔آگاہی کی تلاش میں رہنا کامیابی کا پہلا زینہ ہے، آگاہی میں دلچسپی جتنی زیادہ ہوگی، کامیابی کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ روشن ہونگے، کیوںکہ آگاہی دراصل ایک روشنی ہے جو انسانی زندگی کو روشن کرتی دنیا کی حدوں کو پار کرتی چلی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی ذہن میں مایوسی، محرومی اور مسائل کے خلاف اُٹھ کھڑا ہونے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ جبکہ مایوس سوچ کو اپنے اندر جگہ دینے سے انسانی حوصلے پست ہونا شروع ہوجاتے ہیں جس سے کامیابی کے راستے گاہے بگاہے بند ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال کے شکار لوگ اگر مایوسی کی وجہ ڈھونڈنے اور اپنے مطلوبہ ہدف کے حصول کے لئے کچھ کر گزرنے کی ٹھان لیں

تو منزل کا حصول آسان ہوجاتا ہے۔ایک اچھا کھلاڑی میدان میں جیت کی سوچ اور عزم لیکر اُترے گا تو بعید نہیں کہ کامیابی کا ثمر اُسکی پہنچ کے عین قریب ہو۔ یہ زندگی بھی ایک میدان ہے جہاں بہت سے کھلاڑی اپنی اپنی دانست کے تحت کھیل میں مشغول ہیں مگر یہاں جو کھلاڑی کھیل کو بامقصد انداز میں کھیلنے کی کوشش کرے گا تو قدرت بھی اُس کی بامقصد سوچ کی حفاظت کرے گی۔ بصورت دیگر مقصد کے بغیر کھیلا جانے والا کھیل محض کھیل رہ جائے گا۔ماہر نفسیات کے مطابق ’’جو کام آپ کو طاقت و توانائی دے وہ اچھا کام ہے جبکہ جو کام تھکن اور اکتاہٹ سے دوچار کردے وہ کام آپ کے لئے سود مند نہیں ہے‘‘۔ لہذا یہ قاعدہ آپ کے رجحان کی سمت کا تعین باآسانی کرسکتا ہے۔

ایک بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ کہ جب انسان اپنے آپ سے کئے وعدوں کو پورا کرنے کی سکت نہیں رکھتا تو کسی دوسرے سے کئے وعدے کی پاسداری کیسے کرسکتا ہے؟ انسان کو دراصل اپنے اندر کی آواز پہچاننے کی ضرورت ہے۔ جو انسان اپنے اندر کی قوت کو پہچان لیتا ہے تو وہ خود سے سب کچھ کرنے کی صلاحیت کو پالیتا ہے۔یہ مشقیں زندگی بدلنے کی مشقیں ہیں جو انسان کو قوت فیصلہ عطا کرتی ہیں، لہذا مقاصد کے حصول کے لئے مثبت سوچ کے ساتھ جہد مسلسل کامیابی کی ضمانت ہے۔ جس کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کریں۔ تاریخ کی دلچسپ بات یہ کہ دنیا تسخیر کرنے والے تقریباً تمام لوگ اپنے اسلاف کے باغی تھے۔ اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلنے کی بجائے

وہ کچھ مختلف مگر مثبت کر گزرنے کی سوچ پر گامزن ہوگئے، اسی سوچ کی تکمیل کے لئے انہوں نے راستے میں حائل ہر سختی، ہر مصیبت کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ چمکتے ناموں کے ساتھ دنیا کے نقشہ پر طلوع ہوئے۔آج بھی خواہش کو اگر مثبت تبدیلی کی سوچ میں ڈھال کر انتھک محنت کو زندگی کا مقصد بنا لیا جائے تو پھر ہار آپ سے کوسوں دور بھاگے گی، جبکہ جیت آپ کے قدموں میں کھیلے گی مگر شرط اول یہی کہ ’’مجھے کچھ کرنا ہے‘‘۔