بلاگ

امریکا میں عورت کی تاریخ

یہ ممکن ہے، کہ جب (امریکا کی)معیاری تواریخ کا مطالعہ کیا جائے، توملک کی آدھی آبادی کو بھلادیا جائے! محققین مرد تھے، زمیں دار اور تاجر مرد تھے، سیاسی رہنما بھی مرد تھے، فوجی بھی مرد ہی تھے۔ یہاں عورت مکمل طورپر’غائب‘ نظر آتی ہے۔ یہ اُس کی ماتحتی نمایاں کرتی ہے۔ یوں یہ عورت سیاہ فام غلام جیسی کوئی شے معلوم ہوتی ہے(اس طرح غلام عورت دگنے عتاب میں گھری نظر آتی ہے)۔عورت کی حیاتیاتی انفرادیت، نیگروز کے رنگ و نقوش کی طرح، کمتر اور ادنٰی جنس قرار پائی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ عورت کی جنسی صفات مردوں کی تسکین کا ذریعہ تھیں، ایک ایسی جنس کے جسے وہ استعمال کرسکیں، لوٹ کھسوٹ سکیں، اور لذت بھی حاصل کرسکیں۔ بہ یک وقت جنسی تسکین بھی حاصل کرسکیں، اورغلام بناکر بھی رکھ سکیں، اور بچے پالنے والی بناکر رکھ چھوڑ سکیں۔ ایسے معاشرے جہاں ذاتی زمین جائیداد پر مسابقت تھی، ایک بیوی اور بہت سارے بچوں والا خاندانی نظام تھا،عورت کی کمتر حیثیت گھریلو غلام جیسی تھی، اور مسلسل استحصال تھا۔

امریکا کے ابتدائی معاشروں میں ِ جہاں خاندان بڑے بڑے ہوتے تھے، خالائیں اور خالو ہوتے تھے، نانیاں اور دادیاں ہوتی تھیں، عورت کی قدر کی جاتی تھی۔ مگر بعد میں گوروں کی آمد سے ذاتی جائیداد اور عورت سے زیادتی کا سلسلہ شروع ہوا۔مثال کے طورپر، جنوب مغربی علاقہ کے’زونی‘ قبائل میں بڑے بڑے خاندان کی بنیاد عورت تھی، جس کا شوہراُس (عورت) کے خاندان میں رہ کر زندگی بسر کرتا تھا۔ یہ باور کیا جاتا تھا کہ عورتیں ہی گھروں کی مالکن ہیں، اور کھیت کھلیان مردوں کا علاقہ ہے، اور عورتوں کے لیے ہر طرح کی پیداوار میں یکساں حصہ ہوتا تھا۔ ایک عورت بہت محفوظ تھی، کیونکہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہتی تھی، اور جب چاہے طلاق حاصل کرسکتی تھی، اورجائیداد بھی قبضہ میں رکھتی تھی۔ ایسا بھی ہوتا تھا کہ عورتیں قبائلی سردار بن جاتی تھیں۔ عورتیں تیر اندازی سیکھتی تھیں، خنجرساتھ رکھتی تھیں،اور ہر طرح کے حملہ کا دفاع خود کرسکتی تھیں۔

ٰیہ کہنا مبالغہ آرائی ہوگی کہ عورتوں کو بالکل مردوں کی طرح ہی برتا جاتا تھا؛ تاہم عورتوں کا بہت احترام موجود تھا۔ معاشرہ کی گروہی فطرت نے عورت کو اہم مقام عطا کیا تھا۔ سفید فام آبادکاروں کی امریکا آمد کے بعد، عورت کے لیے نئے حالات پیدا ہوئے۔ پہلی نوآبادکاری مردوں پر مشتمل تھی، عورتیں صرف درآمد شدہ جنسی غلام تھیں، بچے پیدا کرنے والی، اور داشتائیں تھیں۔ سن 1619، وہ سال کہ جب پہلے سیاہ فام غلام ورجینیا لائے گئے تھے، نوے عورتیں جیمس ٹاؤن پہنچائی گئی تھیں، یہ سب ایک ہی کشتی کے سوار تھے: آمادہ اور جوان۔۔۔ جنھیں اُن کی منظوری سے نوآبادکاروں کے ہاتھوں بطور ”بیویاں“ بیچا گیا تھا، وہ قیمت جواُن کی امریکا منتقلی کی مد میں تھی، یوں ہی ادا ہوئیں۔ ابتدائی سالوں میں امریکا پہنچنے والی نوجوان لڑکیاں غلاموں سے کچھ مختلف نہ تھیں، خدمت گاری کی طے شدہ مدت انھیں پوری کرنی ہوتی تھی۔ انھیں بہرصورت آقاؤں اوربیگمات کا تابعدار رہنا ہوتا تھا۔

کتاب America�s Working Women کے مصنفینBaxandall، Gordon، اور Reverbyکچھ یوں منظرنگاری کرتے ہیں: انھیں (عورتیں)انتہائی کم اجرت دی جاتی، اکثرظالمانہ سلوک سے دوچار رہتی تھیں، اچھی خوراک اورنجی زندگی کی سہولت سے محروم رکھی جاتی تھیں۔ یقینا اس خوفناک صورتحال نے مزاحمت پیدا کی۔علیحدہ علیحدہ خاندانوں میں یوں زندگی بسر کرتی تھیں، کہ باہم رابطے بھی مشکل تھے۔ آقاؤں کی جانب سے غلام عورتوں کا جنسی استحصال عام ہوچکا تھا۔ ورجینیا اور دیگر نوآبادیوں کا عدالتی ریکارڈ بتاتا ہے کہ بہت سے گورے آقاغالم عورتوں کے جنسی استحصال پرطلب کیے گئے تھے، مگریہ وہ مقدمات تھے جوبہت سنگین اورنمایاں ہوچکے تھے۔ عام طورپر اکثرمعاملات پردے میں ہی رکھے جاتے تھے۔

سن 1756 میں غلام عورت ایلیزبتھ اسپرگس والد کوخط میں لکھتی ہے:یہاں انگریز (غلام عورتیں)اُس تکلیف دہ صورتحال سے دوچارہیں کہ جس کااندازہ آپ کی طرح انگلینڈ میں موجود کوئی فرد اندازہ بھی نہیں لگاسکتا، میں بھی اُن ہی ناخوش لوگوں میں سے ایک ہوں۔ دن رات مشقت میں گزرتے ہیں، جانوروں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں، ہروقت گالیاں پڑتی ہیں، باندھ کر مارا پیٹا جاتا ہے، اور آخر میں کھانے کے لیے مکئی کے چند دانے اور نمک دے دیا جاتا ہے۔ نیگروز کے ساتھ دہری بدسلوکی ہوتی ہے، وہ تقریبا برہنہ ہوتی ہیں، پیروں میں جوتیاں تک نہیں ہوتیں۔ ہمارا آرام بس اتنا ہے کہ تھک ہار کرایک چادر خود پر ڈال کرننگے فرش پر پڑجاتے ہیں۔

سیاہ فام غلاموں کی امریکا تجارت کے بارے میں جو ہولناکیاں بھی تصور کی جاسکتی ہیں، انھیں ”سیاہ فام عورتوں“ کے معاملہ میں لازما ضرب دینا چاہیے، جو عموما ہر کارگو کا ایک تہائی حصہ ہوا کرتی تھیں۔ غلاموں کے تاجروں کوایک رپورٹ دی گئی، جس میں کہا گیا: میں نے زنجیروں میں جکڑی سیاہ فام حاملہ عورتوں کوبچے جنتے دیکھا، جب کہ ان ہی زنجیروں سے بندھی کئی ایسی لاشیں بھی موجود تھیں، کہ جنہیں نشے میں چورآقاؤں نے اب تک وہاں سے نہیں ہٹایا تھا۔۔۔ اکثرانسانوں کی تجارت کے دوران زچگی اسی طور ہوتی تھی۔۔۔ ایک نیگرو عورت کو دیکھا گیا،کہ جسے زنجیروں سے جکڑ کرعرشہ پرہی ڈال دیا گیا تھا،اور وہ صدمہ سے بدحواس ہوچکی تھی۔

ایک عورت، جس کا نام لِنڈا برینٹ جو غلامی کی زندگی سے خلاصی پاچکی تھی، بتاتی ہے: میں جب اپنے غلام بچپن سے غلام جوانی کی سرحدوں میں داخل ہوئی، میرا مالک میرے کان میں بیہودہ سرگوشیاں کرنے لگا، وہ ہر موقع پر مجھے یاد دلاتا کہ میں اُس کی ملکیت ہوں، اور قسمیں کھا کھا کر کہتا کہ مجھے جھُکنے پر مجبور کر کہ رہے گا۔ اگر میں کبھی تازہ ہوا کے لیے باہر نکلتی، اُس کی مجھ پر کڑی نظر رہتی۔ یہاں تک جب میں اپنی ماں کی قبر پر جاتی، وہ خوفناک سایہ بن کرپیچھا کرتا تھا۔ میرا نازک دل بہت بوجھل ہوچکا تھا۔

یہاں تک کہ سفید فام آزاد عورت بھی، جو ابتدائی نوآبادکاروں کے لیے ’خریدی گئی بیوی‘ تھی، بڑی مشقت سے دوچار کی گئی۔ اٹھارہ شادی شدہ عورتیں، جنھیں جہاز مے فلارمیں امریکا پہنچایا گیا، اُن میں سے تین حاملہ تھیں، اور ایک دوران سفر مردہ بچہ کو جنم بھی دے چکی تھی۔ زچگی اور بیماریوں نے ان عورتوں میں وبا پھیلادی تھی؛ موسم بہار تک ان میں سے صرف چار عورتیں ہی زندہ بچی تھیں۔

(جاری ہے)

ہاورڈ زن
تلخیص: ناصر فاروق