اسلام بلاگ

اسلام میں خواتین کے حقوق ، جدت پذیر (Modernising ) یا فرسودہ (Outdated)

آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق خواتین کے حقوق سے مراد ایسے حقوق ہیں جو خواتین کو مردوں کے برابر سماجی اور قانونی مقام و حیثیت دلاتے ہیں جیسے حق رائے دہی اور حق ملکیت وغیرہ اور Modernising کا مطلب ہے "جدید اور معاصر بنانا ” ، ” نئے تقاضوں یا عادت کو اپنانا "عام طور پر جدت پذیری سے مراد ایسی چیزیں لی جاتی ہیں جو قدیم اور کہنہ نہ ہو لیکن ہمارے موضوع کے سیاق و سباق میں اس سے مراد چودہ صدیاں پیشتر اسلام کے بیان کردہ حقوق نسواں کا آج بھی برمحل اور موزوں ہونا ہے۔

معاشرے میں عورت کے مقام پر صدیوں سے بحث کی جا رہی ہے لیکن ماضی قریب میں اس بحث نے چند خاص موضوعات کی بابت قدرے تشویشناک صورتحال اختیار کر لی ہے۔ طلاق ، تعداد ازدواج اور سیاسی و معاشرتی امور و معاملات میں مسّلم خواتین کی شرکت وغیرہ ایسے موضوعات ہیں جن پر آئے دن میڈیا پر بحث کی جاتی ہے کچھ پیچیدگیاں ضرور ہوں گی لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کچھ مسائل کو میڈیا ضرورت سے زیادہ ہوا دے رہا ہے۔

بیشک آج کی مغربی عورت نے دو صدیوں سے زائد عرصے پر محیط کربناک جدوجہد کے بعد سماجی ، معاشی ، قانونی اور سیاسی حقوق حاصل کر لئے ہیں لیکن اس ساری جدوجہد اور اس سارے عمل کے دوران مغربی عورت اپنا سب کچھ گنوا بیٹھی ہے۔ وہ ہار چکی ہے۔ اگر آپ مغربی معاشرے کا بنظر غائر مشاہدہ کریں تو آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ وہ اپنی گھریلو زندگی سے ہاتھ دھو چکی ہے ، وہ ذہنی آسودگی سے محروم ہے یہاں تک کہ وہ اپنی توقیر اور اپنی نسوانیت گم کر چکی ہے۔ اس کے برعکس اسلام نے چودہ صدیاں پیشتر اس وقت عورت کو ان گنت حقوق سے نوازا ہے جب معاصر تہذیبیں اس سوچ بچار میں مصروف تھیں کہ عورت انسان بھی ہے یا نہیں۔

اب ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غیر جانبدار ہو کر معروضی انداز میں یہ جائزہ لینا ہے کہ اسلام کے عورتوں کو عطا کردہ حقوق آج بھی کافی موزوں اور ہم آہنگ ہیں یا نہیں۔ اسلام میں عورت کی باوقار اور مکرم حیثیت کے اظہار کے لئے یہ آیت ملاحظہ کریں۔سورہٴ البقرہ میں ارشاد خداوندی ہے” اور عورتوں کے لئے اسی طرح حقوق ہیں جس طرح ان پر ذمہ داریاں ہیں دستور کے مطابق اور مردوں کے لئے ان پر ایک درجہ فوقیت کا ہے۔” ( آیت 228)

اس آیت کا ایک ایک لفظ اچھی طرح زہن نشین کر لیا جائے کیونکہ اس آیت میں بین اور دو ٹوک انداز میں بیان کیا جا رہا ہے کہ اللہ‎ تعالیٰ نے جیسی ذمہ داری مرد پر ڈالی ہے ویسے حقوق اس کو دیے ہیں اور جیسی ذمہ داری عورت پر ڈالی ہے اس کی مناسبت سے اس کو بھی حقوق دے دیے ہیں۔البتہ یہ ہی آیت کریمہ مزید بیان فرماتی ہے کہ ” مردوں کو ان پر ایک درجہ فوقیت کا حاصل ہے۔” ، انتہائی اہمیت کے حامل یہ الفاظ ہم سے خاص توجہ اور احتیاط کے طالب ہیں کیونکہ یہاں بہت سے لوگ اشتباہ کا شکار ہوئے ہیں۔ اس آیت کی کماحقہ قدردانی اور صحیح ترجمانی کے لئے سورہٴ نساء کی 34 آیت کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔” مرد عورتوں کے نگہبان ہیں ، اس بنا پر کہ اللہ‎ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور یہ کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔”

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عورت صنف نازک ہے اور بعض مسائل میں خصوصی نگہداری اور تحفظ کی متقاضی ہے اور بشریات کی رو سے مرد عورت سے مختلف ، زیادہ طاقتور اور مضبوط واقع ہوا ہے جو کہ ایک حیاتیاتی حقیقت بھی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مرد کی یہ برتری قدرت کی عطا کردہ ہے۔ اس میں مرد کا کوئی کمال یا عورت کا کوئی نقص نہیں ہے بلکہ مرد کو یہ اہمیت اس لئے دی گئی ہے کہ وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے بطریق احسن سبکدوش ہو سکے ۔ مرد پر عورت کے تحفظ اور کفالت کی سنگین ذمہ داری کا عائد کیا جانا عورت کے حقوق یا اس کے مقام و منزلت میں کمی کا موجب ہرگز نہیں کیونکہ اس بات کا تعلق حقوق سے نہیں فرائض سے ہے۔ لہٰذا صورت مسئلہ کو دقت نظر کے ساتھ آج کے معاشرتی نظام میں سمجھنے کی کوشش کیجئیے۔ عورت کو تحفظ کی فراہمی مرد کی اہم اور نازک ذمہ داریوں میں سے ایک ہے جس کی تعمق نظر کے ساتھ تفہیم ضروری ہے۔ یہ کسی کی جان بچانے کے معنوں میں کوئی حفاظت نہیں ہے بلکہ ایک انسان کا ہمہ جہت تحفظ ہے۔قرآن کریم میں عورت کو معزز اور مکرم حیثیت سے نوازا گیا ہے۔ ہمارا بنیادی مسئلہ اور المیہ قرانی تعلیمات سے غفلت اور عدم آگاہی ہے پس اس کا صحیح حل بھی لوگوں کو قرآنی تعلیمات اور شعور و آگاہی کے زیور سے آراستہ کرنا ہے۔