ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

عورت اسلام اور ہمارا معاشرہ

ہم مسلمان ہیں لیکن اسلام سے شائد بہت دور۔۔ ہمارے ہاں تفرقہ بازی، بے جا فتووں کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اسلام کے میدان میں تحقیق ختم کر دی ہے۔ ستم ظریفی کا عالم یہ کہ اکثر اپنی سوچ، جذبات کو عشق اور غیرت کا نام دے کر اسے اسلام سے جوڑ دیا جاتا ہے اور بے شمار واقعات و حالات میں ہماری سوچ، جذبات اور نام نہاد عشق الٹی چال چل رہے ہوتے ہیں۔ ان معاملات سے ایک عورت ذات ہے۔ ہمارے ہاں جس کو مذہب سے جتنی زیادہ محبت ہے وہ عورت کو اتنا ہی قید کرنا شریعت سمجھتا ہے۔ اگر اسلام کو اسلام کی عینک لگا کر پڑھا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ اسلام عورت کو قطعاََ چار دیواری میں قید نہیں کرتا بلکہ معاشی، معاشرتی، سماجی، سیاسی، مذہبی الغرض زندگی کے ہر شعبہ میں امت مسلمہ کی عورتیں (اسلام کی شرائط پر پابندی کے ساتھ) مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہیں۔
(موضوع کو زیر قلم لاتے ہوئے احادیث و تاریخ میں استعمال ہونے والی عربی اصطلاحات کی جگہ ہمارے ہاں دورِ حاضر کی جدید اصطلاحات استعمال ہوں گی)

صحیح مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پیارے آقا ﷺ نے فرمایا نساء قریش خیر النساء رکبن الابل۔ قریش کی عورتیں سب عورتوں سے بہتر ہیں (اور ان کی بہتر ہونے کی ایک وجہ بیان فرمائی کہ وہ) اونٹوں پر سواری کرتی ہیں۔ غور فرمائیں کہ اگر عورتوں کے لئے اونٹ کی سواری اس کی خوبیوں میں سے ایک خوبی ہے جس کا ذکر خود اللہ کے نبی فرما رہے ہیں تو آج کل کے اس جدید دور میں کار وغیرہ تو اونٹ سے زیادہ محفوظ ہے۔ پھر عورت کی ڈرائیونگ کو غیر شرعی کیوں کہہ دیا جاتا ہے؟؟ حالانکہ بہترین عورتوں کی ایک خوبی یہ بیان کی گئی کہ وہ ڈرائیونگ جانتی ہیں اور ڈرائیونگ گھر کی چار دیواری سے باہر ہی ہوتی ہے۔

صحیح بخاری کے مضمون کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جب آپ نے اپنے بعد خلیفہ کے انتخاب کے لئے چھ ارکان پر مشتمل الیکشن کمیشن تشکیل دیا اور اس کا چیف الیکشن کمیشنر حضرت عبد الرحمان بن عوف کو مقرر فرمایا۔ انہوں نے عوام کے گھر جا جا کر رائے حاصل کی، تیسرے خلیفہ راشد کے اس الیکشن میں عورتوں سے بھی رائے لی گئی تو اکثریت نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حق میں ووٹ دیا۔ افسوس آج ہمارے چند مذہب پسند تو عورتوں کو ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتے اور کچھ عورت کو حق رائے دہی دینے کا سہرہ یورپ کے سر باندھ دیتے ہیں۔ حالانکہ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ عورت کو حکومت کے قیام کے لئے رائے دینے کا حق اسلام نے دیا نہ کہ یورپ نے۔ امریکہ میں عورتوں کے حقوق کے لئے سرگرم خاتون سسن بی انتھونی کو 1872 میں گرفتار کر کے سو ڈالر جرمانہ کیا گیا کیونکہ اس نے صدارتی الیکشن میں ووٹ کاسٹ کیا تھا۔ امریکہ میں یہ حق 1920 کی ترمیم کے بعداور فرانس میں عورتوں کو حق رائے دہی فروری 1948 میں جبکہ دنیا کی اس ماڈرن تاریخ میں سب سے پہلے یہ حق نیوزی لینڈ نے 1893 میں دیا۔ اسلام کو مطالعہ کریں تو دنیا کی ان تاریخوں سے تقریبابارہ سو سال قبل اسلام نے عورت کو ووٹ کاسٹ کرنے کا حق دے دیا تھا۔
پارلیمنٹ/قانون سازی میں عورتوں کے حقوق کا اندازہ اس مشہور واقعہ سے لگائیں کہ جب حضرت عمر نے ایک عورت کو اپنے شوہر کے ہجر میں اشعار پڑھتے سنا تو آپ نے ایک شادی شدہ مرد کے لئے جہاد کی مدت قانونی طور پر مقرر کرنے کے لئے حضرت ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنھا سے رائے لی۔ پھر ایک موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حق مہر مقرر کرنے کے لئے رائے دی، اصحابہ موجود تھے لیکن ایک عورت نے ہی آپ کی رائے کو رد کیا کہ حق مہر عورت کی مرضی پر منحصر ہے۔ جس پر امام عبد الرزاق نے یہ الفاظ لکھے کہ امراۃ خاصمت عمر فخصمتہ۔ ایک عورت نے عمرسے بحث و مباحثہ کیا اور وہ اس پر غالب آ گئی۔ یعنی کہ اس وقت قانون سازی میں پڑھی لکھی، شریعت کو جاننے والی عورتیں شامل ہوتیں تھیں ورنہ آج حق مہر کی مقدار مقرر ہوتی۔

ابن حزم نے المحلی میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شفا بنت عبد اللہ (یہ امت مسلمہ کی وہ عظیم خاتون ہیں جو حضرت ام المومنین حفصہ کی نکاح سے قبل معلمہ/ٹیچر تھیں) کو بازار کا محتسب یعنی Accountability Judge اور Market Administrator مقرر کیا۔ ممکن ہے احباب کو یہ بات عجب لگے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو جج کیسے مقرر کر دیا۔ چونکہ میرا واسطہ بھی عدالت و کچہری سے ہے، بعض اوقات کچھ وکلاء سے بھی سننے کو ملتا ہے کہ ہمارے ہاں اسلام کہاں ہے؟ اسلام میں تو عورت جج نہیں بن سکتی، ادھر عورتیں جج بنی بیٹھی ہیں۔ ان احباب کی خدمت میں سب سے پہلے تو مندرجہ بالا روایت اور پھر حنفی ہونے کے ناطے امام اعظم سیدنا ابو حنیفہ کا قول بھی پیش ہے؛ جائز ان تلی المرء ۃ الحکم دلیلہ قد روی عن عمر بن الخطاب انہ ولی الشفاء امراۃ من قومہ السوق۔ عورت کو قاضی بنانا جائز ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عمر سے مروی ہے کہ انہوں نے بازار کی محتسب ایک عورت شفاء کو بنایا تھا۔ آپ فقہ حنفی کی کوئی کتاب اٹھا لیں سب میں واضح موجود ہے کہ عورت قاضی/جج بن سکتی ہے (لیکن جیسے سب سے پہلے ذکر کیا کہ چند شرائط کے ساتھ تو عورت کے جج بننے میں فقط یہ شرط ہے کہ وہ) حدود و قصاص کے کیسز میں جج نہیں بن سکتی، اس کے علاوہ دیگر تمام معاملات میں عورت جج بن سکتی ہے۔ اور حضرت عمر کی روایت بھی واضح ہے کہ آپ نے جن کو Accountability Judge مقرر کیا تھا وہ بازار جاتیں، گھومتیں اور مارکیٹ کو کنٹرول رکھتی تھیں۔ اگر عورت کو چار دیواری میں قید کرنے کا نام شریعت، اسلام یا غیرت ہوتا تو حضرت عمر عورت کو Accountability Judge کیوں مقرر کرتے۔

دورِ عمر فاروق کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور طیبہ کا ایک واقعہ پیش ہے کہ آپ نے حضرت ام کلثوم کو ملکہ روم کے دربار میں سفارتی تعلقات کے لئے بطور سفیر بھیجا۔ امام طبری نے تاریخ الامم و الملوک میں لکھا کہ بعثت ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب الی ملکۃ الروم بطیب مشارب و احفاش من احفاش النساء۔ حضرت ام کلثوم بنت علی کو روم کی ملکہ کی طرف خوشبو، مشروبات اور عورتوں کے سامان رکھنے کے باکس دے کر بھیجا۔ اور جب آپ وہاں پہنچیں تو ہرقل کی زوجہ نے عورتوں کی جماعت کے ساتھ آپ کا استقبال کیا۔

قارئین اندازہ کریں کہ اسلام عورت کو شرائط کے تحت کتنی آزادی دیتا ہے۔ عورتوں کے جن حقوق کو آج جدید دنیا روتی ہے اسلام نے وہ حقوق عملی طور پر چودہ سو سال قبل دے دئے تھے۔ ہم بچپن سے پڑھتے ہیں کہ عورتیں جہاد میں حصہ لیتی تھیں، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں گویا کہ جہاد پر جانے والوں کے ساتھ عورتیں میڈیکل ڈاکٹر کے طور پر جاتیں۔ سارا دن جہاد میں استعمال ہونے والے ہتھیار وں کو سیدھا کرتیں اور صاف کرتیں یعنی اس دور کی صنعت ِدفاع کی انجینئرز عورتیں تھیں۔ اگر تعلیم کا میدان دیکھیں تو امام الحدیث حضرت امام بخاری کی حدیث کے میدان میں معلمہ (میڈم) جن کا نام کریمہ مروزیہ ہے، امام بخاری نے ان سے اخذ حدیث فرمایا ہے۔

المختصر یہ کہ اسلام نے (شرعی شرائط کے تحت) عورت کو تعلیمی، معاشی، معاشرتی، سیاسی، سفارتی، مذہبی، سماجی ہر طرح کے اس قدر حقوق دئے ہیں کہ جدید دور کی ماڈرن ازم اس کی خاک کو بھی نہیں پہنچتی۔ اسلام نے عورت کو قطعا چار دیواری میں قید نہیں کیا۔ اگر تاریخ ِ اسلام میں عورتوں کے سیاسی، سماجی، مذہبی، سفارتی، معاشی، معاشرتی کردار کو فقط اشارۃََ بھی لکھا جائے تو ایک دفتر درکار ہے۔ نتیجہ یہ ہی ہے کہ اسلام کو اگر اپنی سوچ، جذبات، عشق، اپنی من پسند غیرت کی عینک اتار کر پڑھا جائے تو اسلام سے زیادہ ماڈرن نمونہء حیات دنیا کی کسی تہذیب،ملک و قوم کے پاس نہیں کیونکہ اسلام فقط چند سو سالوں کے لئے نہیں بلکہ تاقیات اسوء حیات دین ہے اور دور کے مطابق (شرعی شرائط و قیود میں رہ کر) ماڈرن ازم اسلام کا حسن ہے۔

والسلام
تحریر: محمد احمد رضا المہروی

تبصرے
Loading...