ادب

” وہ جو راہوں میں کھو گئے "

بالی وڈ کی چمک دمک ہر کسی کو متاثر کرتی ہے. ہر انسان ان ستاروں کے انداز و اطوار نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے. ہیروئنز کی اداؤں پر لوگ سو جان سے فدا ہو جاتے ہیں. ان ستاروں کے روشن پہلو کو تو ہر کوئی دیکھتا ہے اور چاہتا ہے وہ بھی ویسا ہی بنے مگر اس روشنی کا تاریک پہلو کوئی نہیں دیکھتا. لوگ بس اِنکی شان و شوکت بھری زندگی انکی عیش و عشرت اور شہرت ہی دیکھتے ہیں مگر یہ نہیں دیکھتے کہ اتنا سب ہونے کے باوجود وہ کتنے تنہا ہیں. اکثر تو یہ اپنی تنہائی سے گھبرا کر خودکشی کر لیتے ہیں اور کبھی کبھی تو اِنکی موت کے تین چار دن بعد انکے گھروں سے لاش برآمد ہوتی ہے. کُچھ بھیک تک مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں تو کچھ کو محبت میں ناکامی ملتی ہے. کُچھ گمنامی کے اندھیرے میں کھو جاتے ہیں اور اپنے عروج سے زوال کی طرف آتے آتے بکھرنے لگتے ہیں. ایسی ہی کُچھ اداکاراؤں پر یہ پوسٹ لکھی گئی ہے جنکی زندگی میں روشنی تو بہت تھی مگر ساتھ ساتھ اندھیرے بھی سدا اُنکے تعاقب میں رہے.

1. ثُریّا : ثریا جمال شیخ اپنے وقت کی بےحد کامیاب اداکارہ اور گلوکارہ تھیں. انہیں پہلی میلوڈی کوئین بھی کہا جاتا ہے. جتنی شہرت ثریا کی بطور اداکارہ رہی اتنی شہرت ابھی تک کسی دوسری اداکارہ کو نصیب نہیں ہو سکی. جس طرح راجیش کھنہ کے لئے لوگ دیوانے تھے کُچھ ویسی ہی دیوانگی لوگوں میں ثریا کیلئے تھی. اُنکی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ اُنکے گھر کے سامنے ہمیشہ ٹریفک جام رہتا تھا. لوگ اُنکی ایک جھلک دیکھنے کے لیے گھنٹوں انتظار میں کھڑے رہتے تھے. اداکار دھرمیندر بھی اُنکے دیوانوں میں شامل تھے. مگر ثریا دیوانی تھی اداکار دیو آنند کی. جس وقت دیو صاحب فلم انڈسٹری میں آئے تھے, اُس وقت ثریا اپنے کریئر کے بامِ عروج پر تھیں. دونوں کی ملاقات ہوئی اور دونوں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے. دونوں کے درمیان بے پناہ محبت تھی اور شادی بھی کرنا چاہتے تھے. مگر دونوں کے درمیان مذہب کی دیوار آ گئی. ثریا کی نانی اُنکے رستے کی سب سے بڑی دیوار بن گئیں. اُنھیں یہ رشتہ منظور نہیں تھا. سنگیت کار نوشاد اور ہدایت کار کے آصف کو بھی یہ رشتہ منظور نہیں تھا. دیو آنند چاہتے تھے کہ ثریا بولڈ اسٹیپ لیتے ہوئے اُن سے شادی کریں. جب دیو آنند نے آخری بار اُنھیں شادی کی پیش کش کی, تب بھی ثریا نے شادی سے انکار کر دیا, جس پر دیو صاحب نے اُنھیں تھپڑ مارا اور بزدل کہہ کر چلے گئے. گھر آ کر وہ اپنے بڑے بھائی چتن آنند کے کندھے پر سر رکھ کر بہت دیر تک روتے رہے. چتن آنند نے اُنھیں ہمّت دی تو بعد میں دیو صاحب نے اداکارہ کلپنا کارتک سے شادی کر لی مگر ثریا نے تاحیات شادی نہیں کی. نانی صاحبہ اپنے بیٹوں کے پاس پاکستان چلی گئیں اور یہاں ثریا اپنی ماں کے ساتھ رہ گئی. ماں کی وفات کے بعد تو وہ بالکل تنہا ہو گئی تھی. اداکار رحمان ثریا سے بہت محبت کرتے تھے اور اُن سے شادی کرنا چاہتے تھے. مگر ثریا کے انکار نے اُنھیں بہت تکلیف دی اور وہ بہت زیادہ شراب نوشی کرنے لگے اور بالآخر دنیا سے کوچ کر گئے. 31 جنوری 2004 کو ثریا جمال شیخ بھی عدم کو سدھار گئی.

2.کامنی کوشل : کامنی ایک پڑھی لکھی فیملی سے تعلق رکھتی ہیں. اُنکے والد پنجاب یونیورسٹی لاہور میں باٹنی کے پروفیسر تھے اور انہیں فادر آف انڈین باٹنی بھی کہا جاتا ہے. کامنی نے لاہور سے ہی تعلیم حاصل کی. اُنہوں نے انگلش لٹریچر میں گریجوایشن کیا. ایک آزاد خیال لڑکی ہونے کے ناطے اُنہیں رائڈنگ اور سوئمنگ ہمیشہ ہی سے بے حد پسند رہی ہیں. فلم نیچا نگر میں اُنہیں چتن آنند نے بریک دیا اور اُنکا حقیقی نام اُما کشیپ سے بدل کر سکرین نیم کامنی کوشل رکھ دیا. سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا کہ اچانک کامنی کی بڑی بہن کی وفات ہو گئی. اُنہوں نے اپنی مرحومہ بہن سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہمیشہ اُنکے بچوں کا خیال رکھیں گی, لہذا’ اُنہوں نے اپنے بہنوئی سے شادی کر لی. وہ پہلی ایسی اداکارہ ہیں جو شادی کے بعد بھی لیڈنگ رول میں نظر آئیں. فلم شہید کے سیٹ پر اُنکی ملاقات اداکار دلیپ کمار سے ہوئی. ایک ساتھ کام کرتے ہوئے دونوں میں محبت ہو گئی. دلیپ کمار سے شادی کرنے کے لیے وہ اپنے شوہر کو بھی چھوڑنے کو تیّار تھی مگر اُنکے بھائی کو یہ رشتہ منظور نہیں تھا. مجبوراً دونوں کو صبر کا گھونٹ بھرنا پڑا. عصمت چغتائی نے لکھا تھا کہ دلیپ کمار نے جتنی محبت کامنی کوشل سے کی, اتنی کسی سے نہیں کی. ان دونوں کی محبت پر ہدایت کار بی آر چوپڑا نے "گمراہ” نامی ایک فلم بھی بنائی تھی. بہت سالوں بعد ایک تقریب میں دلیپ اور کامنی کی ملاقات ہوئی مگر دلیپ صاحب سب کچھ بھول چکے تھے اور انہیں پہچان بھی نہیں سکے, جس کا کامنی کو بہت دکھ ہوا. کامنی کوشل حال ہی میں فلم ” کبیر سنگھ ” میں کبیر کی دادی کے رول میں نظر آئیں.

3. مدھو بالا : خوبصورتی کبھی بھی خوش قسمتی کی ضمانت نہیں ہوتی, یہ بات مدھوبالا پر سچ ثابت ہوتی ہے. وینس آف انڈین سکرین کہی جانے والی مدھوبالا کا حقیقی نام ممتاز جہاں دہلوی تھا. وہ جتنی خوبصورت تھیں, اُتنی ہی بدقسمت بھی تھیں. اُن جیسی خوبصورت اداکارہ پھر نہیں آئی. مدھو بالا کی وفات کے پچاس سال بعد بھی لوگ انکے دیوانے ہیں. جب وہ مسکراتی تھیں, قیامت ڈھاتی تھیں. وہ اپنے والدین سے بےحد محبت کرتی تھیں مگر اُنکے والد اُن کی زندگی کی حقیقی فلم میں ولن ثابت ہوئے. مدھوبالا اداکار پریم ناتھ سے محبت کرتی تھی اور دونوں شادی بھی کرنا چاہتے تھے مگر مدھوبالا کے والد کو یہ رشتہ منظور نہیں تھا. وہ چاہتے تھے کہ پریم ناتھ اپنا مذہب تبدیل کریں مگر پریم ناتھ اس کیلئے نہیں مانے اور یوں دونوں کے راستے الگ ہو گئے. اسکے بعد فلم ترانا کے سیٹ پر مدھوبالا کی ملاقات دلیپ کمار سے ہوئی. دونوں اپنی پہلی محبت میں ناکام رہے. ایک دوسرے کا سہارا بنے مگر یہاں بھی دلیپ صاحب کا مدھو بالا کے والد سے جھگڑا ہو گیا. فلم مدھو متی کو لے کر یہ جھگڑا کورٹ تک گیا. معاملہ ختم ہونے کے بعد دلیپ صاحب نے مدھو بالا سے شادی کرنے کو کہا. تب مدھو بالا نے کہا, "میں شادی ضرور کروں گی مگر آپ پہلے میرے والد سے معافی مانگیں”. دلیپ کمار اس بات کیلئے تیّار نہیں ہوئے اور دونوں میں علیحدگی ہو گئی. مدھوبالا کے چاہنے والوں میں اُس وقت کے ٹاپ موسٹ ہیروز تھے. جیسے کہ بھارت بھوشن ، پردیپ کمار ، شمّی کپور وغیرہ, مگر مدھو بالا نے گلوکار اور اداکار کشور کمار سے شادی کر لی. مدھو بالا کی بدقسمتی نے اُنکا پیچھا یہاں بھی نہیں چھوڑا. وہ دل کی بیماری میں مبتلا تھیں, جس کا پتہ 1950 میں ہی لگ گیا تھا مگر یہ بات سب سے چھپائی گئی اور مدھو بالا فلموں میں کام کرتی رہیں. اکثر سیٹ پر ہی اِنکی طبیعت خراب ہو جاتی تھی. شادی کے بعد انہیں علاج کیلئے لندن لے جایا گیا مگر سب بے سود. ڈاکٹر نے کہا کہ مدھو دو سال سے زیادہ زندہ نہیں رہیں گی مگر وہ نو سال تک زندہ رہی. آخری وقت میں کشور کمار اپنی مصروفیت کے باعث اُنکا خیال نہیں رکھ پاتے تھے. اس لیے وہ اپنے والد کے گھر چلی آئی. کبھی میک اپ نہ کرنے والی مدھو بالا آخری دِنوں میں میک اپ میں رہنے لگی تھیں. سائرہ بانو سے شادی کے بعد دلیپ کمار اپنی بیوی کے ساتھ اُن سے ملنے گئے تھے. تب مدھو بالا نے کہا "ہمارے شہزادے کو اُسکی شہزادی مل گئی. میں بہت خوش ہوں”. اپنے جنم دن کے نو دن بعد 23 فروری 1969 کو محض چھتیس سال کی عمر میں یہ خوبصورت اداکارہ ہم سب کو چھوڑ کر چلی گئی. انکی وفات کے بعد انکے والد بہت روتے تھے اور روز مدھو بالا کی قبر پر اُنکی پسند کا پھول لے کر جایا کرتے تھے.

4. مینا کماری : بالی وڈ کی ٹریجڈی کوئین کہلائی جانے والی اداکارہ مینا کماری کی حقیقی زندگی میں بھی یتیم خانے کی سیڑھیوں سے لے کر قبر کی آغوش تک ٹریجڈی ہی ٹریجڈی رہی. مینا کے پیدا ہونے پر انکے والد اُنھیں یتیم خانے چھوڑ آئے. مگر پھر اُنکا دل نہیں مانا تو بیٹی کو لینے واپس آ گئے اور دیکھا کہ بچی کے جسم پر چیونٹیاں چمٹی ہوئی تھیں. وہ مینا کو گھر لے آئے اور نام رکھا مہ جبین بانو. بہت کم عمر میں ہی مہ جبین کے کندھوں پر گھر کی ذمے داری آ گئی اور وہ بطور چائلڈ آرٹسٹ فلموں میں کام کرنے لگی. بے بی مینا سے اداکارہ مینا بننے تک کا انکا سفر مشکلوں سے بھرا رہا. مینا کو سب سے زیادہ دکھ اُنکے شوہر کمال آمروہی کی جانب سے ملا.21 مئی 1951 کو مہا بلشورم کے پاس مینا کماری کا ایک روڈ ایکسیڈنٹ ہو گیا. مینا کافی زخمی ہو گئی. سب کو لگا کہ اب مینا کبھی بھی فلموں میں کام نہیں کر سکے گی. مینا کے بائیں ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی ہمیشہ کے لئے مڑ گئی. ایسے وقت میں کمال آمروہی نے انکا ساتھ دیا اور ان سے ہمدردی رکھی. مینا کو کمال سے محبت ہو گئی اور ہسپتال میں ہی دونوں نے نکاح کر لیا مگر اس شادی کو ڈیڑھ سال تک سب سے پوشیدہ رکھا گیا. کمال مینا سے عمر میں پندرہ سال بڑے تھے اور پہلے سے دو بار شادی شدہ تھے. انکے بچے بھی تھے. کمال نہیں چاہتے تھے کہ مینا ماں بنے. وہ کسی غیر سید عورت سے اپنے خاندان کا بچہ نہیں چاہتے تھے. اس بات کا مینا کو بہت دکھ ہوا. کمال آمروہی ایک سخت گیر شوہر تھے. اُنھیں مینا کا زیادہ لوگوں سے ملنا جلنا پسند نہیں تھا. مینا کے میک اپ روم میں بھی کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی. ایک دن شاعر ، ہدایتکار گلزار صاحب اُن سے ملنے میک اپ روم میں چلے گئے, جس پر کمال آمروہی کے اسسٹنٹ نے مینا کو تھپڑ مار دیا. مینا گھر چھوڑ کر چلی گئی اور اپنی بہن کے گھر رہنے لگی. مینا اور کمال کے رشتے میں دن بہ دن تلخی آتی گئی. اداکار دھرمیندر کے ساتھ بھی مینا کا نام جوڑا گیا مگر شاید دھرمیندر اُنھیں اپنے فلمی کیریئر کو آگے بڑھانے کیلئے استعمال کر رہے تھے. لوگوں کے بے حس رویوں نے اُنھیں شراب کا عادی بنا دیا. گلزار صاحب نے اُنکا آخری وقت تک ساتھ دیا. مینا اپنی شاعری گلزار صاحب کے حوالے کر کے گئی تھیں, جسے بعد میں گلزار صاحب نے ناز تخلص سے شائع کروایا. صرف 38 سال کی عمر میں مینا اس دنیا کو الوداع کہہ گئی. وہ اپنی قبر پر یہ لکھوانا چاہتی تھی:- وہ اپنی زندگی کو … ایک ادھورے ساز ….۔ ایک ادھورے گیت … ایک ٹوٹے دل …مگر بنا کسی افسوس
کے ساتھ ختم کر گئی”

31 مارچ 1972 کو مینا کی وفات ہوئی. اُنھیں رحمت آباد قبرستان میں دفن کیا گیا. 11 فروری 1993 کو جب کمال آمروہی کی وفات ہوئی, تب اُنکی خواہش کے مطابق اُنھیں مینا کی قبر کی بغل میں دفنایا گیا.

5. نرگس : ویسے تو اداکارہ نرگس کی زندگی باقی اداکاراؤں کی نسبت قدرے بہتر انداز میں گزری مگر دکھ اِنکی زندگی میں بھی شامل رہے. نرگس کے والد ایک ہندو فیملی سے تھے اور ماں جدن بائی مسلم تھیں. اُن کے والد نے میڈیکل کی تعلیم درمیان میں ہی چھوڑ کر جدن بائی سے شادی کی تھی اور اسلام مذہب بھی قبول کر لیا تھا. نرگس کا حقیقی نام فاطمہ رشید تھا اور وہ اپنے والد کی طرح ڈاکٹر بننا چاہتی تھی. وہ معاشرے کی خدمت کرنا چاہتی تھیں مگر اُنکی ماں اُنھیں اداکارہ بنانے پر بضد تھیں. نرگس کو اچھی سے اچھی تعلیم دلوائی گئی. بڑے لوگوں میں اٹھنے بیٹھے کے آداب سکھائے گئے. ماں کی خواہش کے مطابق وہ ایک کامیاب اداکارہ بنی. فلموں میں آنے کے بعد انہیں راج کپور سے محبت ہو گئی مگر راج کپور پہلے سے شادی شدہ تھے. پھر بھی نرگس کو یقین تھا کہ راج کپور اُن سے شادی ضرور کریں گے. وہ آر کے بینر کے لیے کام کرنے لگی. کوئی شوٹنگ نہ ہوتے ہوئے بھی وہ سٹوڈیو میں موجود رہتی تھی. راج کپور کی فلموں کے لیے اُنہوں نے اپنے پیسے تک لگانے شروع کر دیے تھے لیکن نرگس کے بار بار بولنے پر بھی راج کپور اُن سے شادی نہیں کر رہے تھے. وہ نرگس کو ٹالتے رہے. نرگس کا صبر بھی جواب دینے لگا. اُنھیں لگنے لگا کہ راج کپور کبھی بھی اُن کیلئے اپنی بیوی کو نہیں چھوڑیں گے. وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئی اور خودکشی کرنے تک کا سوچنے لگی. راج کپور سے نرگس کا یہ رشتہ دس سالوں تک رہا. نرگس نے محبوب خان کی فلم مدر انڈیا میں کام کرنا شروع کر دیا. سیٹ پر ہی اُنکی ملاقات اداکار سنیل دت سے ہوئی جو فلم میں اُنکے بیٹے کا کردار ادا کر رہے تھے. سنیل دت نے اُنھیں بہت مورل سپورٹ کیا. 1958 میں سنیل اور نرگس نے شادی کر لی. سنیل دت ایک اچھے شوہر اور والد ثابت ہوئے. انہوں نے نرگس کا آخری وقت تک ساتھ دیا. 1981 میں کینسر کی وجہ سے نرگس کی وفات ہوئی. راج کپور اُنکے جنازے میں عام لوگوں کی طرح سب سے پیچھے چل رہے تھے.

6. کوکو مورے : چالیس اور پچاس کی دہائی میں بالی وڈ میں ایک بہترین ڈانسر گزری, جنکا نام تھا کوکو مورے. اُنکے بدن میں اتنی لچک تھی کہ انہیں ربڑ گرل بھی کہا جاتا تھا. اپنی زندگی کو بنداس انداز میں جینے والی کوکو فلموں میں صرف ایک ڈانس کے چھ ہزار روپے لیا کرتی تھیں, جو اس زمانے میں بہت بڑی رقم مانی جاتی تھی اور بڑے بڑے ایکٹر بھی اتنی رقم نہیں لیتے تھے. کوکو کی زندگی شان و شوکت سے بھری رہی. انکے پاس تین لگژری گاڑیاں ہوا کرتی تھیں. ایک اپنے لیے, ایک دوستوں کے لیے اور ایک صرف کتوں کو گھمانے کے لیے. کوکو بہت دوست نواز بھی تھیں. اکثر اپنے دوستوں کی دعوت کیا کرتی تھیں. مگر پھر ایک ایسا وقت بھی آیا, جب اُنکے پاس دوا خریدنے کو بھی پیسے نہیں تھے اور سارے دوست احباب بھی ساتھ چھوڑ گئے. آخری وقت میں وہ کھانے کو بھی محتاج ہو گئی تھیں. سبزی والے جو خراب سبزیاں سڑکوں پر پھینک دیتے تھے, وہ اُنھیں اٹھا کر لاتیں اور پکا کر کھاتی تھیں. ڈانسر ہیلن کو فلموں میں لانے کا کریڈٹ بھی کوکو کو جاتا ہے. ہیلن سے انکی بہت دوستی تھی. 30 ستمبر 1981 کو کوکو اس دنیا سے چلی گئی. اُنکی موت پر کوئی دو بوند آنسو بہانے والا بھی نہ تھا.

7. نندا : اداکارہ نندا کا پورا نام تھا نندا کرناٹکی. بھولی بھالی سی دِکھنے والی نندا اپنے وقت کی بہت مشہور اداکارہ رہی اور انہوں نے سارے ٹاپ موسٹ ہیروز کے ساتھ کام کیا, خاص طور سے اِنکی جوڑی اداکار ششی کپور کے ساتھ بہت پسند کی گئی. نندا کے والد ماسٹر وینایک دامودر کرناٹکی اپنے وقت کے بہت مشہور مراٹھی اداکار اور ہدایتکار تھے. مشہور ہدایتکار وی شانتا رام نندا کے چچا تھے. نندا جب بہت چھوٹی تھی, تب ہی انکے والد کا انتقال ہو گیا. گھر کی ذمےداری چھوٹی سی نندا کے کندھوں پر آ گئی اور وہ بحیثیت چائلڈ آرٹسٹ کام کرنے لگی. اِنکی پڑھائی چھوٹ گئی. بڑی ہو کر بھی انکی جدوجہد جاری رہی اور دھیرے دھیرے مقبولیت حاصل کی. نندا نے ساری زندگی شادی نہیں کی. نندا ہدایتکار من موہن دیسائی سے محبت کرتی تھی مگر اپنے شرمیلے مزاج کی وجہ سے کبھی بھی اُنہوں نے اپنی محبت کا اظہار نہیں کیا اور من موہن دیسائی کی شادی ہو گئی. کافی سال بعد جب من موہن صاحب کی بیوی کی وفات ہو گئی, تب نندا کی بیسٹ فرینڈ اداکارہ وحیدہ رحمٰن نے دونوں کو پھر ایک کرنے کی کوشش کی. 1992 میں دونوں کی منگنی بھی ہوئی مگر پھر 1994 میں من موہن دیسائی کی بالکنی سے گر کر موت ہو گئی اور نندا ایک بار پھر اکیلے رہ گئی. 75 برس کی عمر میں 25 مارچ 2014 کو نندا کا انتقال ہو گیا. آخری بار نندا فلم پریم روگ میں نظر آئی تھی.

8. آشا پاریکھ : اداکارہ آشا پاریکھ کسی تعارف کی محتاج نہیں. وہ اپنے وقت کی بہت ہی کامیاب اداکارہ رہی ہیں. اُنکی زیادہ تر فلمیں جبلی ہٹ رہیں, اسلیے اُنھیں ہٹ گرل بھی کہا جاتا ہے. اُنہوں نے آٹو بایوگرافی بھی لکھی ہے. "دی ہٹ گرل” آشا پاریکھ کی والدہ مسلم بوہرہ فیملی سے تھیں اور والد گجراتی تھے. آشا ایک اچھی فیملی سے تعلق رکھتی ہیں. اُنکے دادا فلموں میں پیسے بھی لگایا کرتے تھے. وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہیں. اُنہوں نے بطور چائلڈ آرٹسٹ کُچھ فلموں میں کام کیا. بڑے ہونے پر ہدایتکار ناصر حسین نے اُنھیں اپنی فلم میں شامل کیا. آشا لمبے وقت تک ناصر حسین پروڈکشن کا چہرہ رہیں اور کئی کامیاب فلمیں دیں. آشا پاریکھ کو ناصر حسین سے محبت ہو گئی تھی مگر دوسری بیوی بننا اُنھیں منظور نہیں تھا اور وہ کسی کا گھر بھی نہیں توڑنا چاہتی تھیں. اسلیے اُنہوں نے تاحیات شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا. اپنی تنہائی سے تنگ آ کر وہ اپنی زندگی بھی ختم کرنا چاہتی تھیں مگر اُنکی دوستوں نے اُنکی حوصلہ افزائی کی. آشا پاریکھ کُچھ وقت سے پھر لائم لائٹ میں آ گئی ہیں. کُچھ رئیلٹی شوز میں اُنھیں بطور گیسٹ دیکھا گیا. بہرحال وہ خوش و خرم ہیں اور اپنی زندگی کو انجوائے کر رہی ہیں.

9. ریکھا : ریکھا ایک ایسی اداکارہ ہیں جنکی زندگی میں کئی راز ہیں مگر وہ اپنی ذاتی زندگی پر بات کرنے سے ہمیشہ کتراتی رہی ہیں. ریکھا کا پورا نام ہے بھانو ریکھا گنیشن. اُن کی مادری زبان تیلگو ہے مگر وہ بہت اچھی اُردو بولتی ہیں. اُنکا تلفظ بھی کمال کا ہے. اُن کے والدین ساؤتھ انڈین سینما میں کام کرتے تھے اور والد جیمنی گنیشن ساؤتھ انڈیا کے بہترین اداکار تھے. ریکھا کے والدین نے شادی نہیں کی تھی اور اُنکے والد نے کبھی اُنھیں اپنی اولاد کے طور پر قبول نہیں کیا تھا. گھر کے حالات کی وجہ سے ریکھا نے کُچھ فلموں میں بطور چائلڈ آرٹسٹ بھی کام کیا. بہت کم عمری میں انہوں نے ساؤتھ کی کُچھ فلموں میں بطور ہیروئن کام شروع کیا. وہ جب بالی وڈ میں آئی تب اُنکے سانولے رنگ اور موٹے نقوش کی وجہ سے انہیں اگلی ڈکلنگ بھی کہا جاتا تھا. اداکار امیتابھ بچن سے انکا لمبے عرصے تک افیئر رہا. دونوں شادی بھی کرنا چاہتے تھے مگر کُچھ وجوہات کی بنا پر نہ ہو سکی. اُن کے افیئر کے چرچے اداکار ونود مہرا سے بھی رہے. خبر یہ بھی آئی کہ دونوں نے شادی کر لی ہے مگر اِس بات کو ریکھا نے کبھی قبول نہیں کیا. انکا نام اکشے کمار کے ساتھ بھی جوڑا گیا. سنجے دت سے بھی اِنکی خوب دوستی رہی. ریکھا نے دلّی کے ایک بزنس مین مکیش اگروال سے شادی کر لی مگر شادی کے کُچھ عرصے بعد ہی مکیش اگروال نے ریکھا کے دوپٹے سے خود کو پھانسی لگا لی. اُسکے بعد ریکھا تنہا رہنے لگی. ریکھا آج بھی ایکٹو ہیں. کبھی کبھی فلموں میں بھی نظر آ جاتی ہیں. اکثر رئیلٹی شوز اور ایوارڈ فنکشن میں اُنھیں دیکھا جاتا ہے.

10. ویمی : اداکارہ ویمی جب فلموں میں آئی تھی, تب شادی شدہ تھی. وہ ایک آزاد خیال عورت تھی. ہدایتکار بی آر چوپڑا کی فلم ہمراز سے اُنہوں نے اپنا فلمی سفر شروع کیا. فلم کو زبردست کامیابی ملی اور ويمی راتوں رات سٹار بن گئی. اسکے بعد اُنہوں نے بڑے بڑے اسٹارز کے ساتھ کُچھ اچھی فلمیں کیں, مگر اُنھیں وہ مقبولیت نہیں مل پا رہی تھی جو ملنی چاہیے تھی. ادھر اُنکے شوہر نہیں چاہتے تھے کہ وہ فلموں میں کام کریں. اس وجہ سے اُنکے شوہر سے بھی تعلقات خراب ہونے لگے. ایک طرف فلموں میں ناکامی اور دوسری طرف ذاتی زندگی میں تناؤ کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار رہنے لگی. وہ کافی فضول خرچ بھی تھی. دھیرے دھیرے اُسے شراب کی لت لگ گئی. اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے وہ جسم فروشی کے کاروبار میں بھی ملوث ہو گئی. زیادہ شراب پینے کی وجہ سے اُنکا لیور خراب ہو گیا. دن بہ دن اُنکی حالت خراب ہوتی گئی. 22 اگست 1977 کو محض 34 سال کی عمر میں اُنکی وفات ہو گئی. اُنکی لاش کو ایک چائے والے کے ٹھیلے پر شمشان لے جایا گیا.

11. پریا راج ونش : پریا کا حقیقی نام تھا ویرا سندر سنگھ. اِنکی پیدائش جہلم میں ہوئی اور تقسیم کے بعد اِنکی فیملی شملہ شفٹ ہو گئی. وہیں اِنہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی. بعد ازاں انکے والد لندن چلے گئے تو انہوں نے لندن ہی میں تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھایا. مشہور ہدایتکار چتن آنند کی ایک فلم سے پریا نے فلمی سفرکا آغاز کیا جس میں چتن آنند کے بھائی دیو آنند نے اُنکے ساتھ کام کیا. یہ فلم تقسیم ہند کے موضوع پر بن رہی تھی مگر پھر اس فلم پر کونٹرو ورسی چھڑ گئی اور فلم بند کرنی پڑی. بعد میں فلم حقیقت سے پریا ایک بار پھر سکرین پر جلوہ افروز ہوئی. فلم ہیر رانجھا میں ہیر کا کردار ادا کر کے پریا نے اُسے امر بنا دیا. بیس سال کے کریئر میں پریا نے بمشکل سات آٹھ فلمیں کیں اور یہ ساری چتن آنند کی فلمیں تھیں. پریا کو ستیہ جیت رے اور راج کپور اپنی فلموں میں لینا چاہتے تھے مگر اُنہوں نے انکار کر دیا. پریا چتن آنند سے عمر میں بیس سال چھوٹی تھی اور جب اُنکی ملاقات چتن سے ہوئی, تب تک چتن اپنی پہلی بیوی سے الگ ہو چکے تھے. چتن اور پریا ساتھ رہنے لگے مگر اُنہوں نے کبھی شادی نہیں کی. پریا چتن کا بہت خیال رکھتی تھی اور اُنکے آخری وقت تک اُنکے ساتھ رہی. چتن کے پہلی بیوی سے دو بیٹے تھے جو پریا کو پسند نہیں کرتے تھے. چتن نے مرنے سے پہلے اپنی جائیداد کا بڑا حصہ پریا کے نام کر دیا تھا اور اس بات پر چتن کے بیٹے ناخوش تھے. 27 مارچ 2000 کو پریا کا قتل کر دیا گیا اور چتن کے دونوں بیٹوں کو عمر قید کی سزا ہوئی.

12. زینت : زینت امان کو کبھی بھی ایک اچھی اداکارہ نہیں مانا گیا مگر زینت نے بالی ووڈ ہیروئن کو الگ پہچان دی. انڈین لُک میں نظر آنے والی اداکارہ کو ویسٹرن لُک دیا. اپنے بولڈ انداز سے اُنہوں نے اپنے فینز کے دلوں پر لمبے عرصے تک راج کیا. جب زینت 13 سال کی تھی تو اُنکے والد کا انتقال ہو گیا. اُنکی والدہ نے ایک جرمن سے شادی کر لی اور اپنے ساتھ زینت کو بھی جرمنی لے گئی. زینت نے کُچھ وقت فیمینا میگزین کے لیے کام کیا. پھر ماڈلنگ شروع کی اور 1970 میں ایشیا پیسیفک کا خطاب جیت کر بالی وڈ میں قدم رکھا. شروعاتی کُچھ فلمیں ناکام ہونے کے بعد زینت نے واپس اپنی ماں کے پاس جرمنی جانے کا سوچ لیا تھا, تبھی دیو آنند نے اُنھیں اپنی فلم ہری راما ہری کرشنا میں اپنی بہن کا کردار دیا اور فلم ریلیز ہونے تک رکنے کا کہا. فلم کو کامیابی ملی اور زینت کے کام کی بہت تعریف ہوئی. اُسکے بعد زینت نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا. فلمی کیریئر کے دوران انکا نام کئی لوگوں کے ساتھ جوڑا گیا مگر فلم عبداللہ کے سیٹ پر زینت کو اداکار سنجے خان سے محبت ہو گئی. سنجے پہلے سے شادی شدہ اور تین بچوں کے باپ تھے مگر پھر بھی زینت نے ان سے نکاح کر لیا مگر یہ رشتہ لمبے وقت تک نہیں چل سکا ایک محفل میں سنجے نے سب کے سامنے زینت کی پٹائی کر دی. اُنکا جبڑا ٹوٹ گیا اور اُنکی ایک آنکھ ہمیشہ کے لیے خراب ہو گئی. دونوں میں طلاق ہو گئی. یہ بھی کہا جانے لگا کہ سنجے نے زینت سے صرف اسلیے شادی کی تھی تا کہ اُسے فلم کی فیس نہ دینی پڑے. 1985 میں زینت نے اداکار مظہر خان سے شادی کی. اس شادی سے انکے دو بیٹے بھی ہیں مگر مظہر خان نے دلیپ کمار کی بھانجی سے شادی کر لی. وہ زینت پر تشدد بھی کرتے تھے. تنگ آ کر زینت نے طلاق کی عرضی دی مگر اس سے پہلے کہ طلاق ہوتی, 1998 میں مظہر خان کی وفات ہو گئی. زینت ابھی بھی فلموں میں نظر آ جاتی ہیں. عنقریب اُنکی نئی فلم پانی پت ریلیز ہونے والی ہے.

13. پروین بابی : پروین بابی ریاست جونا گڑھ کی راج کماری تھی. انکا تعلق پشتون کے بابی قبیلے سے تھا جو بعد میں گجرات جا کر بس گیا تھا. پروین بابی نے صورت بھی راجکماریوں جیسی پائی تھی. وہ مغربی تہذیب سے بہت متاثر تھی. پروین اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھیں جو شادی کے چودہ سال بعد پیدا ہوئی تھیں. اُنھیں فلموں میں لائے تھے ہدایتکار بی آر اشارہ. جب پروین بی آر اشارہ کو ملی تھی, تب وہ سکرٹ پہن کر بیٹھی سگریٹ پی رہی تھی. بی آر اشارہ کو اُنکا یہ بے باک انداز اتنا بھایا کہ اُنہوں نے فوراً پروین کو اپنی فلم کے لیے سائن کر لیا. پروین زینت امان کی ہم عصر تھیں اور فلموں میں گلیمر لانے کا سہرا انکے سر بھی ہے. فلم مجبور سے پروین کو مقبولیت ملی. پروین بالی وڈ کی پہلی اداکارہ تھیں جنہیں ٹائم میگزین نے اپنے کور پیج پر چھاپا. امیتابھ بچن کے ساتھ اِنکی جوڑی کافی پسند کی گئی. کُچھ وقت تک امیتابھ کے ساتھ انکے افیئر کی بھی خبریں آتی رہیں. اِنکی زندگی میں راحتیں تو بہت رہیں مگر پریشانیاں بھی اُسی قدر شامل رہیں. اِنکی زندگی میں کئی لوگ آئے مگر کسی سے شادی نہیں ہو سکی. نتیجہ یہ ہوا کہ پروین ڈپریشن میں چلی گئی اور ذہنی مرض میں مبتلا ہو گئی. انہوں میں امیتابھ بچن اور امریکی صدر بل کلنٹن پر الزام لگایا کہ وہ اُنھیں مارنا چاہتے ہیں. آخری وقت میں یہ تنہا ہی رہی. 20 جنوری 2005 کو یہ اپنے فلیٹ میں مردہ پائی گئی. دو دن پہلے ہی اِنکی موت ہو چکی تھی. پڑوسیوں نے پولیس بلا کر فلیٹ کھلوایا. پروین نے آخری وقت میں عیسائی مذہب اپنا لیا تھا اور چاہتی تھی کہ انکی آخری رسومات عیسائی طریقے سے ہوں, مگر انکی آخری رسومات اسلامی طریقے سے ہی ہوئیں. ایک خوبصورت اداکارہ کا انت بہت ہی تکلیف دہ رہا.

14. سلکشنا پنڈت : چالیس کی دہائی میں دو خوبصورت اداکارائیں آئیں جو اداکاری میں تو مشہور تھیں ہی مگر گلوکاری بھی کمال کی کرتی تھیں. ایک تھی نور جہاں اور ایک ثُریّا. بعد میں نور جہاں پاکستان چلی گئی. اُنکے بعد بہت عرصے تک ایسی کوئی اداکارہ نہیں آئی مگر ستر کی دہائی میں ایک اداکارہ آئی جو خوبصورت بھی تھی, اچھی اداکارہ بھی اور گلوکارہ بھی. وہ تھی سلکشنا پنڈت.
سلكشنا پرتاپ نارائن پنڈت کا تعلق موسیقی کے گھرانے سے تھا. انکے والد پرتاپ نارائن پنڈت ایک کلاسیکل سنگر تھے اور مشہور کلاسیکل سنگر پنڈت جس راج انکے چاچا ہیں. سلكشنا پنڈت نے نو سال کی عمر میں پہلا گانا گایا تھا. بطور اداکارہ اُنہوں نے اپنی پہلی فلم اداکار سنجیو کمار کے ساتھ کی تھی. فلم کا نام تھا اُلجھن. اُنہوں نے اپنے وقت کے ٹاپ موسٹ ہیروز کے ساتھ کام کیا. اُنھیں فلم سنکلپ میں ایک گانے ‘ تو ہی ساگر ہے تو ہی کنارہ ‘ کے لیے بیسٹ پلے بیک سنگر کا فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا تھا. سلكشنا نے زیادہ تر فلمیں سنجیو کمار کے ساتھ کی تھیں اور وہ سنجیو سے بے پناہ محبت بھی کرنے لگی تھی مگر سنجیو کمار ہیما مالنی کو چاہتے تھے. ہیما نے سنجیو کے پروپوزل کو ٹھکرا کر اداکار دھرمیندر سے شادی کر لی, جس سے سنجیو کمار کا دل ٹوٹ گیا. سلكشنا نے کئی بار سنجیو سے کہا کہ چلو ہم شادی کرتے ہیں مگر سنجیو کبھی راضی نہیں ہوئے اور اسکی وجہ بھی سنجیو کمار نے گلزار کو بتائی تھی کہ اُنکے گھر کوئی بھی پچاس سال سے زیادہ زندہ نہیں رہتا, اسلیے وہ شادی کر کے کسی کو دکھ نہیں دینا چاہتے ہیں. اور ہوا بھی ایسا ہی, سنجیو کمار 47 سال کی عمر میں وفات پا گئے. اُنکی موت سے سلكشنا کو صدمہ پہنچا اور وہ ڈپریشن میں چلی گئی. اُنکی حالت دن بہ دن خراب ہوتی گئی. سب سے دکھ کی بات یہ ہے کہ مشہور سنگیتکار جوڑی جتین للیت جو سلكشنا کے بھائی ہیں, اُنہوں نے اپنی بہن کو کبھی موقع نہیں دیا. سلكشنا کے جیجا آدیش شریواستو جو خود ایک اچھے سنگیت کار تھے, ایک البم نکلنا چاہتے تھے مگر قسمت کی ستم ظرفی یہ ہوئی کہ آدیش کی کم عمری میں ہی وفات ہو گئی. سلكشنا کی گرنے کی وجہ سے ہپ بون ٹوٹ گئی. آجکل وہ اپنی بہن کے گھر رہتی ہیں اور اپنے گانے سنتی ہیں.

15. لینا چنداورکر : لینا آرمی بیک گراؤنڈ رکھتی ہیں. انہیں فلموں میں سنیل دت لائے تھے. فلم تھی ” من کا میت ” . یہ فلم تو نہیں چلی مگر لینا کو کافی ساری اور فلمیں ملنے لگیں. شوخ چنچل سی لینا نے کئی کامیاب فلمیں دیں اور بڑے بڑے اسٹارز کے ساتھ کام کیا. وہ دلیپ کمار کی بہت بڑی فین رہی ہیں. اسلیے اُنکی یہ تمنّا تھی کہ دلیپ صاحب کے ساتھ بھی کام کریں اور اُنکی یہ تمنّا پوری بھی ہوئی. دلیپ کمار کے ساتھ لینا نے بیراگ فلم میں کام کیا. اپنے کریئر کے پیک پر اُنہوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی پسند سے گوا کے چیف منسٹر کے بیٹے سدھارتھ بندودکر سے شادی کر لی مگر شادی کے صرف گیارہ دن بعد ہی سدھارتھ کو اپنی ہی گن سے گولی لگ گئی اور ساری خوشیاں ماتم میں تبدیل ہو گئیں. سدھارتھ چھ سات مہینے ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد فوت ہو گئے. محض پچیس سال کی عمر میں لینا بیوہ ہو گئی. لینا کو لگنے لگا کہ وہ مانگلک ہیں, اسلیے اُنکے شوہر کی موت ہو گئی. مگر اُنکی ساس نے اُنھیں سمجھایا اور اُنکی حوصلہ افزائی کی. سدھارتھ کی موت کے بعد لینا ڈپریشن میں جانے لگی اور اُن میں جینے کی خواہش ختم ہونے لگی مگر والدین اور دوستوں کے بہت سمجھانے پر وہ دوبارہ سے فلموں میں کام کرنے لگی. تب اُنکی ملاقات گلوکار کشور کمار سے ہوئی. کشور کمار لینا کو دھیرے دھیرے واپس زندگی کی طرف لائے. دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا مگر دونوں کی عمر میں بیس سال کا فرق تھا, اسلیے لینا کے والدین اس شادی کے خلاف تھے مگر پھر بھی لینا نے کشور سے شادی کی. اُنکا ایک بیٹا بھی ہوا. لینا کہتی ہیں کہ سب مجھ سے کہتے تھے, تم بہت خوبصورت ہو اور میں نے کبھی یقین نہیں کیا مگر جب کشور کمار نے مجھ سے شادی کی, تب مُجھے لگا, میں واقعی خوبصورت ہوں کیونکہ مجھ سے پہلے اُنکی جو تین بیویاں تھیں, وہ بےحد خوبصورت تھیں. شادی کے سات آٹھ سال بعد کشور کمار کی بھی وفات ہو گئی. 37 سال کی عمر میں لینا ایک بار پھر بیوہ ہو گئی. لینا کشور کمار کی پہلی بیوی روما اور اُنکے بیٹے امیت کے ساتھ ہی رہنے لگی مگر لینا کی پریشانیوں کا انت یہیں پر نہیں ہوا. لوگوں نے اُنکی کردار کشی بھی کی کہ اُنکے اپنے سوتیلے بیٹے امیت کمار کے ساتھ غلط تعلقات ہیں مگر لینا نے ہمّت سے کام لیتے ہوئے اِس بات کو ہمیشہ جھٹلایا. دیوالی کا فیسٹیول اُنھیں اُداس کر دیتا ہے, کیونکہ اُنکی ماں پہلے شوہر اور کشور کمار کی وفات دیوالی کے آس پاس ہی ہوئی تھی اور لینا کے بھائی نے بھی دیوالی کے آس پاس ہی خودکشی کی تھی. لینا اور اُنکی فیملی اب لائم لائٹ سے دور ہی رہتی ہے.

16. سائرہ بانو : بیوٹی کوئین سائرہ بانو لیجنڈری اداکارہ نسیم بانو کی بیٹی ہیں. نسیم بانو کو بالی وڈ میں پری چہرہ اور سائرہ بانو کو بیوٹی کوئین کہا جاتا ہے. سائرہ بچپن سے ہی اپنی ماں کی طرح اداکارہ بننا چاہتی تھیں. وہ دلیپ کمار کی زبردست فین تھیں. فلموں میں آنے کے بعد اُنکا افیئر اداکار راجندر کمار سے رہا اور وہ ان سے شادی کے لیے بضد تھیں. جبکہ راجندر پہلے سے شادی شدہ اور تین بچوں کے باپ تھے. تنگ آ کر نسیم بانو نے دلیپ کمار سے کہا کہ وہ سائرہ کو سمجھائیں کہ ایک شادی شدہ انسان سے شادی کر کے اپنی زندگی خراب نہ کرے. دلیپ کمار نے سائرہ کو سمجھایا بھی, مگر سائرہ نے کہا "اگر میں راجندر کمار سے شادی نہ کروں تو کیا آپ مجھ سے شادی کریں گے؟” دلیپ کمار کشمکش میں مبتلا ہو گئے اور کافی غور و فکر کے بعد شادی کے لیے ہاں کر دی مگر ٹریجڈی کنگ سے شادی کر کے سائرہ کی زندگی میں بھی ٹریجڈی آ گئی. ہوا کُچھ یوں کہ سائرہ جب ماں بننے والی تھی, تب وہ فلم وِکٹوریہ نمبر دو سو تین کی شوٹنگ کر رہی تھی. شوٹنگ کے دوران ہی اُنکا بے بی ابورٹ ہو گیا اور ڈاکٹر نے کہا "اب وہ کبھی ماں نہیں بن سکتی ہیں.” دلیپ کمار کی والد بننے کی خواہش ادھوری رہ گئی. اگرچہ دلیپ کمار نے عاصمہ نامی خاتون سے دوسری شادی کی لیکن کچھ خاندانی وجوہات کی بنا پر جلد ہی طلاق ہو گئی. اِس شادی نے بھی سائرہ کو دلّی تکلیف پہنچائی کیونکہ وہ دلیپ پر صرف اپنا حق سمجھتی تھی اور اب وہ اپنا سارا وقت دلیپ صاحب کا خیال رکھتے ہوئے گزارتی ہیں.

17. بے بی ناز : پچاس کی دہائی میں بے بی ناز بہت مشہور چائلڈ آرٹسٹ تھی. بے بی ناز کا اصل نام تھا سلمیٰ بیگ اور انکے والد مرزا داؤد بیگ ایک ناکام رائٹر تھے. وہ محض چار سال کی عمر سے اسٹیج پر پرفارم کرنے لگی تھی. اُنھیں جو پیسے ملتے, اُنہی سے گھر چلتا تھا. بے بی ناز کے والد کے دوست نے جب انھیں دیکھا, تب فلم ریشم میں ثریا کے بچپن کا کردار دیا اور پھر راج کپور کی فلم بوٹ پالش نے اُنھیں بہت مقبولیت دی. بے بی ناز کی والدہ ایک خود غرض اور لالچی عورت تھی. وہ اُس سے فلموں میں کام کرواتی رہی. جب بڑے بڑے سٹار ایک شفٹ کیا کرتے تھے, تب وہ چار چار شفٹوں میں کام کیا کرتی تھی. اس وجہ سے اُنکا سکول بھی چھوٹ گیا. وہ جب کام کر کے گھر آتی, تب والدین کے جھگڑے ہو رہے ہوتے تھے. اُنکے والدین میں طلاق ہو گئی. ماں نے دوسری شادی کر لی اور بے بی ناز کو اپنے ساتھ ہی رکھا. بے بی ناز جب دس سال کی تھی, تب اُنہوں نے دو بار خودکشی کرنے کی بھی کوشش کی مگر اُنکی آیا نے ہر بار اُنھیں بچا لیا. وہ جب بڑی ہوئی, تب راج کپور نے کہا کہ ناز کو ٹریننگ کے لیے سویٹزر لینڈ بھیجتے ہیں اور پھر جب وہ واپس آئے گی تو اُسے بطور ہیروئن لانچ کریں گے. مگر ناز کی والدہ یہاں بھی نہیں مانی اور اُس کے لیے آئے ہر اچھے برے چھوٹے بڑے رول کو وہ قبول کر لیتی تھی. بعد میں ناز نے راج کپور کے کزن سے شادی کر لی. اُس پر بھی خوب ہنگامہ ہوا. اُنہوں نے کُچھ فلموں میں سری دیوی کے لیے ڈبنگ بھی کی تھی. بے بی ناز کو کینسر ہو گیا تھا اور 19 اکتوبر 1995 کو وہ پچاس سال کی عمر میں یہ دنیا چھوڑ کر چلی گئی.

18. انو اگروال

1990   میں مہیش بھٹ کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم عاشقی سے بالی وڈ میں قدم رکھنے والی سانولی سی انو اگروال کے ساتھ ایسا سانحہ پیش آیا, جس نے اُسکی زندگی بدل کر رکھ دی. بالی وڈ میں آنے سے پہلے انو ایک ماڈل تھی. فلم عاشقی کی کامیابی نے اُسے راتوں رات سٹار بنا دیا مگر اُسکا یہ اسٹارڈم بہت جلد ختم ہو گیا. عاشقی کے بعد اُس نے کُچھ فلموں میں کام کیا مگر کوئی فلم اُمید کے مطابق کامیابی حاصل نہیں کر پا رہی تھی. اِس سے دل برداشتہ ہو کر انو ادھیاتم کی طرف مڑ گئی, مگر 1999 میں اُس کا بھیانک روڈ ایکسیڈنٹ ہوا اور 29 دِنوں تک وہ کوما میں رہی. جب کوما سے واپس آئی, تب انو اپنی پچھلی زندگی بھول چکی تھی. وہ کمر سے نیچے پیرالائزڈ ہو گئی. تین سال کے علاج اور اپنی ہمّت سے انو قدرے بہتر ہونے لگی. وہ فلمی دنیا سے دور صوبہ بہار کے ضلع مونگیر میں رہنے لگی اور بچوں کو یوگا سکھانے لگی. کُچھ دن پہلے انو کپل شرما شو میں نظر آئی تھی.

انکے علاوہ اداکارہ سادھنا، ودیا سنہا، سعیدہ خان، سنجنا، دیویا بھارتی اور جیا خان کی زندگی میں بھی تنہائی اور پریشانی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شامل رہا. ان میں سے کسی کو قتل کیا گیا تو کسی نے خودکشی کی اور کوئی گمنامی میں جیتی رہی. ایسی اداکاراؤں کی ایک طویل فہرست موجود ہے لیکن پوسٹ کی طوالت کے پیشِ نظر میں محض کُچھ چنندہ لوگوں کے بارے ہی بتا پائی ہوں.

بشکریہ کامران احمد