بلاگ معلومات

باشعور مائیں، باشعور نسلیں

ماں کی دی گئی تربیت کی چھاپ تا عمر انسان کے کردار پر رہتی ہے، یہ وہ بنیاد ہے، جس پر کردار کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اگر بنیاد مضبوط ہو تو کردار بلند ہوتا ہے اور اگر بنیاد ہی کمزور ہو تو پھر انسان کے کردار کی پستی کی کوئی حد بندی نہیں ہوتی۔ اِسی لئے کہا جاتا ہے کہ انسان کی پہلی درسگاہ اُس کی ماں کی گود ہوتی ہے۔ یہاں سے جو تعلیم و تربیت اُسے ملتی ہے وہ اُسے قبر تک اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے۔نپولین نے کہا تھا کہ تم مجھے اچھی مائیں دو، میں تمہیں بہترین قوم دوں گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بی اماں کی تربیت نے تاریخ کو مولانا شوکت علی اور مولانا محمد علی جوہر دیئے۔ امام بی بی نے اپنے بیٹے کی اولین تربیت درست خطوط پر کی تو وہ علامہ اقبال بن کر شاعری اور فلسفے کی دنیا میں امر ہوگئے۔

ایسی بہت سی مثالیں ہمیں ملتی ہیں جہاں ماؤں نے اپنے بچوں کے کردار کو ایسی لازوال پُختگی دی کہ آگے چل کر انہی بچوں کے قول و فعل تمام نوع انسانی کیلئے قابلِ تقلید مثال بن گئے، جیسے جارج واشنگٹن، مارٹن لوتھر کنگ جونئیر وغیرہ۔ سیکھنے کی بات یہ ہے کہ عورت پر صرف گھر اور شوہر ہی نہیں بلکہ بچوں کی بہترین ذہنی نشوونما اور کردار سازی کی بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، وہاں تعلیم اور خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم پر بہت ہی کم توجہ دی جاتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ایک تو شرحِ خواندگی ویسے ہی کم ہے اور اس میں بھی خواندہ خواتین کا تناسب مردوں کے مقابلے میں مزید کم تر ہے۔ غیر تعلیم یافتہ لوگوں سے ہٹ کر اکثر پڑھے لکھے گھروں میں بھی یہ تاثر عام ہے کہ چونکہ لڑکی نے پرائے گھر چلے جانا ہے،

جہاں جاکر اُس نے ’گھر سنبھالنا ہے‘، لہذا اُسے صرف امور خانہ داری میں ہی ماہر ہونا چاہیئے۔ پھر ایک سوچ یہ بھی ہے کہ لڑکے نے کل کو خاندان کی معاشی ضروریات کا بوجھ اُٹھانا ہے، اِس لئے پیسہ لڑکی کے مقابلے میں لڑکے کی تعلیم پر خرچ کرنا ہی عقلمندی ہے۔ایسے گھرانوں میں لڑکی کا جہیز قرض لیکر بھی بنالیا جاتا ہے لیکن اُس کی مناسب تعلیم و تربیت کا کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں کیا جاتا۔ لیکن اِن دونوں مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ لڑکی نے اپنی آئندہ آنیوالی زندگی میں ایک نسل کی تربیت کرنی ہے۔ اگر وہ خود ہی تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں ہوگی تو نسلیں کیسے سنور پائیں گیں؟ اگر دیکھا جائے تو کسی حد تک لڑکیاں خود بھی اپنی تعلیم کے معاملے میں غیر سنجیدہ ہوتی ہیں۔ آپ سچے دل سے بتائیں کیا آپ نے ایسی لڑکیاں نہیں دیکھیں جو مواقع اور ذرائع ہونے کے باوجود ’اچھا رشتہ‘ ملتے ہی اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں؟

یا شادی کے بعد خود کو محض کچن یا سنگھار میز اور نت نئے کپڑوں کی خریداری تک محدود کرلیتی ہیں۔انسان معاشرتی ڈھانچے کا کارآمد پُرزہ اِسی وقت بن سکتا ہے جب اُس کی سوچ تعمیری اور مثبت ہو۔ اگر سوچ اور نفسیات پیچیدگیوں کا شکار ہو تو انسان خود اپنے لئے اور ارد گرد کے لوگوں کیلئے امتحان بن جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو گہرائی میں ٹٹولا جائے تو اکثر دیکھا گیا ہے کہ بچپن میں تربیت کی کوتاہیاں اُنہیں اِس نہج تک لے آئی ہے۔ یہ قانونِ فطرت ہے کہ باپ کی نسبت بچے کا زیادہ وقت ماں کے ساتھ گزرتا ہے، وہ اپنی دلچسپیاں اور عادات ماں سے مستعار لیتا ہے اور وہی زبان اور جملے استعمال کرتا ہے جو اُس کی ماں استعمال کرتی ہے۔اسکول جانے کی عمر سے پہلے اور اسکول کے ابتدائی سالوں تک بچے کی ذہنی رو اُسی روش پر چلتی ہے جو اُس کی پہلی استاد یعنی ماں اُسے سِکھاتی ہے۔ اب اگر ماں مہذب ہے تو بچہ بھی باادب ہوگا اور اگر ماں تہذیب سے نابلد ہے

تو بچہ خودبخود بدتمیز اور نافرمان ہوجائے گا۔ اِسی طرح اچھے بُرے کی تمیز، صحیح غلط کی پہچان جس طرح ایک ماں اپنے بچوں کو کرواسکتی ہے، وہ کوئی استاد یا کتاب نہیں کرواسکتی۔  یہ کردار سازی کا وہ بنیادی جزو ہے جس کے نشان مٹانا بہت مشکل ہوتا ہے۔بے شک بہت سے لوگ اَن پڑھ  ہونے کے باوجود شعور اور سوچ کی بلند پرواز رکھتے ہیں اور کئی لوگ پڑھے لکھے جاہل ثابت ہوتے ہیں لیکن عقلمند وہی ہوتے ہیں جو وقت اور ماحول کے مطابق خود کو ڈھال لیں۔ ایک وقت تھا کہ لڑکیوں کیلئے فقط دینی تعلیم ہی کافی سمجھی جاتی تھی، پھر دین کیساتھ واجبی سی دنیاوی تعلیم ہی بہت ہوگئی مگر موجودہ دور کا تقاضا ہے کہ بیٹیوں کو دینی اور دنیاوی مکمل علم دیا جائے تاکہ وہ احساسِ کمتری میں مبتلا ہونے کے بجائے زمانے کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر اپنے شوہر اور بچوں کیساتھ کھڑی ہوسکیں۔آج دنیا بہت تیز بھاگ رہی ہے، جو اُس کے ساتھ نہیں بھاگ پاتا وہ پیچھے سے آنیوالوں کے قدموں تلے کُچلا جاتا ہے۔

یہ ہی تیز رفتاری ٹیکنالوجی کی بدولت ہمارے گھروں میں بھی آچکی ہے۔ آج کے بچے کمپیوٹر، موبائل، انٹرنیٹ اور ایپس سے کھلونوں کی طرح کھیلتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اِن چیزوں کے حصول کیلئے طبقاتی فرق ختم ہوتا جارہا ہے۔ اِس لئے قلیل آمدنی کے گھرانوں سے لیکر متمول گھرانوں تک اِن چیزوں کا استعمال بچےعام کرتے ہیں۔ جہاں اِن چیزوں کا فائدہ ہے وہیں ناپُختہ ذہن کے بچے اِن سے بہت سی نامناسب باتیں بھی سیکھتے ہیں۔ یہ ہی وہ مقام ہے جو آجکل کی ماؤں کیلئے تعلیم یافتہ ہونے کو لازمی قرار دیتا ہے۔یعنی اگر ماں پڑھی لکھی ہوگی تو وہ نہ صرف ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال سے واقف ہوگی بلکہ اپنی اولاد پر بھی نظر رکھ سکے گی کہ وہ اِن چیزوں سے کوئی غلط صحبت یا مواد اپنی زندگی میں شامل نہ کرلیں۔ کتنی ہی کہانیاں آئے دن ہمیں پڑھنے یا سننے کو ملتی ہیں کہ انٹرنیٹ یا موبائل کے ذریعے نوعمر لڑکا یا لڑکی کسی جرم یا بڑی مصیبت کا شکار ہوگئے اور سادہ لوح ماں باپ کو صرف اِس لئے پتہ نہیں چل سکا

کہ وہ ٹیکنالوجی سے پوری طرح واقفیت نہیں رکھتے۔عورت فطرتاً نرم خو ہے، اُس میں برداشت کا مادہ بھی زیادہ ہے اِسی لئے قدرت نے اُسے خاندان اور آئندہ نسل کی پرورش کا ضامن بنایا ہے کیونکہ بچوں کی نفسیات سمجھنے کیلئے توجہ اور تحمل کی ضرورت ہے جو صرف ماں ہی دے سکتی ہے اور ماں کی اِس خوبی کو جلا تعلیم بخشتی ہے۔ تعلیم وہ روشنی ہے جو انسان کے شعور سے اندھیرے کو مٹا دیتی ہے۔ اپنی بیٹیوں کو اِس روشنی سے محروم نہ رکھیں، اُن کے ذہن اور سوچ کو کھلنے کا موقع دیں تاکہ آپ کی آنے والی نسلیں پُراعتماد اور مثبت کردار کی حامل ہوں۔اب یہاں سے گھر کا کردار ختم اور حکومت کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم اور تربیت پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے نچلی سطح سے ہی کوئی ایسا منصوبہ شروع کرے جو ماں باپ پر مالی بوجھ ڈالے بغیر لڑکیوں کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرے