ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

لوگ مذہب کی طرف کیوں راغب ہوتے ہیں ؟​

معروف لوگ مذہب کی طرف کیوں آتے ہیں فکریات ، روحانیات اور نفسیات کے تناظر میں

یہ وہ سوال ہے کہ جو دور جدید کے مذہب بیزار ذہن کو تنگ کرتا دکھائی دیتا ہے ایک ریشنل تھنکر کو یہ بات انتہائی حیران کن لگتی ہے کہ کس انداز میں لوگ دین کی جانب متوجہ ہوتے ہیں اسکو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ مادیت پرستی کے اس دور میں کہ جہاں ہر شے کا فیصلہ خالص منطقی انداز میں سود و زیاں کی بنیادوں پر کیا جاتا ہو آخر وہاں کسی آسمانی ہدایت کی ضرورت ہی کیا ہے ؟​ در اصل یہ کوئی نیا سوال نہیں ہے کہ جو مذہب پسندوں سے کیا گیا ہو اور یہ کوئی ایسا سوال بھی نہیں ہے کہ جسکا مذہب پسندوں نے کبھی جواب نہ دیا ہو .​معروف اسکالر فتح الله گولن اپنی کتاب ” اسلام اور دور حاضر ” میں ایک عنوان قائم فرماتے ہیں۔

الحاد کو اس قدرفروغ کیوں مل رہاہے؟​
“چونکہ الحاد سے مرادانکارِ خداہے،اس لیے اس کے فروغ کاروحانی زندگی کی موت و انحطاط کے ساتھ گہراتعلق ہے،تاہم اس کے پھیلنے کے اس کے سوااوربھی اسباب ہیں۔فکری سطح پرالحاد خداکے وجودکے انکاراوراسے قبول نہ کرنے سے عبارت ہے۔نظری طورپریہ مادر پدر آزادی کانام ہے اورعملی طورپریہ اباحیت کاعلمبردارہے”۔​ خدا کے وجود کا انکار ​ ، مادر پدر آزادی ​، اباحیت ​ اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائیں کیا آپ کو اس سے ہٹ کر کوئی اور منظر نامہ دکھائی دیتا ہے ؟​ مذہب اور خالق کائنات سے متعلق وہ سب سے قدیم گتھی کہ جسکو مذہب بیزار طبقہ آج تک سلجھا نہ سکا اور وہ اسے مسلسل ذہنی خلش میں مبتلاء کیے رکھتی ہے وہ گتھی یہ ہے کہ آخر مذہب انسانی زندگیوں میں دخیل کیسے ہوا ؟ آخر اس مذہب کی پیدائش ہوئی کیسے ؟ آخر اس مذہب کا خالق ہے کون ؟​ پھر سب سے اہم سوال کہ کیا انسانی ذہن نے اپنی ضروریات کے مطابق کسی خدا کو تخلیق کیا یا پھر در حقیقت اس کائنات کا کوئی خدا ہے ؟​

گو کہ اس دنیا کی معلوم تاریخ ہمیں یہ بتلاتی ہے کہ اس دنیا کی سادہ اکثریت ہمیشہ مذہب کی زلف گرہ گیر کی اسیر رہی ہے لوگ مذہبی تھے لوگ مذہبی ہیں اور آثار و قرائن یہ بتلاتے ہیں کہ لوگ مذہبی رہینگے .​مذہب بے زاری بطور فکری تحریک کوئی بہت قدیم معاملہ نہیں ہے چرچ کے سیاہ دور سے نکلنے والے ذہن نے اپنی بقاء اسی میں تلاش کی کہ مذہب کو معاشرے سے الگ کر دیا جاوے مگر اپنی پوری کوشش کے باوجود وہ صرف اتنا کر سکا کہ مذہب کو ریاست سے الگ کر دیا .​ لیکن در حقیقت کیا ایسا بھی ممکن ہو سکا ؟​ کیا ہمیں مغرب میں مسیحیت کا احیاء ہوتا دکھائی دے رہا ہے گو کہ یہ امر بھی تحقیق طلب ہے .

ڈیوڈ بارٹن امریکہ کا معروف​ سماجی کارکن ہے کہ جسکا نظریہ ہے کہ ریاست اور مسیحیت کا دوبارہ اشتراک ہونا چاہئیے
معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ جتنا سمجھا جا رہا ہے در اصل مذہب ایک ایسا امر ہے کہ جس سے چھٹکارا حاصل کیا جانا ممکن ہی نہیں ہے یہ انسانی فطرت اور انسانی سرشت میں شامل ہے آپ جتنی قوت سے مذہب کو دباتے ہیں وہ اتنی ہی طاقت کے ساتھ ابھر کر سامنے آ جاتا ہے آپ جتنا دامن جھٹکتے ہیں وہ اتنا ہی دامن پکڑتا ہے آپ جتنی در اختیار کرنے کے طالب ہوتے ہیں وہ اتنا ہی قریب آتا چلا جاتا ہے .​

اگر غور کیجئے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دراصل سوال یہ نہیں ہے کہ لوگ مذہب کی طرف کیوں راغب ہوتے ہیں بلکہ سوال دراصل یہ ہے کہ .​ ” یہ ” لوگ مذہب کی طرف کیوں راغب ہوتے ہیں ؟​ ” یہ ” کون لوگ ہیں ؟​ دنیا کے وہ معروف لوگ کہ جنہیں زندگی میں تمام تر تعیشات حاصل ہیں دولت انکے گھر کی لونڈی ہے مادیت کے ان تمام تر پیمانوں کے مطابق وہ کامیاب ہیں کہ جنہیں آجکل معیار سمجھا جاتا ہے.​

محمد علی کلے ہو ​ ، اے آر رحمان ہو ​، زیدان ہو ​ ، شکیل اونیل ہو ​، جرمین جیکسن ہو ​ یا اسلام کی جانب پلٹنے والے ​جنید جمشید ​
سعید انور ​، انضمام الحق ​، ہاشم آملہ ​، عمران طاہر ​ یا ایسے ہی دوسرے لوگ چاہے دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ کہ جو اپنے اپنے مذہب کی جانب پلٹتے رہے ہیں یا مذہب کے قریب آتے رہے ہیں آخر اسکی وجہ کیا ہے .​ایک ریشنل ذہن اسکی بہت سی مادی وجوہات تلاش کرے گا اپنے منطقی دماغ کی لیبارٹری میں بار بار اسکا تجزیہ کرے گا اسکی کوشش ہوگی کہ کوئی ایسی واقعاتی شہادت تلاش کی جاوے کہ جس سے ان معروف لوگوں کے مذہب کی جانب آنے کی منطق تلاش کی جا سکے .​ جب اسکے سامنے ایسی شخصیت پیش کی جاتی ہیں تو اسکی پوری کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی انداز میں ایسے لوگوں کو نفسیاتی عوارض کا شکار اور انکی شخصیت کو کردار کی شکست و ریخت میں مبتلا ثابت کیا جا سکے ؟​

یہ کوئی حادثہ تلاش کرینگے ​، کسی واقعے کی کھوج کرینگے ​،کسی بیرونی واسطے کو ڈھونڈنے کی سعی کرینگے ​، محمد علی کلے اسلام کی جانب کیوں آیا ؟​ کیونکہ کالوں کے حقوق غصب ہوتے تھے اسلئے رد عمل کے طور پر.​ محمد یوسف اسلام کی طرف کیوں آیا ؟​ اسلئے کہ اسکا تعلق معاشرے کے پسے ہوئے غریب طبقے سے تھے .​جنید جمشید اسلام کی طرف کیوں آیا ؟​ اسلئے کہ وہ نفسیاتی عارضوں کا شکار تھا .​ انضمام الحق اسلام کی طرف کیوں آیا ؟​ اسلیے کہ اسکے پیچھے تبلیغی جماعت لگی ہوئی تھی .، یہ لوگ مذہب کی طرف کیوں آتے ہیں ؟​

اسلئے کہ طارق جمیل نامی مولوی اور تبلیغی جماعت ایسے لوگوں کے کمزور لمحات میں انکے اندر موجود مذہبیت کو استعمال کرکے انہیں دھوکے سے اسلام کی جانب گھسیٹ لاتے ہیں یہ لوگ اتنے بڑے نفسیاتی ماہر ہوا کرتے ہیں کہ انکے چنگل سے کوئی بھی معروف تر شخصیت بچ نہیں سکتی .​یہاں دو احتمالات پیدا ہوتے ہیں ​۔ ایک : کیا تمام معروف بلکہ معروف تر شخصیات نفسیاتی عارضوں کا شکار ہوتی ہیں ۔ ​دو : کیا مذہب کے علاوہ ایسی کوئی پناہ گاہ نہیں کہ جو انہیں اپنے دامن میں سمیٹ سکے .​

جیسا کہ عرض کی مذہب فطرت انسانی کا خاصہ ہے اس سے دور ہٹنا انتہائی مشکل امر ہے کیونکہ اپنی فطرت سے دور ہٹنا کسی طور ممکن نہیں انسانی عقل اسکا شعور چیزوں سے نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت فیصلہ کرنے کی طاقت بہر حال اسکی فطرت سلیمہ کے ماتحت ہے اور فطرت سلیم کبھی غلط راستے کی جانب راغب نہیں کرتی .​ یہاں اس بات کا اظہار کر دینا بھی بے جا نہیں ہوگا کہ مذہب اسلام خالص فطرت سلیم کو اپنی جانب راغب کرنے کا مدعی ہے یہ کم عقل اور سفہاء کا دین نہیں ہے بلکہ اسکا دعوی ہے کہ اسکے مخاطب تو ہیں ہی صاحبان علم و عقل .​ غور کیجئے کہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے صاحبان علم تحقیق کے نام پر کس انداز میں اسلام کی جانب راغب ہوئے کہ {oriental studies} کے نام سے ایک شعبہ ہی وجود میں آ گیا گو کہ بظاہر یہ مشرقیات کا علم ہے لیکن اس کے پیش نظر در حقیقت مذہب اسلام کا مطالعہ ہی رہا ہے .​

علی بن ابراہیم النملہ ( جو مستشرقین کے بارے میں دقیق معلومات رکھتے ہیں) کہتے ہیں کہ میرے نزدیک مستشرقین سے مراد وہ غیر مسلمان دانشور حضرات ہیں ( جو کہ چاہیے مشرق زمین میں رہنے والے ہو یا مغرب زمین میں ) مسلمانوں کے فرہنگ اعتقادات ، اور آداب و رسوم کے بارے میں تحقیق کرے چاہے وہ مسلمان گروہ اورقوم مشرق زمیں میں رہنے والے ہو یا جنوب میں، چاہے عربی بولنے والے ہو یا غیر عربی․​ ( دراسات الاستشراق ۔ علی بن ابراہیم النملة․) ​

مولانا شبلی نعمانی نے مستشرقین کو تین اقسام میں تقسیم کیا ہے :​
1۔ عربی زبان و ادب ، تاریخ اسلام اور اس کے ماخذ سے ناواقف مستشرقین، جن کی معلومات براہ راست نہیں ہوتیں، بلکہ وہ تراجم سے مدد لیتے ہیں اورقیاسات و مفرضوں سے کام لیتے ہیں۔​
۲۔ وہ مستشرقین جو عربی زبان وادب ،تاریخ،فلسفۂ اسلام سے تو واقف ہوتے ہیں، مگر مذہبی لٹریچر اور فنون مثلاً اسماء الرجال، روایت و درایت کے اصولوں، قدیم ادب اور روایات سے واقف نہیں ہوتے۔​
۳۔و ہ مستشرقین جو اسلامی علوم اور مذہبی لٹریچر کا مطالعہ کر چکے ہوتے ہیں، لیکن اپنے مذہبی تعصبات کو دل سے نہیں نکال سکے۔ وہ اسلامی علوم کے بارے میں تعصب، تنگ نظری اور کذب و افترا سے کام لیتے ہیں۔ (شبلی نعمانی،سیرۃ النبی:1/65)​

منٹگمری واٹ معروف مشنری عیسائی ہے اور نبی کریم صل الله علیہ وسلم کا تذکرہ انتہائی تکریم کے ساتھ کرتا ہے لیکن وحی کے تجربے کو ​ (Creative Imagination) کا نام دے کر گھٹانے کی کوشش کرتا ہے

جرمن مفکر پاؤل شمٹ(Paul Schmidt) نے اپنی کتاب میں تین چیزوں کو مسلمانوں کی شان و شوکت کا سبب قرار دیتے ہوئے ، ان پر قابو پانے اور ختم کرنے کی کوششوں پر زور دیا ہے۔
​’’۱۔ دین اسلام، اس کے عقائد، اس کا نظام اخلاق اور مختلف نسلوں ، رنگوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں رشتہ اخوت استوار کرنے کی صلاحیت۔​ ۲۔ ممالک اسلامیہ کے طبعی وسائل۔​ ۳۔مسلمانوں کی روز افزوں عددی قوت۔‘‘​

چنانچہ ، مسلمانوں کی قوت و طاقت کی اصل بنیادوں کا ذکر کرنے کے بعد لکھتا ہے :​
’’ اگر یہ تینوں قوتیں جمع ہو گئیں ، مسلمان عقیدے کی بنا پر بھائی بھائی بن گئے اور انھوں نے اپنے طبعی وسائل کو صحیح صحیح استعمال کرنا شروع کر دیا، تو اسلام ایک ایسی مہیب قوت بن کر ابھرے گا جس سے یورپ کی تباہی اور تمام دنیا کا اقتدار مسلمانوں کے ہاتھوں میں چلے جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔‘‘​

یہ مفکرین مسلمان نہیں ہیں انہیں اسلام اور علوم اسلامی کے مطالعہ کی جانب راغب کرنے کے جہاں اور دوسرے عوامل ہیں وہیں ایک بہت بڑا عامل یہ بھی ہے کہ اسلام ہی دراصل وہ علمی و فکری بنیادیں رکھتا ہے کہ صاحب علم لوگ اسکی جانب متوجہ ہو سکیں گو برائے تنقید و تبصرہ ہی ہوں اسلیے آج کے دور میں اگر یہ کہا جاوے کہ دنیا کا معروف ترین موضوع گفتگو عام طور پر مذہب اور خاص طور پر اسلام ہی ہے تو کچھ غلط نہ ہوگا .​ چائے خانوں نجی محافل سوشل میڈیا سرکلز گیلپ سرویز معروف بلاگز اور ویبسائٹس جہاں بھی چلے جائیں گفتگو مذہب کی ہوگی یا اسلام کی .​

اب کچھ تجزیہ اس متھ کا بھی ہو جاوے کہ لوگ اسلام کی جانب نفسیاتی مسائل ذہنی و فکری شکست و ریخت اچانک پیش آ جانے والے حادثات حیران کر دینے والے حالات و واقعات کی وجہ سے ہی راغب ہوتے ہیں .​
گو کہ یہ بھی کوئی ایسی بڑی خرابی قرار نہیں دی جا سکتی اگر قریب ہی کی مثال دی جاوے تو پاکستان کے معروف سیاسی لیڈر اور سابقہ سپورٹس مین عمران خان صاحب کی والدہ کینسر کے موزی مرض میں اس جہاں فانی سے گزر کر خالق حقیقی سے جا ملیں اور اس واقعے نے خان صاحب کی سوچ کو اس حد تک متاثر کیا کہ انہوں نے کینسر کے خلاف جہاد کا اعلان کیا .​

اور یہ صرف ایک مثال ہے وگرنہ اگر تحقیق کی جاوے تو دنیا میں ہونے والے اکثر بڑے کام کے جنہوں نے قوموں کا رخ تبدیل کر دیا حالات و واقعات سے متاثر ہوکر ہی ہوئے ہیں .​ لیکن مذہب صرف کوئی واقعاتی یا حادثاتی معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک خالص فکری و روحانی معاملہ ہے .​ زیادہ نہیں اب ہم کچھ ایسی شخصیات کی بات کرتے ہیں کہ جو حالات و واقعات سے متاثر ہوکر نہیں بلکہ خالص فکری اور علمی بنیادوں پر دین کی جانب راغب ہوئے.​

ڈاکٹر موریس بوکائیلے نے اپنی کتاب ​ (The Bible, The Quran And Science) میں بائیبل سے بیسیوں ایسی آیات نقل کی ہیں جو آپس میں متناقض ، سائنسی نظریات کے متعارض اور تحقیق و تنقید کے معیار پر پوری نہیں اترتیں۔لیکن انھیں قرآن مجید کا ایک بھی بیان ایسا نہیں ملا جو مسلمہ عقلی اور سائنسی نظریات کے خلاف ہو۔
’’قرآن کا سائنسی طریق سے مطالعہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کے زمانے سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ قرآن میں بیان کیے گئے مختلف النوع بیانات دے سکے جواس کے زمانے سے تعلق نہیں رکھتے تھے اور جن کے بارے میں صدیوں کی تحقیق کے بعد کوئی حتمی رائے قائم کی گئی۔میرے نزدیک قرآن کی کوئی انسانی توجیہ ممکن نہیں ہے۔‘‘​

صرف ڈاکٹر موریس بوکائیلے کی بات نہیں کچھ ایسا ہی معاملہ علامہ محمد اسد لیوپولڈ کے ساتھ بھی ہوا ​
” محمد اسدآسٹریلیا کے ایک یہودی خاندان میں 1900ء میں پیدا ہوئے۔ انکے دادا یہودی عالم (ربی) تھے۔ محمد اسد کا اصل نام لپوپولڈ وائس تھا۔ 1922ء سے1925ء تک لپوپولڈ، جرمن اخبارات کے نمائندے کے طور پر مصر، اردن، شام، ترکی، فلسطین، عراق، ایران، وسط ایشیا، افغانستان اور روس کی سیاحت کر چکے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے تمدن کو قریب سے دیکھا اور اسلام کا مطالعہ کیا۔ 1926ء میں انہوں نے برلن میں ایک ہندوستانی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور اپنا نام محمد اسد رکھا۔ تقریباً چھ سال جزیرہ نمائے عرب میں رہے۔ انکی موجودگی ہی میں سعودی عرب کی مملکت قائم ہوئی۔ شاہ عبدالعزیز بن سعود سے انکے ذاتی تعلقات تھے۔ وہیں انہوں نے ایک عرب خاتون سے شادی کی جس سے طلال اسد پیدا ہوئے۔ 1932ء میں وہ ہندوستان آ گئے۔ ان کا قیام امرتسر، لاہور، سری نگر دہلی اور حیدر آباد دکن میں رہا۔ علامہ اقبال سے انہوں نے مجوزہ مملکت پاکستان کے قوانین کے متعلق طویل نشستیں کیں۔ اقبال کے زیر اثر ہی انہوں نے اپنی مشہور کتاب ’’اسلام ایٹ دی کراس روڈ‘‘ لکھی پھر ’’عرفات‘‘ کے نام سے انگریزی رسالہ نکالا جس کے دس پرچے شائع ہوئے۔ صحیح بخاری کا انگریزی ترجمہ شروع کیا۔ پانچ حصے شائع ہو چکے تھے کہ جرمن شہری ہونے کی وجہ سے دوسری جنگ عظیم کے آغاز میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ جنگ ختم ہوئی تو رہائی ملی”۔​

ایسی ہی ایک مثال ہمیں پیکتھال کی بھی ملتی ہے ​ پیکھتال کا اسلام وقتی جذباتیت کا اسلام نہ تھا بلکہ یہ ایک خالص فکری اور علمی تحریک کا نتیجہ تھا کہ جسکے پیچھے دقیق مطالعہ اور تفکر شامل تھا .​ بے شک کہ اسلام عقل کو متاثر کرتا ہے

ہم یہاں ایک واقعہ درج کرتے ہیں جو علامہ عنایت اللہ خاں مشرقی کو اس دوران پیش آیا جب وہ انگلستان میں زیر تعلیم تھے، وہ کہتے ہیں کہ 1909ء کا ذکر ہے۔ اتوار کا دن تھا اور زور کی بارش ہو رہی تھی۔ میں کسی کام سے باہر نکلا تو جامعہ چرچ کے مشہور ماہر فلکیات پروفیسر جیمس جینز بغل میں انجیل دبائے چرچ کی طرف جا رہے تھے، میں نے قریب ہو کر سلام کیا تو وہ متوجہ ہوئے اور کہنے لگے، “کیا چاہتے ہو؟” میں نے کہا، “دو باتیں، پہلی یہ کہ زور سے بارش ہو رہی ہے اور آپ نے چھاتہ بغل میں داب رکھا ہے۔” سر جیمس جینز اس بدحواسی پر مسکرائے اور چھاتہ تان لیا۔” پھر میں کہا، “دوم یہ کہ آپ جیسا شہرہ آفاق آدمی گرجا میں عبادت کے لئے جا رہا ہے۔” میرے اس سوال پر پروفیسر جیمس جینز لمحہ بھر کے لئے رک گئے اور میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا، “آج شام میرے ساتھ چائے پیو۔”​
چنانچہ میں چار بجے شام کو ان کی رہائش گاہ پر پہنچا، ٹھیک چار بجے لیڈی جیمس باہر آ کر کہنے لگیں، “سر جیمس تمہارے منتظر ہیں۔” اندر گیا تو ایک چھوٹی سی میز پر چائے لگی ہوئی تھی۔ پروفیسر صاحب تصورات میں کھوئے ہوئے تھے، کہنے لگے، “تمہارا سوال کیا تھا؟” اور میرے جواب کا انتظار کئے بغیر، اجرام سماوی کی تخلیق، اس کے حیرت انگیز نظام، بے انتہا پہنائیوں اور فاصلوں، ان کی پیچیدہ راہوں اور مداروں، نیز باہمی روابط اور طوفان ہائے نور پر ایمان افروز تفصیلات پیش کیں کہ میرا دل اللہ کی اس کبریائی و جبروت پر دہلنے لگا۔​

ان کی اپنی یہ کیفیت تھی کہ سر کے بال سیدھے اٹھے ہوئے تھے۔ آنکھوں سے حیرت و خشیت کی دوگونہ کیفیتیں عیاں تھیں۔ اللہ کی حکمت و دانش کی ہیبت سے ان کے ہاتھ قدرے کانپ رہے تھے اور آواز لرز رہی تھی۔ فرمانے لگے، “عنایت اللہ خان! جب میں خدا کی تخلیق کے کارناموں پر نظر ڈالتا ہوں تو میری ہستی اللہ کے جلال سے لرزنے لگتی ہے اور جب میں کلیسا میں خدا کے سامنے سرنگوں ہو کر کہتا ہوں: “تو بہت بڑا ہے۔” تو میری ہستی کا ہر ذرہ میرا ہمنوا بن جاتا ہے۔ مجھے بے حد سکون اور خوشی نصیب ہوتی ہے۔ مجھے دوسروں کی نسبت عبادات میں ہزار گنا زیادہ کیف ملتا ہے، کہو عنایت اللہ خان! تمہاری سمجھ میں آیا کہ میں کیوں گرجے جاتا ہوں۔”​

علامہ مشرقی کہتے ہیں کہ پروفیسر جیمس کی اس تقریر نے میرے دماغ میں عجیب کہرام پیدا کر دیا۔ میں نے کہا، “جناب والا! میں آپ کی روح پرور تفصیلات سے بے حد متاثر ہوا ہوں، اس سلسلہ میں قرآن مجید کی ایک آیت یاد آ گئی ہے، اگر اجازت ہو تو پیش کروں؟” فرمایا، “ضرور!” چنانچہ میں نے یہ آیت پڑھی۔​
و مِنْ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٌ۔ وَمِنْ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ كَذَلِكَ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ
(فاطر 35:27-28)​ “اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کے قطعات ہیں اور بعض کالے سیاہ ہیں، انسانوں، جانوروں اور چوپایوں کے بھی کئی طرح کے رنگ ہیں۔ خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔”​

یہ آیت سنتے ہی پروفیسر جیمس بولے، “کیا کہا؟ اللہ سے صرف اہل علم ہی ڈرتے ہیں؟ حیرت انگیز، بہت عجیب، یہ بات جو مجھے پچاس برس کے مسلسل مطالعہ سے معلوم ہوئی، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کس نے بتائی؟ کیا قرآن میں واقعی یہ بات موجود ہے؟ اگر ہے تو میری شہادت لکھ لو کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے، محمد تو ان پڑھ تھے، انہیں یہ حقیقت خود بخود نہ معلوم ہو سکتی تھی۔ یقیناً اللہ تعالی نے انہیں بتائی تھی۔ بہت خوب! بہت عجیب۔ ​ (علم جدید کا چیلنج از وحید الدین خان)​

اگر تصور خدا کی بات کی جانے اور موضوع تحقیق خدا کی ذات ہو چاہے راستہ کوئی بھی ہو فلسفہ ،سائنس،مذہب یہ پھر وہ فطری احساس جو کسی جنگل بیابان کسی صحرا یہ پھر کسی دور دراز جزیرے میں بیٹھا کوئی تہذیب نا شناس شخص جو اپنی فطری ضرورت سے مجبور ہوکر کسی خدا کا اسیر ہو ،​ آخر ہمیں کسی خدا کے ہونے کی حاجت ہی کیوں ہے آخر کیوں نوع انسانی جو کبھی پہاڑوں میں آباد تھی یہ وہ جدید ترین انسان جسنے چاند پر جھنڈا لہرایا تھا کسی خدا کے اسیر ہیں خدا کے ہونے کا یہ احساس کیوں صدیوں کا سفر طے کرتے ہوے آج بھی غالب ترین اکثریت کو اپنے جال میں پھانسے ہوئے ہے ،​ قوموں قبیلوں جغرافیائی حدود کو پھلانگتا ہوا ادوار کی قید سے آزاد یہ تصور کہ کوئی خدا ہے کیا اک مغالطہ ہی ہے ؟​ آخر بے خدا گروہ ہمیشہ انتہائی قلیل ہی کیوں رہا ہے اور انکے ہاں بھی سب سے بڑا تذکرہ خدا ہی رہا ہے​ یعنی نا چاہتے ہوے بھی تردید کی راہ سے تذکرہ تو اسی کا ہے​

یہ سوال اک طویل عرصے تک پیش نظر رہا کہ اسکی کیا وجہ ہے نوع انسانی بحثیت مجموعی خدا کے تصور کی قائل رہی ہے ، پھر جب انسانی نفسیات اور اسکے سوچنے کے فطری انداز سے واقفیت ہوئی تو یہ بات آشکار ہوئی کہ انسان عافیت پسند ہے آسانی کی طرف بھاگتا ہے کائنات کے عظیم الشان حقائق اسے اگر آسان اور سادہ انداز میں سمجھا دئیے جائیں تو اسکا دماغ انھیں آسانی سے جذب کر لیتا ہے ،​

دور جدید کا المیہ یہ ہے کہ اس نے اپنی کامیابی کا واحد راستہ مذہب اور خدا سے مکمل چھٹکارا حاصل کر لینے میں سمجھا جسکی وجہ سے ایک بہت خلا {vacuum} پیدا ہو گیا عجیب تر بات یہ ہے کہ جہاں ان جدید معاشروں نے قدیم مذاہب سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کی وہیں قدامت کے ساتھ انکا رومانس دن بہ دن بڑھتا چلا گیا .​کہیں قدیم مایا تہذیب کی کھوج کی جا رہی ہے تو کہیں مصر کے احرام کھودے جا رہے ہیں کہیں ناس ٹرا ڈیمس کی پیشن گویوں میں دلچسپی ہے تو کہیں اینڈ آف ٹائمز انکے پسندیدہ موضوعات بنے ہوئے ہیں کہیں پر مغرب تقارب ادیان کی بات کرتا ہے تو کہیں وحدت ادیان کی .​ پھر حیران کن طور پر ان لبرل اور سیکولر معاشروں میں ہولی، دیوالی، بسنت، کرسمس ، ایسٹر ، تھینکس گیووینگ ، ہالووین ، سیٹرنالیہ اور ولینٹاینز ڈے جیسے تیوہار سرکاری سطح پر منائے جاتے ہیں اور ان تمام تیوہاروں کی بنیاد پر تحقیق کی جاوے تو مذہبی عقائد پس پردہ کار فرما دکھائی دیتے ہیں .​ ایسے میں صوفی سرکلز اور {scientology} جیسے فیک مذاہب بھی تخلیق کیے جاتے ہیں .​ لیکن آخر کیوں ؟​

بنیادی وجہ پھر وہی کی مذہب انسان کی فطری ضرورت ہے آپ اس سے لاکھ پیچھا چھڑائیں یہ آپ کا پیچھا نہیں چھوڑنے والا .​ دوسری جانب اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مذہب کی جانب راغب کرنے میں ایک بڑا کردار تبلیغی جماعتوں اور مذہبی شخصیات کا بھی رہا ہے آج کی تبلیغی جماعتوں اور مذہبی شخصیات کے حوالے سے اگر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ وہ معروف شخصیات پر ہاتھ ڈالتے ہیں اور انہیں دین کی جانب اس وقت راغب کرتے ہیں کہ جب وہ سب سے زیادہ {vulnerable}​ لیکن اگر دیکھا جاوے تو سب سے خوبی بھی یہی ہے کہ وہ لوگوں کو اس وقت متوجہ کرتے ہیں کہ جب انہیں سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے.​

دوسری جانب اگر معروف شخصیات تک دین کی دعوت پہنچانا ایسا ہی بڑا جرم ہے تو یہ معاملہ تو انبیاء علیہم السلام کا بھی رہا ہے سو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اصل اعتراض تبلیغی جماعت نہیں بلکہ جماعت انبیاء پر وارد کیا جانا مقصود ہے اور ہے بھی ایسا ہی .​ لیکن یہ بھی کوئی جدید معاملہ نہیں ہے بلکہ انبیاء علیہم السلام اور انکے کام پر اعتراض بھی انتہائی قدیم معاملہ ہے انتہائی لطف کی بات ہے کہ پر امن اور تشدد سے دور سمجھی جانی والی یہ جماعت بھی مغربی تہذیب اور لبرلز کی آنکھوں کا کانٹا ہے .​

من و عن یہی بات ایک پاکستانی کالم نگار ڈاکٹر خالد سہیل اپنی تحریر ​’’ تخلیقی ذہن پہ تبلیغی اثرات ۔۔۔۔ جنید جمشید اور دوسرے مشاہیر کا نفسیاتی جائزہ​ ‘‘ میں کہتے دکھائی دیتے ہیں ​۔

” جُنید جمشید مولانا طارق جمیل سے شدید مُتاثر تھا۔ جو تبلیغی جماعت کے مشہور لیڈر ہیں۔ یہ جماعت بہت سخت مذہبی اصولوں پہ چلنے کی قائل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عورتوں کو حجاب کرنا اور برقع پہننا چاہئے۔ اور گھروں کے اندر رہنا چاہئے۔ عورتوں کو ڈرایئو کرنے اور نوکری کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ جماعت ہر قسم کے فنُونِ لطیفہ کے خلاف ہے۔ میوزک، ڈانس، پنیٹنگ اور ایکٹنگ ان کے نزدیک شیطانی افعال ہیں۔ یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں کہ تبلیغی جماعت والے کس طرح ایک نفسیاتی مسئلہ کو ایک مذہبی مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ وہ ایک لمحے میں انسان کی روزمرہ زندگی کے ایک عام سے فعل کو ایک گُناہِ عظیم میں بدل دیتے ہیں۔ اور پھر لوگوں پہ ذہنی دباؤ ڈالتے ہیں کہ اللہ کی طرف آجاؤ۔ تبلیغی جماعت میں شرکت کرو۔ اور اپنی ابدی زندگی کے بارے میں سوچو۔​ ایک سایئکو تھیرپسٹ اور انسان دوست ہونے کی حیثیت سے میرا یہ خیال ہے کہ دُنیاوی معاملات کے بارے میں تبلیغی اور روشن خیال بالکل مُختلف نظریہ رکھتے ہیں۔​ تبلیغی جماعت کے مطابق زندگی اچھے بُرے، صحیح غلط، گُناہ و ثواب، اور حلال و حرام کے گرد گھومتی ہے۔​

جبکہ روشن خیال مرنے کے بعد ملنے والی جنت کے خواب دیکھنے کی بجائے جدید سائنسی، طبی اور نفسیاتی طریقوں سے زندگی کو آرام دہ اور پُرسکون بنانے اور گزارنے کی بات کرتے ہیں۔ وہ اپنے اس خوبصورت سیارے پہ پُرمسرت اور بامعنی زندگی گزارنے کا اہتمام کرتے ہیں”۔​ اعتراضات کا سلسلہ کسی مخصوص مرکز سے شروع ہوکر معروف اشاعتی راستوں سے ہوتا ہوا عوام تک پہنچتا رہتا ہے گو کہ اس کی کوئی اصل ہو یا نہ ہو .​

دوسری جانب دنیا روحانی اعتبار سے ہمیشہ آسودگی کی طالب رہی ہے اور روحانیت مذہب کا ایک انتہائی اہم ترین پہلو ہے گو کہ سو ایک سودو صوفی کلچر کو سامنے لاکر حقیقی روحانیت کا راستہ روکنے کی کوشش ضرور کی جا رہی ہے لیکن اس بات سے تو کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ روحانیت کی اصل کو دنیا نے تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے اور مذہب نہیں تو دوسرے واسطوں سے ہی وہ اس جانب متوجہ ضرور ہو رہے ہیں .​ عجیب بات یہ کہ چلتے ہوئے مذاہب سے ہٹ کر کہ جو روحانیت کی اصل ہیں ایک جدید روحانیت کی جانب متوجہ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے کیا یہ اس بات کو خوف نہیں کہ کہیں روحانیت کے راستے سے وہی مذہب سامنے نہ آ جاوے کہ جس سے بڑی مشکل کے بعد چھٹکارا حاصل کیا گیا تھا.​ یسوع مسیح نے اپنے مشہور پہاڑی وعظ میں بیان کِیا:‏ ”‏مبارک ہیں وہ جو اپنی روحانی ضروریات سے باخبر ہیں۔‏“‏ ​ (‏متی ۵:‏۳‏،‏ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن‏)​

نبی صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”الا ان فی الجسد مضغة اذا صَلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الا وہی القلب“ انسان کے جسم میں ایک عضو ہے اگر وہ صالح ہوجائے تو سارا جسم صالح ہوجائے اوراگر وہ فاسد ہوجائے تو سارا جسم فاسد ہوجائے، آگاہ ہوجاؤ وہ قلب ہے۔​

حضرت سہل بن عبداللہ تستری جو متقدمین صوفیاء میں امتیازی مقام و مرتبہ کے حامل تھے فرماتے ہیں: اصولنا سبعة اشیاء التمسک بکتاب اللّٰہ والاقتداء بسنة رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم واکل الحلال وکف الاذی واجتناب المعاصی والتوبة واداء الحقوق (التاج المکلل) ہمارے سات اصول ہیں کتاب اللہ پر مکمل عمل، سنت رسول کی پیروی، اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچنے دینا، گناہوں سے بچنا، توبہ واستغفار، اور حقوق کی ادائیگی۔​

سلطان الہند شیخ معین الدین اجمیری کا یہ مقولہ تاریخِ اجمیر میں درج ہے۔​ ”اے لوگو تم میں سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ترک کرے گا وہ شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محروم رہے گا۔“​ حضرت میر سید اشرف سمنانی مدفون کچھوچھا ضلع فیض آباد فرماتے ہیں:​ ”یکے از ہم شرائط ولی است کہ تابع رسول علیہ السلام قولاً وفعلاً واعتقاداً بود ​ (الطائف اشرفی)​

ولی کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے قول، فعل اور اعتقاد میں پیروہو۔“​
تصوف کی حقیقت : حبیب الرحمن اعظمی​

در حقیقت روحانیت کو مذہب سے الگ دیکھنا ایک جدید مغالطے کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے آپ چاہے جتنی بھی روحانیت تخلیق کرنے کی کوشش کیجئے اس کا درست ترین اور حقیقی راستہ مذہب کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے .​ پھر اگر نفسیاتی حوالوں سے بات کی جاوے تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ جب بھی کبھی انسان مادیت کے مظاہر کی انتہا کو پا لیتا ہے اسکی روحانی موت واقع ہو جاتی ہے اور اس روحانی موت سے زندگی کا راستہ صرف یہی ہے کہ خالق حقیقی کے سامنے سر کو جھکا دیا جاوے اکثر معروف لوگ جو فکری اپچ اور سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ ضرور با الضرور اپنی اصل کی جانب پلٹتے ہیں اور سی حقیقت کی جانب مخبر حقیقی رسول عربی حضرت محمد مصطفیٰ صل الله علیہ وسلم نے اشارہ کیا ہے .​

سیدنا ابو ہریرہؓ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ لوگ سونے چاندی کی معدنی کانوں کی طرح ہیں۔ جو جاہلیت میں اچھے ہوتے ہیں وہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی اچھے ہوتے ہیں، جب کہ وہ دین کی سمجھ حاصل کر لیں۔ اور روحیں جھنڈ کے جھنڈ ہیں۔ پھر جنہوں نے ان میں سے ایک دوسرے کی پہچان کی تھی، وہ دنیا میں بھی دوست ہوتی ہیں اور جو وہاں الگ تھیں، یہاں بھی الگ رہتی ہیں۔​

صحیح مسلم حدیث : ١٧٧٢​
تحریر : حسیب احمد حسیب

تبصرے
Loading...