اہم خبریں

آفتاب اقبال کے چینل چھوٍڑنے کے اصل حقائق

پاکستان کے نامور اینکر پرسن آفتاب اقبال نے اپنے ہی چینل "آپ نیوز” کو خیرباد کہہ دیا , انکا پروگرام "خبرزار” دیکھنے والے ناظرین شدید حیرت میں مبتلا ہیں کیونکہ اس بار انہوں نے کسی اور کے نہیں بلکہ اپنے ہی چینل کو چھوڑ دیا ہے. آفتاب اقبال کے ناظرین یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ آپ نیوز ہی ان کی آخری منزل ہوگی کیونکہ آفتاب اقبال نے بڑے اعزاز سے خود کو آپ نیوز کا مالک بتایا تھا اور کافی مرتبہ خبرزار میں بھی اس متعلق بات کی گئی لیکن اب آفتاب اقبال نے آپ نیوز کو چھوڑ دیا ہے تو انتہائی حیران کن خبریں سامنے آرہی ہیں.

آپ نیوز پر اپنے پروگرام خبرزار کو چھوڑنے سے پہلے آفتاب اقبال نے باقاعدہ طور پر ناظرین کو مطلع نہیں کیا جیسا کہ انہوں نے ایکسپریس نیوز کو چھوڑنے سے پہلے اپنے آخری پروگرام میں باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ وہ نئے چینل, جو ان کا ذاتی چینل ہے یعنی آپ نیوز پر منتقل ہوجائیں گے اور خبردار کے سلسلے کو آگے بڑھایا جائے گا. مگر اب آفتاب اقبال نے آپ نیوز کو چھوڑ کر نیو نیوز پر پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی چند اقساط بھی نشر کی جا چکی ہیں. نیونیوز پر خبردار کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے خبر یار کے نام سے پروگرام شروع کیا گیا ہے جس میں آفتاب اقبال اپنی پوری ٹیم کے ہمراہ موجود ہیں.

پر سوال یہ ہے کہ آفتاب اقبال ایک بی کلاس چینل سے کیونکر منسلک ہوئے ؟ لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ آفتاب اقبال نے اپنے ہی نیوز چینل کو چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا ؟ آئیے اس حوالے سے کچھ حقائق پر نظر ڈالتے ہیں !

آفتاب اقبال نے بڑی دھوم دھام سے اپنا چینل شروع کیا تھا. ایکسپریس نیوز چھوڑنے سے پہلے انہوں نے اپنے ناظرین کو یہ بھی کہا کہ اب وہ کسی بیگانے چینل پر نہیں بلکہ اپنے ہی چینل پر جلوہ گر ہوں گے اور ضروری رکاوٹوں سے چھٹکارہ پاتے ہوئے بہتر سے بہتر پروگرام پیش کریں گے. ایکسپریس نیوز چھوڑنے کے بعد کچھ مہینے کی تاخیر سے آفتاب اقبال ایک یوٹیوب چینل ڈگڈگی پر اپنی پوری ٹیم کے ساتھ دکھائی دیے اور پھر کچھ عرصے بعد بالآخر آپ نیوز لانچ کر دیا اور اپنی پوری ٹیم کے ساتھ جلوہ گر ہوئے.

آفتاب اقبال کی جانب سے 5 چینلز کو لانچ کرنے کا کہا گیا جس میں سے ابتدائی طور پر دو نیوز چینلز یعنی آپ نیوز اور ایک انگلش نیوز چینل "انڈس نیوز” لانچ کیے گئے. انڈس نیوز پاکستان کا موجودہ وقت میں واحد انگلش نیوز چینل ہے. آفتاب اقبال نے جب انگلش نیوز چینل کو لانچ کرنے کا اعلان کیا تو کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ اسے کامیابی سے ہمکنار کریں گے. انڈس نیوز کے لئے بیرون ملک سے بھی اینکرز کو ہائر کیا اور ملک پاکستان کا ایک اچھا امیج دنیا کو دکھایا گیا.

بظاہر سب اچھا جا رہا تھا لیکن اسی دوران ایک ایسا واقعہ ہوا جس سے حالات کچھ مشکوک ہو گئے اور یہ بات سامنے آئی کہ آفتاب اقبال چینل کے مکمل طور پر مالک نہیں تھے جبکہ دونوں چینلز کا پروجیکٹ 5 فاینینسرز کی جانب سے شروع کیا گیا تھا. انہوں نے مطلوبہ انویسٹمنٹ دی اور انتظامی معاملات آفتاب اقبال کے سپرد کردیے. آفتاب اقبال آپ نیوز اور انڈس نیوز کے مکمل مالک نہیں بلکہ اس کے سی ای او تھے. بنیادی طور پر فاینینسرز انڈس نیوز لانچ کرنے کے لیے رضامند تھے. لیکن پھر آفتاب اقبال کی جانب سے ایک اردو نیوز چینل "آپ نیوز” لانچ کرنے کے لیے اس بات پر راضی کیا گیا کہ اردو نیوز کا خرچ انگلش نیوز چینل اٹھائے گا اور اردو نیوز چینل کا جو بھی خسارہ ہوگا اسے انڈس نیوز کے منافع سے پورا کیا جائے گا. تمام لوگ آفتاب اقبال کی قابلیت سے متعارف تھے اور اس بات سے پر امید تھے کہ وہ اس مشکل کام کو کامیابی ہی سے ہمکنار کریں گے لیکن بدقسمتی سے جیسا سوچا تھا ویسا ممکن نہیں ہوسکا دونوں چینلز میں سے صرف آفتاب اقبال کے ذاتی شو خبرزار ہی کو کامیابی مل سکی.

گزشتہ مہینے جب آفتاب اقبال نے باقاعدہ طور پر آپ نیوز کو چھوڑنے کا اعلان کیا تو اصل حقیقت کھل کر سامنے آئی. اصل میں دونوں چینلز خسارے میں جا رہے تھے چینل کے مالکان نے خسارے سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے بحریہ گروپ کے مالک ملک ریاض کو چینل خریدنے کی آفر کی اور ان کی ٹیم نے آپ نیوز کا وزٹ بھی کیا. دوسری طرف آفتاب اقبال کی چینل کی ملکیت سے متعلق یہ بات سامنے آئی ہے کہ آفتاب اقبال چینل کے صرف10فیصد منافع کے حصے دار تھے. اس کے علاوہ اپنی تنخواہ چینل سے وصول کر رہے تھے اور مالی خسارہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے اب انہیں بھی مجبور آپ نیوز کو چھوڑنا پڑا ہے.

دونوں چینلز کے متعلق اب یہ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ انہیں ملک ریاض یا کسی اور تاجر کو بیچ دیا جائے گا. دونوں چینلز کی ناکامیابی پر کچھ لوگ آفتاب اقبال کی اہلیت پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں کیونکہ آفتاب اقبال اپنی قابلیت اور ہر شعبے میں اپنی اہلیت سے متعلق کھل کر اظہار کرتے ہیں. وہ ہر شعبے سے متعلق اپنی قابل قدر تجاویز سے نوازتے نظر آتے ہیں. معاملہ پروڈکشن کا ہو یا ڈائریکشن کا,اسکرپٹ رائٹنگ ہو , ڈرامہ, فلم, تھئیٹر حتیٰ کہ میڈیا کے ایک ایک شعبے پر انھیں عبور حاصل ہے جس کا وہ دعویٰ بھی کرتے رہتے ہیں شاید انہیں بلند و بانگ دعوؤں کی وجہ سے انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ ان کی اہلیت سے متعلق ہر کوئی مطمئن تھا.

خیال رہے کہ آفتاب اقبال کا سفر حسب حال سے شروع ہوا تھا جس میں انہوں نے عزیزی کا کردار متعارف کروایا تھا. حسب حال کے بعد آفتاب اقبال جیو نیوز کے پروگرام خبرناک کا حصہ بنے جسے انہوں نے انتہائی کامیابی سے چلایا. اس کے بعد انھوں نے ایکسپریس نیوز پر خبردار کی میزبانی کی اور پھر آپ نیوز کے پروگرام خبر زار کے میزبان بنے اور اب آفتاب اقبال نے نیو نیوز کے پروگرام خبر یار میں جلوہ گر ہیں. امید ہے اس بار وہ ایک لمبے عرصے ناظرین کو ایک ہی چینل پر دکھائی دیں گے.