بلاگ کالمز

آخر معیار کیا ہے؟

کبھی کبھی انسان اپنے اردگرد نظر ڈالتا ہے تو اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ بھی زندگی میں صحیح نہیں ہورہا۔ خاص طور پر ہمارے ملک میں رہنے والے اس احساس سے زیادہ گزرتے ہیں۔ اس کی وجہ پر اگر غور کیا جائے تو ہمیں سب سے پہلے دوسرے قصوروار نظر آتے ہیں۔ چاہے وہ ہماری ذاتی زندگی سے متعلق کوئی مسئلہ ہو یا ہماری قومی زندگی سے متعلق کوئی صورت حال ہو۔ اس پر ہمارے یہاں بقراط قسم کے لوگوں کی ہماری ذاتی اور قومی زندگی کے بارے میں طویل طویل تقریریں اس صورت حال میں جلتی پر تیل کا کام کرتی ہیں۔ایک زمانہ تھا جب ہم ٹی وی کھولا کرتے تھے تو کچھ ایسے پروگرام دیکھنے کو مل جاتے تھے جن میں صرف انٹرٹینمنٹ ہوتی تھی۔ نہ غم زندگی نہ غم قوم۔ آج یہ حال ہے کہ اگر ٹی وی کھول لیں تو نیوز چینلز کی بھرمار ہے۔ یا پھر ڈرامہ چینلز نظر آتے ہیں۔ پرائم ٹائم میں اگر نیوز چینلز میں سے کوئی لگا لیا جائے تو ایک خاص ترتیب نظر آتی ہے۔

دو مختلف پارٹیوں کے چند ایک معصوم لوگ اپنی اپنی قیادت کو فرشتہ اور دوسروں کو شیطان ثابت کرتے نظر آتے ہیں۔ اس پر اینکر پرسن کی دونوں طرف کے لوگوں کو ان کا ماضی یاد دلانے کی کوششیں بالکل ایسی لگتی ہیں جیسے دو مرغے لڑا کر مزہ لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چند ایک پروگراموں میں تو باقاعدہ مسخرے بٹھا لیے گئے ہیں، جو جگت بندیاں بھی کرتے رہتے ہیں۔ ایسی افسوس ناک صورت حال شاید ہی کسی اور ملک میں دیکھنے کو ملتی ہو۔ ہم نے اپنے قومی مسائل کو بھی ایک تماشا بنالیا ہے۔اگر ان خرافات سے گھبرا کر ڈرامہ چینل لگا لیا جائے تو وہاں بھی عجیب و غریب صورت حال ہے- ہر چینل ایک ہی موضوع پر ڈرامے بنارہا ہے۔ محبت، محبت اور محبت۔ نہ کوئی ہلکا پھلکا موضوع، نہ کوئی سنجیدہ کوشش۔ کچھ چینلز مزاحیہ ڈرامے بھی پیش کررہے ہیں۔ لیکن ان میں مزاح کی اتنی گھٹیا قسم دکھائی جارہی ہے جو ہر صاحب ذوق کی طبیعت پر گراں گزرتی ہے۔

مشہور مزاحیہ ڈراموں میں اداکاری کا معیار اتنا گھٹیا ہوگیا ہے جیسے اسی گھٹیا اداکاری کی بنیاد پر ہی وہ ڈرامہ چل رہا ہو۔ اوور ایکٹنگ کی بلندیوں پر اداکار نظر آتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے صرف ایک اصول اپنا لیا گیا ہے ’’جو بک رہا ہے وہی کامیاب ہے‘‘۔کیا ان تمام باتوں کا ایک ہی مطلب نہیں نکلتا کہ ہم سب من حیث القوم پستیوں کی انتہا پر پہنچ چکے ہیں، اور اس کو ہی بلندی سمجھ رہے ہیں۔ کوئی اسٹینڈرڈ کسی چیز میں باقی نہیں رہا۔ لگتا ہے پاکستانی کچھ اپنے ہی اسٹینڈرڈ سیٹ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے یہاں اب ٹریفک سگنلز کے رنگوں کی ترتیب کچھ اس طرح سے ہونی چاہئے۔ اگر رنگ سبز ہے تو اس کا مطلب ہے ٹریفک رکنی ہے۔ اگر رنگ پیلا ہے، تو اس کا مطلب ہے آپ آزاد ہیں، چاہیں تو رکے رہیں، چاہے تو بھاگ کھڑے ہوں۔ اگر رنگ سرخ ہوگیا ہے تو پھر تو روکنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ایسا میں تجویز نہیں کررہا، بلکہ یہ ہماری سڑکوں کا ایک عام منظر ہے۔ جو لوگ سڑک پر گاڑی لے کر نکلتے ہیں

وہ یہ سب کچھ روز بھگتتے ہیں۔اب ہمارے یہاں اداکاری کے ایوارڈز کی تقریب میں کچھ مزید ایوارڈز کا اضافہ بھی کیا جانا چاہئے۔ بیسٹ اوور ایکٹنگ کا ایوارڈ، بیسٹ اینکر پرسن کا ایوارڈ جس نے زیادہ سے زیادہ سیاست دانوں کو اپنے پروگرام میں لڑایا ہو، بیسٹ مسخرے اینکر پرسن کا ایوارڈ جس نے سنجیدہ قومی مسائل کو بھی مذاق بنادیا ہو۔جیسے جیسے ہمارے یہاں تعلیم کا معیار گررہا ہے، ویسے ویسے ہم پستیوں میں گرتے ہی جارہے ہیں۔ اس پر ہماری قیادت کی جہالت اور نالائقی ہمیں اوپر اٹھنے ہی نہیں دیتی۔ اگر معیاری تعلیم ہمارے ملک میں دی جارہی ہوتی تو کم از کم ہم اچھے اور برے کی تمیز سے عاری تو نہ ہوتے جاتے۔ اب تو تعلیم بھی ہمارے یہاں ایک منافع بخش تجارت بن گئی ہے۔ روز ہی کوئی نہ کوئی سرمایہ کار ایک نئی پرائیویٹ یونیورسٹی کھول کر بیٹھ جاتا ہے۔ کچھ یونیورسٹیز کا تو یہ حال ہے کہ وہ کہتے ہیں آپ صرف ہماری یونیورسٹی میں داخلہ لے لیں،

پھر چاہے آپ پرچوں میں گانے ہی کیوں نہ لکھ کر آجائیں، پاس کرنا ہماری ذمے داری ہے۔ ایک پرائیویٹ یونیورسٹی پر ابھی پابندی بھی لگائی گئی ہے۔تعلیم ہمارے ملک میں وہ واحد شعبہ ہے جسے ہم نے مکمل طور پر نجی تحویل میں دے دیا ہے۔ جو صاحب اقتدار اور انصاف کے پروردہ ہیں، ان کے پیٹ میں درد بھی صرف پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیس کا اٹھتا ہے۔ ان کا کیا اسٹینڈرڈ ہے؟ آیا وہ جتنی فیس لے رہے ہیں اتنی معیاری تعلیم بھی وہ فراہم کررہے ہیں یا نہیں؟ کوئی اس بات کو ضروری نہیں سمجھتا۔ ہمارے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان اتنے رسوخ والے ہیں کہ وہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ہمارے معاشرے میں مختلف طبقات سدھار کی کوششیں کرتے بھی نظر آتے ہیں، لیکن سب نے اپنے اپنے مدار اور محور طے کر رکھے ہیں۔ ہمارا مذہبی طبقہ اپنی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن ان کی اپنی ہی دنیا ہے۔ وہ کہتے ہیں آپ اگر راہ راست پر آنا چاہتے ہیں تو اجتماع میں آئیے، کچھ وقت چلوں میں کچھ دوروں میں لگائیے، چاہے آپ کے بیوی بچے گھر میں اکیلے اور بے یارو مددگار پڑے رہیں۔ لوگ انتہائی ذوق و شوق سے ان اجتماعات میں شرکت بھی کرتے ہیں۔ اختتامی دعا میں شرکت تو اکثر لوگ ضروری سمجھتے ہیں۔

اس دعا میں رو رو کر الله سے اپنے گناہوں کی معافی بھی مانگتے ہیں، لیکن جیسے ہی دنیا میں واپس آتے ہیں بالکل پرانے پاپی بن جاتے ہیں۔کچھ سیکولر قوتیں بھی اپنے انداز میں تبدیلی لانے کی کوشش کرتی نظر آتی ہیں، لیکن ان کی الگ دنیا ہے۔ ان کا فوکس عورتوں کی آزادی اور سیکولر نظام تعلیم ہے۔ جہاں جنسی تعلیم بھی ضروری ہے۔نہ جانے کب ہماری سمجھ میں آئے گا کہ ہم بغیر محنت اور بغیر تعلیم کے اس دنیا میں کوئی مقام حاصل نہیں کرسکتے۔ اگر ہم اسلام کو ضابطہ حیات سمجھتے ہیں تو اس پر ہمیں خود بھی عمل کرنا پڑے گا۔ صرف ملا کے نماز پڑھ لینے سے آپ کی بخشش نہیں ہوسکتی، نماز آپ کو خود پڑھنی پڑے گی۔ دوسروں کے حقوق ادا کرنے سے ہی آپ کو حقوق مل سکتے ہیں۔ معاشرے کو درست کرنے کےلیے پہلے خود کو درست کرنا پڑے گا۔ جب اکائی درست ہوگی تب ہی پورا معاشرہ درست ہوگا۔