معلومات

کیا سائنس انسانی کلوننگ میں کامیاب ہوگئی ہے؟

آپ میں سے اکثر دوستوں نے کلوننگ کا نام لازمی سنا ہوگا اور اکثر آپ کے ذہن میں آیا بھی ہوگا کہ یہ کلوننگ دراصل کیا چیز ہے۔ کلوننگ سے مراد ہے ایک جاندار کی اسی جیسی کاپیاں تیار کرنا۔ آپ میں سے اکثر دوستوں نے ہم شکل جڑواں بھائی یا بہنیں دیکھی ہوں گی۔ ہم شکل جڑواں کو ہم ایک دوسرے کے قدرتی کلون بھی کہہ سکتے ہیں۔ سائنس دان لیبارٹری میں بہت سے جانوروں کی کلوننگ کرچکے ہیں۔ لیکن کیا آپ جاننا چاہیں گے کہ انسان کی کلوننگ میں سائنس کہاں تک پہنچی ہے۔ آج کی اس تحریر میں میں آپ کو کلوننگ کے طریقہ کار اور انسانوں کی کلوننگ کے حوالے سے پیش رفت کے بارے میں بتائوں گا۔

ہالی ووڈ اور بالی ووڈ میں کلوننگ کے حوالے سے اکثر اوقات غلط معلومات بھی دی جاتی ہیں۔ کلوننگ سے کبھی بھی کسی جاندار کی اسی جتنی کاپی نہیں بنائی جاسکتی بلکہ کلوننگ سے پیدا ہونے والا جانور بھی ایک بچے جتنا ہی پیدا ہوتا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ وہ بڑا ہو کر اس جانور جیسا ہوگا جس کا کلون کیا گیا۔

کلوننگ کرنے کیلئے سب سے پہلے اس جاندار سے جس کی کلوننگ کرنی ہو کچھ خلیے منتخب کیے جاتے ہیں۔ ایسے جاندار کو ڈونر کہتے ہیں۔ اس جاندار کے کسی ایک خلیے سے نیوکلیس الگ کر لیا جاتا ہے۔ اب اسی سپیشیز کے جانداروں کے نر اور مادہ گیمیٹس لے کر لیبارٹری میں ان کی مصنوعی فرٹیلائزیش کروائی جاتی ہے۔ فرٹیلائزیش سے پیدا ہونے والے خلیے کو زائیگوٹ کہتے ہیں۔ اس حاصل شدہ زائیگوٹ کا نیوکلیس نکال کر اس میں ڈونر کے خلیے سے حاصل شدہ نیوکلیس ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس تبدیل شدہ زائیگوٹ سے بننے والے ایمبریو کو دوبارہ اسی سپیشیز کی کسی مادہ کے رحم میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ اس طرح اس مادہ میں حمل کے بعد جو بچہ پیدا ہوتا ہے وہ جنییاتی طور پر بالکل ڈونر جیسا ہوتا ہے۔ اسی لئے کلوننگ کو نیوکلیس ٹرانسفر ٹیکنیک بھی کہا جاتا ہے۔

1996 میں سکاٹ لینڈ کے کچھ سائنسدان ایک مادہ بھیڑ کو کلون کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کا نام ڈولی رکھا گیا۔ ڈولی کی کامیابی کے بعد سائنسدانوں کو اس حوالے سے ایک نئی امید نظر آنے لگی۔ ڈولی کے بعد کئی دوسرے جانوروں کو بھی کلون کیا گیا جن میں چوہے، گائے اور بکری وغیرہ شامل ہیں۔

لیکن کلون جانوروں میں قدرتی طور پر پیدا ہونے والے جانوروں کے برعکس کئی خرابیاں بھی دیکھنے میں آئی ہیں۔ سب سے پہلی کلون شدہ بھیڑ بہت جلد ہی جوڑوں کے درد کا شکار ہوگئی اور صرف آٹھ سال کی عمر میں ہی مر گئی۔ اس حوالے سے کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کلون شدہ جانور جنیاتی طور پر اسی جانور کے ہم عمر ہوتے ہیں جس کی کلوننگ کی گئی ہو۔ یعنی کہ اس کا مطلب ہے کہ کلوننگ سے حاصل شدہ جانوروں کی طبعی عمر کم ہوتی ہے۔ اس کے علاؤہ بھی کلون شدہ جانوروں میں کچھ مزید طبعی مسائل دیکھنے میں آئے ہیں۔

جانوروں کی کامیاب کلوننگ کے بعد کچھ سائنسدانوں کو انسان کی کلوننگ کرنے کا خیال سوجھا۔ لیکن سائنسدانوں کی امیدوں کے برعکس انسان کی کلوننگ کرنا اتنا آسان نہیں۔ انسان تمام جانداروں میں سب سے پیچیدہ جاندار ہے۔حال ہی میں چینی سائنسدانوں کے مطابق بندروں کے دو کلون بچے کلوننگ کی اسی ٹیکنیک کے ذریعے پیدا کیے گئے ہیں جس کے ذریعے پچیس برس قبل ڈولی بھیڑ کی کلونگ کی گئی تھی۔ چینی سائنسدانوں کے مطابق اس تجربے کے بعد انسانوں کی کلوننگ کی راہ میں حائل رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔

ان سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ژونگ ژونگ اور ہوا ہوا نامی بندر کے بچے بالترتیب آٹھ اور چھ ہفتے قبل چائینیز اکیڈمی آف نیرو سائنسز میں کلوننگ کے عمل کے ذریعے پیدا ہوئے ہیں۔ بندر کے بچوں کی پیدائش پرائمیٹس جانوروں میں کلون کی پہلی مثال ہےانسانی کلوننگ کے بارے میں مزید بتانے سے پہلے میں یہ بتانا چاہوں گا کہ انسانی کلوننگ کی دو اقسام ہیں۔

1۔ تھیراپیوٹک کلوننگ : کلوننگ کی اس قسم میں لیبارٹری میں کسی انسان کا کوئی آرگن تیار کیا جاتا ہے۔ مثلاً اگر کسی شخص کو جگر کا ٹرانسپلانٹ چاہیے تو اس کے اپنے خلیوں سے جگر بنا کر اس شخص کو لگایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح مستقبل میں مزید پیچیدہ اعضاء جیسا کہ دل، گردے اور آنکھ وغیرہ کی کلوننگ کے بارے میں بھی سوچا جا رہا ہے۔ اس سے ٹرانسپلانٹیشن کیلئے ان اعضاء کی دستیابی کے مسائل کے حل ہونے کا بھی امکان ہے۔

2۔ ریپروڈکٹیو کلوننگ : انسان کلوننگ کی دوسری قسم کا نام ریپروڈکٹیو کلوننگ ہے جس میں ایک مکمل جیتا جاگتا انسان کلون کرنے کے حوالے سے تجربات کیے جاتے ہیں۔اس حوالے سے ہونے والے تجربات میں جنوری 2008 میں سٹیماجن بائیو ٹیکنالوجی کمپنی کے دو سائنسدانوں نے پانچ انسانی ایمبریو کلون کرنے کا دعویٰ کیا لیکن یہ تمام ایمبریو ایک مکمل انسان بنانے کی بجائے صرف چند ایک خلیے ہی بناسکے۔ کئی ایسے کیسز بھی دیکھنے میں آئے جہاں انسانی کلوننگ کے حوالے سے سائنسدانوں کو ان لوگوں کی طرف سے لاکھوں ڈالرز فنڈز ملے جو اپنے کسی پیارے کی کلوننگ کروانا چاہتے تھے۔ اسی طرح کے ایک کیس میں ایک ارب پتی شخص نے اپنی مرحومہ بیٹی کا کلون تیار کروانے کیلئے پانی کی طرح پیسا بہایا لیکن انسان کی کلوننگ کامیاب نہ ہوسکی۔

انسانی کلوننگ کے حوالے سے ہونے والے اکثر تجربات خفیہ طور پر کیے گئے کیونکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں انسانی کلوننگ پر پابندی ہے۔کلوننگ کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ خدائی کاموں میں چھیڑ چھاڑ کے مترادف ہے۔ اس حوالے سے درست رہنمائی ہمارے علمائے کرام ہی کرسکتے ہیں لیکن میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ انسان سائنس کی مدد سے کبھی بھی خدا کے کاموں میں مداخلت نہیں کرسکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن میں آیت الکرسی میں فرماتے ہیں کہ

"وہ (انسان) اس کی معلومات میں سے کسی چیز کو بھی نہیں گھیر سکتے۔ مگر جتنا وہ خود چاہے”اللہ کی مرضی کے بغیر دنیا میں ایک پتا بھی نہیں ہل سکتا۔ سائنس کبھی بھی اس قابل نہیں ہوسکتی کہ وہ لیبارٹری کے اندر خام مادوں سے کوئی زندہ یک خلوی جاندار تخلیق کرسکے۔ کلوننگ کے تجربات میں بھی حیاتیاتی مشینری کا استعمال ہوتا ہے جس کا خالق صرف اللہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود کلوننگ سے حاصل ہونے والے جاندار قدرتی طور پر پیدا ہونے والے جانداروں کی نسبت ناقص ہوتے ہیں۔ جانوروں کی کلوننگ کے سیکڑوں تجربات میں سے صرف ایک تجربہ کامیاب ہوتا ہے اور اس ایک تجربے سے حاصل ہونے والے جانداروں میں بھی بہت سی پیچیدگیاں موجود ہوتی ہیں۔ دوستو سائنس بھی دیگر علوم کی طرح اللہ تعالیٰ کا ودیعت کردہ ایک علم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خالق کائنات کی طرف سے دئیے گئے اس علم کو اس کے بتائے گئے اصولوں کے تحت بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کیلئے استعمال کریں۔

تحریر: ڈاکٹر نثار احمد

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment