بلاگ خبریں

قندوز میں کیا بیتی؟ غیر جانبدار ذرائع سے

قندوز کے مدرسے پر بربریت کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کیلئے افغان صحافیوں نے مدرسے اور پورے گاوں کا دورہ کیا۔ دور ےکے بعد طلوع نیوز کے کریم امینی کی رپورٹ احباب کی دلچسپی کیلئے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ طلوع نیوز ایک سیکیولر ولبرل میڈیا اور نہ صرف طالبان بلکہ پاکستان کا بھی شدید مخالف ہے

جناب امینی رقمطراز ہیں: یہ دورہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ترتیب دیا۔2اپریل کے حملے کے بعد 4 اپریل کو قندوز شہر سے 20 کلومیٹر دور طالبان کی ایک چیک پوسٹ پر انکا استقبال ہوا جہاں سے 4 مسلح جوانوں نے صحافیوں کے اس طائفے کو حفاظتی حصار میں لے لیا۔ سارے شہر میں طالبان کے کلمہ طیبہ والے پرچم لہرارہے تھے۔گاڑیوں پر 50 منٹ سفر کرکے ہم دشت آرچی کے گاوں دفتانی پہنچے۔ گاوں پر ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ بہت سےمکانات زمیں بوس یا بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے۔ سانحے کی وجہ سے سارا گاوں سوگ میں ڈوبا ہواتھا۔دکانیں بند تھیں اور متاثرین کے گھروں کے باہر تعزیت کرنے والوں کا ہجوم تھا۔ گاوں میں داخلے پر طالبان کے ڈپٹی گورنر ملا شاکر نے ہمارا استقبال کیا۔ جی ہاں طالبان نے قندوز میں باقاعدہ اپنی انتظامیہ تعینات کر رکھی ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ دشت آرچی کے قدیم اور سب سے بڑے مدرسے دارالعلوم ہاشمیہ عمریہ میں حفظ قرآن مکمل کرنے والے طلبہ میں تقسیم اسناد کی تقریب یا دستار بندی کی کئی ہفتوں سے تیاری کی جارہی تھی،۔ گاوں میں جگہ جگہ پشتو اور فارسی میں پوسٹر لگے ہوئے تھے۔ عام شہریوں نے کہا کہ کئی ہفتوں سے طالبان کو یہاں نہیں دیکھا گیا اور سارے گاوں میں اس تقریب کے حوالے سے خاصہ جوش و خروش پایا جاتا تھا۔

عیبی شاہدین کے مطابق مدرسے سے متصل میدان میں ایک بہت بڑا شامیانہ لگاکر پنڈال بنایاگیا تھا جہاں حملے کے وقت 2000 سے زیادہ افراد بیٹھے تھے۔ تقریب میں شرکت کیلئے بغلان، سمنگان اور کابل سے بھی کچھ جید علما آئے ہوئے تھے۔ اس تقریب کی حفاظت طالبان کی ذمہ داری تھی لیکن یہ سارے محافظ غیر مسلح تھے۔ اکثر محافظین کے رشتے داروں کو سند ملنی تھی۔ جامعہ ہاشمیہ عمریہ سارے افغانستان میں بہت احترام سے دیکھا جاتا ہے اور پورے ملک بلکہ تاجکستان اور ازبکستان کے طلبہ بھی حفظ کرنے یہاں آتے ہیں اور تقریب میں بھی پکتیا، پکتیکا، سمنگان، بلخ اور دوسرے علاقے کے بچے موجود تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دستار بندی کی تقریب جاری تھی اور روائت کے مطابق فارغ التحصیل بچوں کا فرداً فرداً تعارف کروایا جارہا تھا جس میں بچوں سے زیادہ انکے والدین کا تذکرہ تھا۔ تعارف کے بعد وہ بچہ اسٹیج پر آتا جہاں شیخ المدرسہ اسکے سر پر پگڑی رکھ کر حافظ صاحب کو سند سے سرفراز کرتے۔ اچانک دو ہیلی کاپٹر نمودار ہوئے۔ یہ اتنی نیچی پرواز کر رہے تھے کہ شامیانے ہوا سے اڑنے لگے۔ قریب آکر ان ہیلی کاپٹروں نے 4 میزائل داغے

• ایک میزائل پنڈال کے عقبی حصے میں گرا جہاں حفاظ بچے بیٹھے تھے • دوسرا میزائل مدرسے پر داغا گیا • تیسرے میزائیل سے پنڈال سے متصل ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا • جبکہ چوتھا میزائیل بھی ایک گھر پر گرا جو تقریب سے 100 میٹر دور تھا • میزائیل پھینکنے کے بعد ہیلی کاپٹروں سے گاوں پر گولیاں بھی چلائی گئیں اور فائرنگ 10 منٹ تک جاری رہی۔ میزائل حملے میں بچ جانے والے لوگ ہیلی کاپٹر کی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔ • ایک شاہد کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹروں نے براہ راست نشانہ لیکرپنڈال پر حملہ کیا اور وہ فضا میں ساکت تھے یعنی منڈلا نہیں رہے تھے۔
• مدرسے میں ان صحافیوں نے بچوں کی خون آلود پگڑیاں، ٹوپیاں اورجوتے دیکھے • پنڈال میں میزائیل گرنے کی جگہ پر ایک بڑا گڑھا بن گیا تھا

لوگوں کا کہنا تھا کہ حملے میں 100 شہری جاں بحق ہوئے اور ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد شدید زخمی ہیں۔ کریم امینی کا کہنا ہے کہ صحافی ان اعدادو شمار کی تصدیق نہیں کرسکے۔ ایک عینی شاہد نے کہا یہ علاقہ سات سال سے طالبان کے کنٹرول میں ہے لیکن تقریب کے وقت وہاں ایک بھی طالبان نہ تھا اور سارا انتظام علما اور علاقے کے مشران (بزرگوں) سے سنبھالا ہوا تھا۔
حوالہ طلوع نیوز کابل 5اپریل بشکریہ:مسعود ابدالی