ظنز و مزاح

گارنٹیاں اور وارنٹیاں۔۔نوخیزیاں/ گل نوخیزاختر

آپ نے اکثر جگہوں پر کچھ شرائط نامہ لکھا ہوا دیکھا ہوگا۔ مثلاً موبائل ٹھیک کروانے جائیں تو وہاں ’انجینئر صاحب‘ کی پشت پر ایک بڑا سا چارٹ لکھا ہوا ہوتاہے’اپنا موبائل پندرہ دن کے اندر واپس لے جائیں ورنہ دوکاندار ذمہ دار نہ ہوگا‘ موبائل کی بیٹری تبدیل کروانے پر بیٹری نہ چلی تو کوئی گارنٹی نہیں ہوگی‘ موبائل ٹھیک کرنے کے دوران خراب ہوگیا تو دوکاندار کا ذمہ دوش پوش وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح کسی ہاؤسنگ سکیم میں پلاٹ بک کروائیں تو پشت پر لمبی چوڑی تنبہیہ درج ہوتی ہے کہ ’قسط لیٹ ہونے کی صورت میں اتنا جرمانہ ہوگا‘ چیک ڈس آنر ہونے کی صورت میں اتنا جرمانہ ہوگا۔‘ ایسی تمام شرائط میں کوئی شرط ایسی نہیں ہوتی جو آپ کے حق میں جارہی ہو۔یعنی کہیں یہ درج نہیں ہوتا کہ مقررہ تاریخ تک پلاٹ کا قبضہ آپ کو نہ دیا گیا تو کمپنی اتنا جرمانہ ادا کرے گی یا فلاں چیز اگر ٹھیک نہ ہوئی تو اس کا ہرجانہ دوکاندار ادا کرے گا۔یہ ایک یکطرفہ شرائط نامہ ہوتاہے جس کے تمام تر نقصانات آپ کے کھاتے میں جارہے ہوتے ہیں۔

آپ نے اکثر ایسے شرائط ناموں کے آخر میں یہ جملہ بھی لکھا دیکھا ہوگا کہ ’’کوئی بھی تنازعہ ہونے کی صورت میں اس کاروائی کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ گو کہ یہ ایک احمقانہ جملہ ہوتاہے لیکن خریدار پر اس کا بیٹھے بٹھائے رعب پڑ جاتاہے۔ یہ جملہ ازخود توہین عدالت ہے گویا دوکاندار نے اپنا کوئی قانون بنا لیا ہے اور عدالتوں کے اختیار کو یکسر نظر انداز کردیا ہے۔پچھلے دنوں ایک دوست نے اپنا موبائل کی بیٹری تبدیل کرنے کے لیے دوکاندار کو دیا۔ بیٹری تو تبدیل ہوگئی لیکن موبائل نے چلنے سے انکار کردیا۔ دوکاندار سے بحث ہوئی تو اس نے حسب عادت اپنی دوکان میں لگے چارٹ کی طرف اشارہ کیا جس پر لکھا تھا کہ موبائل میں کسی قسم کی خرابی کی ذمہ داری دوکاندار کی نہیں ہوگی۔دوست نے سرہلایا اور واپس آگیا‘ اگلے دن اس نے دوکاندار کو صارف کورٹ کا نوٹس بھجوا دیا۔قصہ مختصر۔۔۔عدالت میں دوکاندار نے جج صاحب کے سامنے یہی موقف اپنایا کہ یہ دیکھیں ہم نے لکھ کر لگایا ہوا ہے کہ ہماری دوکان کے کسی معاملے کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ جج صاحب نے گھور کر اسے دیکھا اور بولے’’اس بات پر تو آپ کی سز ا ڈبل بنتی ہے‘ آپ کون ہوتے ہیں کسی بھی معاملے کو عدالتی دائرہ اختیار سے باہر رکھنے والے۔‘‘ دوکاندار نے پہلے تو بغلیں جھانکیں‘ پھر گھگھیا کر معافی مانگی کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔

 

ہم دن رات ایسے ہی بے مقصد جرمانے بھرتے ہیں ۔نیا فریج خراب نکل آئے تو کمپنی والے اطمینان سے جواب دیتے ہیں کہ ہم نے پُرزوں کی گارنٹی نہیں دی تھی۔ٹی وی خراب نکلے تو پتا چلتا ہے کہ صرف ڈبے کی گارنٹی تھی‘ پکچر ٹیوب کی نہیں۔آپ نے نہایت نیک لوگوں کی دوکان پر بھی جلی حروف میں یہ لکھا ہوا دیکھا ہوگا کہ ’’خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہوگا‘۔ یہ کبھی ایسی بات نہیں لکھتے کہ ’’ہمارا مال خراب نکل آئے تو ہم دوگنے پیسے ادا کریں گے‘‘۔وجہ صرف یہ ہے کہ ایسی بات لکھنے سے خطرہ ہوتاہے کہ کہیں سارے مال کے دوگنے پیسے ادا نہ کرنے پڑ جائیں۔

ایک اور عادت بڑی عام ہے۔ آپ کہیں سے کوئی چیز خریدیں‘ دوکاندار اسی وقت بتا دے گا کہ دوکان میں کھڑے ہوکر چیز چیک کرلیں‘ بعد میں خراب ہوگئی تو ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ گویا اگر آپ نے لیپ ٹاپ خریدا ہے تو کم ازکم دو گھنٹے دوکان میں ضرور بیٹھیں تاکہ اچھی طرح کھول کرچیک کرسکیں کہ ایک ایک چیز چل رہی ہے یا نہیں۔ کیونکہ جو چیز آپ بھول گئے وہ آپ ہی کے پلے پڑے گی۔یہ الگ بات ہے کہ آپ موقع پر بھی کوئی چیز غلط ثابت نہیں کر سکتے۔ کیا آپ نے کوئی ایسا شخص دیکھا ہے جس نے بازار میں بکنے والے شربت میں چینی کی بجائے سکرین ثابت کی ہو اور پانچ ہزار کا انعام جیتا ہو؟ اخباروں کے اشتہار میں بھی دعویٰ کیا جاتاہے کہ شوگر کا علاج صرف تین دنوں میں۔ لیکن جب آپ علاج کروانے پہنچتے ہیں تو پتا چلتاہے کہ آپ کی علامات تین دن میں ٹھیک ہونے والی نہیں ہیں۔آپ ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں کہ کوئی ایسا مریض بھی نظر آئے جس کو تین دن میں خوشخبری مل سکے لیکن اتفاق سے وہاں آیا ہوا ہر مریض آپ ہی کی طرح ’آخری سٹیج‘ پر ہوتاہے۔منی بیک گارنٹی والی کتنی چیزوں کی قیمت آپ کو واپس ملی؟

آن لائن شاپنگ والے اور بھی زیادہ محتاط ہوتے ہیں‘یہ گاہک کو یہ بھی حق نہیں دیتے کہ وہ موصول شدہ چیز کو ایک دفعہ کھول کرہی دیکھ لے کہ کیا واقعی ڈبے میں وہی چیز ہے یا کوئی اور چیز آگئی ہے۔ بس آپ نے پیسے ادا کرنے ہیں اور ڈبہ لے لینا ہے‘ بعد میں بے شک اندر سے ٹارچ کی بجائے جرابوں کا جوڑا نکل آئے۔ میرا ایک دوست بہت سوکھا پتلا ہے‘ اسے ساری زندگی خواہش رہی کہ اس کے بھی ڈولے بن جائیں اور وہ بھی طاقتور نظر آئے۔ موصوف نے پچھلے دنوں فیس بک پرآن لائن شاپنگ والوں کااشتہار دیکھا جس میں لکھا تھا کہ اگر سوکھے پتلے ہیں تو ہماری یہ خاص پراڈکٹ منگوائیں‘ ایک سیکنڈ میں آپ اپنی آنکھوں سے اپنی طاقت دیکھ سکیں گے۔ قبلہ بہت خوش ہوئے اور پانچ ہزار میں مذکورہ پراڈکٹ کا آرڈ بک کروا دیا۔ تین چار دن بعد گھر کے دروازے پر بیل ہوئی اور پوسٹ مین نے خوشخبری سنائی کہ آن لائن شاپنگ والوں کی طرف سے آپ کا پیکٹ آیا ہے۔ بہت خوش ہوئے‘ پانچ ہزار دے کر ڈبہ اندر لے آئے۔ آکر کھولا تو کمپنی کا کہا سچ پایا۔۔۔ایک ایسی چیز سامنے تھی جو واقعی ان کے سوکھے پتلے جسم کو طاقتور دکھا سکتی تھی۔۔۔اندر ایک50 روپے والا محدب عدسہ پڑا ہوا تھا۔

یہ گارنٹیاں اور وارنٹیاں صرف گاہک کو اطمینان دلانے کے لیے ہوتی ہیں ۔ میرے ایک محلے دار نے شکایت کی کہ انہوں نے فوم کا ایک گدا خریدا تھا جس کی گارنٹی لائف ٹائم تھی لیکن وہ دو سال میں ہی بیٹھ گیا ہے۔ ان کی خواہش تھی کہ میں اُن کے ساتھ فوم کی دوکان پر چلوں اور خونخوار طریقے سے نہ صرف دلائل دوں بلکہ ان کا گدا بھی تبدیل کروا کے دوں۔میں چونکہ خدمت خلق میں پیش پیش رہتا ہوں لہذا فوری طور پر ایک ایسی شرٹ پہنی جس کے گریبان کے دو بٹن ٹوٹے ہوئے تھے۔۔۔بال بکھرا لیے۔۔۔دانتوں میں ماچس کی تیلی دبا لی۔۔۔اور احتیاطاً گلے میں رومال بھی باندھ لیا۔۔۔دوکان پر پہنچے توکاؤنٹر پر چھ فٹ لمبا بندہ بیٹھا تھا جس کی جسمانی ساخت سے لگ رہا تھا کہ کثرت سے کسرت کرتاہے۔میں نے آہستہ سے رومال گلے سے کھینچ لیا اورہاتھ سے گریبان بھی ڈھانپ لیا۔محلے دار میری طرف دیکھنے لگے کہ اب میں کیا کرتاہوں۔میں نے اُنہیں اشارہ کیا کہ وہ اپنا کیس پیش کریں۔ انہوں نے کاؤنٹر والے سے اپنا مسئلہ بیان کیا تو وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔۔۔وجہ پوچھی گئی تو بے نیازی سے بولا’’بھائی صاحب! لائف ٹائم گارنٹی سے مراد آپ کی لائف نہیں فوم کی لائف ہوتی ہے۔۔۔اس فوم کی لائف دو سال تھی لہذا گارنٹی بھی پوری ہوگئی‘‘۔ محلے دار نے جلدی سے میری طرف دیکھا اور میں نے نظریں دوسری طرف کرلیں۔۔۔دوکاندار کی دلیل زیادہ وزنی تھی۔۔۔!!!

لکھاری کے بارے میں

گل نوخیز اختر

گل نوخیز اخترایک پاکستانی کالم نگار اور مصنف ہیں انہوں نے مختلف ٹی وی شو کے لئے کام کیا ہے،

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment