اسلام بلاگ

واقعہ اصحاب فیل

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسمئیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر خانہ خدا، کعبۃ ﷲ کی تعمیر کی۔ یہ ایک کمرہ نما چوکور عمارت دنیا کی تاریخ میں مرکز توحید بنی۔ اس کے ساتھ ہی پھوٹنے والا شیریں چشمہ زم زم، اس جگہ کی آبادکاری کی بہت بڑی وجہ بن گیا۔ ایک ماں اور بیٹے سے شروع ہونے والا بےآب و گیاہ علاقہ بہت جلد ایک بہت بڑے شہر بلکہ ایک بہت بڑی تہذیب کی آماجگاہ بن گیا۔ کعبۃ ﷲ میں کی جانے والی عبادت کئی لحاظ سے تاریخ انسانیت اور مذاہب عالم میں یکتا و تنہا ہے۔ دنیا میں واحد خانہ کعبہ ایسی عمارت ہے جس کا طواف کیا جاتا ہے۔ دنیا میں طواف کی مانند کسی دوسری عبادت کا وجود نہیں ہے۔ گزشتہ چار ہزار سالوں سے جاری اس عبادت کا کوئی تاریخی ثانی نہیں ہے کہ تاسیس کعبہ سے آج تک ایک حج بھی قضا نہیں ہوا۔ دنیاکا ایسا شہر جس میں ایک سبز پتہ بھی نہیں اگتا لیکن مشرق و مغرب کی کل نعمتیں یہاں میسر ہیں، یہ اعزازبھی صرف جوار کعبہ کو ہی حاصل ہے۔

اس کے علاوہ کتنے ہی انبیاء علیھم السلام اور مقدس ہستیاں ہیں جن کے جسم ہائے اطہر اس حرم محترم کی حدود میں مدفون ہیں۔ آسمان سے نازل ہونے والی کل رحمتیں سب سے پہلے خانہ کعبہ پر نازل ہوتی ہیں اور پھر ہر ہر علاقے کی مساجد کی طرف ارسال کر دی جاتی ہیں اور تب وہاں سے گھروں تک پہنچتی ہیں اور افراد دنیا ان رحمتوں سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ ابرہہ، جو یمن کا گورنر تھا اس نے خانہ کعبہ و مسجد حرام کے مقابلے میں ایک شاندار عمارت بنائی، بلند و بالا عمارت کو سونے اور چاندی سے مرصع کیا اور اس کے در و دیوار اور اہم مقامات پر ہیرے جواہرات پیوست کیے۔ ایک عام آدمی جب عمارت کے قریب جاتا تو اسے گردن اونچی کر کے اس کی بلندی مشاہدہ کرنی پڑتی تھی اور جب اندر داخل ہوتا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتیں۔ ابرہہ نے اعلان کر دیا کہ کہ یمن کے عرب قبائل آئندہ سے خانہ کعبہ کا سفر کرنے کی بجائے اس عمارت کاحج کیا کریں۔ اہل عرب کوخانہ کعبہ اور دین ابراہیمی و شعائر مذہبی سے محبت و عقیدت ماں کے دودھ میں گھول کر پلائی جاتی تھی۔

یمن میں موجود ایک عربی قریشی نوجوان نے جب سناکہ اس عمارت کوخانہ کعبہ کے مقابلے میں لانے کے لیے تعمیر کیا گیا ہے اور بادشاہ نے یمن کے باسیوں کو خانہ خدا کی بجائے اس عمارت کے حج کا حکم دے دیا ہے تو یہ بات اس کے لیے ناقابل برداشت ہو گئی۔ اس نے فرط نفرت میں اس نو تعمیر شدہ نہایت خوبصورت عمارت میں اجابت جیسی ناپسندیدہ حرکت کر کے اسے آلودہ و بدبودار کر دیا۔ ابرہہ نے اس نوجوان کوتو فوری طور پر قتل کر دیا اور پھر اس نے قسم کھائی کی خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا اور اس نے اپنے بادشاہ شاہ نجاشی سے اجازت بھی لے لی۔ قرآن مجید میں اصحاب الاخدود کا واقعہ سورہ بروج میں ذکر ہوا ہے۔ یہ اصحاب الاخدود یمن کے رہنے والے مسیحی تھی اور شرک کی مخالفت کرتے تھے۔ یہ مسیحی صرف ایک خداکے عبادت گزار تھے اور وقت کے مشرک بادشاہ نے ان موحد مسیحیوں کو آگ کی خندقوں میں ڈال کر زندہ جلا دیا تھا۔ ان میں سے دو مسیحی جو خوش قسمتی سے کسی طرح بچ گئے تھے انہوں نے قیصر روم سے اس واقعہ کی شکایت کی اور زندہ جلنے والے کم و بیش بیس ہزار مسیحی اہل مذہب کے انتقام کا مطالبہ کیا۔ قیصر روم جومذہباََ مسیحی عقیدہ کامالک تھا اس نے شاہ حبشہ اور ابرہہ کو اس ظالم بادشاہ سے بدلہ لینے کا حکم صادر کیا۔

یمن پر زوردار حملے میں ظالم بادشاہ اپنے انجام کو پہنچا اور شاہ نجاشی نے ابرہہ کو یمن کا گونر تعینات کر دیا۔ فتح کا نشہ دنیا کے سب نشوں پر غالب ہے۔ ابرہہ، جسے بہت بڑی فتح ملی تھی اپنی اس کامیابی کے پیش منظر میں اپنی حیثیت بھول بیٹھا تھا۔ انبیاء علیھم السلام کے طبقہ کامقام کل انسانیت میں بلندہے۔ کوئی فاتح، کوئی مفکر، کوئی فلسفی یا کوئی حکمران یا کسی بھی سطح کا کوئی اعلی ترین انسان کسی بھی نبی کے برابر نہیں ہو سکتا۔ ان بزرگ ہستیوں کاانتخاب ﷲ تعالی کے ہاں سے براہ راست ہوا ہے۔ یہ مطاع ہیں اور باقی کل انسان ان کے مطیع ہیں۔ ابرہہ نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر فیصلہ کر لیا تھا۔ خانہ کعبہ کی عمارت محض پتھروں اور گارے کی عمارت نہیں ہے۔ اس عمارت کی تاسیس ایک مقدس و محترم ہستی کے ہاتھوں سے ہوئی۔ یہ انسانی زندگی کی حسین حقیقتیں ہیں۔ بچپن کی گلیاں اور آج کی گلیاں ایک ہی طرح کی مٹی گارے سے بنی ہوتی ہیں لیکن ان دونوں کی کشش میں بعد الشرقین ہوتا ہے۔ استاد کا ہاتھ اور تھانیدار کا ہاتھ ایک ہی جیسے گوشت پوست سے جڑے ہیں لیکن ان کے درمیان کبھی نہ سمٹنے والا فاصلہ ہوتا ہے۔
لڑکپن کے دوست اور مطلب کے دوست سب ایک ہی آدم کی اولاد ہوتے ہیں لیکن لڑکپن کی یادیں زندگی بخشنے والی ہوا کی مانند ہوتی ہیں جب کہ مطلب پرستی میں انسان کا دم گھٹتا ہے۔ اپنے بچے اور دوسروں کے بچے اکٹھے کھیلتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو لگنے والی چوٹ قلب و جگر کی اتھاہ گہرائیوں میں چبھتی ہے۔ سالگرہ کے دن کا سورج بھی عام دنوں کی طرح طلوع ہوتا ہے لیکن غلامی زدہ سیکولر طبقے کے لیے اس دن کا سورج ایک سال کے نقصان پر بھی خوشیوں کا انبوہ کثیر لے کر ابھرتا ہے۔

زندگی کی یہ خوش کن حقیقتیں ان لوگوں کو بھی سمجھ آتی ہیں جنہیں قربانی میں پیسے کاضیاع اور ماحول کی آلودگی نظرآتی ہے، جنہیں حج جیسی عبادت زرمبادلہ کی بے مقصد ترسیل دکھتی ہے اور نبیوں میں اور عام انسانوں میں انہیں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔
بس فرق صرف اتناہے کہ ان لبرل لوگوں کے ہاتھوں میں قوم شعیب کے پیمانے ہیں جہاں لینے کے اوزان اور دینے کے اوزان یکسر مختلف ہیں ۔

خانہ کعبہ اگر کسی زید بکر و ہماشما کے ہاتھوں بنی عمارت ہوتی تو دنیامیں ستاروں سے بھی کئی گنا زیادہ عمارتیں بنیں اور تباہ ہو گئیں ۔ لیکن ﷲ تعالی کو جس طرح اپنے برگزیدہ بندے عزیز ہیں اسی طرح ان کی باقیات بھی محبوب تر ہیں۔
ابرہہ نے ہاتھیوں پرلدی ایک فوج تیار کی اور حرم مکہ پر حملہ کرنے چل کھڑا ہوا۔ عربوں کے بعض قبائل نے ہاتھیوں والی فوج کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن اتنی بڑی فوج کے سامنے ان کی کچھ نہ چل سکی اور ہاتھیوں پر بھری ہوئی فوجیوں کا ٹڈی دل پوری شان و شوکت اور آن بان کے ساتھ کوئے کعبہ رواں دواں رہا۔

اہل مکہ بھی اس لشکر سے خوفزدہ ہوئے اور خانہ کعبہ کے متولی و نگران حضرت عبدالملطلب نے سرداران قریش کے جلو میں خانہ خدا کے دروازے کی کنڈی پکڑی اور ﷲ تعالی سے مخاطب ہو کر عرض کیا کہ۔۔ اے بارالہ ہم تو اتنی بڑی فوج کا مقابلہ کرنے سے قاصر و معذور ہیں اب تو ہی اپنے گھر کی حفاظت فرما، یہ کہ کر اہل مکہ پہاڑوں پر سدھار گئے اور وادی خالی ہو گئی۔
مکہ کے قرب میں جب اس لشکر نے پڑاؤ کیا تو حضرت عبدالمطلب نے ابرہہ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ ابرہہ کرسی پر بیٹھا تھا، حضرت کی وجاہت و نورانیت سے مرعوب ہوا اور نیچے ہی براجمان ہو گیا۔

چونکہ ابرہہ خود بھی مسیحی عقیدے کا حامل تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پیروکار تھا اس لیے اس کے دل میں خانہ کعبہ کی بابت خوف تھا۔ اس کاخیال تھاکہ حضرت صاحب میرے سے خانہ کعبہ بچانے کی درخواست کریں گے تو ایک سال بیت ﷲ کاحج اور ایک سال اس کی بنائی عمارت کے حج کرنے پر بات طے ہو جائے گی۔ استفسار پر حضرت عبدالمطلب نے کہاکہ آپ کے سپاہیوں میں میرے اونٹ پکڑ رکھے ہیں، مجھے میرے اونٹ واگزار کرا دیجئے۔

ابرہہ سخت طیش میں آ گیا اور گرج کر بولا میں آپکی عبادت گاہ ڈھانے آیا ہوں اور آپ کو اپنے اونٹوں کی فکر ہے۔ حضرت نے فرمایا میں اونٹوں کامالک ہوں اور ان کی فکر کرتا ہوں، اس گھر کا مالک اپنے گھر کی خود فکر کرے گا۔ حضرت کو اونٹ واپس مل گئے۔
یہ لشکر جیسے بھی مکہ، بلدالامن کی طرف بڑھا تو پرندوں کے غول کے غول آ گئے۔ یہ کبوتر کچھ چھوٹے پرندے تھے جن کے پنجے سرخ تھے۔ انہوں نے اس لشکر پر کنکریاں پھینکیں جو انہوں نے اپنی چونچ اور پنجوں میں تھامی تھیں ۔

کنکریوں کے گرتے ہی لشکرمیں خارش کی وبا پھوٹ پڑی اور کل لشکری اتنی شدت سے خارش کرنے لگے کہ ان کی ہڈیوں سے گوشت اترنے لگا۔ کچھ ہی دیرمیں ہاتھیوں پر سوار ہونے والے نخوت زدہ فوجی بڑی ہی کسمپرسی کی حالت میں موت کا شکار ہونے لگے۔
جو جتنی دور تک بھاک سکا بھاگ گیا لیکن عذاب خداوندی کی سخت گیر پکڑ میں جکڑا گیا اور موت کے آسیب نے اسے نگل لیا۔ ہاتھیوں نے اپنی ہی فوج کو روندنا شروع کر دیا۔ ابرہہ کاجوڑ جوڑ گلنے لگا۔ یہ بادشاہ اپنے وطن یمن کے دارالحکومت ’’صنعا‘‘ پہنچ تو گیا لیکن وہاں اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے اور رہتی دنیا تک عبرت یہ نشان بھی اپنے بدترین انجام کو پہنچ گیا۔

اہل عرب میں یہ سال ’’عام الفیل‘‘ کے نام سے مشہور ہوا اور اسی سال محسن انسانیتﷺ کی ولادت مبارکہ بھی ہوئی۔ بعد از اعلان نبوت اﷲتعالی نے سورہ فیل میں قریش مکہ کو باور کرایا کہ جس طرح ﷲ تعالی نے اپنے گھر کی حفاظت کی تھی اسی طرح اپنے نبی کی حفاظت پر بھی ﷲ تعالی مکمل قدرت رکھتا ہے۔
دین اسلام کے دشمن ناکام و نامراد ہوئے اور ﷲ تعالی کا گھر، ﷲ تعالی کا نبیﷺ اور ﷲ تعالی کا دین صحیح سالم و سلامت و باحفاظت رہے۔

آج بھی سیکولرازم اپنے ہاتھیوں جیسے ٹینکوں اور ہوائی جہازوں کے ساتھ دین اسلام و امت مسلمہ پر حملہ آور ہے۔ اس دین اسلام نے قیامت تک زندہ رہنا ہے اور اس کتاب قرآن مجید کی حفاظت خود ﷲ تعالی کی ذمہ داری ہے۔ ﷲ تعالی نے چاہا تو امت مسلمہ کے فرزندان توحید کی یلغار سے یہ سیکولرازم اسی طرح مات کھا جائے گا جسطرح خدائی پرندوں نے ابرہہ کے لشکر کو نیست و نابود کر دیا تھا۔

(انشاﷲ تعالی)