بلاگ

ویک اپ پاکستان!!!

آنکھیں کھولو پاکستان! یہ جگتیں لگانے کا نہیں، جاگنے کا وقت ہے. ہاں یہ تصویر احتیاطی تدابیر کے آغاز کے حوالے سے اچھا آغاز ہے، مگر اصل کام باقی ہے.

ہاں، میں سنجیدہ ہوں، جس "کرونا” نامی آفت سے ہمارا اس بار پالا پڑا ہے، وہ ہر سو سے دو سو سال میں آنے والا قدرت کے نظام کا ایک جھٹکا ہے جو اوپر سے سسٹم کو "ری سیٹ” کرنے کے لئے لگایا جاتا ہے. ایسے ہر جھٹکے میں کروڑوں لوگ کھاد بنتے ہیں، تنومند درخت اکھڑ جاتے ہیں، پہاڑ ریت بن جاتے ہیں اور خاک سے نیا جہان پیدا ہوتا ہے. میرے ہم عصر لوگ جو چوتھے عشرے میں داخل ہو چکے ہیں، ان کی زندگیوں میں دنیا میں آنے والا تقریباً یہ سب سے بڑا بحران ہے. کئی معنوں میں یہ ایک "منی اپاکالپس” یا قیامت صغریٰ ہے، جس کا ہونا کئی اعتبار سے ٹھہر چکا ہے، چہ جائیکہ معجزہ ہوجائے. اللہ کرے ہوجائے.

کرونا سے ہونے والا نقصان، سٹاک مارکیٹ کے مسلسل انہدام کو شامل کرکے 15 ٹریلئین سے کراس کر چکا ہے. اور ابھی پارٹی شروع ہوئی ہے. تازہ ترین تخمینے کے مطابق 500 ملین مزید افراد اس مرض کا شکار ہوں گے. ہاں، اچھی بات ہے کہ اموات کی شرح 2-3 فیصد ہے. تاہم اگر ایک فیصد بھی ساٹھ، ستر، اسی سال سے زائد افراد ہی اس کا نوالہ بنے تو یہ تعداد پانچ کروڑ تک جاسکتی ہے. صرف برطانیہ میں پانچ لاکھ اموات کا اندیشہ ہے اور یاد رہے کہ 7 کروڑ باشندوں کے برطانیہ کا صرف صحت کا بجٹ 140 ارب پاؤنڈز سے زیادہ ہے، مگر حکومت ابھی سے ہاتھ اٹھا چکی ہے.

صرف یہی اندازہ کر لیجیے کہ کرونا کی شدت اور اس کا مالی نقصان دوسری جنگ عظیم کے نقصانات سے بڑھ چکا ہے جب کہ جنگ عظیم پانچ برس جاری رہی تھی اور کرونا وائرس کو ابھی تین مہینے ہوئے ہیں.

یہاں مغرب میں وہ ساری فلمیں چل رہی ہیں جو آج تک ہالی ووڈ کا سائنس فکشن تھا. دو ہفتے قبل جب میں نے ٹوائلٹ پیپر کرائسس پر لکھا تو کچھ دوستوں نے اسے مذاق گردانا. کئی سٹوروں نے اب پولیس بلانی شروع کردی ہے کہ معاملات ان کے بس سے باہر ہوگئے ہیں. بلکہ اب تو یہ بھی کہنا شروع ہوگئے ہیں کہ پولیس ہر جگہ نہیں پہنچے گی. امریکہ میں حالیہ ہفتے میں گنز کی سب سے بڑی تعداد بکی ہے کہ لوگوں کو اپنے گھروں پر حملوں پر حملوں اور خوراک کی چوری کا اندیشہ ہے.

پاکستان اس وقت عین منجھدھار میں ہے. چین سے زیادہ ایران ہمارے لیے بوسہ مرگ ثابت ہوسکتا ہے. اندازے کے مطابق دس ہزار سے زائد زائرین واپس آکر اس وقت پورے ملک میں پھیل چکے ہیں اور ان میں سے کئی ہزار انفیکٹڈ ہوسکتے ہیں. ذہن میں رکھیں کہ تقریبا دس برس کی جنگ اور اربوں ڈالر کا نقصان ایران کی کمر نہ توڑ سکا مگر کرونا نے چند ہفتوں میں اس کی بس کرادی. کبھی کسی نے سوچا تھا کہ طواف کعبہ میں وقفہ آسکتا ہے؟ سعودی 15 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھا چکے آج اس برس حج ہوجانا ہی معجزے سے کم نہیں ہوگا. مصیبت یہ ہے کہ اگلے ایک ہفتے میں مریضوں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ سکتی ہے. اس صورت میں خدانخواستہ ایک ہزار سے ایک ملین تک کا وقفہ بھی چند ہفتوں سے زیادہ نہیں ہوگا. یہ محشر وقت کی گھڑی ہے!!!!

ہم پاکستانیوں میں کچھ چیزیں کمال کی ہیں. ہماری یادداشت گولڈ فش کی مانند ہے اور ہم لمحوں میں چیزیں بھول کر آگے چل پڑتے ہیں. کچھ بھی دل پر نہ لینے کی عادت کی وجہ سے ہم سقوط ڈھاکہ کو بھلا کر یا یاد رکھ کر ایٹم بم بنا پائے، اور اسی طرح جگتیں لگاتے لگاتے طالبان سے متھا لگا کر، لاشیں اٹھاتے اٹھاتے ہم ان سے بازی جیت گئے. تاہم اس دفعہ معاملہ مختلف ہے. یہ ضرور ہے کہ لوٹے کی وجہ سے ہمارے ہاں ٹوائلٹ پیپر پر دنگے فساد کی نوبت نہیں آئے گی.

ہم بحیثیت قوم ہائیجین سے چڑتے ہیں. ہمارا طبی نظام بالکل کچرا ہے. ہم ہدایات ہر عمل نہیں کرسکتے اور نہ ہی نظم ہماری روایت ہے. ہماری اجتماعی نفسیات "خودکشیانہ” ہے اور یہ سارے عوامل، میرے منہ میں خاک، لاکھوں جانیں لے جانے کا سبب بن سکتے ہیں. ہم بلاشبہ دنیا کی نوجوان ترین قوم ہیں، لیکن 5 کروڑ کے آس پاس عمر رسیدہ آبادی شدید رسک پر ہے. غربت اور نااہلی کی وجہ سے ہم ان میں سے دس لاکھ کو بھی نہیں سنبھال سکتے. مغرب سے ڈالرز آسکتے ہیں مگر ہر ایک کو اپنی پڑی ہے. آہنی اور میٹھے بھائی ہمارا ہاتھ بٹا سکتے ہیں، اگر ووہان کے علاوہ کہیں اس وبا نے کہیں اور سر نہ اٹھا لیا!

میں آپ کو ڈرانا نہیں چاہتا، مگر جگانا چاہتا ہوں. خطرہ حقیقی ہے، مگر ڈرنا نہیں، لڑنا ہے. ابھی آپ کے سپر سٹورز پر دھاوا بولا جانے والا ہے. اس وقت پورے برطانیہ میں "پیراسیٹامول” نایاب ہے. آٹا، دالیں اور چاول ختم ہو چکے ہیں. اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دس بندوں کے حصے کا اکٹھا کرلیں، مگر اپنی ضروریات کو پلان کرلیں اور خاص طور پر اگر آپ کے گھر میں اگر ساٹھ برس سے اوپر بزرگ موجود ہیں تو ان کی صحت کے مطابق پلان تیار کرلیں. یاد رہے کہ ہسپتال اس ساری کارروائی میں غیر مؤثر ہیں کہ علاج موجود نہیں سو احتیاط کے علاوہ کوئی علاج کارگر نہیں ہوگا. حکومت پاکستان نے اچھا کیا کہ چھٹیاں کردیں، مگر مت بھولئے کہ یہ تفریحی چھٹیاں نہیں ہیں اور پانچ اپریل سے تین مہینے آگے بھی بڑھ سکتی ہیں. اس ضمن میں حکومت پاکستان کا چین میں مقیم طلباء کو پاکستان نہ لانے کا فیصلہ درست تھا.

یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ تقریباً ہر قسم کا بزنس رلنے والا ہے. اس وقت ہارورڈ کے چوٹی کے ماہرین بھی یہی کہ رہے ہیں کہ اگلے چھ ماہ میں اگر کرونا وائرس کے معاملات درست نہ ہوئے تو دنیا کرنسی اور ای کامرس سے آف ٹریک ہو کر بارٹر ٹریڈ، یعنی گندم دے کر پیاز لینے پر شفٹ ہوجائے گی. اللہ کرے ایسی نوبت نہ آئے اور ماہرین کی زبانوں میں کیڑے پڑیں. وہ تو یہی ڈھول پیٹ رہے ہیں کہ اکیسویں صدی کی دنیا دو ادوار میں تقسیم ہونے جارہی ہے – کرونا سے پہلے اور کرونا کے بعد!

ہاتھ جوڑتا ہوں سیاست دانوں، بشمول نئے اور پرانوں، سب پر لعنت بھیجیں. آنے والے نازک لمحات میں وہ ریت کی دیوار ثابت ہوں گے. اس وقت کورونا حکومت کے لیے اربوں ڈالرز کی امداد لے کر آئے گا، مگر وہ بدقسمتی سے مسکینوں تک نہیں پہنچے گی. اگر کچھ وقت بچتا ہے تو وہ لوگوں کو کورونا سے بچاؤ کی تربیت پر لگائیں، کچھ زندگیاں بچا پائیں گے. لگتا ہے اس طوفان کے گزر جانے کے بعد بہت سی شاخوں پر نئی کونپلیں پھوٹیں گی.

جپھیاں، پپیاں چھوڑیے. تین سے چھ فٹ فاصلے پر رہیں. اپنی ہائیجین کا دھیان کریں. گرمی سے کرونا کا زور ٹوٹنے والی بات ابھی تک تھیوری ہی ہے. جگہ جگہ کھابے ترک کردیں اور ہاتھوں کو بیس سیکنڈ تک دھونے کی عادت ڈالیں. نماز گھر پر پڑھ لیں. اس دفعہ مقابلہ ہندوستان کے ساتھ نہیں ہے، آپ کی اپنی عادات کے ساتھ ہے کیونکہ قدرت پر کسی کا بس نہیں چلتا. باقی تسی مننی تے کسے دی ہے کوئی ناں! بادشاہیاں قائم، بھاگ لگے رہن! سلامت رہیں، شاداب رہیں!

عارف انیس