اسلام معلومات

دیوار گریہ (Wailing Wall)

یہودی دیوار گریہ کے ساتھ کس لئے آہ و زاری کرتے ہیں؟بنیادی پتھر کیا ہے؟یہودی عقائد و عبادات:یہودیوں کی با جماعت عبادت اور قبلہ:شجر غرقد کیا ہے؟جنت البقیع کا پرانا نام بقیع الغرقد کیوں تھا؟یہودی کیوں ہر جگہ دھڑا دھڑ شجر غرقد کی شجرکاری کررہے ہیں؟یہ وہی دیوار ہے جسے مسلمان دیوار براق کہتے ہیں۔ یہودی روایات کے مطابق اس دیوار کی تعمیر حضرت سلیمان ۴ نے کی اور موجودہ دیوار گریہ اسی دیوار کی بنیادوں پر قائم ہے۔ یہ مقام دنیا کے قدیم ترین شہر یروشلم (بیت المقدس) میں واقع یہودیوں کی ایک انتہائ اہم یاد گار اور مقدس ترین مزہبی مقام ہے۔ جس کے زمانہ رونا گڑگڑانا اور گریہ و زاری کرنا یہودیوں کا انتہائ اہم مذہبی فریضہ ہے۔ ان کے عقیدے کے مطابق یہ دیوار دراصل تباہ شدہ ہیکل سلیمانی کا باقی رہ جانے والا حصہ ہے۔ دو ہزار سال قبل بھی یہودی اس دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر گریہ و زاری کرتے تھے۔ بطور احترام ان کے لئے اس دیوار اور عبادت گاہ کے قریب یرملکا (Yarmulke) پہننا ضروری ہوتا ہے۔ یرملکا وہ چندیا پر منڈھی چھوٹی ٹوپی جو یہودی مرد پہنتے ہیں جس کو عبرانی زبان میں کپا ( Kippah) بھی کہا جاتا ہے۔ یہودی اس دیوار کے سامنے گریہ و زاری کر کے ہیکل سلیمانی کی تباہی پر اپنے دکھ اور پچھتاوے کا اظہار کرتے ہیں ۔یہ دیوار 488 میٹر طویل اور مختلف مقامات پر اس کی کم از کم بلندی 19 میٹر اور زیادہ سے زیادہ تقریبا” 40 میٹر ہے۔ اس دیوار کے مغرب کی طرف ایک تنگ گلی نما راستہ ہے جو کو البراق ایلی (ALBURAQ ALLEY) کہا جاتا ہے- یہ گلی 36 میٹر طویل اور صرف 3.6 میٹر چوڑی ہے- مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق یہی وہ جگہ ہے جہاں براق کی سواری اتری تھی- دیوار گریہ پتھروں کی کل 45 تہوں پر مشتمل ہے جن میں 28تہیں زمین کے اوپر جبکہ 17 تہیں زمین کے نیچے ہیں۔ اس دیوار میں چار قدیم گیٹ اور کچھ نئے گیٹ بھی موجود ہیں –

پوری دنیا سے یہودی اس دیوار کے سامنے گریہ کرنے آتے ہیں اور ان کے لئے یہ مسلمانوں کے نزدیک خانہ کعبہ جتنی اہمیت و عظمت رکھتا ہے۔ جو یہودی کسی وجہ سے دیوار گریہ تک رسائ نہیں رکھتے ان کے لئے اسرائیلی حکومت کی طرف سے ایک ویب سائٹ پر چوبیس گھنٹے دیوار گریہ کے مناظر لائیو نشر کئے جاتے ہیں جس پرآپ دنیا کے کسی بھی ملک سے گریہ و دعا کر سکتے ہیں۔

اسلامی نقطہ نظر:مسلمان اس دیوار کو دیوارِ براق کہتے ہیں۔دو وجوہات کی بنا مسلمان اس دیوار کو مقدس کہتے ہیں۔ پہلی تو یہ کہ اس دیوار کو الإسراء والمعراج سے نسبت ہے، شبِ معراج میں حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی براق یہیں آکر رُکی تھی۔

بنیادی پتھر:یہودیوں کی مقدس ترین عبادت گاہ یا قدیم ترین سناگاگ اس دیوار کے عین پیچھے واقع ہے جسے بنیادی پتھر یا مقدس پتھر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے قریب ہی یہودیوں کا مقدس ترین کنیسہ ہے، جس کو بنیادی پتھر کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر یہودی ربیوں کے مطابق اس مقدس پتھر کے اوپر، کوئی یہودی پیر نہیں رکھ سکتا اور جو ایسا کرتا ہے، عذاب میں مبتلا ہوجاتا ہے بہت سے یہودیوں کے مطابق وہ تاریخی چٹان جس پر قبۃ الصخرۃ واقع ہے، مقدس بنیادی پتھر ہے۔ جبکہ کچھ یہودیوں کے عقیدے کے مطابق یہ مقدس بنیادی پتھر دیوارِ گریہ کے بالکل مخالف سمت میں واقع الکاس آبشار کے نزدیک ہے۔ یہ مقام مقدس ترین مقام تھا، جب مقدس معبد قائم تھا۔ یہودی روایات کے مطابق دیوارِ گریہ کی تعمیر داؤد نے کی تھی اور موجودہ دیوارِ گریہ اُسی دیوار کی بنیادوں پر قائم کی گئی تھی، جس کی تاریخ ہیکلِ سلیمانی سے جاملتی ہے۔یہودی عقائد:حالانکہ یہودیت ميں كئی فقہ شامل ہيں، سب اس بات پر متفق ہيں کہ دين كی بنياد بيشک نبی موسٰی نے ركھی، مگر دين كا دارومدار تورات اور تلمود كے مطالعہ پر ہے، نہ كہ كسی ايک شخصیت كی پیروی کرنے پر۔

تورات:یہودیت كی يہ سب سے مقدس كتاب قديم عبرانی زبان ميں ہے۔ اس كے پانج اجزاء ہيں جن كو موسٰی علیہ السلام كی پانچ كتابيں” بھی کہا جاتا ہے چونكہ عقيدہ كے مطابق صرف يہ پانچ موسٰی پر نازل ہوئی تھيں اور تناخ كے باقی حصے اللہ نے اور پيغمبروں يا عام انسانوں كے ذمے لگائے تھے۔

تورات ميں كائنات اور انسانی تخليق كا قصّہ درج ہے جو آدم اور حوّا سے شروع ہوتا ہے، نوح اور سيلاب كا بيان ديتا ہے اور پھر ابراہیم كی رسالت، بياہ اور بيٹوں كا قصہ بيان كرتا ہے۔ تورات كی اس کہانی كا مقصد يہ بيان كرنا ہے كہ اللہ نے ابراہیم سے ايک وعدہ يا معاہدہ كيا تھا كہ تم ميری عبادت كرو اور ميرے احكامات كی پيروی كرو اور ميں تمہاری نسل ميں سے بڑی بڑی قوميں پيدا كروں گا۔
آج یہودیت ميں يہ عہد بہت اہميت ركھتا ہے اور اسی كے بل بوتے پر اس دين كے ديگر اعمال مبنی ہيں۔ مثلاً مردوں پر ختنہ كی رسم فرض ہے، جو اسلام ميں سنتِ ابراہیمی کہلاتی ہے، چونكہ وہ اسی معاہدے كی علامت سمجھی جاتی ہے۔ جو اس رسم كو پورا نہ كرے وہ ہالاخا (یہودی شرع) كے مطابق یہودی نہیں ماناجاتا۔

قوم كی تاريخ كے علاوہ ان پانچ كتابوں ميں احكامات بھی شامل ہیں۔ خصوصا وہ "دس احكامات” (Ten Commandments) جن كا مغرب ميں چرچا رہتا ہے۔ تورات میں کل 613 احکامات مندرج ہیں جو شرع اورقوانین، معاشرے اور اخلاقیات سے تعلق رکھتے ہیں۔
عبرانی زبان ميں "تورات” كے لغوی معنے ہيں سبق۔ چنانچہ تورات ميں وہ کچھ شامل ہے جس سے ايک دينی قوم كو سبق ہو اور جس پر تاريخ اور شریعت كی بنياد کھڑی ہو ـ

عبادات:یہوديوں پر روز كی عبادت فرض ہے۔ مگر ايک یہودی خاندان كا پورا ہفتہ شابات (سبت) كے 26 گھنٹوں كی تياری اور انتظار ميں گزر جاتا ہے كيونكہ وہ 26 گھنٹے پوری طرح عبادت كے لیے وقف ہوتے ہيں۔شابات (سبت) كا آغاز جمعہ كی شام سورج كے ڈھلنے پر ہوتا ہے اور اختتام ہفتہ كی رات كو تين ستارے نظر آنے پر۔ اس عبادت کے دوران دين كے پيروكار مندرجہ ذیل پرھیز کرتے ہیں۔
– پيسے كمانے والے كام نہیں كرتے- پيسوں كے ذكر سے پرہيز كرتے ہيں- بجلی كو نہیں چھيڑتے يعنی جو بتياں جلی ہيں ان كو بجھاتے نہیں ہيں اور بجھی بتيوں كو جلاتے نہیں ہيں- آگ سے آگ نہیں جلاتے يعنی چولھا بند رہتا ہے- گاڑی نہیں چلاتے– اور ديگر پابندياں

روز کی عبادات:روز کی تین عبادات مقرر ہیں جن میں سے صبح اور دوپہر کی فرض ہیں اور شام کی اپنے آپ پر واجب کی جا سکتی ہے ـ یہودیت میں دیگر احکام اس وقت تک اختیاری ہوتے ہیں جب تک انسان ان کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے کی نیت نہ کر لےـ اس نیت کے بعد وہ واجب ہو جاتے ہیں اور ان میں اور فرائض میں کوئی فرق نہیں رہتا ـ

تمام عبادات فرداً بھی ادا ہو سکتی ہیں اور باجماعت بھی تاہم باجماعت ادا کرنے میں فضیلت ہے خصوصاً اس لیے کہ جماعت جب اکٹھی ہو جائے تو وہ خدا کے دربار میں بطور بنی اسرائیل حاضر ہوتی ہے ـ جماعت کو پورا ہونے کے لیے کم از کم دس افراد کی ضرورت ہے ورنہ ایک ساتھ رہ کر بھی عبادت فرداً ہی قبول ہوجاتی ہے ـ یہودیت کے کئی مذاہب میں دس مردوں کو جماعت مانا جاتا ہے اور کئی میں دس افراد کو، خوا وہ مرد ہوں یا عورتیں ـ یہودی عبادتگاہ کو یونانی میں سناگاگ Synogogue انگریزی میں شول Shul جبکہ عبرانی میں بیت تفیلہ ( عبادت گاہ) یا بیت کنیست (جماعت خانہ) بھی کہا جاتا ہے۔

عموماً ہر شول میں ایک بڑا سا کمرہ ہوتا ہے جس میں جماعت اکٹھا ہوتی ہے، دو تین چھوٹے کمرے ہوتے ہیں اور کئی میں درسِ تورات کے لیے ایک الگ کمرہ ہوتا ہے جس کو بیت مِدراش کہتے ہیں ـ بڑے شولوں میں اکثر مِقواہ بھی موجود ہوتا ہے جو غسل کے لیے ہوتا ہےـ

شول کی جو دیوار یروشلم کی طرف ہوتی ہے، اس کے ساتھ ایک الماری لگی ہوتی ہے جس کو ارون قودیش کہا جاتا ہےـ اس میں تورات کا مٹھا (scroll) رکھا جاتا ہےـ اس کو صرف خاص مواقع پر ارون سے نکالا جاتا ہے چونکہ جب بھی تورات سامنے ہو تو اس کو پیٹھ نہیں کی جا سکتی ـ

جماعت تورات اور یروشلم کی طرف رخ کر کہ عبادت کرتی ہے جس طرح ہم مسلمان کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے ہیںـ مرد اور عورتیں الگ بیٹھتے ہیں ـ کئی میں مردوں اور عورتوں کی جماعتی ساتھ ساتھ بیٹھتی ہوتی ہے اور ان کے بیچھ میں پردہ کھینجا ہوا ہوتا ہےـ کئی شولوں میں عورتوں کی جماعت مردوں کے پیچھے ہوتی ہےـ تقلید پسند شولوں میں عورتوں کی جماعت مردوں کے پیچھے ایک بالکونی میں بیٹھتی ہےـہال کے بیچ میں ایک منبر سا ہوتا ہے جس پر سے تہواروں پر توارت سے خزّان تلاوت کرتا ہے اور حاخام درس دیتا ہےـ

شاخاریت فجر کی عبادت ـ یہ سب سے لمبی اور دن کی سب سے اہم عبادت ہوتی ہے ـ اس کے چھ حصے ہیں ـ پہلے حصہ میں علما کی تفسیریں پڑھی جاتی ہیں ـ دوسرے میں توریت اور زبور کے اجزا پڑھے جاتے ہیں ـ تیسرے میں شماع پڑھی جاتی ہے، جو اس عبادت کا سب سے اہم حصہ ہے کیونکہ اس میں پوری قوم بنی اسرائیل کو پکارا جاتا ہے کہ وہ توحید کی شہادت دےـ اس کے بعد آمیدہ پڑھی جاتی ہے اور پھر مسیحا کی آمد کی دعا کی جاتی ہے جو زبور میں سے پڑھی جاتی ہے ـ آخر میں بنی اسرائیل کے فرائض کو دُہرایا جاتا ہے اور توحید کی شہادت بھی دہرائی جاتی ہےـ مِنخا دوپہر کی عبادت : اس میں آمیدہ پڑھی جاتی اور تہواروں پر توریت کا جز بھی پڑھا جاتا ہے ـ معاریب مغرب کی عبادت ـ اس میں شماع اور آمیدہ پڑھی جاتی ہیں ـ

یہودیوں کا مقدس درخت:شجر غرقد ( Lycium،boxthorn) کئی نام ہیں جن میں شجر یہود گونگا درخت یا یہود کا پاسباں درخت عام ہیں غرقد ” ایک جنگلی درخت کا نام ہے جو خاردار جھاڑی کی صورت میں ہوتا ہے، مدینہ کا قبرستان جنت البقیع کا اصل نام بقیع الغرقد اسی لیے ہے کہ جس جگہ یہ قبرستان ہے پہلے وہ غرقد کی جھاڑیوں کا خطہ تھا۔ جو مدینہ کے اطراف، صحراوں میں پایا جاتا تھا۔ نبی کریم (ص) نے اس میدان کو غرقد سے پاک کروادیا تھا۔

ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ کریں اور مسلمان انہیں قتل کر دیں یہاں تک کہ یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپیں گے تو پتھر یا درخت کہے گا اے مسلمان اے عبد اللہ یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کردو سوائے درخت غرقد کے کیونکہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے۔ یہودی نبی کریم (ص) کی اس حدیث پر من و عن یقین رکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ یہودی دنیا میں ہر جگہ غرقد کی شجر کاری کو پروموٹ کرتے ہی۔اس کے لئے باقاعدہ فنڈز قائم کئے گئے ہیں اور غرقد کے درخت کی تصاویر پر مبنی ٹی شرٹس ، مگ ، جھنڈے، اور تصاویر تقسیم کی جاتی ہیں۔
ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ یہودیوں نے گولان کی پہاڑیوں کو فتح کرنے کے بعد وہاں غرقد کی کاشت کردی ہے جبکہ افغانستان میں بھی اپنے قدم جمانے کے بعد وہاں خاموشی سے غرقد کاشت کئے جارہے ہیں ۔ اسرائیل نے بھارت کو بھی اپنے ملک کی تمام بنجر اراضی پر غرقد کی کاشت کرنے کے لئے کثیر رقوم دی ہیں۔اسرائیلی حکومت پچھلے 40سالوں سے غرقد کی شجرکاری میں مصروف ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اسرائیل میں 2010 تک 24 کروڑغرقد کے درخت لگائے جاچکے ہیں ۔ مختلف ویب سائٹس اور وکیپیڈیا سے مدد لی گئ۔