بلاگ معلومات

وائرس اور اس کی اقسام

بیکٹریا جو کہ ایک زندہ خلیہ ہوتا ہے اور یہ انسانی جسم کے لئے نقصاندہ زیریلے اور فائدے مند دونوں قسم کے کیمیائی مادے بنانے کی مہارت رکھتا ہے اور اپنی آبادی بھی بڑھانے کے لئے اپنے ہی جسم سے دوسرے بیکٹریا تخلیق کرتا ہے. اس لئے کچھ بیکٹریا انسانوں کو فائدہ بھی پہنچاتے ہیں لیکن وائرس کسی زندہ خلیے سے دور رہنے پر سویا ہی رہتا ہے جیسے ہی اس کو کوئی زندہ خلیہ میسر آتا ہے یہ اس خلیے کی نازک سیل وال کو کھانے لگتا ہے اور ہر صورت زندہ خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے.

وائرس ایک ایسا جرثومہ ہے جو جسم کے خلیے میں داخل ہو کر اپنی نقلیں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے. یہ ایک خاص پروٹین capsid میں لپٹا ہوتا ہے. یہ مختلف چیزوں ہوا پانی اور دیگر دوسری اشیا میں پڑا سویا پڑا رہتا ہے لیکن اس کو ہمیشہ ایک زندہ خلیہ کی تلاش رہتی ہے جیسے ہی اسے موقع ملتا ہے تو وہ زندہ خلیے تک پہنچ کر اس میں لگی جسم کے لئے کیمیکل بنانے کی فیکٹری کو اپنی ہی نقلیں copies بنانے کے لئے بہت تیزی سے استعمال کرتا ہے. اس وائرس سے متاثرہ خلیہ اس ایک وائرس کی کئی ہزار کاپیاں برق رفتاری سے بنانے کے لئے استعمال ہو جاتا ہے.

اقسامِ وائرس: وائرس اپنی معلومات یا جام کرنے کا کوڈ اپنےجنیٹک مادے یعنی رائیبو نیوکلیک ایسیڈ RNA یا پھر ڈی آکسی رائیبو نیوکلیک ایسیڈ DNA میں محفوظ رکھتے ہیں اسی بنیاد پر ان کو دو اقسام RNA Virus اور DNA Virusمیں تقسیم کیا جاتا ہے یہ دونوں اقسام کےوائرس ایک بےحد مضبوط پروٹین کے حفاظتی خول capsid میں بند ہوتے ہیں اور یہی خول cover ایک وائرس کو کسی زندہ جسم کے اندر داخل موجود بیماریوں سے لڑنے کے دفاعی نظام سے بچاتا ہے. DNA Virus زندہ خلیے کے مرکزے نیوکلیس میں گھس کر اور قبضہ کر کے اس خلیے کو اپنی نقلیں بنانے کام لاتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے RNA Virus پہلے خود کو نیوکلیس میں خلیے پر اپنا پروگرامنگ کوڈ نقل کرتے ہیں اور خلیے میں نیوکلیس کے گرد موجود سائٹوپلازم کی مشینری کو اپنی نقلیں تیار کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں.

مزید پڑھیں: جھلسی ہوئی جلد کے لیے دہی کا استعمال۔

وائرس انسانی جسم میں تمام داخلی راستوں سے اندر گھس سکتا ہے , یہ سانس لینے کے عمل میں آبی بخارات کے ذریعے, کھانے پینے کی چیزوں میں شامل ہو کر, لعاب دہن سے بھی , ایک ماں سے بچے کو, بول و براز سے , جنسی مل میں اور خون کی منتقلی میں بھی انسانی جسم میں داخل ہو جاتے ہیں . گو کہ جسم کا دفاعی نظام زیادہ تر وائرس سے تیزی سے لڑ کر ان کا خاتمہ کر دیتا ہے خون کے سفید خلیے ان وائرس کو تیزی سے دبوچتے ہیں اور لیمفو سائٹس خلیے ان کے خلاف اینٹی باڈیز کو بھی پیدا کرکے زیادہ تر چند دنوں میں ہی وائرل حملے کو ناکام بنتے ہیں اور دوبارہ ان وائرس کے پیدا ہونے والی بیماری کو ہونے نہں دیتے. لیکن اگر دوبارہ وہی وائرس جسم کے دفاعی نظام کو دھوکا دے کا اندر ہوجاتا ہے تو پھر سخت قسم کے انفیکشن کا باعث بنتا یے.

وائرسی امراض: اسمال پوکس Smallpox, چکن پوکس اور جنسی بیماری ہرپس herpes genitalia جیسے امراض DNA قسم کے وائرس سے متاثر ہونے سے پیدا ہوتے ہیں جبکہ ہیپاٹائٹس سی HCV , ایڈز , ایبولا, سارس عام کولڈ و انفلوئنزہ , پولیو اور میزلز جیسی بیماریاں RNA قسم کے وائرس سے پیدا ہوتی ہیں .