ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

وِلن سے محبت پیداکرنے والے

دنیا بھرمیں ڈرامہ، افسانہ، ناول کی ایک اپنی طویل داستان ہے. عمومی طورپرمحبت کی لازوال داستانوں سے ان اصناف کی روایت نے جنم لیا ہے. یہ داستانیں دنیا کے ہرمعاشرےمیں سینہ بہ سینہ لوگوں کومنتقل ہوتی رہی ہیں. مشرق کے معاشروں کا کمال یہ تھا کہ ان میں داستان گوافراد کا ایک تسلسل تھا جویہ قصے کہانیاں لوگوں کوسناتا تھا. مدتوں بعد علاقائی زبانوں کے عظیم شعراء نے ان کہانیوں کوخوبصورت انداز میں تحریرکرکے ابدی شکل دے دی. لوگ ان کی شاعری اورگانے سنانے لگے، جیسے برصغیرمیں ہیررانجھا، مرزا صاحباں، سسی پنوں وغیرہ. اسی طرح ایران کی شیرین اورفرہاد، سرزمینِ عرب کا مجنوں اورلیلیٰ جیسی داستانیں ان شعراء کی شاعری میں ڈھلیں‌ تو لازوال ہوگئیں. کہا جاتا ہے کہ اگریونان کے رومانوی اثاثے کوشیکسپیئراپنے ڈراموں کے کرداروں میں نہ ڈھالتا تورومیوجولیٹ کے کردارکہاں‌ امرہوسکتے تھے. ان تمام داستانوں‌ میں بنیادی طورپرتین کردارہوتے تھے، ہیرو، ہیروئن اوروِلن. یعنی ایک منفی اوردومثبت کردار. ہیروپڑھنے والوں کی محبت سمیٹتا اوروِلن کا کردارایسا تخلیق کیا جاتا کہ ساری نفرتیں اس کے حصے میں‌‌ آتیں. یہ داستانیں آہستہ آہستہ پتلیوں کے تماشوں‌ اوراسٹیج ڈراموں کے ذریعے عوام کی تفنن طبع کا باعث بننے لگیں. ڈرامے کا فن اس قدرترقی کرگیا کہ کوئی معاشرہ اس سے خالی نہ رہا. ڈرامہ آرٹسٹ عوام میں مقبول ہونے لگے. ریڈیا آیا توصوتی اثرت کے تحت ڈراموں کوآوازوں اورآہنگ میں قید کرکے ایک نئی دنیا تشکیل دے دی گئی. یہ بڑے کمال کی دنیا ہے. اس میں‌‌ آدمی صرف کرداروں کے مکالمے سنتا ہے، اس کے بعد جس کے ذہن میں جیسا ہیرو یا وِلن ہوگا وہ انہیں‌ ویسا ہی سوچے گا. خوبصورت ہیرو، بدصورت وِلن، دونوں کے چہرے سننے والے کی سوچ پرمنحصرہوگئے. لیکن جیسے ہی سیلولائیڈ فلم آئی تویہ سب کردرافنکاروں کی صورت میں لوگوں کے دلوں اورذہنوں پرنقش ہونے لگے. یوں ایک فنکاروِلن کی صورت زندہ رہا تودوسرا ہیروکی طرح .محمد علی ہیروتوپرویزاسلم وِلن، سلطان راہی ہیروتومصفیٰ قریشی وِلن، دلیپ کمارہیروتوپران وِلن. ہرپرستارہیروکی طرح اپنا لباس اوررکھ کھاؤبنانے کی کوشش کرتا. حجاموں کی دکانوں پربالوں کے ڈیزائن بنانے کے لیے ہیروز کی تصویریں لگتی تھیں. عموماً دیکھنے میں آتا کہ گلی محلے کے بدمعاش ویسا ہی لباس پہننے لگے اورویسی ہی چال ڈھال اختیارکرنے لگے جیسے مظہرشاہ اورسطان راہی. فلمی وِلن کے انداز ڈاکوؤں، چوروں اوربدمعاشوں میں بہت مقبول ہوئے.

س ساری تاریخ میں ایک بات مسلم تھی کہ ہیروہمیشہ ہیروہوتا ہے، ہرخوبی کا مالک لیکن وِلن ہمیشہ وِلن ہوتا ہے، ہربرائی کا امین. بالکل آدم وابلیس یا پھررام اورراون کی طرح. لیکن جیسے جیسے معاشروں میں نیکی کی بجائے بدی اورشرکی قوتوں نے پذیرائی حاصل کرنا شروع کی تووِلن کے کردارسے بھی محبت پیدا کرنے والے ادیب پیدا ہوگئے. یہ بھی معاشرے کا عکس تھے. انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ صرف مثبت ہی نہیں منفی کرداربھی اب محبتیں سمیٹ رہا ہے. انہوں نے ایک ایسے تصورکواپنی کہانیوں اورڈراموں کا موضع بنایاکہ ہروِلن کے اندرایک ہیرواورہربرے شخص کے اندرایک نیک انسان چھپا بیٹھا ہے. رابن ہڈ کا تصورعام ہوا، ایک ایسا ڈاکوجوامیروں کولوٹتا اورغریبوں کی مدد کرتا. میرے بچپن کے شہرگجرات کے قلعہ کی دیوارپرایک چھوٹا سا مجسمہ تھا جسے ٹھنڈا چورکہا جاتا تھا. جس کے بارے میں یہ مشہورتھا کہ وہ امیرلوگوں کے ہاں چوری کرتا اورغریبوں کی مددکرتا. ایک دن قلعہ میں چوری کرنے گھسا تومارا گیا. لوگوں نے اس بلند فصیل کے اوپرٹھنڈے چورکا مجسمہ نصب کردیا. سعادت حسن منٹونے ایسے کردارتخلیق کیے جن میں‌ طوائف اوربدمعاش انسانیت کے اعلیٰ درجے پرفائزنظرآتے ہیں. آہستہ آہستہ یہی بدمعاش ہماری فلموں کے ہیرو اورطوائفیں ہیروئن بننے لگیں. مارلن برانڈو جس کردارکواداکرنے کے بعد عالمی شہرت پرپہنچا وہ مافیا کے سربراہ “گاڈفادر” کا کردارتھا. اس سارے عمل کومیڈیا کی زبان میں‌ “Glorify” کرنا یعنی کسی کردارکواس طرح بڑھا چڑھا کرپیش کرنا کہ لوگ اس کی طرف راغب ہوں، وہ پرعظمت لگے، لوگوں کواس مین کوئی عیب یا برائی نظرنہ آئے.

متعلقہ مضامین

گیارہ ستمبرکے ورلڈ ٹریڈ سنٹرسانحے کے بعد سے دنیا بھرکی حکومتوں اورمیڈیا کے خودساختہ قائدین نے ایک پابندی عائد کررکھی ہے کہ کسی دہشتگردکو، اس کے نظریئےکو یا اس کے حمایتی افراد کومیڈیا پرایسے پیش نہیں کرنا کہ وہ Glorify ہوسکیں، یعنی ان کی عظمت اوربزرگی میں اضافہ ہوجائے. اسامہ بن لادن سے لے کرملا عمرتک سب کے سب مکمل طورپرمنفی کرداربنا دیئے گئے. حالانکہ تاریخ میں ان کرداروں کی مماثلت اپنے وطن کی آزادی کی جدوجہد کرنے والے عظیم لیڈروں اوردوسرے ملک میں جاکراستعماری قوتوں سے لڑنے والے لازوال کرداروں سے تھی. مہدی سوڈانی سے ہوچی منہ اورسبھاش چندربھوس تک اپنے ملکوں میں ملا عمرکی طرح غیرملکی قبضے کے خلاف لڑتے رہے جکہ چی گویرا، ژاں‌پال سارتراورڈیگال کی مثال اسامہ بن لادن کی طرح ہے جودوسرے ملک جا کران کی آزادی کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرتے رہے. لیکن دہشت گردوں کو “Glorify” نہ کرنے کے اصول پرعمل کرتے ہوئے ان کوایسے بنا کرپیش کیا گیا جیسا یہ معاشرے کا ناسورہوں.

نیا میں بددیانت، چور، کرپٹ اورنااہل حکمرانوں کوبھی معاشرے کا ناسوربنا کرپیش کیا جاتا رہا ہے. لیکن دنیا بھر کا میڈیا اس معاملے میں ایک بہت بڑا فرق رکھتا ہے. آمراورڈکٹیٹر، شاہ ایران، مارکوس، پنوشے، سنی آباچا، عیدی امین وغیرہ اگرکرپشن کریں، قومی خزانے کولوٹیں، بیرونِ ملک جائیدادیں بنائیں تویہ معاشرےکا وہ مکروہ کردارہیں جنہیں کسی طوربھی عزت نہیں ملنی چاہیے. لیکن اگرکوئی جمہوری حکمران ان سے زیادہ بھی کرپٹ اوربددیانت نکل آئے تواسے بددیانت توکہا جاتا ہے لیکن جمہوری نظام کی بقاء کے لیے اسے دلوں پرراج کرنے والابنا کرپیش کیا جاتا ہے. یہیں سے ان میڈیا مینجروں نے یہ تصورعام کیا ہے کہ ایک جمہوری طورپرمنتخب شخص‌ کا احتساب صرف عوام ہی کرتے ہیں اوروہ بھی الیکشن کے ذریعے. یعنی گھر، بینک، پلازہ یا سرکاری دفترمیں ڈاکہ مارنے والوں‌ کوپولیس پکڑے، تواسے عدالتیں سزادینے کی مجازہیں. لیکن اگروزیراعظم سے لے کرعام عوامی نمائندے تک کوئی چوری کرے تواس کوووٹ کی طاقت سے سزادی جائے. یہ وہ بیانیہ ہے جوجمہوری طورپرمنتخب ہوکرچوری کرنے والے، عوام کے پیسے پرڈاکہ ڈالنے والوں کو”Glorify” کرتا ہے. کوئی میڈیا میں بینک میں فراڈ کرنے والے کے حق میں نہیں‌ بولتا، کوئی اسے بددیانت سرکاری افسرکے حق میں نہیں بولتا جس نے آمدن سے زیادہ اثاثے بنائے. لیکن سپریم کورٹ جس شخص کوبددیانت کہ دے جھوٹا بتائے، کہے کہ اس کے اثاثے آمدن سے زیادہ ہیں لیکن پھربھی اس کے حمایتی روز کالموں اورٹاک شوز میں اس کا دفاع کررہے ہوتے ہیں. کیا میڈیا کسی بنک ڈکیتی کے مجرم کی کوئی ایسی ویڈیودکھا سکتا ہے جب وہ رہا ہوا تھا تواس کے گھروالوں نے پھولوں کے ہاروں سے اس کا استقبال کیا تھا. لیکن نواز شریف کومسلسل تین دن اسلام آباد سے لاہورتک دکھایا جاتا رہا، Glorify کیا جاتا رہا. آصف زرداری کے جیل سے نکلتے ہوئے وکٹری کے نشان سے لے کرشرجیل میمن پرپھولوں کی پتیاں نچھاورکرنے تک یہ سب کیا ہے. جرم کی پذیرائی ہے، مجرم کی عزت افزائی ہے اوراس میں سب سے بڑا کردارمیڈیا کا ہے جوجسے چاہے بلیک آؤٹ کردے اورجسے چاہے چوبیس گھنٹے دکھاتا رہے. جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے.

کالم: اوریا مقبول جان

تبصرے
Loading...