بلاگ

ویاگرا کے پہلوان!

 

رات کے دو بجے ایک پرائیویٹ ھسپتال کی ایمرجنسی میں ایک 50 سالہ شخص کو لایا جاتا ہے جسے دل کا دورہ پڑا ہے- اس کی بیوی اور بھائ اس کے ساتھ ہے- ڈاکٹر طبی معائنے اور طبی امداد دینے کے دوران مریض سے اس کے زیر استعمال ادویات کے بارے میں استفسار کرتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ مریض بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کا مریض ہے- مزید سوالات پر مریض ھچکچاتے ہوئے بتاتا ہے کہ اس نے جنسی ھیجان بڑھانے والی دوا استعمال کی تھی اور بیڈ روم میں بیگم پر مردانگی کی دھاک بٹھانے کے چکر میں بیگم کا جیارا ڈرانے سے پہلے دل کچھ زیادہ ہی دھک دھک کرنے لگا – ایکشن سے پہلے ری ایکشن ہوگیا—- اور نتیجتا” بجائے کاما سترا کے پینترے آزمانے کے دل پر ایسا دھوبی پاٹ پڑا کہ بیگم کو الٹے سیدھے ایمرجنسی میں اپنے پہلوان جی کو ھسپتال لے کر بھاگنا پڑا—
اس وقت پاکستان میں جنسی ھیجان پیداکرنےوالی گولیاں مختلف ناموں مثلاویاگرہ۔ویگاسگنیچر۔پینیگرا۔زیگرا۔لیویٹراوغیرہ وغیرہ بہت سےناموں اوربہت سےرنگوں میں دستیاب ھیں ان میں سائیلس۔سلڈینافل۔ٹائیلڈینافل وغیرہ سالٹ پائےجاتےھیں۔ان سب کاکام ایک ھی ھےجنسی اشتعال۔ھیجان۔انتشارپیداکرنا۔
کبھی کراچی کی جامع کلاتھ مارکیٹس جہاں میمن مسجد ہے اور سامنے لائٹ ہاوس ہے چکر لگے تو سیکس کی ادویات کے سٹالز لگے ہیں سینکڑوں کے حساب سے. .وہاں پر انڈیا برازیل امریکہ یورپ سے سمگل شدہ ادویات باآسانی دستیاب ہین اور سیکسی عریاں تصاویر سے سجے یہ اسٹالز ایک نائٹ کلب کا منظر پیش کرتے ہیں تصاویر دیکهر ہی کچهہ ہونے لگتا ہے فل عریان…جزبات کو بهڑکانے والی. ..بچے بوڑهے جوان سب خریدار ہوتے ہیں. …
اصل میں یہ دوائیاں 40سال سےزیادہ عمرکےلوگوں کےلئےایجادھوئی تھیں لیکن وطن عزیزمیں ان کااستعمال 15سال کی عمرسےدیکھنےمیں آیاھےجنسی بےراھروی عام ھےھمارانوجوان پورن فلمیں دیکھ کر اپنے سفلی جذبات کی تسکین کےلئے جائزوناجائزکی تمیزبھلاکرتمام ذرائع استعمال کرتاھےلیکن بلیوفلم جیساسین نہیں کرپاتاتواحساس کمتری کاشکارھوجاتاھےاورپھروہ ایسی ادویات کی تلاش میں بھٹکتاھواویاگرہ تک پہنچتاھےجوکہ اب نہایت آسانی سےمیڈیکل سٹورز۔جنرل سٹورزبلکہ بعض چائےوالےھوٹلوں تک پربھی بآسانی ارزاں نرخوں میں دستیاب ھے۔
اس دوائی کےاستعمال سےجسم خصوصااعضاءتناسل کی طرف خون کی گردش تیزھوجاتی ھےجس سےانتشارمیں زیادتی اوردوران جماع ایک مرتبہ انزال کےبعدفورا دوبارہ انتشارپیداھوجاتاھے۔فریق مخالف پراپنی مردانگی کی دھاک بٹھانےکےچکرمیں یہ قوم کہاں سےکہاں جاپہنچی ھے۔ ان ادویات سے دل دماغ گردے اور جگر بہت بری طرح متاثر ہورہے ہیں لیکن حال یہ ہے کہ لوگوں کو پراہ نہیں—- ایک طبی پیج پر ایک حکیم بلکہ اتائ کی جنسی طاقت میں ببر شیر بنانے والی دوا جس میں پارہ اور کچلہ ریچھ کی چربی گینڈے کا سینگ شیر کے کپورے ریگ ماہی مشک و عنبر وغیرہ سمیت دیگر انتہائ مضر ترین اشیا شامل تھیں کے لچھے دار فوائد بیان کئے گئے تھے کہ جن کے سامنے کروز میزائل بھی شرمندہ ہو کر منہ چھپا لے—- اور ٹام کروز خودکشی کرلے- کے کمنٹس میں ایک صاحب پوچھ رہے تھے کہ میرا ایک گردہ ناکارہ ہے- ایک گردے پر جی رہا ہوں- کیا میں یہ دوا استعمال کرسکتا ہوں؟ تو یہ حال ہے ہمارے مرد حضرات کا—- دل کے مریض—- شوگر ھائ—— بلڈ پریشر—- گردے کمزور—— جگر ناکارہ——- لیکن خواب پورن فلموں کے ہیرو والی کارکردگی کے——-
اب آتےھیں اس کےنقصانات کی طرف۔
میری اپنی ذآتی تحقیق کے مطابق میرے جاننے والے دوست احباب رشتہ دار وغیرہ وغیرہ ستر فیصد افراد مردانہ طاقت کے کیپسول گولیاں وغیرہ استعمال کرتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ نقصان دہ کیمیکل سے بهرپور ہیں مگر عادی ہو چکے ہیں اس کے بغیر واقعی انتشار اور کڑک پن اور ٹائمنگ زیرو ہے کچهہ پچاس سال کی عمر میں ہی ہارٹ اٹیک سے مر گئے اور کچهہ انجانی بیماریوں کا شکار ہیں مگر لت لگ گئی ہے جیسے ہیروئین کی ہوتی ہے کچهہ میڈیکل اسٹور والے بهی واقف کار ہین..جب ان سے معلومات لی تو فرمایا کہ سیکس کی دوائیں پانچ سو فیصد منافع دیتی ہیں اگر پیچهے سے پچاس روپے کی گولی ہے تو ہم گاہک پہچان کر وہی پانچ سو روپے کی سیل کرتے ہیں
چونکہ اس سےجسم میں بلڈسرکولیشن تیزھوجاتی ھےاس لئےسب سےپہلےدل کی دھڑکن تیزھوتی ھےپھردماغ کی طرف خون کابہاوزیادہ ھونےسےسراورآنکھوں میں درد،چہرہ سرخ،منہ خشک،معدہ میں گرمی وخشکی،تمام جسم ذکی الحس،گھبراھٹ پیداھوتی ھےجتنی دیرتک اس کااثررھتایہ کیفیت برقراررھتی ھےپھرجسم میں ناطاقتی،کمزوری،ٹانگوں میں دردھونےلگتاھے۔اس کےمسلسل استعمال سےدل۔دماغ۔جگر۔معدہ اورگردےآھستہ آھستہ بالکل ناکارہ ھوجاتےھیں سب سےبڑانقصان یہ کہ چندباراستعمال کرنےکےبعدانسان اتنااس کاعادی ھوجاتاھےکہ اس کےاستعمال کیےبغیرانتشارھی نہیں ھوتااورخوداعتمادی ختم ھوجاتی ھےاسےاستعمال کرنےوالےکےدل میں پختہ یقین پیداھوجاتاھےکہ اس کے بغیراب میں جماع پرقادر نہیں ھوسکتا۔اس لئےشادی شدہ اوربغیرشادی شدہ ھرطرح کےلوگ اس مرض میں مبتلاھیں۔مغرب میں اس کااستعمال یہاں جیسانہیں ھےوھاں معالج یورالوجسٹ کےمشورےکےبغیراس کواستعمال نہیں کرتےدوسرا وھاں والی ویاگرہ اورپاکستان میں ملنےوالی ویاگرہ میں بہت فرق ھے۔یہاں ملنےوالی ویاگرہ زیادہ ترافغانستان اورانڈیاسےسمگل ھوکےآرھی ھےاس میں کئی دیگرنہایت مضراجزاءشامل ھیں۔
خدارا ! اللہ نے آپ کو انسان بنایا ہے- گھوڑا بننے کی کوشش میں کہیں آپ اپنا شجر حیات ہی منقطع نہ کر بیٹھیں——
یاد رکھئے——— آپ مریض نہیں حریص ہیں!
یہ بات بھی واضح کر دینا چاہئے کہ دل کے مریض اور دمہ والے ان ادویات سے پرہیز کریں کیونکہ یہ ادویات ہارٹ ریٹ بڑھا دیتی ہیں۔
دوسری طرف سوشل میڈیا پر مشرومز کی طرح اگتے ہوئے طبی گروپس اور پیجز ہیں جن میں سے کچھ تو بہت گرانقدر خدمت انجام دے رہے ہیں لیکن اکثریت وہی نیم حکیم اور اتائ حضرات ہیں جو ہر ھفتہ کوئ نہ کوئ معجون، کیپسول، سفوف اور طلا نئ نئ لچھے دار عبارت سے مزین کرکے نوجوانوں بلکہ ہر عمر کے مردوں کو ورغلاتے ہیں۔ سم الفار، کچلا، شنگرف، اور سیماب جیسے انتہائ خطرناک اور مہلک ترین اجزا کے کشتہ جات پر مشتمل نسخے جو اچھے بھلے صحتمند انسان کا بیڑہ غرق کردیتے ہیں۔ خدارا ان لچھے دار نسخوں سے بچیں۔ یہ آپ کے لئے سم قاتل ہیں۔ یہ آپ کے گردوں اور جگر کو تباہ و برباد کردیتے ہیں۔
اگر جوانی میں پہلوانوں والی بات یعنی لنگوٹ تھام کر رکھا جائے اور اپنی بیوی تک محدود رہا جائے تو کسی دوا کی ضرورت نہیں پڑتی۔
دوسرے غذا میں "جو یعنی بارلے” کو لازم کیا جائے۔ کھانا ہمیشہ آدھا پیٹ کھایا جائے اور پسینہ روزانہ لازمی بہایا جائے تو قوت مردمی بحال رہتی ہے بلکہ واپس آجاتی ہے
آجکل کے نوجوانوں کو صرف یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ میرے بھائ جب سارا جسم اور عضو صحیح سلامت ہیں صحت نارمل ہے تو پھر صرف ایک مخصوص جگہ کیسے ناکارہ و ابنارمل ہوسکتی ہے۔ یاد رکھئے کہ یہ صرف نفسیاتی مسئلہ ہوتا ہے۔
سادی عمدہ غذا، پابندی سےواک اور ورزش، نشہ آور اشیا سے پرھیز، چنے، کھجور، جو، ڈرائ فروٹس، عبادت، پاکیزہ خیالات آپ کا علاج ہیں۔
عمر کوئی بھی ہو۔ ہر ایک دن چھوڑ کر تین منقہ گرم دودھ کے ساتھ تناول فرمائیں۔ کھجوریں دیسی گھی میں بریاں کرکے رکھ لیں۔ پانچ سات رات کو گرم دودھ سے کھا لیا کریں۔ کچی سبزیوں کا سلاد کم از کم پاؤ بھر روزانہ ضرور کھائیں۔ موسمی پھل کھائیں۔ چالیس دن سے پہلے گھوڑا خود آکر پوچھے گا کہ بھائی کونسا نسخہ ہاتھ لگ گیا ہے
ایک ضروری بات:
اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اگر کسی شادی شدہ بندے کو ذہنی دباؤ یا کسی دوسری جسمانی یا ذہنی و نفسیاتی وجہ سے انتشار نہ ہوتا ہو تو بندہ کیا کرے۔ کس ڈاکٹر کے پاس جائے؟وہ ڈاکٹر کیا تجویز کرے؟صرف پری ایجوکیلیشن کے لیے ایک دوائی prolong حکومت کی طرف سے منظور شدہ ہے باقی سب دو نمبر سمگلڈ شدہ ادویات یا اتائیوں کے نسخے۔
ایسے تمام افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ادھر ادھر کی دوائیں اور نسخے آزمانے کے بجائے سرٹیفائیڈ سیکسولوجسٹ یا جنسی معاملات میں ایکسپرٹ ماہر نفسیات سے ملاقات کریں۔ اپنے شہر میں سرٹیفائیڈ سیکسولوجسٹ کے بارے میں جاننے کے لئے گوگل سرچ پر Sexologist کے ساتھ اپنے شہر کا نام ٹائپ کیجئے تو آپ کو اپنے شہر میں موجود سیکسولوجسٹ کے نام اور فون نمبرز کی تفصیل مل جائے گی

تحریر : ثنااللہ خان احسن

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment