ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

وینٹی لیٹر۔۔۔ از گل نوخیزاختر

پچھلا ہفتہ مسلسل ہسپتال میں گذرا۔ میرے محلے دار یعقوب صاحب کے والد صاحب وینٹی لیٹر پر تھے۔تین سال پہلے انہیں فالج کا اٹیک ہوا‘ علاج کے بعد ٹھیک ہونے کی بجائے معذور ہوکر وہیل چیئر پر بیٹھ گئے۔ اس دوران علاج مسلسل جاری رہا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ وہیل چیئر سے بیڈ پر آگئے۔ گھر میں مریض ہو تو پورا گھر مختلف عوامل کا شکار ہوتا ہے۔یعقوب صاحب کے والد کی وجہ سے پہلا کام تو یہ ہوا کہ بیٹوں اور بہوؤں کی ڈیوٹی لگ گئی کہ وہ مریض کو باری باری سنبھالیں۔بیٹیاں شادی شدہ تھیں تاہم وہ بھی دو دن بعد چکر لگالیتیں۔ ہوتے ہوتے یہ نوبت آگئی کہ یعقوب صاحب کے والد گرامی بولنے سے بھی محروم ہوگئے۔ میں نے آخری بار انہیں دیکھا تو وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکے تھے۔ اس دوران یعقوب صاحب کا پورا گھرمریض بن چکا تھا۔ بیٹے ایک دوسرے کو طعنہ دیتے تھے کہ فلاں بھائی کو اپنے دادا سے پیار نہیں۔

بہوؤیں الگ شکوہ ٰ کرتیں کہ وہ کہیں آنے جانے سے محروم ہوگئی ہیں‘ سارا وقت گھر میں ابا جی کے پاس رہنا پڑتاہے۔ یعقوب صاحب کو اپنے والد صاحب سے بہت محبت تھی‘ بیٹے بھی دادا سے محبت کرتے تھے لیکن ایک مریض کی وجہ سے گھر میں عجیب سی بے سکونی پیدا ہوگئی تھی۔پچھلے ہفتے یعقوب صاحب کے والد کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی تو انہیں فوری طور پرپرائیویٹ ہسپتال لے جایا گیا جہاں فوری طور پر انہیں آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا اور وینٹی لیٹر لگا دیا گیا۔یہ سن کر میرا دل دہل گیا کہ آئی سی یو میں ایک رات کا کرایہ ایک لاکھ روپے ہے۔ یعقوب صاحب مڈل کلاس بندے ہیں۔ انہوں نے والد کی جان بچانے کے لیے اپنی گاڑی بیچ دی‘ لوگوں سے اُدھا ر پکڑا لیکن ان کے والد صاحب جانبر نہ ہوسکے اور خالق حقیقی سے جاملے۔۔۔!!!

اپنے اردگرد نظر ڈالئے‘ ہر دوسرے گھر میں ایسا ایک مریض ملے گا۔پتا نہیں کیوں پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا‘ لوگ بوڑھے ہوتے تھے‘ بیمار ہوتے تھے اوربچ جاتے تھے یا خداکو پیارے ہوجاتے تھے۔ آج کل میڈیکل سائنس کی بدولت مریض نہ مرتا ہے نہ جیتا ہے۔پہلے وقتوں میں سیرئس مریض کو چمچ سے خوراک دی جاتی تھی‘ نزع کا عالم ہوتا تھا تو گھر والے اور محلے دار مریض کے سرہانے کھڑے ہوکر سورہ یاسین کا ورد کرنے لگتے تھے جس کا مقصد مریض کی صحت یابی نہیں ہوتا تھا بلکہ سب دعا کر رہے ہوتے تھے کہ مریض کو تکلیف نہ ہو اور اس کی جان آسانی سے نکل جائے ۔ اب ایسا نہیں ہوتا۔۔۔معاف کیجئے بڑی تلخ حقیقت ہے لیکن مقصد مریضوں کی تیمارداری سے روکنا نہیں بلکہ میڈیکل سائنس کی اذیت بیان کرنا ہے۔
اب مریض بستر سے لگ جاتاہے ۔گھر والے ہسپتال جاتے ہیں اور نت نئی دوائیاں استعمال کرواتے ہیں۔

مریض کی سانس جاری رکھنے کے لیے وینٹی لیٹر کے نام پر ایک پمپ ایجاد ہوگیا ہے جس کی وجہ سے بظاہر مریض کا سانس چلتا ہوا محسوس ہوتاہے لیکن بیشتر حالتوں میں مریض کی کلینکیکل ڈیتھ ہوچکی ہوتی ہے اور پرائیویٹ ہسپتال والے صرف پیسہ کمانے کے لیے دو دن تک وینٹی لیٹر لگائے رکھتے ہیں۔نتیجتاً مریض مرتا ہے تو اس کے لواحقین بھی معاشی طور پر کنگال ہوچکے ہوتے ہیں۔ میرے آبائی شہر ملتا ن کا ایک بہت بڑا نام معروف شاعرڈاکٹر عرش صدیقی مرحوم کا ہے۔۔۔یہ وہی عرش صدیقی ہیں جن کی یہ لائن زبان زد عام ہے’’اُسے کہنا دسمبر آگیا ہے‘‘۔عرش صدیقی صاحب سے میری انتہائی محبت بھری ملاقاتیں رہی ہیں۔ انہیں جب کینسر تشخیص ہوا تو سب نے مشورہ دیا کہ آپ باہر کے کسی ملک میں اپنا علاج کرائیں۔ ایک دن میں اور صاحبِ اسلوب معروف شاعر طارق اسد اُن کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے‘ ہم نے پوچھا کہ آخر آپ علاج کے لیے باہر کیوں نہیں چلے جاتے؟ ڈاکٹر عرش صدیقی مسکرائے اور بولے’’باہر علاج کا خرچہ دس لاکھ (اُس وقت کے مطابق) ہے‘ اس کے لیے مجھے اپنا گھر بیچنا پڑے گا‘ کیا میں اپنی جان بچا کر اپنی اولاد کے سر سے چھت کھینچ لوں؟‘‘۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب سے ان کی نماز جنازہ میں ہی ملاقات ہوئی۔

پرائیویٹ ہسپتالوں کی زندگی ایسے ہی مریضوں کے سر پر چلتی ہے۔ نزلہ زکام اور بخار کے مریضوں کے پیسوں سے بڑے بڑے ہسپتال نہیں چلتے۔ یہاں ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو زندگی کے آخری لمحات میں ہوں اور ہسپتال والے جدید آلات کی بدولت مریض کو بے شک ٹھیک نہ کرسکیں لیکن زندہ رکھ کر اپنے اخراجات ضرور پورے کرتے رہیں۔کئی ڈاکٹر مریض کی حالت کو بھانپتے ہی فوری آپریشن کا مشورہ دیتے ہیں اور عین آپریشن کے وقت کوئی پیچیدگی بتا کر خرچہ ڈبل کردیتے ہیں۔ لواحقین سسک رہے ہوتے ہیں لیکن مجبور ہوتے ہیں لہذا اپنا آپ بیچ کر بھی ڈاکٹروں کی ڈیمانڈ پوری کرتے ہیں۔ عرفان خان کی ایک فلم ہے’’ڈیڈ لائن‘‘۔ دیکھنے لائق ہے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ دل کے ایک معروف سرجن کی اکلوتی بارہ سالہ بیٹی اغواء ہوجاتی ہے اور اغواء کار ایک کروڑ کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ سرجن صاحب چونکہ کھاتے پیتے انسان ہیں لہذا فوراً ایک کروڑ کا بندوبست کردیتے ہیں تاہم اغواء کار انہیں یاد دلاتے ہیں کہ مطالبہ ایک کروڑ کا نہیں بلکہ دو کروڑ کا تھا۔ سرجن صاحب دو کروڑ بھی ارینج کر دیتے ہیں لیکن فون پر آواز آتی ہے کہ ہم نے تو تین کروڑ مانگا تھا۔ ہوتے ہوتے نوبت یہ آجاتی ہے کہ سرجن صاحب اور ان کی اہلیہ لوگوں سے اُدھار پکڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں‘ اغواء کاروں کی منتیں کرتے ہیں‘ روتے ہیں اورواسطے دیتے ہیں کہ وہ اُن کی بیٹی کو چھوڑ دیں۔

اسی دوران اغواء کار عرفان خان انہیں یاد دلاتا ہے کہ وہ بھی اسی طرح اپنے چھوٹے بیٹے کے دل کے آپریشن کے لیے اُن کے ہسپتال آیا تھا ‘ انہوں نے جو خرچہ بتایا وہ اس نے ارینج کرلیا لیکن عین وقت پر انہوں نے بھی خرچہ ڈبل کردیا تھااور پیسے نہ ملنے تک آپریشن کرنے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے اس کا بیٹا زندگی کی باز ی ہار گیا۔اغواء کار اُن کی بیٹی صحیح سلامت واپس کردیتے ہیں اور صرف اتنا کہتے ہیں کہ ہماری خواہش تھی کہ زندگی میں ایک بار آپ بھی وہ درد محسوس کریں جو مریضوں کے لواحقین محسوس کرتے ہیں۔

مریض ہمیشہ سے موجود ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ اذیت ناک لمحے وہ ہوتے ہیں جب مریض ایسے ہوس پرست ڈاکٹروں کے ہتھے چڑھتا ہے‘ لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور گھر میں لاش آجاتی ہے۔شوگر ٹیسٹ‘ بلڈ ٹیسٹ‘ آئی سی یو‘ ڈاکٹرکا وزٹ‘ کمرے کا کرایہ‘ دوائیوں کا خرچہ۔۔۔ہر چیز پیسے مانگتی ہے‘ قدم قدم پر جیب خالی کرنا پڑتی ہے۔ ہلنے جلنے اور قوت گویائی سے محروم مریض کھلی آنکھوں سے یہ بے بسی کا تماشا دیکھتا رہتا ہے اور شائد دعا بھی کرتا ہوکہ مجھے موت کیوں نہیں آجاتی۔ لیکن بیماری کو چکمہ دینے والے ڈاکٹروں کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔یہ تو اُس وقت تک مریض کی لاش لواحقین کے حوالے کرنے کے لیے تیار تک نہیں ہوتے جب تک ہسپتال کا بل کلیئرنہ ہوجائے۔بعض اوقات مرا ہوا بندہ بھی سوالاکھ کا ہوجاتاہے۔۔۔!!!

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...