ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

ویکھ باراتاں چلیاں۔علی حسن کی تحریر

کیمرہ کی چکا چوند میک اپ زدہ چہرے ، نیم عریاں اجسام ، غیر ضروری ڈانس نمبر اور چوری کی گئی کہانیوں پر مبنی فلمیں دیکھتے ہوۓ جب انسان اپنے فلمی ذوق کو بڑھاتا ہوا ہالی ووڈ فلم بینی میں قدم رکھتا ہے تو وہ حیران ہو جاتا ہے کہ کس دنیا میں آ گیا ۔

مگر اس سب کے باوجود ہالی ووڈ کی ڈرامہ فلم یا یوں کہہ لیں ہالی ووڈ جن معاشرتی مسائل کو لے کر فلم بناتا ہے وہ ھم جیسے لوگوں کی عقل اور رہن سہن سے پرے ہوتے ہیں۔ ۔ ایسے میں نظریں کبھی کبھی پیچھے مڑ کر دیکھتی ہیں اور اس صورت حال میں ہمیں آج کے دور میں جو واحد سہارا نظر آتا ہے وہ پنجابی سنیما ہے۔

بلا شبہ پنجابی سنیما اپنے بہترین ارتقائی دور سے گزرتا ہوا مین سٹریم میں داخل ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ سلوو اینڈ اسٹڈی کا یہ سفر آج تک اسی لئے کامیاب رہا ہے کہ پنجابی سنیما نے اپنی روایت کو نہیں چھوڑا ۔ ” ویکھ براتاں چلیاں ” نامی فلم بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔

فلم کی کہانی ایک ایسے پنجابی لڑکے کے گرد گھومتی ہے جس کی شادی کسی نہ کسی وجہ سے ابھی تک نہیں ہو پا رہی اور اسی دوران عمر کے چھتیسویں سال اسے اپنی بس کی کنڈیکٹری کرتے ہوۓ ایک لڑکی پسند آ جاتی ہے جو پنجاب سے ہی نکلے ہوۓ ایک اور صوبے ہریانہ کی ہوتی ہے۔

زبان کا فرق ، عادات کا فرق ، رسم و رواج کا فرق اور سب سے بڑھ کر سوچ کا فرق لئے دونوں کی شادی کیسے ہوتی ہے کیسے شادی سے پہلے لڑکے کو ایک کتیا سے شادی کرنی پڑتی ہے ؟ کیسے کتیا سے شادی گاؤں کی ایک یادگار شادی بن جاتی ہے ۔ رشتہ دار اور شریک رشتہ داروں میں کیا فرق ہوتا ہے ! اور کیا اس لڑکی سے اس کی دوبارہ شادی ہوتی ہے یا نہیں ؟

یہ ساری کی ساری صورت حال آپ کو ایک طرف بے ساختہ ہنساتی ہے اور دوسری طرف علاقائی و مذہبی رسم و رواج میں دوریؤں کے بارے میں سوچنے پر بھی مجبور کر دیتی ہے ۔ جیسے فلم کا ایک عمدہ ڈائلاگ ہے جس میں مرکزی کردار کا باپ لڑکی کے باپ سے کہتا ہے ۔” آپ کے یہاں کنڈلی ملائی جاتی ہے جبکہ ہمارے یہاں تو پھوپھے مامے چاچے ملائے جاتے ہیں ” ۔

بلا شبہ پنجاب خواہ وہاں ہو یا یہاں ، مزاح نگاری اور کامیڈی میں بہت آگے ہے ۔ اور پنجابی فلم کی خوب صورتی ہی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی طاقت ( یعنی مزاح ) پہ کھیلتے ہیں ۔ اور ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں۔ ایک ہلکی پھلکی سی کامیڈی فلم جو ناصرف آپ کو گدگدائے گی بلکہ دن بھر کی ٹینشنز کو بھی بھگائے گی ۔
علی حسن کی تحریر

 

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...