بلاگ

یوٹرن ضروری ہے!!!

بہت خوشی کی بات ہے کہ ہمارا وزیراعظم عمران خان کم سے کم اور کچھ دیکھے اور اسے اہمیت دے یا نہ دے لیکن سوشل میڈیا پر جن لوگوں کی مدد اور حمایت سے وہ وزیراعظم بنا ہے ان کی شکایات اور شکوے ضرور پڑھتا سنتا اور دیکھتا ہے۔ تبھی اس نے کل اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں ڈیڑھ سو فیصد تک اضافہ اور وزیراعلی کے لئے تاحیات گھر اور گاڑی کے مزے لینے پر عوام کا ردعمل دیکھا, خاص کر سوشل میڈیا کے نوجوانوں کا ردعمل دیکھا اور اس پر صرف رائے نہیں دی, نوٹس نہیں لیا بلکہ ایکشن لیا۔ غلطی کرنا کوئی گناہ نہیں, غلطیاں ہو جاتی ہیں انسانوں سے لیکن غلطی کرکے اس پر ڈٹ جانا بلکہ ڈٹنا ہی نہیں اسکو حق اور سچ بیان کرنا اور اس کا دفاع کرنا ایک ایسی غلطی بلکہ ایسا غلطان ہے جس کی وجہ سے معاشرہ انتشار اور افراتفری کا شکار ہوتا ہے اور لوگوں کا نئے لوگوں سے کام لینے کا حوصلہ جواب دینے لگتا ہے جب کہ پرانے لوگوں کی وجہ سے معاشرے میں عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: چولستان کا دکھ

مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ عمران خان پہلا وزیراعظم ہے جو باقیوں کی طرح غلطیاں بھی کرتا ہے لیکن باقی سب کی طرح غلطی پر ڈٹ نہیں جاتا بلکہ اپنی تصحیح کرتا ہے اور جہاں ممکن ہو اپنی رائے بدل کر وہ رائے اپناتا ہے جس سے معاشرہ انتشار کے بجائے اتفاق کی طرف جاتا ہو مطلب جمہوریت کے تقاضے پورے کرتا ہے اور وہ بات نہیں کرتا جو عوام کو پسند نہیں بلکہ اگر اسکی کسی بات کو عوام رد کر دے تو وہ اسکو خود بھی رد کردیتا ہے اور عوام کی خوشی کے لئے وہی فیصلہ کرتا ہے جو عوام چاہتی ہے جسے سیاسی مخالفین یوٹرن کہہ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ عمران کی یہ خامی دراصل وہ خوبی ہے جو قوموں کی تشکیل اور تکمیل کے لیئے ضروری ہے, بیشک یوٹرن ضروری ہے۔