بلاگ

استاد روئیے کا نام ہے

زندگی میں ایسے اساتذہ سے بار ہا پالا پڑا جن کا لیکچر سننا درد سر ہوا کرتا تھا…یونیورسٹی میں چند ایسے ٹیچرز تھے جن کا کام کلاس میں آکر پروجیکٹر لگا کر سٹوڈنٹس کے سامنے سے سلائیڈز گزارتے رہنا اور بعد میں سٹوڈنٹس سے یہ سلائیڈز چھپاتے رہنا تھا۔ اور ہمارا کام کلاس میں بیٹھ کر کسی اچھے کیمرے سے ان سلائیڈز کی پکچرز لینے کی کوشش کرتے رہنا تھا کہ یہ ٹیچرز ان ہی سلائیڈز سے پیپر بناتے تھے اور اگر کسی طرح یہ سب میٹیریل سٹوڈنٹس کے ہاتھ لگ جاتا تو ہمارے اساتذہ امتحان لینے کے قابل نہ رہتے۔ پڑھنے پڑھانے ، سمجھنے سمجھانے کی مشقت ہمارے ‘فلمیں’ چلانے والے استادوں سے نہ ہوتی تھی۔ میں مانتا ہوں کہ سیکھنے سکھانے کے لیے پروجیکٹر ایک اچھا ٹول ہے مگر ہر طرح کا کورس اور ہر طرح کا سبجیکٹ اس سے اچھی طرح نہیں سکھایا سمجھایا جا سکتا۔ صرف تھیوری اور ڈایا گرامز کی پریزینٹیشن اس سے کی جانی چاہیے۔

سکول لائف میں تو سمجھ ہی نہ تھی کہ "کنسیپٹ” کو کلئیر کیسے کیا جاتا ہے …اکثر ٹیچرز کو شعور ہی نہیں تھا کہ ٹاپکس کو کیسے سمجھا اور سمجھانا چاہیے… بس سمری رٹ لو… لیٹرز یاد کر لو… انگریزی… اردو کے "ائے.سیز”(مضامین) لفظ بلفظ یاد کر لو… حتی کہ سائنس کو بھی ہمیں یاد کروایا جاتا تھا… جہالت کا عظیم فارمولا تھا "لکھ لکھ کر یاد کرو”… سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش اور مشقت کون کرئے …! ٹاپکس کو سمجھ کر امتحان میں اپنے لفظوں میں لکھ دینے کی حوصلہ شکنی کی جاتی تھی…بدقسمتی سے ہمارے سکول ٹیچرز کبھی اس بات کو پروموٹ نہ کرتے کہ ہم کنسیپٹ کو سمجھ کر اپنے الفاظ میں لکھ سکیں۔ نہ ہی ہمیں اس کی مشق کروائی جاتی۔ حالانکہ یہ بہت ضروری پریکٹس تھی۔

یونیورسٹی کا حال یہ تھا کہ ٹیچر نے اپنے سبجیکٹ میں پی. ایچ. ڈی کر رکھی ہوتی تھی (اس پی. ایچ. ڈی کو ہم پاکستانی بڑی ڈگری سمجھتے ہیں… حالانکہ ٹیچنگ کا پی. ایچ. ڈی سے کوئی تعلق نہیں) اور ٹیچر کا پڑھانے کا تجربہ ہماری عمر سے زیادہ ہوتا تھا… پھر بھی کلاس فیلوز ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوتے تھے کہ یہ میڈم صاحبہ پڑھا کیا رہی ہیں…؟ یہ کون سا کرتب ہے؟ سٹوڈنٹس ایک دوسرے سے پوچھا کرتے تھے کہ "یار تیس تیس سال گزار دینے کے بعد بھی ان کو کیوں نہیں پڑھانا آ رہا….؟ ”
یہ سمجھئیے کہ ہر پڑھا لکھا بندا اپنی بات نہیں سمجھا سکتا… سمجھنا اور سمجھانا دو الگ الگ چیزیں ہیں.. ہمیں تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو ٹیچنگ لائسنس کے بغیر نہیں رکھنا چاہیے… اگر کار، موٹرسائیکل کا لائسنس ہوسکتا ہے تو پھر استاد کا بھی لائسنس ہونا چاہیے… کیونکہ ٹیچنگ قوم کے لیے زیادہ حساس معاملہ ہے….!

ہم نے صرف سٹوڈنٹس کو میتھ، فزکس، کیمسٹری، اور دوسرے علوم و فنون ہی نہیں سکھانے بلکہ تہذیب، سیلقہ، شائستگی، وقت کی پابندی، نرمی سے بات کرنا، عزت دینا، اقدر، محنت اور کام کی عادت، نافع بخشنے کی صفت، معاف کردینے کا حوصلہ، دیانتداری، چال چلن، علم سے رغبت، برائی سے نفرت۔وقت پر کلاس میں پہنچنا یہ سب بھی سکھانا ہے۔ اور یہ سب سکھانے کے لیے رول ماڈل بننا ہوتا ہے۔

میں اپنے سٹوڈنٹس سے کہتا ہوں کہ جو سبجیکٹ میں آپ کو پڑھا رہا ہوں یہ کوئی ایسا مضمون نہیں جو صرف مجھے ہی آتا ہے۔ میں کلاس ڈسکشن اور لیکچر پڑھانے، سمجھانے کے لیے سٹڈی میٹیریل مختلف کتابوں اور انٹرنیٹ سے لیتا ہوں۔ آپ بھی لکھنا پڑھنا جانتے ہیں خود بھی تو آپ یہ سب پڑھ سکتے ہیں، کر سکتے ہیں پھر ٹیچر کی ضرورت کہاں پڑتی ہے؟ میرا ایک کام Catalyst کا ہے۔ جس طرح Catalyst کسی کیمیائی تعامل (Chemical Reaction) کو تیز کرتا اس کا Rate Increase کرتا ہے اسی طرح اچھا ٹیچر آپ کی سٹڈی، آپ کے پڑھنے، سیکھنے کے عمل کو تیز اور آسان کرتا ہے۔ آپ کے سیکھنے میں معاونت فراہم کرتا ہے ۔ آپ کو موٹیویشن اور انرجی دیتا رہتا ہے تاکہ آپ نئے راستوں کو دریافت کر سکیں اور نئی روشن منزلوں کو چھو سکیں۔ اور اچھے ٹیچر کے بغیر یہ سب ممکن نہیں۔

قاسم علی شاہ صاحب نے بڑے پتے کی بات کہی ” استاد ایک روئیے کا نام ہے… یہ کوئی عہدہ نہیں ہے…اگر یہ رویہ مثبت نہیں ہے… اس میں احترام نہیں ہے تو پھر اس کا احترام نہیں کیا جائے گا…! ٹیچنگ کا سب سے بڑا آؤٹ کم” عزت "ہے… جس طرح پیسہ کمانے والی چیز ہے… اسی طرح عزت بھی کمانے والی چیز ہے… اگر استاد کو عزت نہیں مل رہی تو پھر تنخواہ کا بھی کوئی فائدہ نہیں…!

سعد انور چوہدری