بلاگ صحت معلومات

آپ تو اچھے ہیں، موبائل اچھا نہیں!

صبح موبائل، شام موبائل کھانا کھاتے ہوئے موبائل اور رات سوتے ہوئے موبائل۔ یہ ہے المیہ ہماری نوجوان نسل کا۔ ہر وہ آدمی جو مصروف ہے، مصروف ہونا چاہتا ہے، مصروف دکھنا چاہتا ہے یا مصروف رہنا چاہتا ہے، موبائل فون اُس کی واحد جائے پناہ ہے۔اوسطاً ایک پاکستانی دن میں چار گھنٹے موبائل کو دیتا ہے۔ یہ سال کے 1460 گھنٹے بنتے ہیں۔ 70 سال کی زندگی میں 102،200 گھنٹے یا لگ بھگ 12 سال۔ خدا کی پناہ، زندگی کے بارہ سال ایک ہاتھ بھر کے ڈیوائس کی نظر ہوجائیں۔ اِس میں ابھی رات رات بھر کے نائٹ پیکیجزشامل نہیں۔ آئیے عہد کرتے ہیں کہ اِن چار گھٹوں میں سے صرف ایک گھنٹہ نکال کر اس زندگی کو دیتے ہیں جو ہمیشہ قائم رہے گی۔ آخر سیل فون کے بغیر بھی دنیا چل ہی رہی تھی نا۔موبائل کے نائٹ پیکیجز کی طرح، بندے کو کبھی کبھار رات کو چادر اوڑھ کر اپنے رب سے بھی بات کرلینی چاہئے، جو سب کچھ سنتا ہے، سب کچھ دیکھتا ہے اور ہر شے پر قادر ہے۔ دجال جب آئے، سو آئے گا،

آج امت کا سب سے بڑا خطرہ انٹرنیٹ اور موبائل ہے۔ پہلے جو کام گاوں سے کوسوں دور جا کے ہوتے تھے، اب وہ ہر شخص موبائل پر ہی کرلیتا ہے۔ ہر چیز کی طرح، موبائل کے بھی اچھے اور بُرے دونوں پہلو ہیں مگر ہمیشہ کی طرح ہمارا رجحان یہاں بھی منفی چیزوں پر ہی ہے۔بچپن میں سنتے تھے کہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اللہ اکبر اور اترتے ہوئے سبحان اللہ پڑھنا چاہئے۔ اب چڑھتے ہوئے موبائل پر فیس بک اور اترتے ہوئے واٹس ایپ۔ آپ کبھی غور کریں، موبائل نے 24 گھنٹوں میں سے کتنی روز مرہ اور گھریلو نیکیوں کو نکال باہر کیا ہے؟باتھ روم سے آئیں تو ’غفرانک‘ کہتے تھے، اب باتھ روم میں بھی موبائل ساتھ۔ پانچ منٹ کے پندرہ منٹ لگ گئے کہ فیس بک کی براوزنگ ختم ہی نہ ہونے پائے۔نماز کے وقت موبائل، مسجد میں موبائل، پہلے رات کو اچانک آنکھ کھل جاتی تھی

تو آیت الکرسی پڑھ کر سوجاتے تھے کہ پوری رات عبادت میں شمار ہو، مگر اب سٹیٹس اپ ڈیٹ کر دیتے ہیں۔ کھانا کھانے سے پہلے بسم اللہ کی بجائے کھانے کی تصاویر، حج کی تصاویر، قربانی کی تصاویر حتٰی کی تصویروں کی تصاویر۔کتنی سیلفیاں ہیں جو یہیں فیس بک پر نظر آتی ہیں مگر اے کاش کہ سیلفی میں کبھی اپنے آپ {سیلف} کو بھی دیکھ لیا ہوتا۔ کہتے ہیں کہ علم والے شیشہ نہیں دیکھ پاتے کہ اپنا آپ دیکھنا بڑا تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ رات سونے سے پہلے سورۃ الملک پڑھنے والے، منازل و تسبیحات پڑھنے والے اب موبائل پر یوٹیوب سنتے نیند کی بانہوں میں چلے جاتے ہیں۔اگر واٹس ایپ پر یا میسنجر پر کوئی اپ ڈیٹ کی ٹون بج جائے تو اسے دیکھنا فرائض میں شامل ہوچکا ہے۔ کاش ہم فیس بک پر موجود ہر اک دوست کے بدلے دن میں ایک بار سبحان اللہ پڑھ لیں، ہر اسٹیٹس شیئر کے بدلے ایک نفل، ہر لائک پر ایک شکر الحمدللہ، ہر کمنٹ پر ایک بار استغفر اللہ اور ہر فرینڈ ریکویسٹ پر صرف ایک بار سوچ لیں

کہ ان ’’مداحوں‘‘ پر اگر اصلیت کھل جائے اپنی ذات کی تو تھوکنا بھی گوارہ نہ کریں۔پھر منافقت کے جو معنی موبائل کی وجہ سے وجود میں آئیں ہیں اُن کا تو کہنا ہی کیا۔ جتنے فرمانبردار اور حاضر ہم موبائل اور فیس بک پر نظر آتے ہیں اِس کے آدھے بھی اصل زندگی میں ہوتے تو پاکستان کی شکل بدل گئی ہوتی۔ جتنی احادیث اور اچھی باتیں موبائل میسیجز پر  تقسیم کرتے ہیں اُن میں سے 10 فیصد پر بھی عمل کرلیا ہوتا تو چلتے پھرتے ولی ہوجاتے۔ بہت خیال رکھنا چاہیے کہ آپ موبائل پر کیا بھیج رہے ہیں، جہاز گرنے کے بعد کی جھوٹی آڈیو ریکارڈنگ، یا ایک بار پھر سے امام کعبہ کے انتقال کی جھوٹی خبر، براہ مہربانی گناہ جاریہ سے بچنے کی کوشش کریں.اگر آپ کے 5 ہزار دوست اور دس ہزار فالوورز بھی ہے، اور اُن میں سے صرف 10 فیصد بھی آپ کی پوسٹ کو پڑھتے ہیں

اور آپ کی پوسٹ صرف ایک منٹ کی ہے تو بھی آپ امّت کے 25 گھنٹے ایک پوسٹ کی وجہ سے ضائع کردیتے ہیں، وچیے کہ اِن پچیس گھنٹوں میں آپ کون سے دیگر بہتر کام کرسکتے تھے۔یقین جانئے، اگر آپ دن میں کوئی ایک آدھ گھنٹہ اِس موبائل کے بغیر گزار لیں گے تو دنیا رک نہیں جائے گی۔ دن میں کم از کم ایک گھنٹہ ’’موبائل فری‘‘ رکھیں، ضرور افاقہ ہوگا، اور اسی موبائل کی وجہ سے جو روز مرہ کی مسنون دعائیں اٹھ گئی ہیں، انہیں یاد کرنا چاہئے۔ زندگی میں برکت کا سب سے آسان راستہ موقع کی دعائیں ہیں، اسٹیٹس اپ ڈیٹ نہیں۔آن لائن گیمنگ، فحش مکاملہ بازی، مذہبی و سیاسی بحث اور گناہ بے لذت کو سمجھیں اور اپنے آپ پر وقت لگائیں۔

میرا بس چلے تو استاد و معلم کے سامنے موبائل لے جانے پر پابندی لگا دوں۔ سینما میں بھی کبھی موبائل نہیں بجتا کہ مگر حسرت ہی رہی کہ کبھی با جماعت نماز ادا کرسکوں کسی  گانے کی ٹیون سنے بغیر۔ خدارا مسجدوں کو سینما گھروں جیسی ہی عزت دے دیں۔جتنے کا آئی فون لیتے ہیں، اُتنے میں تو دبئی اور سری لنکا کا چکر لگ جاتا ہے۔ سفر سے آدمی بہت کچھ سیکھتا ہے۔ میں موبائل کا ہرگز دشمن نہیں مگر اگر برتنے کے آداب نہیں آتے تو کنارہ ہی بہتر ہے۔