ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

اردو ناول کے عروج سے زوال تک

دنیا بھر میں ادب کی جس صنف کو سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے، وہ ناول ہے۔ دنیا کا پہلا ناول داستانِ گینجی کو مانا جاتا ہے جسے جاپان کی ایک خاتون ناول نگار مورا ساکی شیکیبو نے لکھا تھا۔ مغرب کے روایتی ادب میں جین آسٹن کا نام لیا جائے یا پھر جدید ادب کی ہر دلعزیز ورجینیا وولف کا، اِن دونوں سمیت مغرب اور مشرق کی کئی بڑی خاتون ناول نگاروں نے اپنی تخلیقات سے، حساس قارئین پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

اردو زبان میں بھی ناول کی صنف مغربی ادب سے متاثر ہوکر فروغ پائی۔ اِس نے داستان سے ناول تک کا تخلیقی سفر طے کیا اور اردو ناول اب تقریباً ڈیڑھ صدی کا ہونے والا ہے۔ ڈپٹی نذیراحمد کو اردو زبان کا پہلا ناول نگار تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے 1869ء میں اپنا پہلا ناول مراۃ العروس تخلیق کیا، جو اردو زبان کا بھی پہلا ناول تھا۔

خواتین ناول نگاروں میں رشیدہ النساء بیگم کو یہی اعزاز حاصل ہے۔ یہ الگ بات ہے، ڈپٹی نذیر احمد کے اولین ناول کو جتنی شہرت ملی، رشیدہ النساء بیگم کا ناول اصلاح النساء اتنی مقبولیت حاصل نہ کرسکا۔ آگے چل کر تقسیمِ ہند سے قبل اور فوراً بعد، اردو زبان کے روایتی ادب میں جن خواتین ناول نگاروں نے نمایاں طور پر اپنا حصہ ڈالا، اُن میں محمدی بیگم، نذر سجاد، حجاب امتیاز علی، اے آر خاتون، بیگم احمد علی، عصمت چغتائی اور قرۃ العین سمیت دیگر ناول نگار شامل ہیں۔

اِس کے بعد کے ادوار میں رشید جہاں، ہاجرہ مسرور، خدیجہ مستور، رضیہ فصیح احمد اور دیگر ناول نگاروں کے نام لیے جاتے ہیں۔ قرۃ العین حیدر کا ناول ‘آگ کا دریا’ ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ 1959ء میں شایع ہونے والے اِس ناول میں برِصغیر کی قدیم تاریخ کو جس دلکش انداز میں ادیبہ نے لکھا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔

اِسی ناول کے تناظر میں 2016ء میں عبداللہ جاوید کی کتاب ‘ایک مطالعہ’ کے عنوان سے اشاعت پذیر ہوئی، اِسے بھی پڑھ لیا جائے تو اِس ناول کی تفہیم بالخصوص نئے پڑھنے والوں کے لیے خاصی سہل ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں لکھا جانے والا یہ ناول، ہندوستان سمیت دنیا بھر میں عالمی مقبولیت کی بلندی پر پہنچ چکا ہے اور مزید پسندیدگی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔

اردو ناول کے جدید دور کی مقبول ترین اور نمایاں خواتین ناول نگاروں میں سرِفہرست جمیلہ ہاشمی، خالدہ حسین، الطاف فاطمہ ،بانو قدسیہ اور رضیہ بٹ ہیں، جبکہ انگریزی زبان کی ناول نگاری میں یہی مقبولیت باپسی سدھوا اور کاملہ شمسی کو حاصل ہوئی، اب نئی نسل میں فاطمہ بھٹو باصلاحیت ناول نگار کے طور پر سامنے آئی ہیں۔

موجودہ کچھ برسوں میں جن خاتون ناول نگاروں نے اردو زبان کے ادبی منظرنامے پر توجہ حاصل کی ہے، اُن میں آمنہ مفتی، بشریٰ رحمان، عمیرہ احمد، ماہا ملک، فرحت اشتیاق، نمرہ احمد اور دیگر شامل ہیں۔ معروف کالم نویس اور افسانہ نگار زاہدہ حنا کا ناولٹ ‘نہ جنوں رہا نہ پری رہی’ کو بھی عمدہ ادبی شہ پارہ کہا جاسکتا ہے۔ رواں برس معروف شاعرہ فہمیدہ ریاض کا پہلا ناول ‘قلعہ فراموشی’ بھی شایع ہوا، جو عصرِ حاضر کے ادب میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوا ہے۔

ناول نگاری کے سفر میں مزید آگے بڑھیں، تو دو ادبی اصطلاحوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے، جنہیں کلاسیکی ناول نگاری اور پاپولر فکشن میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ادب کے ناقدین، کلاسیکی ناول نگاری میں جمیلہ ہاشمی اور بانو قدسیہ کے نام کو قبولیت کا درجہ دیتے ہیں، جبکہ پاپولر فکشن کے طور پر سب سے زیادہ شہرت حاصل کرنے والی ناول نگار کا نام رضیہ بٹ ہے۔

ادبی پنڈتوں کے بقول اُنہوں نے شہرت تو حاصل کی، مگر اپنے ناولوں کے ذریعے کسی عالمگیر یا وسیع موضوع کو قلم بند کرنے سے قاصر رہیں۔ پاکستان ٹیلی وژن پر، فاطمہ ثریا بجیا نے اُن کے متعدد ناولوں کو ڈرامائی تشکیل بھی دی۔ اُن کی شہرت ڈائجسٹ ناول نگار کے طور پر بھی ہوئی، کیونکہ اُن کی کہانیوں کا رنگ رومانوی، زبان عامیانہ اور فکر سطحی ہونے کی وجہ سے ادب کے سنجیدہ حلقوں میں قبول نہ کیا جاسکا البتہ عوامی سطح پر اُن کو بہت پذیرائی ملی۔

دوسری طرف اُن کی ہم عصر ناول نگار جمیلہ ہاشمی اور بانو قدسیہ ہیں، جن کے کام کو سنجیدہ ادبی مقام بھی حاصل ہے اور اُنہیں بے پناہ شہرت بھی حاصل ہوئی، اِس بات کے باوجود کہ ایک طبقے کا یہ بھی خیال ہے یہ ناول تو دلچسپ انداز میں لکھے گئے، لیکن متن میں تصوف کے خیالات کا پروپیگنڈہ شامل کیا گیا، بالخصوص بانو قدسیہ کے ناول ‘راجہ گدھ’ پر اِس طرح کے اعتراضات کی بوچھاڑ ہوئی، یہ ناول اُنہوں نے 1981ء میں لکھا تھا۔رواں برس 2017ء میں نئی نسل سے تعلق رکھنے والے ناقد غلام حسین غازی نے اِس ناول کے تنقیدی جائزے کو مدلل طور پر کتابی شکل میں تفصیل سے بیان کیا ہے، یہ تنقید بھی پڑھنے لائق ہے۔

اب گزشتہ کچھ برسوں سے رضیہ بٹ اور بانو قدسیہ کے باہمی امتزاجی رنگ میں رنگی، کچھ نئی خاتون ناول نگار ادبی منظرنامے پر متحرک ہیں، جن میں نمایاں نام عمیرہ احمد کا ہے۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں تصوف اور رومان کے معاملات کو مرکزی خیال کے طور پر رکھ کر کہانیاں تخلیق کیں۔ اُن کا مشہور ناول ‘پیرِ کامل ﷺ’ نئی نسل کے قارئین میں بہت مقبول ہے، لیکن اُن کے ساتھ وہی معاملہ ہے، جو رضیہ بٹ کے ہاں تھا۔ یہ عہدِ حاضر کا پاپولر فکشن ہے، مگر معیار سے عاری، کہانی میں کئی سقم، کردار نگاری میں سطحی پن اور پروپیگنڈہ کا انداز واضح محسوس ہوتا ہے۔

عمیرہ احمد نے مقبول ہونے کے بعد پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا، آج تک ایک ہی کہانی کو مختلف انداز سے بار بار لکھ رہی ہیں۔ اُن کی دیکھا دیکھی ڈائجسٹ اور ڈرامے کی دنیا میں خاتون ناول نگاروں کے غول کے غول وارد ہوئے اور ہمارا ٹی وی ڈراما جو کبھی معیار کا پیمانہ ہوا کرتا تھا، اِن ناول نگار خواتین کے ہاتھوں یرغمال ہوگیا۔ کیوں کہ یہ فکشن عوام میں مقبول ہے اِس لیے اِس پر دھڑا دھڑ ڈرامے بن رہے ہیں اور ٹی وی ریٹنگز کمائی جا رہی ہیں۔

بانو قدسیہ کے تصوف اور رضیہ بٹ کے رومان کی تکنیک کو ملا کر تیار ہونے والا ادبی منجن ہی اب ٹیلی وژن ڈرامے کی بھی ضرورت ہے۔ ٹیلی وژن ڈرامے کی اسکرین پر عورتیں رو پیٹ رہی ہیں، شوہر بے وفائی کر رہے ہیں، ساس بہو، نند، داماد، بھابیاں اور بہن بھائی، خاندان، سب ایک دوسرے کی کاٹ کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔

اردو ناول کے اہم تنقید نگار اور محقق، ڈاکٹر ممتاز احمد خان کی پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ ناول کی صنف پر ہی ہے، اِسی موضوع پر متعدد کتابیں بھی تصنیف کرچکے ہیں۔ اُن کا خیال تھا کہ اِس قسم کی ناول نگاری میں ایک ہی قسم کی کہانی ہوتی ہے، اِن کے ناول قاری کے دل میں جذبات پیدا نہیں کرسکتے اور نہ ہی پڑھنے والے کے شعور میں کوئی بالیدگی پیدا ہوسکتی ہے، اِس طرح کے ناول لکھ کر پیسے تو کمائے جاسکتے ہیں، مگر ادب میں مقام حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

اردو کے پاپولر فکشن میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خاتون ناول نگار عمیرہ احمد ہیں، اُن کی ایک خوبی سے صرف مجھ جیسے صحافی دوست واقف ہیں، یہ کہ وہ کسی کو انٹرویو نہیں دیتیں۔ آج سے کئی برس قبل، جب میں نے اُن کو بڑی مشکل سے تلاش کرکے انٹرویو کا تقاضا کیا تو وہ نہ مانیں، فون پر ہونے والی گفتگو کے آخری جملے میں اُن سے میں نے کہہ دیا کہ آپ نے رضیہ بٹ کے ناولوں کی توسیعی کوشش کے سوا کچھ نہیں کیا ہے۔ اِس جذباتی حملے کی زد میں آکر اُنہوں نے کچھ دیر مجھ سے پھر گفتگو کی، جس سے اُن کے اندرونی خیالات کا اندازہ ہوا۔ اُن کا خیال ہے وہ جس طرح کی ناول نگاری کر رہی ہیں، وہ منفرد ہے، یہ خالصتاً اُن کا اپنا انداز ہے جس میں کسی کی آمیزش شامل نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ناول عوامی مقبولیت کے حامل ہیں، یہی اِس تخلیقی کام کی گہرائی کا ثبوت ہے۔جمیلہ ہاشمی کے ناول ‘دشت سوس’ کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ حقیقی طور پر تصوف کے رنگ میں ڈوبا ہوا ناول کیا ہوتا ہے۔ اِس ناول کا مرکزی خیال منصور بن حلاج کی شخصیت اور اُن کی زندگی کی عکاسی کرتا ہے، جس کو انتہائی دلکش زبان و بیان میں ناول نگار نے قلم بند کیا۔

اِسی طرح ناقدین کی رائے کچھ بھی ہو، بہرحال بانو قدسیہ کا ناول راجہ گدھ بھی تصوف کے رنگ میں جما ہوا ایک خوبصورت منظر نامہ ہے، جس کو فراموش کرنا آسان نہیں اور پلاٹ کے ساتھ کہانی کے کرداروں نے ناول کو یادگار کردیا۔ میں کبھی جمیلہ ہاشمی سے تو نہ مل سکا، مگر بانو قدسیہ کا ناول راجہ گدھ پڑھنے کے بعد ایک بار دسمبر کی سرد شام میں لاہور میں واقع اُن کے گھر داستان سرائے جا پہنچا۔ یہ خاصی پرانی بات ہے۔

جب بانو قدسیہ سے پوچھا گیا کہ اِس ناول کو لکھنے کا خیال کیسے آیا تو انہوں نے جواب کچھ یوں دیا کہ 80 کی دہائی میں حکومتِ پاکستان اور امریکا کے درمیان ادیبوں کے وفود کا تبادلہ ہوا کرتا تھا۔ اُن کے ادیب ہمارے ہاں آتے اور ہمارے ادیب وہاں جاتے تھے۔ اِسی سلسلے میں اشفاق صاحب امریکا گئے اور ایک امریکی ادیب کے گھر پر بھی رہے۔ پھر ایک امریکی ادیب پاکستان آکر ہمارے گھر رہا۔ ان تبادلوں کا مقصد دونوں ممالک کا ایک دوسرے کے ادب و ثقافت کو سمجھنا اور مراسم کو بہتر کرنا تھا۔ وہ امریکی ادیب ویسا ہی تھا، جیسے عموماً امریکی ہوا کرتے ہیں۔ اُسے اپنے ملک امریکا پر بڑا ناز تھا۔ اُسے لگتا تھا کہ بس دنیا میں ایک امریکا ہی ایسا ملک ہے، جہاں سب کچھ ہے اور امریکا ساری دنیا کا مالک ہے۔ وہ ہمارے گھر جتنے دن رہا، روز صبح ناشتے کے بعد میرے پاس آجاتا اور مجھ سے پوچھتا کہ بانو آپا مجھے بتائیے اسلام دیگر مذاہب سے کس طرح بہتر ہے۔‘

’اب میں چوں کہ اناڑی تھی، اِس لیے میں کہتی تھی کہ مسلمانوں کا خیال ہے کہ اللہ ایک ہے۔ اُس پر وہ یہ کہتا کہ کیا عیسائیت یا یہودیت میں اللہ دو یا تین ہیں؟ یوں میں اکثر اُس کے سامنے لاجواب ہوجاتی اور ہار مان لیا کرتی۔ چند دن بعد میں مہمان خانے کی کھڑکی کے پاس کھڑی ہوئی تھی۔ عصر اور مغرب کا درمیانی وقت تھا۔ ہمارے صحن میں ایک درخت ہوتا تھا، اُس درخت کی لکڑی سے مشرقی موسیقی کا مقبول ساز سارنگی بنتا ہے۔‘

’میں وہاں کھڑی اپنے آپ سے یہ کہہ رہی تھی کہ اِس بندے کو کیسے جواب دوں؟ پھر میں نے دیکھا کہ سندری کے درخت میں یک دم بتیاں جل اُٹھیں، وہ خوب روشن ہوگیا۔ اُس درخت میں سے مجھے ایک آواز سنائی دی، وہ آواز تھی ‘رزق حرام’ اور یہ آواز کافی دیر تک آتی رہی۔ میں یہ سن کر حیران ہوگئی۔ اتنی دیر میں وہ امریکی وہاں آگیا اور مجھ سے پوچھنے لگا کہ میں کیا سوچ رہی ہوں، میں نے اُسے جواب دیا، مجھے تمہارے سوال کا جواب مل گیا ہے، میں نے اُس درخت کی آواز کے بارے میں بتایا، اُس نے بھی وہ الفاظ سنے اور اُس کے بعد وہ مسلمان ہوگیا۔ شاید یہیں سے میرے ناول راجہ گدھ کی ابتداء تھی۔ یہ ناول میں نے شعوری طور پر نہیں لکھا، بس کوئی مجھ سے لکھواتا چلا گیا۔ میں نے تقریباً ایک مہینے میں یہ ناول مکمل کر لیا تھا۔‘

مقبولیت اور معیار دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ مستقبل میں ادبی تاریخ کسی بھی فن پارے کا فیصلہ معیار کی کسوٹی پر ہی کرے گی، یہی وجہ ہے کہ آج استاد ذوق کی درباری شہرت کام نہ آسکی اور معیاری شاعر مرزا اسد اللہ خاں غالب شعری ادب کے منظرنامے پر پوری طرح غالب ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں میں انگریزی اور اردو زبان میں ناول کی صنف میں بہت کچھ تخلیق ہو رہا ہے جس کے معیار کا حتمی فیصلہ قارئین کے ذریعے مستقبل میں ہی ہوگا۔ مگر کچھ چیزیں اپنے معیاری ہونے کا پتہ دیتی ہیں، رواں برس 2017ء میں فہمیدہ ریاض کا شایع ہونے والا ناول ‘قلعہ فراموشی’ بھی ایسا ہی ایک اعلیٰ معیار کا ناول ہے۔

فہمیدہ ریاض کا ناول مہذب دنیا میں کسی بڑے ناول کی طرز پر لکھا جانے والا ایک ناول ہے جس کا موضوع تاریخ اور حق تلفی ہے۔ ناول نگار نے انتہائی عرق ریزی سے اور گہری تحقیق کے بعد اپنے انداز میں تخلیق کیا مگر ادبی منظر نامے پر تاحال خاموشی ہے اور اِس ناول کے متعلق زیادہ بات نہیں ہوئی۔

یہ ناول مزدک نامی ایسے شخص کی زندگی کی کہانی ہے، جسے تاریخ کا اولیں سوشلسٹ انقلابی کہا جاتا ہے۔ یہ چوتھی صدی عیسوی میں ایرانی سلطنت میں پیدا ہوئے تھے جس کا پیغام تھا کہ سلطنت کے تمام امراء، وزراء اور مذہبی پیشواؤں کی دولت اُن سے لے کر غریبوں میں برابر تقسیم کردی جائے۔ یہ حیرت انگیز تحریک اپنے وقت میں بہت مقبول بھی ہوگئی تھی اور 7 برس تک چلتی رہی، یہاں تک کہ ایران کے ایک مشہور بادشاہ نوشیروان نے اُنہیں قتل کردیا اور اِس تحریک کو بہ مشکل ختم کیا۔ یہ اسلام آنے سے ڈیڑھ دو سو برس پہلے کی بات ہے۔

عہدِ حاضر میں سامنے کی مثال کے طور پر قلعہ فراموشی پڑھ کے دیکھ لیں، ڈائجسٹ کے ناول کا سارا خمار یکدم سے اتر جائے گا۔ ضروری نہیں ہے کہ اچھا ناول لکھنے کے لیے کسی فارمولے کا سہارا ہی لیا جائے، کبھی کبھی دل کے تاروں سے بھی، انگلیوں کی پوروں اور بدن دریدہ لفظوں سے بھی کچھ تخلیق ہوسکتا ہے، جس کو زمانہ ’دشت سوس‘ اور ’راجہ گدھ‘ کہہ کر پکارتا ہے یا جسے پھر ’قلعہ فراموشی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔مگر سنجیدہ مطالعہ شرط ہے۔

 

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...