ظنز و مزاح

امیدوار برائے رشتہ

ایک لڑکا اپنی والدہ سے کہہ رہا تھا کہ "امی میں ایسی لڑکی سے شادی کروں گا جو پانی پیتے ہوئے مجھے اسکے گلے میں جاتا ہوا نظر آئے”
امی نے کہا کہ ” بیٹا کیا وہ لڑکی ایسے ہی لڑکے سے شادی کی خواہشمند نہ ہوگی؟” یاد رہے کہ وہ ذیادہ کالا تو نہیں بس ” توے” کے نچلے حصے سے تھوڑا سا کم کالا تھا. ہم نے بھی جب بلوغت میں” صرف جسمانی، ذہنی طور پر ابھی بلوغت ہنوز دور است” قدم رکھا تو شادی کے بارے جب بھی سوچتے تو ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت دوشیزہ کو پروپوزل کیلئے منتخب کرتے اور ساتھ میں یہ بھی سوچتے اگر کسی مجبوری کے تحت انکار ہو بھی گیا جس کے چانسز کم ہیں تو وہ جو وہ والی ہے وہ پھر ٹھیک رہے گی

یہ عمر کا وہ حصہ ہوتا ہے جس میں اپنا آپ ہمیشہ ایک ایسا شہزادہ معلوم ہوتا ہے جو باڈی بلڈر ٹائپ وجود کا مالک( حقیقت میں بے شک توند کا ریڈئیس طاہر اشرفی کے پیٹ مبارک سے بھی پانچ انچ ذیادہ ہی کیوں نہ ہو)، بہترین گُھڑ سوار "بےشک بیٹھا کبھی کھوتے پہ بھی نہ ہو”، انتہائی وجیہہ "یہ الگ بات آئینے میں دیکھتے ہوئے آئینہ بھی عدمِ برداشت کی وجہ سے ٹوٹتا ہو” اور انتہائی ذہین و فطین "چاہے ٢ کا پہاڑا بھی یاد نہ کرسکا ہو” لگتا ہے سو ہمارا بھی کچھ یہی حال تھا.

یہاں ایک تصحیح کرنا ضروری ہے کہ صرف لڑکیوں کے ہی خواب میں صرف شہزادے ہوتے ہیں کوئی نائی، موچی یا ترکھان نہیں بلکہ لڑکوں کے سپنے میں اگر شہزادی نہیں تو اس سے کم بھی نہیں ہوتےاسلئے ہمارے سپنے بھی کچھ ایسے ہی تھے سوچوں میں خیالوں میں کسی کو رد تو کسی کو قبول کرتے رہتے ” اِنا وڈا تُو ثاقب نثار”لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ بندے کو اپنی حیثیت کا پتہ تب چلتا ہے جب وہ رشتہ یا ووٹ مانگنے جاتا ہے تو الیکشن میں امیدوار بننے سے تو ہم رہے اسلئے جب انجمنِ مظلومین کے ٹکٹ ہولڈر ہوئے اور رشتے کا ووٹ مانگنے بذریعہِ امی حضور نکلے تو چودہ کے چودہ طبق ایسے پُرنور ہوئے کہ دن کو کیا رات کو گننے کیلئے بھی تارے نظر آنا بند ہوئے.

پہلے تو ہم نے امی حضور کے سامنے کچھ مطالبات رکھے تھے کہ قد اگر میرے جتنا نہیں تو ذیادہ چھوٹا بھی نہیں ہونا چاہیے جس پھر امی نے کہا تھا کہ کیوں بیٹا تم نے ان سے دیواروں پر پلستر کروانا ہے کیا؟ دوسرا مطالبہ بالوں کا اس کے قد کے آدھے سے ذیادہ ہونا تھا حالانکہ میں اس وقت رسہ کشی کے کھیل سے بالکل لاعلم تھا تیسرا مطالبہ آنکھوں کا بڑا ہونا تھا امی نے کہا تھا آنکھیں تو سب سے ذیادہ گائے کی ہی موٹی ہوتی ہیں چوتھا اور آخری مطالبہ بتاتے ہوئے ہچکچایا تو تھا مگر بتایا پھر بھی تھا کہ لڑکی جسمانی ساخت میں انگریزی ہندسہ 8 کی مانند ہونی چاہیے 8 کی تشریح کرنے کے بعد ایک فلائنگ سینڈل سیدھا میرے سر پر لگا تھا کیونکہ اس وقت ہم دفاعی ٹیکنالوجی میں خودکفیل نہیں ہوئے تھے( ابھی بھی صرف دعوے کی حد تک ہوئے ہیں) خیر جیسے جیسے اپنی حیثیت کا معلوم ہوتا گیا ایک ایک کرکے اپنے مطالبات سے دستبردار ہوتے گئے مگر مجال ہے جو پھر بھی کہیں سے مثبت جواب آنے کی نوبت آئی ہو.

امی حضور کہتی ہیں کہ اگر اتنا پیدل میں مسلسل چلتی رہتی جتنا تمہارا رشتہ ڈھونڈنے کیلئے چلی ہوں تو کب کی مدینے پہنچ چکی ہوتی حالانکہ یقین مانو وہ اس سارے گھن چکر میں بس اتنا پیدل چلی تھیں کہ گھر سے نکلتے ہوئے کار میں بیٹھتی اور پھر شکار کے گھر کے سامنے اتر کر اندر چلی جاتی مگر اسکے باوجود ان کے تین سینڈل کے جوڑے نیچے سے گِس گئے تھے.وہ کہتے ہیں نا کہ "اے جذبہِ دل گر میں چاہوں تو سامنے منزل آجائے” ایک جگہ سے "ہاں” کی امید پیدا ہو ہی گئی پھر کیا تھا امیدوار کی دوڑ مسجد تک لگی رہی مناجات، وظائف، صدقہ، خیرات اور منت ماننے کا ایک دور شروع ہوا کچھ عرصہ ہوا تھا اور جواب ابھی تک نہیں آیا تھا کہ اپنے ذرائع کو ٹاسک سونپا معلوم تو کر جواب کیوں نہیں آرہا بیشک نفی میں ہی ہو مگر آئے تو سہی تاکہ اگلے مرحلے میں تو داخل ہوجائیں. ذرائع نے آتے ہی بم پھوڑ ڈالا کہ باقی گھر والے تو راضی ہیں کیونکہ لڑکی ایک ٹانگ سے معذور ہے ہم نے جھٹ سے بات کاٹ کر کہا کوئی بات نہیں ہم نے کون سا اس کو میراتھن ریس میں دوڑانا ہے آگے بولو ذرائع نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پر لڑکی کہتی ہے میں خودکشی کرلوں گی مگر اس جانور نما انسان یا انسان نما جانور سے شادی بالکل بھی نہیں کروں گی اور اسکے بعد ہمیں ایک چھپ سی لگ گئی اور "دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے” سننا مشغلہ ٹھہرا.

امی حضور نے کہیں سے تیمور لنگ اور چیونٹی کی کہانی سنی ہوئی تھی سو انہوں نے ہمت نہ ہاری اور تابڑتوڑ حملے کرتی رہی کہ خدا نے ہماری سن لی اور ایک جگہ سے ہاں ہوہی گئی بقول راوی جس دن ہمارے لئے ہاں ہوگئ تھی اس دن اکثر دوشیزاؤں نے خوشی سے بالکل ایسے آپس میں ہاتھ ملائے تھے جیسے کرکٹ میں بالر وکٹ لے کر باقی ٹیم والوں کے ساتھ ہوا میں ہاتھ لہرا کر ملاتے ہیں اور ایک لڑکی نے تو حد ہی کردی تھی دروغ بگردنِ راوی اس نے شعیب اختر کی طرح ہاتھ کھول کر دوڑ لگائی تھیلیکن ہمیں ان بدقسمت لڑکیوں پر افسوس ہی ہوتا رہا ہمارے جیسا ہیرا بندہ ان کی قسمت میں نہیں تھا.خیر ہم سے تو گھر میں کسی نے بھی پوچھنا تک گوارا نہ کیا کہ لڑکی پسند ہے کہ نہیں لیکن ہمیں بھی کوئی دکھ نہیں تھا کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ لڑکی کا ہاں کرنا ان کی وسیع الظرف اور حسن پرست ہونے کا غماز ہے.

اب رسمیں نبھائی جانے لگی اور منگنی کا دن رکھ دیا گیا اس دن واقعی ہمیں لگ رہا تھا جیسے این اے ٢٧ کی سیٹ ہم نے جیت لی ہے
منگنی والے دن ہمیں ایک تصویر دی گئی کہ لو اپنی منگیتر کا چہرہِ انور دیکھ لو. ہم جلدی جلدی کمرے میں گئے کنڈی لگائی اور کپکپاتی ہاتھوں کے ساتھ خاکی لفافے سے تصویر آہستہ آہستہ نکالنے لگے جیسے ہی جبینِ مبارک پر پہلی نظر پڑی معلوم ہوا پہلی نظر کی محبت کیا ہوتی ہے اور صبر کا پھل کیونکر میٹھا ہوتا ہے جن لڑکیوں یا ان کے گھر والوں نے رشتے سے انکار کیا تھا اس پر خدا کا شکر بجا لائے کہ اچھا ہوا رد کیا گیا نہیں تو اتنی معصومیت اور نور سے بھرپور چہرے سے کیسے فیضیاب ہوتے اب اور صبر کا چارہ نہیں تھا جھٹ سے پوری تصویر لفافے سے باہر نکالی اور جیسے ہی پوری تصویر دیکھی اُچھل کر بیڈ پر جا گرے اور یقین نہ کرنے کی حالت میں بار بار تصویر کو دیکھے جارہے تھے کیونکہ اس معصومہ کے ساتھ ایک اور لڑکی بھی کھڑی تھی مانو ایمبروز کی بہن ہو جس کے ارد گرد سرخ دائرہ لگا تھا اور ساتھ ایک تیر کا نشان تھا اور اسکے سِرے پر جلی حروف میں لکھا تھا "بھابھی”
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے”

اس کے بعد سمجھ آگئی کہ یہاں” ہاں” کیسے ہو گئی تھی.پھر کیا تھا شادی کی تاریخ پکی کرنے میں ہم روڑے اٹکانے لگے لیکن ہونی تو ہوکر رہتی ہے اور شادی ہو ہی گئی اس کے بعد دل کو یہ تسلی دیتے رہے کہ ہم کونسا فواد خان ہیں ایسے کو تیسا ہی ملتا ہے
لیکن پھر کچھ عرصہ بیت جانے کے بعد پتہ چلا کہصورت پر سیرت کو فوقیت کیوں کر حاصل ہے الحمد للہ فی کل حال
برہم مروت

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment