بلاگ

امید بہار رکھ۔

ہم لوگوں میں بحیثیت قوم بہت سی اخلاقی برائیاں ہیں جو ہماری پستی کا سبب ہیں ہم اخلاقی لحاظ سے بہت گرے ہوئے لوگ ہیں ۔ ہم سچ نہیں بولتے ہیں اور جھوٹ کے بغیر ہمارا کوئی کام ممکن نہیں ۔ ایمانداری ہم سے کوسوں دور ہے اچھی بات ہم سننا نہیں چاہتے اور بے ایمانی ہم میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔اپنے بھائی کی عزت سرے عام نیلام ہم کرتے ہیں ۔ اس سے زیادہ افسوس کی بات کیا ہو گی ہمیں امریکہ کے جون پر تو بھروسہ ہے کہ وہ ہمارے ساتھ مخلص ہے مگر اپنے ساتھ گھر میں رہنے والے بھائی پر بھروسہ نہیں ۔ لوگ ہمارے ساتھ کاروبار کرنے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ہم انہیں لوٹ نہ لیں ۔اور اس سب کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی اصل سے دور ہو گئے ہیں ،ہم نے اپنے بچوں کی تربیت کرنا چھوڑ دی ہے اور انہیں مکمل طور پر زمانے کے حوالے کر دیا ہے اب انہوں نے تو وہی دینا ہے جو انہیں ملے گا ۔

ہم سے بڑا خود کو نبی کریم کا عاشق کہنے والا کوئی نہیں ہو گا مگر دوسری طرف ہم سے بڑا ان کی نا ماننے والا بھی کوئی نہیں ہو گا ۔ ایک وجہ تو یہ ہوتی ہے کہ آپ کو پتا ہو اور آپ جان بوجھ کر نہ مانتے ہوں پر افسوس کے ساتھ ہمیں کچھ پتا ہی نہیں ہے ہم قرآن پڑھتے تو ہیں مگر اسے سمجھتے نہیں ہیں ، ہمیں نہیں پتا قرآن ہم سے کیا کہتا ہے بس جلسے جلوسوں اور امتحانوں میں اپنے مطلب کی کوئی حدیث اور آیت پکڑ لیتے اور اسے بنیاد بنا کر دوسروں پر فتوے جاری کر دیتے ہیں ۔ ہمیں پتا ہے نبی کریم کی ذات ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے مگر کیسے یہ جاننے کی ہم نے کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ کیسے ہم اپنی زندگی کے ہر پہلو پر اس پر عمل پیرا ہو کر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ۔

مزید پڑھیں: جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ڈکار کیوں آتے ہیں؟

نا ہمیں بتایا جاتا ہیں اور نا ہی ہم تلاش کرتے ہیں ۔ ہم دین اور دنیا کو ہمیشہ الگ رکھتے ہیں جبکہ وہ ایک ہی تو ہیں اسی لئے ہم نماز تو پڑھتے ہونگے مگر کاروبار اور زندگی میں جھوٹ بولتے ہونگے ۔ اگر ہمیں ان تعلیمات کا کچھ حصہ ہی مل جائے تو ہماری زندگی بدل جائے ، آجکل کی نسل بڑی تیز ہے یہ ہر چیز کو کسوٹی پر تولنے والی نسل ہے اور ہم اس نسل کا دل بابائے آدم کے دور کے قصے کہانیوں سے بہلاتے ہیں اور سمجھتے ہیں انہیں کچھ پتا نہیں ۔ ہم نے اپنی نئی نسل کو وہ اچھائی سچائی کا علم ، وہ بڑے لوگوں کی کہانیاں سنائی ہی نہیں ہیں ۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ مجھے یقین ہے کہ میری اس نسل کو ہیری پوٹر اور سنڈریلا کا تو پتا ہے مگر عبدالقادر جیلانی اور شیخ سعدی شیرازی جیسے ہیروز کا پتا نہیں ہے اسی لیے تو آج کا نوجوان متحرک نہیں ہے ۔ ہم انہیں بتاتے ہیں تمہارے نبی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہیں تو وہ ہم سے سوال کرتا ہے کیسے اور ہمیں خود نہیں پتا ہوتا کیسے ،؟

ہم نے انہیں ہجرت اور فتح کے واقعات نہیں بتائے کیونکہ ہم کو خود نہیں معلوم ۔ ہم انہیں بتاتے ہیں کہ بیٹا جب کوئی چیز نہ ملے تو صبر کرو تو وہ ہم سے پوچھتا ہے کیوں کروں تو ہم کہتے بدتمیزی نہ کرو تو وہ چپ ہو جاتا ہے ۔۔ کاش ہم انہیں یہ بتاتے کہ کیسے ہمارے نبی کریم نے تلخ سے تلخ حالات میں صبر کا دامن پکڑے رکھا اور مشکلات کا سامنا کر کہ ان سے نبرد آزما ہوئے اور کامیابی حاصل کی ۔ ہم انہیں کہتے ہیں دوسروں کو معاف کر دیا کرو اب انہیں سمجھ نہیں آتی کہ جس نے میرے ساتھ برا کیا اسے میں کیوں معاف کروں مگر ہم یہ نہیں بتاتے کہ کیسے ہمارے نبی کریم دوسروں کو معاف کرکے ان کے دل جیت لیا کرتے تھے ۔ اسی لئے تو آج ہمارے معاشرے میں امن نہیں ہے ہر طرف ہمیں بس انتشار اور بد امنی ہی ملتی ہے ۔