ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

تمہارا باپ بھی دے گا آزادی

پچھلے جمعے والے دن مال روڈ لاہور پر "روشن خیال خواتین ” کا ایک جلوس نکلا – جلوس کا بنیادی مقصد خواتین کی آزادی اور ان کے حقوق کی آگاہی مقصود تھی – ظاہر ہے کہ اظہار ، اپنی رائے کا اظہار ، اپنے حق کی طلب ہر کسی کا حق ہے – سو اگر یہ خواتین بھی سمجھتی ہیں کہ ان کے کسی حق کی ادائی میں کوئی کوتاہی ہو رہی ہے تو احتجاج ان کا حق ہے – رہا طریق کار ، تو کسی کو کیا اعتراض کہ وہ جیسے چاہیں احتجاج کریں –ہم تو بس حیرت کے اظہار کو اب یہاں آئے ہیں کہ اس جلوس میں ایک نعرہ بہت زبردست تھا کہ : "تمہارا باپ بھی دے گا آزادی ”

اب اس سے کس کا باپ مراد تھا ، اس کا کھوج ہے – یہ خواتین دوپٹے سے بے نیاز تھیں ، اوڑھنی کا کیا سوال کہ جو جسم کے فراز چھپا لے – تنگ ، انتہائی تنگ جینز اور ٹائٹس پہنے جسم کے نشیب کو بھی فراز کرتی خواتین اب دھمکیوں پر اتر آئی تھیں – حیرت صرف یہ تھی کہ ان کو اب مزید کس شے کی آزادی مطلوب تھی – اور آزادی بھی وہ جو کسی کے باپ نے آ کے دینی تھی –

دوستو ! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ گروہ عورت کے عورت پن کا محافظ ہے ؟ نہیں حضور نہیں ، یہ "کمرشل خواتین ” ہیں – کماؤ پوت ہیں – ان کے مرد تمام دن قوم کی رگوں میں لہو پیتے ہیں ، اور یہ این جی اوز بنا کے باہر سے پیسا ” اینڈھتی ” ہیں –  یہ عورت کے حقوق کی پرچارک بنتی ہیں ، کبھی ان سے پوچھئے کہ آپ جو یوں ہر وقت سوشل سرگرمیوں میں مشغول رہتی ہیں ، پارٹیز ، بوتیکس ، فنکشنز ، بس اسی کے گردا گرد آپ کی زندگی گھومتی ہے ….تو آپ کے گھر بار کا کیا ہوتا ہے ؟؟ ان کے گھر میں بھی صفائی ہوتی ہو گی ، پوچا لگتا ہو گا ، کھانا پکتا ہو گا – ان کے بچے بھی کوئی سنبھالتا ہو گا ؟؟؟؟ تو اس خاتون کی کیا حالت ہے ؟

جو آپ کے گھر کی ” ماسی ” ہے – جس کی مہینے بھر کی تنخواہ محض اتنی ہے کہ جتنی آپ ایک آدھ وقت کی چائے کافی – جی ہاں گھروں میں کام کرنے والی خواتین کی تنخواہ پانچ سات ہزار سے زیادہ نہیں ہوتی – کوئی زیادہ حاتم طائ بنے گا تو دس ہزار دے دے گا – اور لاہور کے کسی بڑے ہوٹل میں جب کوئی مختصر فیملی چلی جائے تو ایک وقت کے کھانے کا بل اس سے زیادہ ہو جاتا ہے –

لیکن مال روڈ پر ” کسی کے باپ سے آزادی” مانگنے والی ان خواتین کے کسی پروگرام میں ان آزاد مگر غلام خواتین کے لیے کوئی آواز آپ کو سنائی نہیں دے گی – کیونکہ ان آزادی مانگنے والی عورتوں کی آزادی کے پیچھے یہی مجبور اور غلام خواتین ہوتی ہیں –  اور اگر ان مجبور ، گھروں کی ماسیوں کو ان کے حقوق مل گئے تو ہماری ان روشن خیال مہلاؤ کے پاس نعرے لگانے کے لیا خام مال کہاں سے آئے گا اور گھر میں پوچا لگانے کے لیے لونڈیاں کہاں سے ملیں گی –

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...