بلاگ

تجھے اے ذندگی لاوٗں کہاں سے؟

اس تصویر میں جو کچھ نظر آرہا ہے اب شاید کہیں کہیں نظر آتا ہوگا۔ یہ خالص دیہاتی ماحول ہے۔ قبرستان کے ایک کونے میں عمر رسیدہ شخص جو چھوٹی سی فیکٹری چلارہے ہیں اس کو بٹ کہتے ہیں۔ تندور کی طرح گارے مٹی سے بنے ہوےٗ بٹ کے تین حصے ہیں۔ ایک طرف سے سوختہ لکڑی اندر کرکے آگ لگایٗی جاتی ہے، دوسرے حصے میں کڑاہی ہے جس کے عین نیچے آگ جلتی ہے، تیسرا حصہ دُھویں کی چمنی ہے۔ کڑاہی میں باریک ریت یا نمک خوب گرم کرکے اس میں جوار کے دانے ڈالے جاتے ہیں اور تھوڑی دیر ہلانے کے بعد لیجیٗے جناب! گرم گرم نینے تیار۔ ایک زمانہ تھا کہ لوگوں کے پاس نقدی نہیں ہوتی تھی تو جوار کے دانوں کا ایک حصہ بٹ والا لیتا تھا جس کو مقامی زبان میں حق یا مز کہتے تھے۔ اب شاید پیسے لیٗے جاتے ہیں۔ ھماری ثقافت کی یہ نشانیاں اب معدوم ہوتی چلی جارہی ہیں اب جنرل سٹوروں نے ان کی جگہ لی ہے جہاں پیکتوں میں بند چپس اور ٹافیاں ملتے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر فخر الاسلام ( پشاور یونیورسٹی)

ہمارے بچپن میں ہمارے علاقے میں یہ کام ایک ہندو بھڑبھونجا ، جی ہاں ہماری والدہ نے بھٹی پر کڑاھی رکھ کر چنے مکئ اور جوار بھوننے والے کا یہی نام بتایا تھا کیا کرتا تھا۔ یہ اندرون سندھ کے وہ ہندو تھے جو تقسیم کے وقت بھارت کی طرف ہجرت نہ کرسکے تھے اور نہ جانے کب سے، شاید راجہ داہر کے زمانے سے ان کی نسلیں یہاں آباد چلی آرہی ہیں- بازار میں ایک کچی پرانی دکان کے ایک جانب مٹی کا بہت بڑا چولہا اور اس کے اوپر مٹی گارے کی مدد سے فکس شدہ بڑی آہنی کڑاہی۔۔۔ بھٹی نما چولہے میں موٹے موٹے لکڑوں کی آگ کی لپٹیں چولہے کی سائڈوں پر بنے چمنی نما گول سوراخوں سے اپنی آتشی زبانیں لپلپاتی ہوئ نکلتی تھی- اس کڑاھی کے عین سامنے بوڑھا برف سے سفید بالوں والا ہندو بھڑبھونجا ایک عدد چار تہہ کی ہوئ دری اور اس کے اوپر دھری ایک میلی سی کشن نما گدی پر آلتی پالتی مارے بیٹھا ہوتا تھا۔ اس بڑھاپے میں بھی وہ انتہائ پھرتی سے کڑاھی میں گرما گرم بالو ریت میں چنے ڈال کر ان کو بڑی پھرتی کے ساتھ اپنے کڑچھے سے الٹتا پلٹتا تھا۔ کچے کابلی چنے آگ سے دھکتی ریت میں دیکھتے ہی دیکھتے زرد رنگت اختیار کرلیتے۔ ان چنوں کے بھننے کی سوندھی لپٹیں انتہائ اشتہا انگیز ہوا کرتی تھیں- چنوں کو انتہائ مناسب حد تک بھوننے کے بعد بھڑبھونجا بڑی داری آہنی چھننی ریت میں گڑا کر سارے چنے اس میں سموتا اور پھر بڑی تیزی سے دونوں ھاتھوں سے چھننی کو آگے پیچھے حرکت دیتا تو ساری ریت دوبارہ کڑاھی میں گر جاتی اور چھننی میں بھنے ہوئے چنے رہ جاتے جنہیں وہ اپنے دائیں ہاتھ پر رکھے پتلے سرکنڈے سے بنی گول ٹوکری میں انڈیل دیتا۔ ہم نے بے شمار مرتبہ اس سے وہ گرما گرم چنے خرید کر کھائے جن کا ذائقہ اور سوندھی مہک آج بھی نہیں بھولتی۔ جب کبھی ہماری والدہ کوفتے بناتی تھیں تو کوفتوں میں شامل کرنے کے لئے بھنے چنے منگوایا کرتی تھیں جو ہم آدھے سے زیادہ بھڑبھونجے کی دکان سے گھر تک لاتے کھا جایا کرتے تھے اس لئے والدہ جب بھی چنے منگواتیں تو احتیاطا” ہمارے حصے کے لئے الگ سے پیسے دیا کرتی تھیں-

چنوں کے علاوہ وہ چاول کے مرمرے , گیہوں کے دانے اور مکئ کی کھیلیں بھی بھونتا تھا۔ سب سے زیادہ ادھم مکئ کے دانے ہی مچاتے تھے اور پٹ پٹ کی آواز کے ساتھ زرا سی دیر میں پوری کڑاھی سفید سفید بیلے کے پھولوں جیسے پاپ کارن سے بھر جاتی۔ یہ کڑاھی میں اتنی زیادہ اچھلتے تھے کہ جب کبھی بھڑبھونجا مکئ بھونتا تو اس کی پوری دکان کا فرش کڑاھی سی راہ فرار اختیار کرنے والے پاپ کارن سے بھر جاتا۔ لیکن آجکل کے پاپ کارن اور بھڑبھونجے کے پاپ کارن میں یہ فرق ہوتا تھا کہ وہ پاپ کارن بغیر تیل یا نمک شامل کئے ریت میں بھونے جاتے تھے اس لئے پھیکے اور بغیر آئل کے ذائقے کے ہوا کرتے تھے۔

لیاقت آباد المعروف لالوکھیت کی صرافہ مارکیٹ و فردوس سینما سے متصل ہول سیل و پرچون مارکیٹ میں آج بھی ایک بھڑبھونجے کی دکان ہے جس کے بھونے ہوئے کالے چنوں کی مہک ہمہ وقت پوری مارکیٹ پر چھائ رہتی ہے. آجکل بھی یہ کام کرنے والے موجود ہیں … ایسے ہی گشتی بھڑبھونجے بھی چھوٹی سی مٹی کی بنی بھٹی لئے شہر میں پھرتے ہیں مگر وہ کالے چنے نہیں بھونتے صرف مکئی کے دانے اور سفید چنے بھونتے ہیں … یہ گشتی بھٹیاں اکثر پٹھان بھائی چلاتے ہیںکیا آپ نے کبھی بھڑبھونجے کو چنے اور مکئ بھونتے دیکھا ہے؟

ثنا اللہ خان احسن