بلاگ کالمز

بدلتے رجحانات اور ہمارا معاشرہ!

گو کتابوں اور خطبات کی اہمیت مسلمہ ہے لیکن دورِ جدید میں جب ابلاغ کی دنیا مسلسل انقلابی کیفیت میں ہے تو صرف اِن دو قدیم ذرائع پر اصرار کرنا کسی حماقت سے کم نہیں ہے۔ اب ہم کارٹون، ڈراموں، دستاویزی فلموں، ویڈیو گیم اور تھری ڈی اینیمیشن جیسے ذرائع سے بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اِس واسطے اگر اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو موجودہ زمانے میں فلم، ڈرامے اور شاٹ ویڈیو اپنی اثر انگزیزی کے اعتبار سے سب سے زیادہ موثر ہیں۔ آپ افغانستان یا بنگلادیش کا سفر کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کابل اور ڈھاکہ میں عام لوگ بالی ووڈ کے توسط سے ہی اردو زبان سے آگاہ ہیں۔ہمارا تعلق شاید اُس آخری نسل سے ہے جو ’’نونہال‘‘ ایسے مجلے اور ’’عمران سیریز‘‘ ایسے ناولوں کے زیرِ اثر پروان چڑھی ہے۔

اِس لئے باوجود اِس کے کہ ہم اسکول کے زمانے میں ہی سوشل میڈیا سے آشنا ہوچکے تھے، کتاب ہمارے لئے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن آج کا نونہال کتابوں سے زیادہ سوشل میڈیا اور تحریر سے زیادہ ویڈیو میں دلچسپی رکھتا ہے۔ نونہال ہی کیا، اگر ہم مجموعی طور اپنے اردگرد کا جائزہ لیں کہ آج صبح کتنے گھروں پر اخبار آیا تو یقیناً ہمیں حقائق تک پہنچنے میں زیادہ دقت نہیں ہوگی۔ پھر یہ خیال عالمی سطح پر بھی بتدریج ختم ہوتا جارہا ہے کہ تقریر کے مقابلے میں تحریر کی حیثیت اکیڈمک ہے۔ اب خبروں اور انٹرویو کے کلپ بھی بطور حوالہ جات عدالتوں میں پیش کئے جارہے ہیں اور ویڈیوز کا ڈیٹا بیس بھی اخبارات کی طرز پر ریکارڈ روم کی زینت بنتا ہے۔سوشل میڈیا پر نظر ڈالی جائے تو شارٹ ویڈیوز کی پہنچ کسی تحریر سے کئی گنا زیادہ ہے۔ عمومی مشاہدہ یہ ہے کہ کوئی بہترین تحریر بھی کسی عمومی درجے کی ویڈیو کا مقابلہ نہیں کرپاتی۔ بات کچھ تلخ ضرور ہے لیکن بہرحال غلط نہیں کہ سوشل میڈیا پر اردو لکھنے اور پڑھنے والوں کا طبقہ بہت زیادہ بھی ہوا

تو گنتی ہزاروں سے اوپر نہیں جائے گی۔ جبکہ دوسری طرف دیکھا جائے تو زید علی، شام ادریس، دھوم برادرز، فرقان شائق، دانش علی، تھری ایڈیٹ، کراچی وائنز اور جنید اکرم کے ناظرین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ کامک اسٹار ارسلان نصیر کا فیس بک صفحہ ایک ملین سے زائد متحرک لائیک رکھتا ہے۔اِن حوالوں کی روشنی میں یہ رائے مسترد نہیں کی جاسکتی ہے کہ جو گہرے اثرات اور نقوش نسیم حجازی کے تاریخی ناولوں اور اقبال کی شاعری نے ہماری اور ہم سے پچھلی نسل پر مرتب کئے، نئے دور میں وہ ممکن نظر نہیں آتا۔ آج یہ کردار ڈرامے اور فلم اِس سے کہیں زیادہ بہتر انداز میں ادا کرسکتے ہیں۔ مزید یہ کہ علمائے ابلاغ بھی اِس بات پر متفق ہیں کہ تحریر کے مقابلے میں تقریر اور تقریر کے مقابلے میں کردار زیادہ اثرات چھوڑتے ہیں۔

عرب اور ترک دنیا میں اِس ضرورت کو ہم سے بہت پہلے محسوس کرلیا گیا تھا۔ انہوں نے کئی اہم تاریخی، مذہبی اور فکری موضوعات کو پردا اسکرین پر پیش کیا۔ عمر سریز اور عمر مختار کے حالات زندگی پر مبنی فلم اُس کی شاہکار عکاسی ہیں۔ڈرامہ سیریل ’’درلیز‘‘ بھی اِس سلسلے میں ایک بہترین اضافہ ہے۔ خلافت عثمانیہ کے بانی قائی قبیلے اور سردار عثمان کے والد ارطغرل کے حالات زندگی پر مشتمل اِس ڈرامے کے تینوں سیزن ریٹنگ چارٹ پر مسلسل پہلے اور دوسرے نمبر پر آرہے ہیں۔ تاریخ، تصور امت، اغیار کے سازشی ہتھکنڈے، ایمانی حرارت، جرات و بہادری، رومانس اور ایکشن غرض مسلم نوجوانوں کو مطلوب تمام غذا اِس ڈرامے میں حسب ضرورت موجود ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اردگان اور ترک حکومت کے دوسرے اکابرین حوصلہ افزائی کی غرض سے اُس کے سیٹ پر آتے اور شوٹنگ سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں۔ تصور کریں ترکی کی جو نسل یہ ڈرامہ دیکھ کر جوان ہوگی، اُس کی فکری سطح کیا ہوگی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے یہاں بھی اب کتابوں سے آگے کی دنیا کو سنجیدہ لیا جائے۔ یہ اسی وقت ہوگا جب ہم ایک طرف تو قبول کریں کہ اکسیویں صدی میں ٹکنالوجی اور فنون لطیفہ ابلاغ کے سب سے طاقتور مہرے ہیں اور دوسری طرف ٹکنالوجی اور فنون لطیفہ کے لوگ اپنی اہمیت اور ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے سیکھنے سیکھانے کا بیڑا اپنے ہاتھوں میں لیں اور سماج میں بگاڑ کے بجائے سدھار اور فکری تنوع کا ذریعہ بنیں۔