معلومات

ٹیپوسلطان

بھارتی میڈیا کے مطابق ٹیپو سلطان وہ پہلے حکمران جنگجو تھے جنہوں نے ہندوستان کے سب سے پہلے راکٹ میزائیل کو انگریزوں کے خلاف جنگ میں استعمال کیا ۔ یہ قصہ ہے ستمبر 1780 کا جب انگریزوں کے ساتھ جنگ کے دوران لوہے یا سٹیل کی لمبی نالیوں کے وار ہیڈز میں مختلف طرح کی تلواریں لگا کر چھوڑا جاتا جو کہ 2 کلو میٹر تک با آسانی نشانہ بنا سکتا تھا ۔ جنگ کے دوران انگریزسمجھ ہی نہیں پاۓ کہ ان راکٹوں کا سامنا کیسے کیا جاۓ نیز ان سے نمٹنے کے لیے کیا حکمتِ عملی وضع کی جاۓ ۔۔۔ اسی طرح ٹیپو سلطان کے راکٹ آج کے جدید دور کے میزائیل و راکٹ ٹیکنالوجی کی بنیاد بنے ۔ ٹیپو سلطان کی فوج میں 5000 فوجی ایسے تھے جنہیں راکٹ چلانے میں مہارت حاصل تھی ۔ نواب فتح علی حیدر شہاب ٹیپو اپنے والد نواب حیدر علی اور ان کی دوسری بیوی والدہ فاطمہ بیگم المعروف فخرالنساء کے گھر 1750 میں پیدا ہوۓ ۔ ان کا نام نواب حیدر علی نے بوجہ ارکاٹ کے ولی ٹیپو مستان شاہ سے حد درجہ انسیت ، ٹیپو رکھا تھا ۔۔۔

پانچ سال ( چار سال ، چار ماہ اور چار دن ) کی عمر میں دین و دنیاوی تعلیم و تربیت کا بندوبست کیا گیا ۔ گھڑ سواری پسند تھی ۔ پالکی میں سوار ہونے کو مردوں کی شان کے خلاف تصور کرتے تھے ۔ والد حیدر علی کے ساتھ ہر جنگ میں شمولیت نے اٹھارہ سال تک پہنچتے پہنچتے ٹیپو سلطان کو ایک لائق ، عاقل ، جنگجو ، متدبر ، مجاہد ، بہادر سپاہی بنا دیا تھا ۔ 1782 ء میں والد کی وفات کے بعد ریاست کا انتظام سنبھال کر مملکت خداد کا نام دے دیا ۔۔ ٹیپو سلطان نے رعایا کی فلاح و بہبود کے لیے بے شمار کام سر انجام دئیے ۔

پانی کی وافر و یقینی دستیابی ، سکوں کے وزن اور معیار کے لیے نئے قوانین کا نفاذ ۔ ٹیپو سلطان نے اپنی ریاست کے عوام کی اخلاقی و معاشرتی خرابیاں دور کرنے کے لیے بھی اصلاحات کیں۔ شراب اور نشہ آور چیزوں پر پابندی لگائی اور شادی بیاہ کے موقع پر ہونے والی فضول رسومات بند کرائیں اور پیری مریدی پر بھی پابندی لگائی۔ ٹیپو سلطان نے ریاست سے زمینداریاں بھی ختم کردی تھیں اور زمین کاشتکاروں کو دے دے تھی جس سے کسانوں کو بہت فائدہ پہنچا۔ ٹیپو سلطان نے کوشش کی کہ ہر چیز ریاست میں تیار ہو اور باہر سے منگوانا نہ پڑے۔ اس مقصد کے لیے اس نے کئی کارخانے قائم کیے۔ جنگی ہتھیار بھی ریاست میں تیار ہونے لگے۔ اس کے عہد میں ریاست میں پہلی مرتبہ بینک قائم کیے گئے۔ان اصلاحات میں اگرچہ مفاد پرستوں کو نقصان پہنچا اور بہت سے لوگ سلطان کے خلاف ہوگئے لیکن عوام کی خوشحالی میں اضافہ ہوا اور ترقی کی رفتار تیز ہو گئی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ریاست کا مضبوط انداز سے دفاع شامل ہیں ۔ میسور کی خوشحالی کا اعتراف اس زمانے کے ایک انگریز نے ان الفاظ میں کیا ہے :

مزید پڑھیں: سنسکرت

” میسور ہندوستان میں سب سے سر سبز علاقہ ہے۔ یہاں ٹیپو کی حکمرانی ہے۔ میسور کے باشندے ہندوستان میں سب سے زیادہ خوشحال ہیں۔ اس کے برعکس انگریزی مقبوضات صفحۂ عالم پر بدنما دھبوں کی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں رعایا قانون شکنجوں میں جکڑی ہوئی پریشان حال ہے۔ "ٹیپو سلطان 4 مئ 1799 ء پٹنہ میں اپنے وزیراعظم میر صادق کی غداری کے نتیجے میں انگریزوں سے جنگ کے دوران شہادت کا جام پی کر خالق حقیقی سے جا ملے اور تاریخ کی کتب نیز اپنی آنے والی نسلوں کے لیے زندگی کے چند بڑے اور عظیم سبق چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے ۔۔ بے شک ! ” شیر کی ایک دن کی زندگی ، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہوتی ہے ”

باوجود اس کے کہ ٹیپو سلطان اپنی پالیسیوں کے بل بوتے پر غیر مسلم تاریخ دانوں کی نظر میں سولیہ نشان کی زد میں ہیں ۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ وہ تاریخ دان اس وقت اس جگہ موجود نہیں تھے اورجو موجود تھے وہ ٹیپو سلطان کے گن گاۓ بناء رہ نہیں سکتے ۔ آج بھی کرناٹک میں ایک مندر ایسا بھی ہے جہاں روز ٹیپو سلطان کے عوام کے لیے بناء کسی مذہبی تعصب کے ، خدمات کو یاد رکھتے ہوۓ پوجا کی جاتی ہے ۔ اور اسے ٹیپو سلطان کی مندر آمد سے منسوب کیا جاتا ہے ۔