بلاگ کالمز

وقت بچایئے، لیکن کیسے؟

وقت، عقیدے کے بعد زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ اِسے بڑی منصوبہ بندی اور احتیاط سے خرچ کرنا چاہیے۔ آدمی کو وقت کے بارے میں بڑا بخیل ہونا چاہیے۔ بغیر کسی وجہ اور ضرورت کے کسی کو نہ دے۔ اِنسان کی کامیابی و ناکامی کے پیچھے ایک بڑا ہاتھ اس وقت کی درست تنظیم اور خرچ کا بھی ہے۔بہت سے لوگوں نے فیس بُک پر پوچھا کہ ٹائم مینجمنٹ پر کچھ لکھ دوں مگر کبھی ہمت نہ پڑی۔ اللہ کو یہ بات بڑی ناپسند ہے کہ وہ کہو جو کرتے نہیں ہو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ زندہ شخص کی مثال نہ دو کیونکہ وہ ابھی مرا نہیں اور ہمیں نہیں پتا کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہوگا یا نہیں۔ تو بہت ہی ڈر لگتا ہے کہ آدمی اپنی مثال دے کہ میں نے یوں کیا اور ایسا کیا اور ویسا کیا۔

اپنی مثال تو صرف وہ دے جِسے مرنا نہ ہو، باقی سب کو تو ڈرنا ہی چاہیے۔وقت میں تعصب نہیں، لالچ نہیں اور وفا نہیں۔ یہ امیر غریب سب کو یکساں ملتا ہے۔ نہ کسی کےلیے تیز، نہ کسی کےلیے سُست، ایک ہی رفتار سے چلتا ہے۔ نہ ہی اسے پیسوں سے خریدا جا سکتا ہے کہ آپ لاکھوں روپے دے کر زندگی کا ایک دن بڑھالیں اور نہ ہی اس میں وفا ہے۔ یہ بڑا بےنیاز ہے۔ آپ چنگیز خان ہیں تو بھی آپ کو آپ کے مقدر کا وقت ملے گا اور اگر آپ عبدالستّار ایدھی ہیں تو بھی یہ ایک دن ختم ہو کر رہے گا۔ یہ کسی کا دوست نہیں۔جیسے ہر شئے کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے اسی طرح وقت کا نصب العین فنا ہے۔ یہ بنا ہی اِس لیے ہے کہ چیزوں کو، لوگوں کو، اداروں کو، اِرادوں کو، نیز سب کو فنا کی جانب ہانکے۔

ہر وہ چیز جِس سے وقت کا پالا پڑ گیا، مٹ کر رہے گی۔ وہ شداّد کی جنت ہو، نمرود کی بادشاہت، یا فرعون کا غرور۔ وقت سب کو چاٹ جاتا ہے۔ یہ نظریہ ہی غلط ہے کہ ہم وقت کو سنبھال سکتے (مینیج کرسکتے) ہیں۔ یہ تو وقت ہے جو ہمیں مینیج کرتا ہے۔آپ کو پتا ہے کہ وقت کی ضِد کیا ہے؟ بقاء۔ وقت فنا ہے اور اِس کی ضِد بقاء ہے۔ آپ اللہ کا ذکر کرتے چلے جائیے اور اسی کی ذات میں فنا ہوجائیے۔ یہی آپ کی بقاء ہے اور وقت کو مات کرنے کی واحد ترکیب۔ اہلِ کشف بتاتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی گئی مسنون دعائیں موقع کے حساب سے مانگی جائیں تو آدمی وقت کے شکنجے میں اُلٹا سفر کرتا ہے اور زندگی میں برکت آجاتی ہے۔ اللہ ایک نیکی کا کم ازکم دس گنا لوٹاتا ہے۔

جو وقت اللہ کی یاد میں لگا وہ بھی نیکی ہے تو یقین جانیے قدرت آپ کا وقت کئی گنا کرکے لُوٹادے گی۔ اِسے ہم برکت کہتے ہیں۔ کوئی آدمی زندگی میں جتنا کچھ لکھ جاتا ہے، اگلا پڑھ بھی نہیں پاتا۔ یہ ہوتی ہے برکت۔وقت موت کا آلہ کار ہے۔ جب تک یہ اپنا کام پورا نہ کرلے، موت نہیں آتی۔ 70 سال کی اوسط عمر میں ہر شخص کو 25,550 دن، 613,200 گھنٹے یا 36,792,000 منٹ ملتے ہیں۔ ہر شخص کے پاس دن میں 24 گھنٹے، 1,440 منٹ یا 86,400 سیکنڈ ہوتے ہیں۔ یہ کوئی زیادہ وقت نہیں کہ فضول کاموں میں اُڑا دیا جائے۔ ہم میں سے ہر شخص کم ازکم آٹھ گھنٹے تو سوتا ہی ہے، بچے زیادہ اور بوڑھے کم۔

اگر ہم روزانہ اوسط آٹھ گھنٹے بھی سولیں تو زندگی کے 23 سال سوتے میں گزر گئے۔ 8 گھنٹوں کا آفس، 23 سال وہاں چلے گئے۔ صرف 2 گھنٹے بھی روز سوشل میڈیا اور ٹی وی کی نذر ہوجائیں تو یہ کوئی لگ بھگ 6 سال بنتے ہیں۔ نہانے اور باتھ روم میں روز کا ایک گھنٹہ، لو بھئی زندگی کے 3 سال وہاں نذر ہوگئے۔ دوست احباب، رشتہ دار، شوق، کھیل کود، بیوی بچے، سفر اور گھومنا پھرنا، بمشکل تمام ایک سے تین سال پوری زندگی میں ملتے ہیں کہ کوئی ڈھنگ کا کام کرکے بقاء کی طرف سفر کریں۔