بلاگ

TIK TOK بے حیائی اور غلاظت کا سمندر

ٹک ٹوک بے حیائی پھیلانے والا مقبول ترین اپلکیشن ہے جو دنیا کے ۱۵۰ ممالک میں ۵۰۰ ملین سے زائد افراد اس ایپ کو استعمال کرتے ہیں۔ یہ اپلیکیشن کو بننے میں یہودیوں نے کافی وقت لگایا، چاینہ نے اس کو 2016 کے ستمبر مہینے میں لونچ کیا، دو سال میں ٹک ٹوک کو اتنی شہرت حاصل ہوئی جتنی ۱۵ سالوں میں فیس بک اور یوٹیوب کو حاصل نہیں ہوئی، دو سال میں ۵۰۰+ ملین اس کے یوزر ہیں، اور دنیا کے ۱۵۰ ممالک کے لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں۔

اس ایپ کو لونچ کرنے کا مقصد صرف اور صرف اسلام کو نشانا بنانا تھا، آپ اس ایپس پر دیکھیں گے کہ یہودی مذہب کے علاوہ سارے مذاہب کا مذاق بنایا ہوا ہے، آپ کو یہودی مذہب کے خلاف ایک ویڈیو بھی اس ایپس پر نہیں ملےگی، پھر لوگ اس بے حیائی کے سمندر میں غرق ہوتے جا رہے ہیں، اور اپنے ہی ہاتھوں اپنے مذہب کا مذاق بنا رہے ہیں۔ اس ایپس کو زیادہ تر قوم مسلم استعمال کر رہی ہے، اور قوم مسلم میں زیادہ تر ہماری خواتین استعمال کر رہی ہیں۔ مسلم خواتین میکپ لگا کر ایسے ایسے برہنہ کپڑے پہن کر سامنے آتی ہیں کہ اللہ کی پناہ، ساتھ میں دین و مذہب کا مذاق بناتے ہیں۔

یہودی چاہتے ہی ہیں کہ قوم مسلم کو ننگا برہنہ کیا جائے، اور تعلیم سے ہٹا کر انہیں گیم، تین پتی، لوڈو، فیس بک وہاٹسپ، اور بے حیائی والا ٹک ٹوک کے استعمال میں لگا دیں، تاکہ وہ اپنا قیمتی وقت اس میں لگادیں، جب قوم مسلم تعلیم کے میدان میں خالی نظر آئیں گے، تو حکومت ہماری رہے گی، غلام ہمارے رہیں گے۔ ان سارے فتنوں کو دیکھ کر غیب داں نبی رحمت والے نبی، امت کی بخشش کے لیے رورو کر رب کو منانے والے نبی نے ارشاد فرمایا تھا کہ “میں تمہارے گھروں میں فتنوں کی جگہیں اس طرح دیکھتا ہوں جیسے بارش گرنے کی جگہوں کو۔“

۱۴۰۰ سال پہلے ہمارے نبی نے ہونے والے سارے فتنوں کی پیشن گوئیاں فرما دیں، دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں…
"”اعمال صالحہ میں جلدی کرو قبل اس کے کہ وہ فتنے ظاہر ہو جائیں جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے اور ان فتنوں کا اثر ہوگا کہ آدمی صبح کو ایمان کی حالت میں اٹھے گا اور شام کو کافر بن جائے گا اور شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کفر کی حالت میں اٹھے گا، نیز اپنے دین ومذہب کو دنیا کی تھوڑی سی متاع کے عوض بیچ ڈالے گا”” (مسلم) . آج ہمارا بچہ بچہ نیٹ کے استعمال کو جانتا ہے، نیٹ کے استعمال سے جتنا فائدہ اٹھانا چاہیے اس سے کئی گنا انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرتے ہیں، آج ہماری مسلم خواتین گھر میں رہ کر وہ کام کرتی ہیں جو طوائف عورتیں بھی نہیں کرتیں، وہ بند کمرے وہ کام انجام دیتی ہیں جس کی کسی کو خبر نہیں ہوتی مگر ہماری مسلم خواتین بند کمرے سے لائو آکر وہ کام انجام دیتی ہے جس کے حسن کو پوری دنیا دیکھتی ہے.

اور دیکھ دیکھ کر نبی آخر الزماں کی وہ حدیث یاد کرتی ہے کہ… "”دو گروہ ایسے ہیں جو اہل جہنم میں سے ہیں’ لیکن میں نے ان کو نہیں دیکھا، ایک تووہ لوگ ہوں گے جن کے پاس گائے کی دُموں جیسے کوڑے ہوں گے جن کے ساتھ یہ لوگوں کو ماریں گے اور دوسری وہ عورتیں ہوں گی جو کپڑے پہن کر بھی ننگی ہوں گی (یعنی یا تو باریک لباس پہنا ہو گا جس کی وجہ سے جسم نظر آ رہا ہو گا یا پھر ایسا لباس پہنا ہو گا کہ جس نے اُن کے جسم کا کچھ حصہ ڈھانپا ہو گا اور کچھ حصہ ننگا ہو گا) ‘مَردوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی اور خود مَردوں کی طرف مائل ہونے والی ہوں گی۔ اُن کے سر ایسے ہوں گے جیسے کہ خراسانی نسل کے اونٹ کے کوہان ہوں ( سر کے بالوں کے نت نئے فیشن اور سٹائلز کی طرف اشارہ ہے)۔یہ عورتیں نہ تو جنت میں داخل ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبوپا سکیں گی’ حالانکہ جنت کی خوشبو اتنے اتنے فاصلے سے محسوس ہو گی”۔

اسلام نے عورت کو ایک پاکیزہ نظام دیا ہے جس میں اس کی بھلائیاں چھوپی ہوئی ہیں۔ اسلام نے عورت کی حفاظت کی خاطر مسجد میں جانے سے روک دیا، اذان و اقامت سے روک دیا، حج کے دوران اونچی آواز میں تلبیہ کہنے سے روک دیا، اونچی آواز میں قرآن پڑھنے سے روک دیا، اونچی آواز سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت پڑھنے سے روک دیا ہو، اسی مذہب کی نوجوان لڑکیاں ٹک ٹوک پر ناچ رہی ہو تو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی ہمارے رحمت والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو۔

ٹک ٹوک کی بیماری میں صرف لڑکیاں ہی نہیں، بلکہ اس کے بچے بچے دیوانے ہیں اور لڑکیوں کے ساتھ میں اپنا وڈیو بنا کر لوگوں میں شیئر کرتے ہیں اور اس گناہ کے کام میں لذت محسوس کرتے ہیں۔ اس کام میں صرف بچے نہیں بلکہ ان لوگوں کے بھی چہرے سامنے آئیں جو والدین ہیں، بڑھے ہیں، دین کے جاننے والے ہیں، اس بدفعلی میں برابر نظر آئے۔

جب ہمارے رہنما ہی ایسے کاموں میں لگ جائیں تو سمجھ لینا قوم تنزلی کا شکار ہو چکی ہے،رہنماؤں کو تو چاہیے اس بے حیائی والے ایپلیکشن کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے تھا، جمعہ کے خطابات میں اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے تھی، مگر اب تو ڈاکٹر ہی بیمار ہونے لگے ہیں تو قوم مسلم کا علاج کیسے کریں گے۔ اگر اب بھی نہ سنبھلیں تو وہ دن دور نہیں جب ہماری بچیاں ٹک ٹوک پر بغیر کپڑے کے برہنہ ناچ دیکھائیں، اور اس بات پر یہود جشن منائیں، ہماری غیرت کو کیا ہو گیا، کس حد تک ہم بے شرم ہوگیے، کہ ہم نے اپنی بچیوں کے ہاتھ میں موبائل تھما دیا جس سے وہ اپنی خواہشات بند کمرے میں مٹا رہی ہیں۔ ابھی بچے بالغ نہیں ہوتے مگر وہ سیکس کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، مشت زنی کرکے بالغ ہوتے ہیں، اغلام بازی کرتے ہیں، کتوں بکریوں اور جانوروں کے ساتھ اپنی پیاسیں بجھاتے ہوئے نظر آتے ہیں، آپ روزانہ اخبارات کا جائزہ لیں تو پتہ چلےگا، کہ ہمارے معاشرے میں ہو کیا رہا ہے، اور کیوں ہو رہا ہے۔ خدارا اپنے بچیوں پر رحم کریں، اور جہنم کی آگ سے بچائیں۔

•اپنے بچوں پر گہری نظر رکھیں!! ہماری قوم کو ہمارے نبی کی سیرت پسند نہیں، ہماری قوم کی بچیوں کو پردہ پسند نہیں، ہمارے مسلم لڑکوں کو چہرے پر داڑھی رکھنا پسند نہیں، ہاں اگر پسند ہے تو یہودی اسٹائل میں رکھے جانے والے بال پسند ہے، یہودی لوگ اگر اپنے چہرے پر داڑھی کو فیشن بنا کر رکھتے ہیں تو ہمارا جوان اسی کی طرح اپنے چہرے پر داڑھی رکھتا ہے۔ جیسے وہ کپڑے پہنتا ہے ہمارا جوان ان کی اسٹائل والا لباس پہنتا ہے، ہماری بچیوں کو نقاب پسند نہیں، وہ نقاب و پردے کو دقیانوسی خیال کرتے ہیں۔ اگر کوئی یہودی لڑکی تنگ و چست لباس پہنتی ہے تو ہماری بچیاں اس کی طرح کا لباس خرید کر پہنتی ہے، مردوں کی طرح بال کٹواتی ہے، مردوں کے لباس پہنتی ہیں،، یہاں تک کے اگر یہودی لڑکیاں چڈی بنیان پہنتی ہیں تو ہماری بچیاں بھی اپنا جسم کھول کر لوگوں کو دیکھاتی ہوئی نظر آتی ہیں، جس منہ سے ہم کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں، ہم کون سا کام اسلام والا کرتے ہیں۔ ہم کس منہ سے کہیں ہم کنیز فاطمہ ہیں، غلام مصطفی و غلام حسین ہیں، ہم خود ذلت و رسوائی والے کام کر رہے ہیں، یہ سب قیامت کی نشانیاں ہیں جو وجود میں آرہی ہیں، جو بچ گیا وہ امن پا گیا.. اپنے گھر والوں کی حفاظت کیجیے، اور سیرت مصطفی پر چلنے کا عادی بنا دیجیے، ان شاء اللہ وہ کبھی نہیں بھٹکےگا…