معلومات

پانی پت کی تیسری جنگ۔

14 جنوری 1761ء کو پانی پت کے میدان میں مرھٹوں سے جنگ لڑی گئی۔ یہ جنگ افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالی اور مرہٹوں کے سداشو راؤ بھاؤ کے درمیان ہوئی۔

مرہٹے ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے یہ متعصب ، وحشی اور جنگ جو تھے مسلم دشمنی میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا ۔ان کی سرکوبی کے لئے مغل بادشاہ اورنگ زیب نے ان کی سرکوبی اور تدارک کے لئے 25 سال جنگیں لڑیں۔اگرچہ اس نے ان کا زور توڑ دیا مگر ان کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ مغل شہزادے جانشینی کی جنگیں لڑتے رہے اور مرہٹے اپنی فوجی طاقت بڑھاتے رہے یہاں تک کہ 1755ء میں دہلی تک پہنچ گئے مغل بادشاہ ان کا مقابلہ کرنے سے قاصر تھے۔

1760ء تک مرہٹے پاک و ہند کے بڑے حصے کو فتح کر چکے تھے۔ ان کے سردار رگوناتھ نے مغلوں کو شکست دے کر دہلی پر قبضہ کر لیا۔ پھر لاہور پر قبضہ کر کے اٹک کا علاقہ فتح کر لیا۔انہوں نے لال قلعہ دہلی کی سونے کی چھت اترواکر اپنے لئے سونے کے سکے بنوائے ۔انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی کی شاہی مسجد کے منبر پر رام کی مورتی رکھیں گے جس سے مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔مسلمان سردار نجیب الدولہ نے احمد شاہ ابدالی کو تمام صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے ہندوستان پر حملہ کی دعوت دی اور مالی وعسکری مدد کا یقین دلایا ۔ مرہٹہ مقبوضہ علاقہ جات احمد شاہ ابدالی کی ملکیت تھے ان کا حاکم احمد شاہ درانی کا بیٹا تیمور شاہ تھا جسے شکست دے کر مرہٹوں نے افغانستان بھگا دیا اب احمد شاہ درانی نے اپنے مقبوضات واپس لینے کے لیے چوتھی مرتبہ برصغیر پر حملہ کیا۔

14 جنوری 1761ء کو پانی پت کے میدان میں گھمسان کا رن پڑا ۔یہ جنگ طلوع آفتاب سے شروع ہوئی جبکہ ظہر کے وقت تک ختم ہوگئی روہیلہ سپاہیوں نے بہادری کی داستان رقم کی۔ ابدالی فوج کے سپاہیوں کا رعب مرہٹوں پر چھایارہا ان کے تمام جنگی فنون ناکام ہوگئے۔ فریقین میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد سپاہی مارے گئے جن مین زیادہ تعداد مرہٹوں کی تھی مرہٹوں سے نفرت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب مرہٹے شکست کھاکر بھاگے تو ان کا پیچھا کرکے انہیں مارنے والوں میں مقامی افراد کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی شامل تھیں اس جنگ میں مرہٹوں نے عبرت ناک شکست کھائی اس کے بعد وہ دوبارہ کبھی جنگی میدان میں فتح حاصل نہ کرسکے۔ احمد شاہ ابدالی نے دہلی پہنچ کر شہزادہ علی گوہر کو دہلی کے تخت پر بٹھایا اور دو ماہ بعد واپس چلا گیا۔

پانی پت کی تیسری جنگ کے بعد مرہٹوں کا خاتمہ ہوگیا ان کی طاقت مکمل طور پر توڑ دی گئی ۔

ہندوستان پر ان کی حکومت کی خواہش اور شاہی مسجد دہلی کے منبر پر رام کی مورتی لگانے کا خواب بکھر گیا۔مرہٹوں کے 27 سردار مارے گئے ۔وہ دوبارہ اٹھنے کا قابل نہ رہے مگر مغلوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ دوبارہ اپنا اقتدار مضبوط کریں۔ ان کی کمزوری سے فائدہ انگریزوں نے اٹھایا انہوں نے باآسانی مرہٹہ سرداروں کو شکست دے کر اپنی حکومت مضبوط کی۔

اورنگ زیب کی وفات مغل حکومت کے زوال کا نقطہء آغاز تھا جو بھارت کی سیاسی بد امنی معاشی ومعاشرتی بد حالی اور اخلاقی ومذہبی بدنظمی کا آغاز ثابت ہوا-

مغل حکومت کے زوال کا بنیادی سبب ولی عہدی اور تخت نشینی کے لئے کسی اصول وقواعد کا نہ ہونا تھا جس کی وجہ سے ہر کوئی اپنے آپ کو تاج وتخت کا حق دار سمجھتا تھا اسی لئے آپسی جنگیں ہوتی تھیں اور ہر کوئی تخت شاہی پر اپنے عزیز وقریب کی لاش سے گزر کر براجمان ہوتا تھا-

اورنگ زیب کی وفات کے بعد دس سال کے عرصے میں وراثت تخت کے بارے میں سات بار لڑائی ہوئی جس سے زوال کی رفتار اور تیز ہو گئی-

شہزادوں کی آپسی خانہ جنگی سے موقع پاکر مرہٹوں نے اپنی اس فوجی قوت وطاقت کو جمع کرنا شروع کردیا جس طاقت کا اورنگ زیب قلع قمع کرچکے تھے شہزادوں کی ناعاقبت اندیشی سے مرہٹوں کو سنبھلنے کا موقع مل گیا-

شہزادوں اور ان کے بعد والے بادشاہوں کی غفلت کی وجہ سے مغل حکومت کے خلاف تین دشمن طاقتیں تیار ہو چکی تھیں:

1 مرہٹے- 2 سکھ- 3 جاٹ یہ تینوں آزاد طاقتیں موقع بموقع دلی (دہلی) اور اس کے اطراف میں لوٹ مار کرتے رہتے تھے-

مرہٹوں کی طاقت میں اتنا زور پیدا ہوگیا تھا کہ انہوں نے اکثر ہندوستان کو فتح کرلیا تھا اور مرہٹوں نے لال قلعہ پر بھی قبضہ کرلیا تھا-

مرہٹوں نے طاقت کے نشے میں عوام پر ظلم و زیادتی شروع کر دی تھی، اس زمانے میں مرہٹوں کی ہنگامہ آرائیوں سے ہندو مسلمان سب ہی پریشان تھے-

بنگال کے مشہور شاعر گنگا رام بنگال پر ان کے حملوں اور لوٹ مار کا حال لکھتے ہیں کہ:

"مرہٹوں نے دیہاتوں کو لوٹنا شروع کر دیا تو کچھ لوگوں کے انہوں نے ہاتھ ناک اور کان کاٹ لئے اور کچھ کو مار ڈالا خوبصورت عورتوں کو رسیوں سے باندھ کر لے گئے اور ان عورتوں کی اجتماعی عصمت دری کرتے تھے”

جدوناتھ سرکار نے بھی مرہٹوں کے زنا کے معاملہ میں شہرت کا اعتراف کیا ہے-

مرہٹون نے عوام سے چوتھ نامی جبری ٹیکس وصول کرنا شروع کردیا تھا یہ ٹیکس صرف اس لئے تھا کہ جو اس ٹیکس کو ادا کریگا وہ مرہٹوں کے حملوں اور لوٹ مار سے محفوظ رہے گا-

جب مرہٹوں نے لال قلعے پر قبضہ کرلیا تو اس قدر لوٹ مار کی کہ دیوان خاص کی سونے کی چھت کو اترواکر سونے کے سکے بنوالئے اور اسی طرح نظام الدین اولیاء کے مزار اور مرقد محمد شاہ پر جو سونے کی شمع دان اور عود سوز تھی اس کو منگواکر سکے بنوا لئے تھے-

مرہٹے طاقت کے نشہ میں یہ نعرہ لگانے لگے کہ ہم کو دلی کی جامع مسجد کے منبر پر مہادیو کی مورتی نصب کرنی ہے-

مرہٹوں کی بڑھتی سرکشی سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے نواب نجیب الدولہ کو اپنے خطوط کے ذریعہ آگاہ کیا-

نواب نجیب الدولہ شاہ ولی اللہ کے خاص عقیدت مندوں میں سے تھا، نواب نجیب الدولہ نے نجیب آباد میں ایک مدرسہ قائم کیا تھا تاکہ شاہ ولی اللہ کے طریقے کی تعلیم واشاعت ہو، نجیب آباد شہر جو ضلع بجنور میں واقع ہے اس کو نواب نجیب الدولہ نے 1740ء میں آباد کیا تھا-

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے نواب نجیب الدولہ کو مرہٹوں کے زور کو کم کرنے کی طرف متوجہ کیا اور جنگ کی صورت میں اپنے مکاشفہ مراقبہ اور رؤیت صالحہ کی بنیاد پر فتح کی بشارت بھی دی-

ان اضطرابی حالات میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ایک فوجی اتحاد قائم کیا جس میں شاہ ولی اللہ نے نواب نجیب الدولہ کے ذریعہ احمد شاہ ابدالی کو شریک ہونے کی دعوت دی اور نواب نجیب الدولہ نے ہر طرح کی مدد کا وعدہ کیا-

احمد شاہ ابدالی کو بھارت کے مسلمانوں کو مرہٹوں کے ظلم و زیادتی سے نجات دلوانے اور مرہٹوں کی طاقت کو ختم کرنے کے لئے فوجی اتحاد میں شرکت کی درخواست کی تھی جس کو احمد شاہ ابدالی نے قبول کر لیا تھا –

احمد شاہ ابدالی نے وعدہ کے مطابق یکم نومبر 1760ء کو پانی پت کے میدان میں ڈیرے ڈال دئے تھے
اس فوجی اتحاد میں احمد شاہ ابدالی، نواب نجیب الدولہ، نواب شجاع الدولہ، حافظ رحمت خاں، سعد اللہ خان و دیگر امراء وجرنیل شریک تھے-

نواب نجیب الدولہ پانی پت کی جنگ میں مقدمۃ الجیش کے افسر تھے-

ادھر مرہٹے طاقت کے نشے میں اپنی فتح کو یقینی سمجھتے ہوئے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ پانی پت کے میدان میں پہنچ گئے-

14 جنوری 1761ء بروز بدھ 6 جمادی الاولیٰ 1174 کی صبح میں دونوں فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے میدان جنگ میں داد شجاعت دینے کو تیار تھیں-

یہ جنگ طلوع آفتاب سے لے کر ظہر کے وقت تک چلی جس میں دوطرفہ بہادروں نے داد شجاعت دی، لیکن نواب نجیب الدولہ کی فوج نے جو جنگی کارنامے انجام دیئے وہ قابل داد تھے، جس کی وجہ سے احمد شاہ ابدالی کی فوج کا دبدبہ مرہٹوں پر ابتدائے جنگ سے ہی قائم ہو گیا تھا-

اس جنگ میں مرہٹوں کو بری طرح شکست ہوئی تھی- اسی جنگ میں مرہٹوں کے 27 بڑے سردار مارے گئے-

اس جنگ نے مرہٹوں کی طاقت کو ایسا تباہ و برباد کیا کہ اس کے بعد وہ کبھی میدان جنگ میں فتح حاصل نہ کر سکے-

اس جنگ میں لاکھوں کی تعداد میں سپاہی مارے گئے جن میں اکثریت مرہٹوں کی تھی-

اس جنگ نے اگرچہ مرہٹوں کی طاقت کو بالکل فنا کر دیا تھا لیکن اس جنگ کا بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس جنگ کے بعد انگریزوں کو ملک میں پیر جمانے کا پورا موقع مل گیا تھا جس کے نتیجہ میں ملک انگریزوں کا غلام بن گیا تھا-

اس موقع پر احمد شاہ ابدالی نے علی گوہر کو تخت نشیں کر کے اور خود واپس افغانستان جا کر بڑی سیاسی ناعاقبت اندیشی کا ثبوت دیا کہ ایسے مرد بیمار مغلوں کو حکومت سونپ دی جو اس وقت کسی طرح بھی حکومت رانی کے اہل نہ تھے-

اس جنگ اور اس سیاسی چوک نے انگریز کا کام آسان کر دیا تھا –
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انتخاب و پیشکش : نیرہ نور خالد