ادب بلاگ

عمیرہ احمد و نمرہ احمد وغیرہ کا مسئلہ

ڈائجسٹ مارکہ خواتین کی ناول نگاری و افسانہ نگاری ایک دلچسپ موضوع ہے اور عمیرہ احمد و نمرہ احمد قسم کی خواتین نے تو اس دلچسپی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس سے قبل کہ ہم موضوع کی طرف بڑھیں یہ اطلاع دینی ضروری سمجھتا ہوں کہ احقر چھٹی جماعت سے دیگر ڈائجسٹوں کے علاوہ خواتین لکھاریوں کے لیے مختص کردہ ڈائجسٹ یعنی آنچل، خواتین، کرن، شعاع ڈائجسٹ وغیرہ بھی پڑھتا رہا ہے۔ پھر کالج کے زمانے میں ڈائجسٹ مارکہ خواتین کے ناول کتابی شکل میں بھی پڑھنا شروع کر دیے۔ ان میں نگہت عبداللہ، سیما غزل، شاہینہ چندا مہتاب، نگہت سیما، فرحت اشتیاق، عمیرہ احمد، وغیرہ کے علاوہ نسبتا معتبر نام یعنی سلمی کنول، بشریٰ رحمٰن اور رضیہ بٹ شامل تھے۔ گویا ان افسانوں اور ناولوں کا مناسب طور پر مطالعہ کرنے کے بعد ہی اپنا بُرا بھلا تاثر پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

سب سے پہلے ناول کے ادبی مقام کا تعین ہونا چاہیے یعنی ناول میں پیش کیے گئے خیالات سے ہٹ کر ناول کو اچھی نثر اور عمدہ اسلوب کے فنی معیارات پہ پرکھنا اشد ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ڈائجسٹ مارکہ خواتین بالعموم اور عمیرہ احمد و نمرہ احمد بالخصوص تیسرے درجے کی نثر لکھتی ہیں۔ اور یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ عالمی ادب تو دور کی بات یہ خواتین اردو ادب کی کلاسیکی روایت سے بھی مکمل طور پہ نابلد ہیں کیونکہ اگر انہوں نے کلاسیکی ادب کا ذرا بھی سنجیدگی سے مطالعہ کیا ہوتا تو ان کی نثر میں ایک جمالیاتی دلکشی ضرور ہوتی۔ اردو ادب کی اقلیم میں ایسے کئی ادیب ہیں کہ موضوع سے ہٹ کر فقط نثر کی چاشنی سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہم انہیں بار بار پڑھ سکتے ہیں مثلا محمد حسین آزاد، مرزا فرحت اللہ بیگ، اشرف صبوحی، مشتاق احمد یوسفی، ابنِ انشا وغیرہ۔ خود اردو ناول کے اندر بھی عمدہ اور بھرپور نثر کے نمونے مل جاتے ہیں مگر ان ڈائجسٹ مارکہ خواتین نے قسم کھا رکھی ہے کہ بے رنگ اور روکھی پھیکی نثر لکھیں گی۔ اردو میں ایسی نثر بھی لکھی گئی ہے کہ اچھی شاعری کے کان کاٹتی ہے۔ شعر کی بہت سی خوبیوں کو نثر میں برتا گیا ہے۔ تشبیہ، استعارہ سازی، محاورہ، صفات کا استعمال، فصاحت و بلاغت، حتیٰ کہ صوتی آہنگ تک کا خیال رکھا جاتا تھا کہ جس سے نثر میں ایسی خوبی پیدا ہو جاتی ہے کہ اگر باآواز بلند پڑھی جائے تو ایک طرح کی موسیقیت محسوس ہونے لگے۔ مگر ان خواتین کے ہاں ایسی کوئی خوبی تلاش کرنا کارِ بے سود ہے۔ اسلوب کا کوئی تجربہ ان کے ہاں نظر نہیں آتا حتیٰ کہ اگر آپ ایک خاتون کی کہانیوں پر سے نام کاٹ کر کسی دوسری خاتون کا نام لکھ دیں تو کوئی بھی جان نہ پائے گا کیونکہ اکثر خواتین کا سرے سے کوئی اسلوب ہے ہی نہیں۔ ڈائجسٹ کا کوئی بھی شمارہ اٹھائیں اور ساری کہانیاں پڑھ جائیں آپ کو ایک سی جزیات نگاری، مکالموں اور ماحول کی یکسانیت، ایک سی لفظیات اور ملتے جلتے موضوعات نظر آئیں گے۔ ہیرو عام طور پہ ذرا رومانوی واقع ہوتے ہیں۔ ایسے ہی ایک ہیرو کی افسانے کے اندر پہلی رونمائی ملاحظہ کیجئے۔

” چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد، ڈارک بلیو جینز کے ساتھ آف وائٹ شرٹ میں کھلا کھلا سفید رنگ، منہ میں چیونگم دبائے، ایک ہاتھ میں ٹینس بال کا ریکٹ تھامے اور دوسرے ہاتھ سے ماتھے پہ بکھرے بالوں کو سمیٹتے ہوا گھر میں داخل ہوا۔”

اگرچہ ایسی بے رنگ نثر کے بعد اشرف صبوحی کی نثر کا اقتباس پیش کرنا گستاخی سے کم نہیں مگر صورتحال کو واضح کرنے کے لیے ایسی شتر گربگی ناگزیر معلوم ہوتی ہے۔ چلیے ہم “دلی کی چند عجیب ہستیاں” سے ایک ٹکڑا منتخب کر لیتے ہیں۔ مٹھو بھٹیارا (آسان لفظوں میں ناشتے والا) صبح دم اپنی دکان کھولتا ہے، یہ منظر ملاحظہ ہو۔

“منہ اندھیرے بغل میں مسالے کی پوٹلی وغیرہ سر پر پتیلا، پیٹھ کے اوپر کچھ چھٹپیاں، کچھ جھانکڑ لنگی میں باندھے ہوئے گنگناتے چلے آتے ہیں۔ آئے دکان کھولی، جھاڑو بہارو کی، تنور کھولا، ہڈیوں گڈیوں یا اوجھڑی کا ہنڈا نکالا۔ ہڈیاں جھاڑیں۔ اس کوٹھی کے دھان اس کوٹھی میں کیے۔ یعنی گھر سے جو پتیلا لائے تھے ہنڈے کا مال اس میں ڈالا۔ مسالا چھڑکا اور اپنے دھندے میں لگ گئے۔ سورج نکلتے نکلتے سالن، نہاری، شروا، جو کہو درست کر لیا۔ تندور میں ایندھن جھونکا۔ تندور گرم ہوتے ہوتے غریب غربا کام پر جانے والے روٹی پکوانے یا لگاون کے لیے شروا لینے آنے شروع ہو گئے۔ کسی کے ہاتھ میں آٹے کا طباق ہے تو کوئی مٹی کا پیالہ لیے چلا آتا ہے اور میاں مٹھو ہیں کہ جھپا جھپ روٹیاں بھی پکاتے جاتے ہیں اور پتیلے میں کھٹا کھٹ چمچا بھی چل رہا ہے۔ “

اب دونوں اقتباسات کو دیکھ لیجئے اور خود فیصلہ کیجئے کہ ہماری یہ خواتین کتنی بے رس اور بے ذائقہ نثر لکھتی ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ جو نوجوان اس طرح کی نثر پڑھتے ہیں وہ سینکڑوں کہانیاں اور درجنوں ناول پڑھ کر اپنے تئیں صاحبِ مطالعہ سمجھنے لگتے ہیں مگر بدقسمتی سے اچھی نثر کے ذائقے سے نا آشنا ئے محض رہتے ہیں۔ برسوں کے مطالعے کے باوجود یہ نوجوان جان نہیں پاتے کہ اردو نثر کیسی دلکش اور کیف آگیں ہو سکتی ہے۔

خیر اب ذرا عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کا تذکرہ ہو جائے کہ ان دونوں خواتین نے پچھلے کچھ برسوں سے خاصی مقبولیت حاصل کی ہے۔ اس سے قبل یہ اطلاع دینی ضروری سمجھتا ہوں کہ حالیہ برسوں میں شائع ہونے والے ایک آدھ ناول کے علاوہ عمیرہ احمد کی ساری کتابیں میں نے چھ سات سال قبل پڑھی تھیں۔ جبکہ نمرہ احمد کا ایک ناول “مصحف” ایک ڈیڑھ سال قبل بہت مشکل سے پڑھا۔ یہ دونوں خواتین بھی اگرچہ ڈائجسٹ مارکہ قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں مگر انہوں نے ایک اہم اضافہ یہ کیا کہ اپنے ناولوں اور افسانوں میں مذہب اور تصوف کا تڑکا لگانا شروع کر دیا تاہم اردو کے افسانوی ادب میں یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ اس سے قبل اشفاق احمد، بانو قدسیہ، ممتاز مفتی وغیر ہ نے یہی کام کیا۔ ان لوگوں کے کچے پکے متصوفانہ خیالات سے مجھے اتفاق نہیں مگر وہ لوگ بہرحال زندگی کا تجربہ رکھتے تھے اور ان کی تحریر میں ادبیت بھی پائی جاتی ہے۔ ان لوگوں کے شروع کیے ہوئے” بابوں” کے باب کا نتیجہ اکیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں میں عشق کے عین، شین، قاف قسم کے ناولوں کی شکل میں نکلا اور کئی لکھنے والوں نے بغیر کسی علم اور روحانی تجربے کے متصوفانہ مضامین بیان کرنے شروع کر دیے اور تصوف کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس سے قبل تاریخ کے ساتھ نسیم حجازی اور عنایت اللہ وغیرہ کر چکے تھے۔

متصوفانہ خیالات بیان کرنے کا یہی سلسلہ عمیرہ احمد ونمرہ احمد کے ہاں بھی پایا جاتا ہے مگر بدقسمتی سے اس میں اتنی جان بھی نہیں جتنی کہ اس سلسلے کے متقدمین کی تحریروں میں پائی جاتی ہے۔ دراصل جس زمانے میں یہ ناول لکھے گئے اس زمانے میں نوجوان نسل موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے صنفِ مخالف سے متعارف ہو رہی تھی، دوستیوں اور جسمانی تعلقات سے آشنا ہو رہی تھی۔ ظاہری بات ہے کہ ہمارے ہاں نکاح کے بغیر اس طرح کے تعلقات ممنوع ہیں اور نوجوان نسل ذہنی طور پہ پریشان تھی، ایسے حالات میں ہماری ان لکھاریوں نے آگے بڑھ کر اس پریشان کن صورتحال کو گلیمرائز کرنے کی کوشش کی۔ ممنوعہ تعلقات کو جھوٹی مذہبیت کے لفافے میں لپیٹ کے پیش کرنا شروع کیا تو نوجوان نسل (خصوصا صنف نازک) میں ان خواتین کے ناولو ں کی دھوم پڑ گئی۔ محبوب کی آغوش میں آنے سے قبل اگر ہیروئین نماز بھی پڑھ لے تو آخر اس میں کیا قباحت ہے۔ وضو کرتے ہوئے شفاف پانی کے قطرے رعبِ حسن سے محترمہ کے رخ پر ٹھہر تے ہیں تو ہیرو صاحب اس ملکوتی حسن کی گہرائیوں میں ڈوب ڈوب جاتے ہیں۔ یا پھر ہیرو صاحب ( جو اکثر کزن بھی ہوتے ہیں) اچانک سے دروازہ کھول کر بے دھیانی میں کمرے میں گھس آتے ہیں تو مصلے پہ بیٹھی ہیروئن کو اپنے کومل کومل ہاتھ اٹھائے دعا مانگتے دیکھ کر وہیں ڈھیر ہو جاتے ہیں اور “صوفیانہ عشق” فرمانے لگتے ہیں۔ عمیرہ احمد اس امر سے خوب واقف ہیں کہ کب ہیرو نے ہیروئن کو وضوکراتے ہوئے اس کی پنڈلیوں کا دیدار کرنا ہے اور کب مصلہ پکڑا نا ہے۔

یاد رہے کہ یہ سارا “صوفیانہ عشق” شادی سے پہلے ہو رہا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ بھلا شادی کے بعد بھی کوئی عشق ہوتا ہے، شادی کے بعد تو ناول ہی ختم ہو جاتا ہے۔ مذہبیت اور جھوٹے عشق کے ملغوبے سے تیارہ کردہ کئی نمونے میں نے پچھلے چھ سال کی یونیورسٹی کی زندگی میں ملاحظہ کیے ہیں۔ مثال کے طور پہ ایک محترمہ نے رمضان کا اعتکاف اس نیت سے کیا کہ شاید اپنے ہم جماعت کے ساتھ ممنوعہ جسمانی تعلقات بحال ہو جائیں جو چار سال تک جاری رہنے کے بعد ٹوٹ گئے تھے یعنی عرفِ عام میں بریک اپ ہو گیا تھا۔ نمرہ احمد نے “مصحف” میں قرآن مجید کو عملی طور پہ ایک ایسی کتاب میں بدل دیا ہے جس سے وقت پڑنے پر دیوانِ حافظؔ کی طرح فال نکالی جا سکے۔ عمیرہ احمد نے تو اور بھی جرات سے کام لیا کہ اس عاشقانہ (حسرت موہانی کی اصطلاح میں فاسقانہ) آنکھ مچولی میں قادیانیت اور اسلام ایسا نازک مسئلہ بھی لے آئیں۔ قادیانی ہیروئن جب اسلام قبول کرتی ہے تو ایمانی جذبے کے وفور سے پیمانہء دل چھلکنے لگتا ہے۔ سبحان اللہ۔ عشق و محبت کے اس بہاؤ میں اسلام کا پھیلاؤ بھی ہو گیا اور ناول بھی لکھا گیا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ کون جانتا ہے کہ یہ دونوں خواتین صدق دل سے ہی مذہب کا تڑکا لگاتی ہوں مگر مذہبیت کا اس بھونڈے انداز میں استعمال کچھ اچھے نتائج پیدا نہیں کر سکا اور نہ ہی آئندہ اس کا امکان ہے۔

مذہب و تصوف پہ ہاتھ صاف کرنے کے علاوہ ہماری یہ مصنفائیں ایک اور بات کا ضرور خیال رکھتی ہیں کہ میٹھا برس لگنے والی نوجوان لڑکیوں کو خواب بیچے جائیں۔ لڑکی اور لڑکا دونوں عام طور پہ کزن ہوتے ہیں تاکہ ملنے جلنے اور عشق کے فروغ میں آسانی رہے۔ لڑکا امیر کبیر جبکہ لڑکی بیچاری انتہائی سفید پوش۔ لڑکا ایک وسیع و عریض کوٹھی میں رہتا ہے جس کی انیکسی میں محترمہ اپنی بیوہ ماں کے ساتھ زندگی کے دن کاٹ رہی ہیں۔ ہیروئن کی غربت اور مظلومیت کی افادیت یہ ہے کہ کہانی میں رقت پیدا ہو جائے تاکہ پڑھنے والی لڑکیوں کو رو رو کے تکیے بھگونے میں آسانی رہے۔ ہیرو کے لیے عام طور پہ ایم۔ بی۔ اے کی ڈگری پسند کی جاتی ہے اور اگر ایک آدھ کورس کرنے کے لیے بیرون ملک کا سفر بھی کرا دیا جائے تو کچی عمر کی لڑکیوں کو دن میں خواب دیکھنے میں آسانی رہتی ہے۔ لڑکا کسی کمزور لمحے میں اپنی معصوم سی کزن کو دل دے بیٹھتا ہے اور سارے خاندان و سماج کا مقابلہ کرتے ہوئے بالآخر شادی کا سہرا اپنے سر پر سجانے میں کامیاب ہو جاتا ہے یا پھر دونوں کے والدین میں سے کوئی ایک مرتے مرتے دونوں کو ایک دوسرے کے پلو سے باندھ جاتا ہے۔ بس ایک مسئلہ ہے کہ ہمارے ملک میں اس طرح کی نازک دل، سفید پوش گھرانوں کی لڑکیاں تو لاکھوں مل جائیں گی مگر بدقسمتی سے اس طرح کے امیر کبیر، خوبرو، دراز قد، اعلیٰ تعلیم یافتہ، بہترین نوکری/کاروبار کے حامل نوجوان کزن زیادہ تعداد میں نہیں پائے جاتے۔

پھر ایک بات اور بھی ہے کہ ناول کا ہیرو تو ہیروئن کے ملکوتی حسن سے متاثر ہو جاتا ہے مگر عام زندگی میں خوبصورتی اتنی ارزاں نہیں۔ زندگی کی حقیقت سے ان ناولوں کا کوئی تعلق نہیں، حتیٰ کہ جن ناولوں میں مڈل کلاس ماحول دکھایا جاتا ہے، وہ بھی حقیقت سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ اکثر اوقات ان ناولوں میں دکھایا گیا ماحول اتنا ہی غیر حقیقی ہوتا ہے جتنا سینکڑوں اقساط پہ مشتمل ہندوستانی ڈراموں کا ہوتا ہے۔ یہ ناول پڑھ پڑھ کے نوجوان لڑکیاں خوابوں کے آسمان پہ پہنچ جاتی ہیں اور وقت جب انہیں حقیقت کی سنگلاخ زمین پہ لا کر پٹختا ہے تو جذبات کے نازک آبگینے کرچی کرچی ہو جاتے ہیں۔

قصہ مختصر کہ ڈائجسٹ مارکہ خواتین لکھاری کلاسیکی ادب کی روایت سے ناواقف ہیں اور سستی جذباتیت، جھوٹی مذہبیت اور ناقص متصوفانہ خیالات کے پھیلاؤ میں مصروف ہیں۔ ہم نے تو چند ایک قباحتوں کا سرسری سا ذکر کیا ہے وگرنہ حقیقت میں ایک طویل فہرست ہے۔ پس جو نوجوان ڈائجسٹ مارکہ خواتین کے ناولوں کو کسی وجہ سے پڑھ چکے ہیں انہیں چاہیے کہ ان ناولوں کا دف مارنے کے لیے اچھے ناول ضرور پڑھیں۔ پرانے ادیبوں کے علاوہ آج کل بھی اچھے لکھنے والے پائے جاتے ہیں مثلا علی اکبر ناطق، مشرف عالم ذوقی وغیرہ۔ اس کے علاوہ اردو کے کم از کم دو بڑے ناول نگار اب بھی ہمارے درمیان موجود ہیں یعنی مستنصر حسین تارڑ اور مرزا اطہر بیگ۔ حتیٰ کہ ہمارے عہد کے ایک بڑے تنقید نگار شمس الرحمان فاروقی نے بھی ایک ضخیم مگر اچھا ناول لکھ ڈالا ہے۔ اسد محمد خان ایسا کہانی کار موجود ہے۔ اچھا ناول پڑھنے کی خواہش رکھنے والوں کو یہ لکھنے والے مایوس نہیں کریں گے۔

آخر میں ایک خدشے کے پیشِ نظر دو باتوں کی وضاحت ضرور ی سمجھتا ہوں۔ ایک تو یہ کہ میں عمومی طور پہ ڈائجسٹ کے میڈیم کو برا نہیں سمجھتا بلکہ بعض ڈائجسٹوں نے پاپولر ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت عمدہ کام کیا ہے، جس میں تخلیق اور ترجمہ دونوں شامل ہیں۔ دوسرا یہ کہ ڈائجسٹ مارکہ خواتین کے خراب لکھنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ خواتین سرے سے اچھی فکشن لکھ ہی نہیں سکتیں۔ ہمارے ہاں عصمت چغتائی، جمیلہ ہاشمی اور خالدہ حسین وغیرہ نے بہت اچھی فکشن لکھی ہے اور سو باتوں کی ایک بات کہ پچھلے ساٹھ سال سے اردو کی سب سے بڑی ناول نگار کا منصب بھی ایک خاتون ہی کے پاس ہے، میری مراد قرۃ العین حیدر سے ہے۔

کبیر علی