"دی الیومیناٹی پروٹوکولز"

"دی الیومیناٹی پروٹوکولز۔۔۔قسط نمبر – 1

تعارف دستاویزات اور فری میسن:صیہونی دانا بزرگوں کی دستاویزات کو مختصراََ پوری دنیا پر ایک خفیہ برادری کے تسلط کا خاکہ کہا جاسکتا ہے۔ ان کی تالیف کی حقیقت خواہ کچھ بھی کیوں نہ ہو، ان کے شایع ہونے کے بعد ان دستاویزات پر شدید بحثوں کا سلسلہ چل نکلا۔ اس میں بہرحال کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ عالمی معاشرہ جس کا قیام ان دستاویزات کا نصب العین ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ساری دنیا کو ایک پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کردیا جائے جس کا نگران ایک ادارہ بنایا جائے جو پوری دنیا پر حکمرانی کرے۔ آج کے دور ہم ادارے کو اقوام متحدہ کے نام سے جانتے ہیں۔

وہ کتاب جس کے ذریعہ یہ دستاویزات سب سے پہلے منظرعام پر آئیں۔ پروفیسر سر جی نائلس نے 1905 میں روس میں شائع کی تھی۔ اس کتاب کا ایک نسخہ 10 آگسٹ 1906 کو برٹش میوزم میں موصول ہوا۔ پروفیسر نائلس کا اس کتاب کو چھاپنے کا مقصد یہ تھا کہ اس بھیانک سازش کو بےنقاب کیا جائے جو نصرانی یعنی عیسائی تہذیب کو تباہ کرنے کے لیے یہودیوں کے خارجی فرقے یعنی "صیہونیوں” نے تیار کی گئی تھی۔

اس کتاب کی اشاعت سے پہلے آگسٹ اور ستمبر 1903 میں روسی اخبار "سنامیا یہ” دستاویزات شائع کرچکا تھا اور غالباََ 1902 اور 1903 کی خزاں میں بھی یہ دستاویزات ایک اور روسی اخبار میں شائع ہوچکی تھیں۔ روس کے باہر کی دنیا کو ان کا علم اس وقت ہوا جب "بالشویک انقلاب” کے بعد روسی تارکین وطن نائلس کی کتاب اپنے ساتھ شمالی امریکہ اور جرمنی لائے۔

کتاب کی اشاعت کے وقت تو اسے کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی لیکن جب بالشویک دور میں واقعات بلکل اسی طرح پیش آتے گئے جیسے کہ اس کتاب میں پیش گوئی کی گئی تھی، تو یہ دستاویزات جو اب تک بالکل غیر اہم اور معمولی سمجھی جارہی تھیں یکایک ساری دنیا مین اہمیت اختیار کرگئیں۔ بالشویک دور کے روس میں کسی کےپاس ان دستاویزات کی محض موجودگی کی سزا موت مقرر کی گئی اور یہ قانون نہ صرف روس بلکہ روس کے حواری ملکوں (یورپ) میں آج تک موجود ہے۔ آہنی پڑدے کے باہر جنوبی افریقہ میں بھی ان دستاویزات کا اپنے پاس رکھنا (گو اس کی سزا اتنی سخت نہیں ہے) قابل سزا جرم ہے۔

میکس نورد نامی ایک یہودی نے اگست 1903میں باسل میں صیہونی کانگریس میں تقریر کرتے ہوئے یہ حیرت انگیز پیش گوئی کی تھی کہ :” مجھے یہ الفاظ کہنے کی اجازت دیجیے کہ میں آپ کو وہ زینہ دکھاؤں جس کی سیڑھیاں صرف اوپر کی طرف اٹھتی چلی جارہی ہیں۔ "ہرڑزل صیہونی کانگریس” منعقد ہوچکی ہے۔ اب برطانوی یوگنڈا کی تجویز پیش کی جائے گی، پھر جنگ عظیم (اول) ہوگی۔ اس کے بعد امُن کانفرنس ہوگی جس میں انگلستان کی مدد سے فلسطین میں ایک آزاد یہودی ریاست (اسرائیل) وجود میں آئے گی”۔

والٹر ریٹھنو یہودی بینکار جو قیصر جرمنی کا پشت پناہ تھا، اس کا ایک جرمن اخبار میں 24 ڈسمبر 1912 میں یہ بیان شائع ہوا ؛”صرف تین سو افراد جس میں سے ہر ایک باقی دوسروں سے بخوبی واقف ہے، یورپ کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں اور وہ اپنے جانشینوں کا انتخاب اپنے ساتھیوں میں سے ہی کرتے ہیں”ریتھنو کے اس قول کی تصدیق بیس سال بعد 1931 میں اس وقت ہوئی جب "ژان ازولے” نے جو عالمی اسرائیلی اتحاد کا ایک سرگرم خفیہ رکن تھا۔ اپنی کتاب "پیرس، مذاہب کا پایہ تخت” میں لکھا کہ ؛”پچھلی صدر کی تاریخ کا ماحصل یہ ہے کہ تین سو یہودی سرمایہ کار جو "فری میسن” یعنی الیومیناٹی لاجوں کے ماسٹرز ہیں، ساری دنیا پر حکومت کرتےرہے ہیں”۔

لنڈن کے یہودی اخبار "جیوش کرانیکل” نے اپنی 04 اپریل 1919 کی اشاعت میں لکھا کہ؛”روسی بالشویک تحریک حقیقت میں کچھ اور ہے ورنہ اتنے یہودی اس تحریک سے کیوں منسلک ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ بالشویک تحریک کے مقاصد وہی ہیں جو صیہونیت کے ہیں”۔مشہور عالمی کمپنی (فورڈ موٹر کمپنی) کے بانی ہنری فورڈ ڈسینئر نے 17 فبروری 1921 کو نیویارک کے اخبار "ورلڈ” کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا؛”ان دستاویزات کے بارے میں، میں صرف ایک بیان دینا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ واقعات بعینیہ اسی طرح رونما ہورہے ہیں جیسا کہ ان دستاویزات میں منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ یہ دستاویزات سولہ سال پرانی ہیں اور اب تک واقعات من و عن اسی طرح رونما ہوئے ہیں جیسی ان دستاویزات میں منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ آج کے حالات ان کے عین مطابق ہیں”۔

دوسرے لوگ جنہیں ہنری فورڈ کی طرح اس اَمَر کا ادراک ہوا کہ نائلس کی کتاب کے شائع ہونے کے بعد سولہ سال کے اندر ہی رونما ہونے والے واقعات نے، ان دستاویزات کی اہمیت کی تصدیق کردی، انہوں نے بھی اس زمانے میں بالشویک تحریک کے اثرات کا جائزہ لیا تھا لیکن ان میں سے صرف چند افراد ہی اس خطرے کی بو سونگھ سکے ہوں گے کہ یہ تحریک بین الاقوامی حیثیت اختیار کرجائے گی۔ اب جب کہ پروفیسر نائلس کی کتاب میں ان دستاویزات کی اشاعت کو نصف صدی سے بھی زائد عرصہ گزر چکا ہے، ان حضرات پر جو عالمی کوائف کا معروضی معاہدہ کرتے رہے ہیں،یہ بات بلکل واضع ہوچکی ہوگی کہ یہودیوں کے دانا بزرگوں یعنی فری میسن الیومیناٹی صیہونیوں کی دنیا پر اجارہ داری قائم کرنے کا یہ خطرہ کتناحقیقی تھا۔دوستوں اس سے پہلے کہ میں دستاویزات آپ کو دکھاتا، پہلے ان خفیہدستاویزات کا تعارف انتہائی ضروری تھا تاکہ پس منظر کو سمجھنے میں مدد ملے کہ یہ دستاویزات کتنی اہمیت رکھتی ہیں اور دنیا میں ہونے والے واقعات بلکل ان دستاویزات کے مطابق من و عن کیوں عمل پزیر ہورہے ہیں۔

قارئین ! انیسویں صدی کے شروع میں یہودی الیومیناٹی خفیہ تنظیم کی صرف 24 دستاویزات لیک ہوئی تھی۔ یہ وہ تنظیم ہے جو آج بھی دنیا میں موجود ہے اور پوری دنیا کو کنٹرول بھی کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ ہو، عالمی بینک ہو، آئی ایم ایف ہو یا یورپی یونین، سب کا مکمل کنٹرول اسی فری میسن خفیہ تنظیم کے پاس ہے۔دستاویزات کی خالق عالمی یہودی تنظیم "فری میسن”

قارئین ! یہ دستاویزات بہت سے حقائق سے پردہ اٹھاتی ہیں۔ یہ دستاویزات عالمی صیہونیوں کےدنیا پر اجارہ داری قائم کرنے کے شیطانی اصولوں پر مبنی ہیں جس کو صیہونیوں کی عالمی تنظیم فریم میسن نے اپنے خفیہ گرینڈ ماسٹرز کے لیے ترتیب دیا تھا۔ یوں سمجھیں کہ یہ دستاویزات یہودیوں کی عالمی خفیہ تنظیم فری میسن اور الیومیناٹی کا بنیادی آئین ہیں۔ اس خطرناک تنظیم کی جڑیں سرطان کی طرح دنیا کے تمام ممالک کی انتظامیہ، بیوروکریسی اور افواج میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان کے ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ جس کا اندازہ لگایا ہی نہیں جاسکتا۔ عام طور پر لوگ اسے ایک عام سا کلب سمجھ کر اس کے رکن بن جاتے ہیں۔ شروع شروع میں اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے اس کا شبہ بھی نہیں ہوتا کہ انہیں کن مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ لہٰذہ ان کی نیک نیتی اور وفاداری پر کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔

ڈاکٹر حبیب الرحمٰن علوی نے اپنی کتاب "جادو کی حقیقت” میں فری میسن تنظیم پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا کہ؛”اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تابع شیاطین بھی کئے تھے، یہودیوں نے تورات میں جہاں بیشمار معنوی او ر لفظی تحریفیں کی ہیں، وہیں ان بدبختوں نے حضرت سلیان (علیہ السلام) کو جادوگر لکھ کر شیطان کو تابع بنانے کا جواز بھی پیدا کرلیا ہے اور اس عقیدے کی بنیاد پر دنیا بھر میں فری میسن کا جال پھیلا رکھا ہے۔ فری میسن لاج کو اسی بنا پر "جادوگر” بھی کہتے ہیں”۔

یہودیوں کی اس تنظیم کا اصل مقصد مختلف ممالک میں سازش اور جاسوسی کرانا ہوتا ہے۔ اور مشہور یہ کیا جاتا ہے کہ یہ سماجی اور تفریحی کلب یا این جی اوز ہیں اور اس کے ممبر آپس میں ایک دوسرے کے بے انتہاٰ مدد اور خیال کرتے ہیں۔ اور یہ بات کسی کے اس تنظیم کا ممبر بننے کے لئے اپنے اندر بہت بڑی کشش رکھتی ہے۔ خصوصا جب کہ بادشاہ، نواب، راجے مہاراجے، اعلیٰ فوجی افسران، حکومتی وزراء و مشیرا جیسے اعلیٰ پائے کے لوگ بھی اس کے رکن ہوں۔ معاشرے کے یہی لوگ اپنے اپنے ملکوں کے اہم رازوں سے واقف ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ کے جارج پنجم فرین میسن تنظیم کے سپریم و گرینڈ ورشپ فل ماسٹر تھے یعنی فری میسن صیہونی ان کی پوجا کرتے تھے۔ فری میسن صیہونی آج بھی برطانیہ کی رانی کی پوجا کرتے ہیں۔ افغانستان کے امیر حبیب اللہ خان بھی گرینڈ وشپ فل ماسٹر تھے۔ مہاراجہ پٹیالہ اور نواب رام پور سر رضا علی خان وغیرہ بھی اپنے اپنے لاجوں کے گرینڈ ورشپ ماسٹر رہے۔ لاج کے ممبروں کو شراب کے استعمال کی طرف خاص طور پر مائل کیا جاتا ہے کیونکہ نشہ کی حالت میں بےتکلفی پیدا کرکے ہی راز اگلوائے جاسکتے ہیں۔

پاکستان میں فری میسن تنظیم پر قانونی پابندی لگاکر اس کی لاجیں بند کردی گئی تھیں۔ لیکن یہودی فری میسن تنظیم کا جو رکن بنتا ہے وہ تاحیات رکن رہنے پر مجبور ہوتا ہے۔ پاکستان میں ان پر پابندی تو لگ چکی ہے لیکن یہ اب بھی اپنا کام زیر زمین یا امریکی، بھارتی یا فرنسیسی سفارت خانے میں کرتے ہوں گے۔شیطان کے چیلوں ، صیہونی دجالیوں کی ان خفیہ دستاویزات میں پوری دنیا پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ہر شعبے میں مکاری و عیاری، دھوکہ دہی و فحاشی کے استعمال کرنے کے گر سکھائے گئے ہیں۔یوں سمجھیں یہ شیطان کاحضرت انسان کو گمراہ کرنے کا آئین ہے۔ان 24 دستاویزات کے نام مندرجہ ذیل ہیں:پہلی دستاویز : "بنیادی اصول طاقت ہی حق ہے”
دوسری دستاویز : "معاشی جنگیں”تیسری دستاویز : "تسخیر کا طریقہ کار”چوتھی دستاویز : ” مادیت مذھب کی جگہ لیتی ہے”پانچھویں دستاویز : "مطلق العنانیت اور جدید ترقی”چھٹی دستاویز : "جانشینی کا طریقہ”ساتویں دستاویز : "عالمگیر جنگیں”آٹھویں دستاویز : "عارضی ہنگامی حکومت”نویں دستاویز : "تعلیم کے بعد تعلیم”دسویں دستاویز : "اقتدار کی تیاری”گیارھویں دستاویز : "مکمل مطلق العنان حکومت”بارھویں دستاویز : "پریس کو قابو میں لانا”تیرھویں دستاویز : توجہ بھٹکانا”چودھویں دستاویز : "مذھب پر حملہ”پندرھویں دستاویز : "استیصال”سولہویں دستاویز : "ذہنی تطہیر”سترھویں دستاویز : اختیارات کا ناجائز استعمال”اٹھارویں دستاویز : "سیاسی حریفوں کی گرفتاری”انیسویں دستاویز : ” حکمران اور عوام”بیسویں دستاویز : "مالیاتی لائحہ کار”اکیسویں دستاویز : ” قرض کا لین دین”بائیسویں دستاویز : "سونے کی طاقت”
تیئسویں دستاویز : دلوں میں اطاعت شعاری کا جزبہ پیدا کرنا”چوبیسویں دستاویز : "حکمران کی خصوصیات”

دوستو ! چونکہ یہ پہلی تحریر تھی اس لیے اس میں صرف عالمی صیہونی تنظیم اور دستاویزات کا تاریخی پس منظر بیان کیا گیا، ساتھ میں یہودی تنظیم فری میسن کا بھی بتایا گیا۔ یقیناََ آپ تھوڑے بور ہوگئے ہیں لیکن فکر نہ کریں، اگلی قسط میں جب آپ کو دستاویزات دکھاؤں گا تو آپ کو حیرت کے شدید جھٹکے لگیں گے کیونکہ ان دستاویزات کے بیشتر حصے آپ اپنی آنکھوں سے رونما ہوتے دیکھ بھی چکے ہیں جس میں ایک مثال اقوام متحدہ کا قیام بھی ہے جس کا مکمل کنٹرول عالمی صیہونی تنظیم فری میسن کے پاس ہے جو کہ پوری دنیا کو چلاتی ہے ۔ان شاء اللہ

تحریر: یاسررسول